17.10.2026, 07:16am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کرگئیں
16.09.2012, 12:10am , اتوار (GMT+1)

عقیل عباس جعفری
‎ا ‫ردو کے ادبی اور علمی حلقوں میں یہ بات ابتہائی افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ برصغیر میں حقوقِ نسواں کی علمبردار اور ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ان للہ و انا الیہ راجعون ۔۔ ‬

‎ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929 کو پیدا ہوئی تھیں ۔ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹرتھے۔
‎ہاجرہ مسرور کی پیدائش کے کچھ برس بعد دل کے دورے سے ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔

‎والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانہ نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے چھ بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے اندازمیں کی۔یہ کُل پانچ بہنیں اور ایک بھائی تھے۔ ان کی بہن خدیجہ مستور بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ اُردو ادب کا تذکرہ ان دونوں بہنوں کے بغیر نامکمل رہے گا۔ہاجرہ مسرور کے ایک توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا ہے

‎تقسیمِ ہند کے بعد ہاجرہ اپنی بہن خدیجہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اورلاہورمیں سکونت اختیار کرلی۔اُس زمانے میں لاہورپاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطورکہانی و افسانہ نگاراپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ ادبی حلقوں میں اُن کی پہچان ہوچکی تھی۔

‎ہاجرہ نے بچپن سے ہی مختصر کہانیاں لکھنا شروع کردی تھیں جو اپنے وقت کے معروف اُردو ادبی رسائل میں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔

‎ہاجرہ لاہور میں معروف ادیب احمد دیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ مرتب کرتی تھیں۔ قاسمی صاحب کی دونوں ادیب بہنوں ہاجرہ اورخدیجہ سے بہت اچھی دوستی تھی۔

‎ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے موضوعات سماج و سیاست ، قانون و معیشت کی ناہمواریوں اور، خواتین کے استحصال کے گرد گھومتے ہیں ۔۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں اُردو ادب کی اس ممتاز افسانہ نگار کو حقوقِ نسواں کی علمبردار کہا جاتا ہے۔

‎ہاجرہ مسرور کو اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔۔حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر سن انیسو پچانوے میں ‘تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ بھی دیا گیا تھا۔

‎ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔

‎انہوں نے اُنیسو پینسٹھ میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ یہ فلم معروف شاعر سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔

‎ان کے افسانوں کا مجموعہ اُنیسو اکیانوے میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘میرے سب افسانے’ کے عنوان سے شائع کیا تھا۔

‎افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔

‎چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔

‎ہاجرہ لاہور میں معروف ادیب احمد دیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ مرتب کرتی تھیں۔ قاسمی صاحب کی دونوں ادیب بہنوں ہاجرہ اورخدیجہ سے بہت اچھی دوستی تھی۔

‎ہاجرہ مسرور کی تحریریں معاشرے کی منفاقتوں کی کھل کرعکاسی کرتی تھیں، جس پر انہیں بھی منٹو اورعصمت چغتائی کی طرح سماج کے قدامت پسند حلقوں کی طرف سے بدترین تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

‎اُردو ادب میں ان کی شناخت روایت شکن تحریریں ہیں جو تیز دھار خنجر کی مانند معاشرے پر پڑے وہ پردے چاک کردیتی تھی، جس کی آڑ میں صنفِ نازک کا استحصال ہوتا ہے۔

‎سن انیس سو اکھہتر میں انہوں نے معروف صحافی احمد علی سے شادی کی۔ اُس وقت وہ انگریزی روزنامہ ‘پاکستان ٹائمز’ کے ایڈیٹر تھے۔

‎انیسو تھہتر میں احمد علی نے بطور ایڈیٹر روزنامہ ‘ڈان’ جوائن کیا اور کراچی آگئے۔ وہ اٹھائیس برس تک ڈان کے ایڈیٹر رہے۔ ان کا انتقال ستائیس مارچ، دو ہزار سات کو ہوا۔حاجرہ اور احمد علی کی دو بیٹیاں ہیں۔ ایک نوید احمد طاہر اور دوسری نوشین احمد ہیں۔

‎کئی برس تک لاہور میں سرگرم ادبی زندگی بسر کرنے والی ہاجرہ مسرور نے شادی کے بعد خود کو گھر تک محدود کرلیا۔ ان کی ادبی سرگرمیاں ختم ہوچکی تھیں اور وہ مکمل طور پر خانہ دار خاتون بن گئی تھیں۔

‎کئی دہائیوں کی گوشہ نشینی کے بعد پہلی بار، پُرزور اصرار پر وہ کئی سال پہلے لاہور کے گورنمنٹ کالج میں منعقدہ تقریب ایک ادبی تقریب میں شریک ہوئیں۔یہ تقریب برِ صغیر کی معروف ادیبہ قرت العین حیدر کے اعزازمیں منعقد ہوئی تھی۔

‎خود کو دہائیوں سے گوشہ نشین کرلینے والی اُردو کی نامور ادیب کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ‘وہ لوگ’ شامل ہیں

:دیگر مضامین
(15.09.2012)  ادبی تنظیم بزم اردو سیتاپورکی آئندہ طرحی شعری نشست سات اکتوبر کو ہو گی
(15.09.2012) پاکستان کے موجودہ تکلیف دہ حالات پر پاک یورو جرنلٹس فورم کے تحت کل اہم مذاکرہ
(11.09.2012) لاہور کا بازار حُسن۔جمیلہ،طاہرہ اور مفکر شیخ۔ایک سچی کہانی
(08.09.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔23ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(05.09.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی محمد خوشتررحمٰن خان کو عالمی اخبار کا بیورو چیف بھارت بننے پر مبارک
(26.08.2012) فرینکفرٹ کی معزز شخصیت سید سعید کی صاحبزادی فوزیہ سید نے بائیو آرگنز کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر لی
(24.08.2012) فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٍتس فورم کی تقریب آج ہفتے کے روز
(23.08.2012) فرینکفرٹ کی مقبول شخصیت صالح جی کو دوستوں اور احباب کی موجودگی میں دفن کر دیا گیا
(21.08.2012) پاکستان کے سينئر صحافي شميم الرحمن منگل کی صبح کراچي ميں انتقال کرگئے
(18.08.2012) یوم آزادی پاکستان کی تقریب پاکستانی قونصلیٹ فرینکفرٹ میں
(17.08.2012) حسینی دائرۃ المعارف کی کتاب "الحسین والتشریع الاسلامی جلد 1 پر مقالہ
(10.08.2012) اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو اور علی اس کا دروازہ ہیں
(09.08.2012) بھارت کے تاریخی شہر لکھنؤ میں شہادت علی علیہ السلام کے سلسلے کا جلوس
(08.08.2012) رمضان کی انیس سے اکیس تک باب العلم علی علیہ السلام کے ایام شہادت
(05.08.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔22ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(04.08.2012) امام حسن ع سبز قبا عليہ السلام کے یوم ولادت با سعادت پر ایک جائزہ
(02.08.2012) معروف اور مقبول غزل گو شاعر شہزاد احمد شہزاد کی وفات۔تدفین جمعرات کر دی گئی
(27.07.2012) نئے چیف الیکشن کمشنرجسٹس ر فخرالدین جی ابراہیم کی مصروف زندگی
(23.07.2012) قمر رضوی کے سفرنامےسفر,حیرت و عشق کے بعد ایک اور نیا سلسلہ
(20.07.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔21ویں قسط ۔ سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں