یہ اجلاس مسلمانوں کے عقائد کے خلاف اشتعال انگیز فلم کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور اسکے خلاف مظاہروں میں عوامی املاک کونقصان پہنچانے والوں کی بھی کیونکہ شر پسندی کا مقابلہ شرپسندی سے نہیں بلکہ عقل اور شعور سے کرنا چاہیے ۔
۔ مذہب کی بازاری حیثیت و ہیت کو تبدیل کرکے اسے ذاتی معاملہ بنا کر اس میں سماجی مداخلت اور سرمایہ کاری بند کی جائے جس کے بغیر اسکی عزت بحال نہیں ہو سکتی ۔
۔ تمام تعصبی اور انتشار ،و اشتعال پھیلانے والی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے انکے تمام اثاثے اور اکاونٹس کو قومی تحویل میں لیا جائے ۔
۔خستہ سماجی حالات جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہیں انکے خاتمے کے لیے عوام متحد ہو جائیں ۔
یہ تین بنیادی قرار دادیں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاک یورو جرنلسٹس فورم اور چنگاری فورم کے تحت ہونے والے ایک مذاکرے میں پیش کر کے منظور کی گئیں جس کا عنوان تھا فرقہ واریت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے ۔ جس میں مختلف مکتب فکر کے نمائندوں نے شرکت کی اور ایک بھرپور علمی بحث کے بعد مندرجہ بالا قرار دادوں کو مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔
مذاکرے کی بحث میں حصہ لینے والوں میں ارشاد ہاشمی ، سعید خان ،بابر چشتی ، خالد سلیم ، طارق ہاشمی ،طاہر ملک ،ذیشان علی ، یعقوب احمد ، سید سعید ، رانا بشیر ، شفیق مراد اور دانیال رضا شامل ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ ۔ اسلام کے خلاف بنائی جانے والی یہ فلم صرف ایک اشتعال انگیزی ہی نہیں ہے بلکہ امریکی حکمرانوں کے نام نہاد تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو دنیا پر مسلط کرکے عوامی تحریکوں کو تقسیم کرنا انکو کمزور کر نا اور مالیاتی استحصال کے جبر اور سامراجی حکمرانی کو بڑھنا مقصد ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس مغربی اشتعال انگیزی میں مغرب کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مشرق او ر خاص طور پر عرب اور مشرق وسطی کے حکمران بھی اس میں برابر کے شریک جرم ہیں جن کے مفادات اور عیاشیا ں موجودہ نظام اور مغربی طاقتوں سے منسلک ہیں جو عوام کے خلاف سامرجی پالیسیوں اور انکے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں موجودہ مسلمانوں کے خلاف یہ فلم حکمرانوں کی شعوری سازش ہے تاکہ موجودہ عالمی بحران سے عوام کی توجہ تبدیل کی جاسکے ۔
اس اجلاس میں پاکستان میں مذہبی قتل گری جس میں شیعہ اور سنی اور اقلیتوں کا قتل عام شرم ناک اور عوام کو جہالت اور پسماندگی میں دھکیلنے کی سازش ہے جو قابل مذمت ہے اس منافرت کے پیچھے رجعتی حکمران اور ریاستی ادارے متحرک ہیں جن میں سعودی ، کویت اور مغرب کے حکمران بھی اپنے مالیاتی حکمرانی کے مفادات کی باریابی کر رہے ہیں ۔ کیونکہ دنیا میں آج سکیس اور مذہب سب سے بڑے کاروبار بن چکے ہیں جو انسانیت کی تذلیل ہے ۔
تمام افراد اس پر متفق تھے کہ جب تک سماج میں طبقاتی تفریق موجود ہے کوئی اس بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔اور موجودہ انتشار زدہ معاشرے میں ہر درست عمل بھی اپنے منفی نتائج رکھتا ہے ۔آج حقیقی تبدیلی سماجی تبدیلی ہی ہے جس میں سب سے پہلے ہر شخص کو روزگار کی مکمل ضمانت ہو اور معقول اجرت ہو روٹی کپڑے مکان کے علاوہ آج کی تمام انسانی بنیادی ضروریا ت جس میں صحت، صفائی ، تعلیم وغیرہ کی مفت فراہمی ریاست کی اول ذمہ داری ہو ۔ اس فلم کی اشتعال انگیزی اور پاکستان میں بڑھتی مذہبی فرقہ واریت کے خلاف جدوجد موجودہ مالیاتی نظام کی تبدیلی کی عوامی جدوجہد ہے