15.10.2026, 05:44pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

رمضان المبارک کا آغاز۔ یوم قدس فلسطینیوں کادفاع نہ بھولیئے گا۔از۔صفدر ھمدانی
20.07.2012, 07:20am , جمہ (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن
اس اہم دن کو اس سال 2012 میں بھی فراموش نہیں کیجئے گا

گزشتہ برسوں کی طرح اس سال دوہزاربارہ میں بھی عالمی یوم قدس ماہ مبارک رمضان کی تئیسویں تاریخ کومنایا جائےگا ۔ یاد رہے کہ ایران میں  بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس قراردیا ہے اور اس کامقصد فلسطین کی مظلوم قوم کا دفاع اور صیہونی حکومت کے جرائم  کی مذمت کرنا ہے ۔

اس دن ساری دنیا میں روزہ دارمسلمان احتجاج مظاہرے کرکے ملت فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرنام پر ہیکل سلہیمانی کی تعمیر کے لیے صیہونی و صلیبی منصوبے پر عمل در آمد میں پیش رفت جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تہران،کابل ، بغداد ، القدس اور اسلام آباد اس وقت تاریخی سازشوں کا شکار ہیں ۔ اگر کابل اور بغداد میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں تو القدس اور اسلام آباد میں مسلمانوں کے مقدس مقامات گرائے جارہے ہیں اور ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی سازشیں تیار کی جارہی ہیں۔

ایک تاریخی اور مسلمانوں کی شناخت مسجد کو ختم کیا جارہا ہے اور مسجد بھی کون سی ! ایک مسجد آزاد فلسطینی ریاست القدس کی مسجد ہے جس کا تذکرہ کلام الٰہی میں موجود ہے جو فضیلت اور بزرگی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی بابرکت جگہ کا شرف رکھتی ہے ۔ جس میں امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کو تمام انبیاء کی امامت کرائی ، جس کے اطراف کو قرآن نے بابرکت کہا ۔
ان تمام واقعات کے پیچھے جس طرح یہودی صیہونیت کا ہاتھ ہے ، بعینہ اس طرح مسیحی صیہونیت کا بھی پورا پورا دخل ہے ۔ آئیے ذرا اس کا تاریخی پس منظر دیکھتے ہیں ۔
 
اس سے قبل کہ ہم 1969 میں مسجد اقصٰی کو نذر آتش کرنے کے واقعے کا ذکر کریں ، جس میں مسجد کا 1500 مربع میٹر مکمل طورپر جل گیا تھا اور ساتھ ساتھ مسجد میں موجود منبر جو منبر صلاح کے نام سے مشہور ہے ، جل گیا تھا ۔ یہ واقعہ کیوں رونما ہوا اور وہ کون تھا جو اس واقعہ کی پشت پر تھا ؟
 
بظاہر تو بہت آسانی کے ساتھ کہہ دیا جاتا ہے کہ مسجد کو جلانے والا شخص آسٹریلین نژاد اسرائیلی مائیکل روہین تھا جس نے یہ ناپاک حرکت کی ۔ مگر مائیکل روہین نہ تو اسرائیلی تھا اور نہ یہودی ، بلکہ صیہونی عیسائی تھا اور وہ آسٹریلیا سے صرف اور صرف اسی کام کے لیے آیا تھا ۔
صیہونی عیسائیوں اور دیگر عیسائیوں میں یہ فرق ہے کہ یہ لوگ نزول مسیح پر ایمان رکھتے ہیں مگر کچھ شرائط کے ساتھ ،جس میں ایک شرط یہ کہ جب تک ہیکل سلیمانی کا قیام نہیں ہوتا اس وقت تک حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول نہیں ہوگا ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسجد کو گرا دیا جائے ۔ گزشتہ تین چار عشروں سے مسجد اقصٰی کو گرانے کی ہر ممکن کوششیں کی گئیں ہیں ۔ آگ لگادی گئی ، بم باری ہوئی اور ڈائنا مائٹ کا استعمال بھی ہوا ۔ مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسجد ختم ہو جائے اور ایک لاوا پھوٹ نکلے اور ایک نئی عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے ۔ کیوں کہ صیہونی عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک دنیا کے افق پر دو قوموں کےمابین سخت معرکہ نہ ہو ۔ اور اس تنظیم کا عقیدہ ہے کہ اس جنگ کا میدن القدس سے لے کر وادی عسقلان تک کے علاقے پر مشتمل ہے جو بحر متوسط کے قریب ہے اور یہ اس جنگ کو " ہرمجدون " ( Armageddon) کے نام سے پکارتے ہں ۔
اس لیے اس تنظیم کے اپنے سیاسی ، اقتصادی اور عسکری مقاصد ہیں ،جن کو وہ پورا کرنے کے لیے محنت شاقہ کر رہی ہے ۔ نزول مسیح کے لیے بنیادی شرائط ہیں

  •  اسرائیل کا قیام جو 1948 ء میں ہوا اور امریکہ نے اس کے قیام کے صرف ایک منٹ بعد ہی اسے تسلیم کر لیا
  •  مسجد اقصٰی پر اسرائیلی قبضہ ،اور یہ بھی 1967 میں ہوا جو اسرائیلی فوجوں نے حاصل کیا ۔اس سے قبل برطانیہ سے آزادی کرنے کے بعد 1949 میں القدس شہر کا آدھا حصہ اردن کے پاس اور آدھا اسرائیل کےپاس تھا لیکن 1967 کے جنگ میں اسرائیل نے باقی شہر پر بھی قبضہ کر لیا اور ساتھ ہی مسجد اقصٰی کو بھی اپنے کنڑول میں لے لیا
  •  مسجد کی جگہ پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔
یہاں سمجھنے کی یہ بات ہے کہ یہ حقیقت کہ انتہا پسند یہودی تنظیمیں بھی ہیکل سلیمانی کی تعمیرکو ایمان کا حصہ سمجھتی ہیں اور اس وقت یروشلم میں کل 24 تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔ بظاہر ان یہودی صیہونیوں اور عیسائی صیہونیوں میں فرق ہے ، کیونکہ یہودی صیہونی نزول مسیح پر ایمان نہیں رکھتے ۔
 
وہ تو بعثت اولٰٰی کے بھی قائل نہیں ہیں ، تاہم اس کے باوجود ان کے مابین قدر مشترک یہ ہے کہ وہ " صیہون" یعنی ( صیہونی ریاست ) کو قائم کریں گے ۔ اصل میں صیہونی ریاست کا قیام یہودیوں کے لیے " ہدف بالذات " ہے جبکہ عیسائی صیہونیوں کے لے نزول مسیح سے مشروط ہے ۔
 
مسیحی صیہونیت جس کی سربراہی عیسائی پادریوں کے ہاتھ میں ہے اور ان کے مرکز امریکہ میں ہے جہاں وہ تمام کاروائیوں کو مانیٹر کر رہے ہو تے ہیں ۔ رپورٹوں کے مطابق ان کی کل تعداد 70 ملین افراد پر مشتمل ہے ۔

 اس ضمن میں جو مشہور نام ہیں ان میں جیری فالویل ، پیٹ روبرٹسن ، فرینکلن گراہم وغیرہ ہیں ۔ امریکہ اور دنیا بھر میں ان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر قبضہ ہے اور دنیا بھر میں مختلف این جی اوز ہسپتالوں میں کا م کر رہی ہیں ۔9/11 کے بعد یہ تنظیم بہت زیادہ سرگرم ہوئی ۔ اس نے عراق ، افغانستان اور مشرق وسطٰی کے معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت شروع کر دی ۔انہوں نے پوری دنیا میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے بیت المقدس کے لیے سفارت کاری شروع کی ہوئی ہے اور امریکہ اور دنیا بھر میں اس کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے ۔ بیت المقدس کے قریب یہودی بستیوں کے قیام اور وہاں پر زمینوں کی خرید میں اس سفارت کار عملے کا بہت بڑا دخل ہے ۔ 1969 میں شروع ہونے والی سازشیں تاحال جاری ہیں ۔

اس تمام عرصے میں مسجد اقصٰی کے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں ہوا ۔

 تمام تاریخی آثار لو ٹ لیے گئے ، اسلامی ثقافتی آثار ختم کر دیے گئے ، مسجد اقصٰی کے قریب مسلمانوں کی بستیاں ختم کر دی گئیں ، مسجد کے صحن میں بار بار خنزیر کا سر کا ٹ کر پھینکا گیا ۔ مسجد کے صحن میں مسلمانوں پر گولیاں چلائی گئیں ۔ 1990 میں اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصٰی کے صحن میں نمازیوں پر وحشیانہ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 20 مسلمان شہید ہوئے ۔اسرائیل اور صیہونی قوتوں کا بنیادی مقصد تو پوری مسجد کو ختم کرنا ہے ،مگر ماضی قریب میں مسجد اقصٰی کے خلاف جتنی بھی سازشیں ہوئی ہیں ۔ ان میں اکثر باب المغاربہ اور باب المغاربہ کے بالکل قریب مسجد کے مغربی دروازے کی سمت کو نشانہ بنایا گیا ۔
 ویسے تو پوری مسجد اقصٰی معتبر اور مقدس ہے ۔ مگرباب المغاربہ اور اس کے قریب دیوار براق کی خاص اہمیت ہے ۔
باب المغاربہ جس دروازے سے حضور اکرم شب معراج کو مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے تھے ، اسی مناسبت سے اس کو باب الانبیاء بھی کہا جاتا ہے اور اس کے قریب وہ دیوار ہے جس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری براق جس کو جنت کی سواری بھی کہا جاتا ہے باندھی تھی۔ اس وقت جو انہدامی کاروائی شروع ہوئی ہے وہ بھی بعینہ اسی مقام کے گرد شروع ہے اور اس کا پس منظر بالکل واضح ہے کہ جب سے امریکہ نے مشرق وسطٰی کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کیا
 ،چند سال قبل ایک اسرائیلی اخبار نے خبر دی کہ اسرائیلی حکومت مسجد اقصٰی کےمغربی دروازے کے قریب سلوان کے مقام پر دس میٹر تک کھدائی کرے گی اور یہ راستہ دیواربراق کی طرف جاتا ہے (ہارلس 24 جنوری 2007 ) اب جب کہ اسرائیل نے مسجد اقصٰی کے گرد باب المغاربہ کے قریب پل کو منہدم کر دیا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نے خبر دار کیا ہے کہ اس کارروائی کو مزید جاری رکھا جائے گا ، امریکہ کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے ، کیونکہ ان اضطراری حالات میں جب مسلمانوں کے دل پر اسرائیل نے خنجر گھونپ دیا ہے ، امریکی وفد کیوں نہیں آیا ؟ اور کیوں اسرائیل کے ہاتھ نہیں روکے گئے ؟

عالمی یوم قدس مسلمان قوموں کے لۓ یوم استقامت اور صیہونیوں اور ان کے حامیوں کے ظلم و بے انصافی کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرنے کا دن ہے


 آج عالم اسلام کی اہم تریں ضرورت اتحاد ہے اور اسلام کے  د شمن دھشتگردوں کی حمایت کرکے عوام کے درمیان خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوادینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہےکہ شیعہ سنی صدیوں سے آپس میں پرامن زندگی گذاررہے تھے اوراب بھی اتحاد و یکجھتی کے ساتھ جارحين کا مقابلہ کررہے ہیں ۔

پاکستان میں اہل تشیح کا مسلسل قتم اہل سنت نہیں کر رہے بلکہ یہ وہ اسلام دشمن اور ان یزیدی خاندانوں کی باقیات ہیں جنہوں نے 61 ہجری میں کربلا میں اللہ کے حبیب کے نواسے اور انکے خاندان اور دوستوں کو بھوکا پیاسا شہید کیا تھا


:دیگر مضامین
(20.05.2012) دنیا سے آج کیسے وہ اہلِ سخن گئے۔۔از۔۔۔صفدر ھمٰدانی
(26.04.2012) پانچ پاکستانی نوجوان۔2 نابالغ لڑکیاں،36 گھنٹے ہوس کا کھیل۔۔از۔۔صفدر ھمدانی
(25.03.2012)  کوئی محب وطن ؛؛تضحیک اعزازات ؛؛ کا مقدمہ درج کروائے گا? ۔از۔صفدر ھمدانی
(23.03.2012) تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والے حکمران اپنے زوال کا خود باعث بن جاتے ہیں۔از۔صفدر ھمدانی
(18.03.2012) وزیر اعظم گیلانی کی تقریر غلطی سے صدر زرداری نے پڑھ دی۔۔۔از۔۔۔۔صفدر ھمدانی
(29.02.2012) کاش یہ تھپڑ صدر یا وزیر اعظم کی بیٹی کے رخساروں پر لگا ہوتا۔از۔صفدر ھمدانی
(31.01.2012) پاکستان میں امریکی مہمان حسین حقانی بخیریت واپس اپنے وطن چلے گئے۔ از۔ صفدر ھمدانی
(30.01.2012) سعودی عرب میں اس صدی کی سب سے بڑی اصلاحاتی خبر ۔ از۔ صفدر ھمدانی
(11.01.2012) پیپلز پارٹی نے شاید سیاسی خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ از۔ صفدر ھمدانی
(03.01.2012) گوشت حلال،انشورنس حلال ، ڈاٹ کام حلال مگر سوچ حرام ۔از-صفدر ھمٰدانی
(27.12.2011) حالات بدلتے ہی نہیں۔ 2008 میں لکھا کالم۔آج بھی تازہ ۔از۔صفدر ھمٰدانی
(12.12.2011) ایچ آئی وی والی ایڈز سے بھی بدتر امریکی ایڈ۔۔۔۔از۔۔۔صفدر ھمدانی۔اشاعت مکرر
(25.10.2011) پیپلز پارٹی کی حکومت نےمادر جمہوریت کو نہیں انکی مرقد کو نشان امتیاز دیا۔از۔صفدر ھمدانی
(21.10.2011) آمر صرف آمر ہوتا ہے۔صدام،حسنی مبارک یا معمر قذافی نہیں۔ از۔صفدر ھمدانی
(12.10.2011) رحمان ملک کیلیئے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ۔ نوبل انعام کے بھی حقدار ۔ از ۔ صفدر ھمدانی
(28.09.2011) دونوں خبریں ایسی ہیں کہ پڑھنے،سننے اور دیکھنے والے کے ہوش اُڑ جائیں۔از ۔صفدر ھمدانی
(10.08.2011) برطانیہ جس کا سورج کبھی غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔از۔۔۔۔صفدر ھمدانی
(09.06.2011) عوام کے محافظ عوام کے قاتل بن جائیں تو مقدمہ کس عدالت میں ہو۔ از۔ صفدر ھمدانی
(11.04.2011) اقتدار کی بھوک اسقدر کہ نسلوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔از۔صفدر ھمٰدانی
(04.03.2011) شہباز بھٹی کا قتل علم سے دوری اور جہالت سے قربت کا نتیجہ۔از۔ صفدر ھمٰدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں