ستمبر کا مہینہ کراچی کے لئے انتہائی خونریز ثابت ہورہا ہے ۔ صرف اٹھارہ دنوں میں فائرنگ ، پرتشدد واقعات اور آتشزدگی کے سانحے میں 413 افراد ہلاک ہوگئے۔
رواں ماہ کے 18دن ان واقعات کے حوالے سے انتہائی کونریز ثابت ہوئے ہیں۔ ان اٹھارہ دنوں میں فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں مجموعی طور پر 124افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں بلدیہ ٹاوٴن فیکٹری میں جاں بحق ہونے والے 289افراد شامل نہیں ہے۔اگر یہ تعداد بھی ملالی جائے تو18دنوں میں 413افراد لقمہ اجل بنے۔
ان اٹھارہ دنوں میں بھی سب سے زیادہ انسانی نقصان منگل 18ستمبر کو ہوا جب حیدری مارکیٹ میں دو بم دھماکوں میں 8افراد جاں بحق اور 21زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کے علاوہ اسی روز ٹارگٹ کلنگ سے 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ بلدیہ ٹاوٴن میں دستی بم حملے
اور فائرنگ کے نتیجے میں بھی 6 افراد زخمی ہوئے۔ اسی روز شہر کے مختلف علاقوں سے 4افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 17ستمبرکو 10افراد ہلاک ہوئے ۔
16ستمبر کو 7،15ستمبر کو 10اور14ستمبر کو 12افراد ہلاک ہوئے ۔ 13ستمبر کو 5افراد،12 کو تین،11ستمبر کو چار 10ستمبر کو 11، 9اور آٹھ ستمبر کو ایک، ایک ،7ستمبر کو 4افرادجبکہ 6اور پانچ ستمبر کوسات سات اور 4ستمبر کو 4افراد،2 ستمبر کو تین اور یکم ستمبر کو 9افراد ہلاک ہوئے ۔ ان واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بھی خاصی بڑی ہے۔
انہی واقعات میں درجنوں گاڑیوں اور موٹر سا ئیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔ پیٹرول پمپس اور دیگر املاک نذر آتش ہوئی۔ پولیس موبائل وینز کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ۔ دکانیں اور کارباروں مراکز کئی دن بند رہے جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔ہنگامہ آرائی اور جلاوٴ گھیراوٴ کے نتیجے میں گھنٹوں ٹریفک جام رہا جس میں لاکھوں کا ایندھن ضائع ہوگیا۔