
یہ ان دنوں کی داستان ہے جب میں لاہور کے ایک بہت مقبول اخبار میں کام کیا کرتا تھا اور مفکر شیخ سے میری پہلی ملاقات بھی یہیں ہوئی تھی جہاں اسوقت کا ڈرا ڈرا سہما سہما مفکر شیخ ایک عام سا ملازم تھا جسے خود اسکے دفتر کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے اور ایکدم مفکر کس طرح گمنامی سے بدنامی کی طرف آنے لگا اسکی تفصیل میں طاہر ملک آپکو بتاؤنگا کہ کس طرح ساری دنیا کی برائیاں کرنے کے بعد انسان کو یکدم نیک بننے کا خیال آجاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اسکی بدکاریاں کوئی نہیں جانتا اور وہ اپنے نام کے ساتھ حاجی کے لفظ کا اضافہ کر کے لوگوں کی نظروں میں دھول جھونک سکتا ہے
اس تحققاتی رپورٹ میں اس قسم کے کتنے ہی واقعات کو میں طشت از بام کرؤنگا اور جہاں جہاں ممکن ہو سکا برسوں پرانی تصاویر بھی لگاؤنگا تاکہ دستاویزی ثبوت بھی پیش کیا جاسکے
برسوں قبل جب مفکر شیخ بھی ساری بدکاریوں کے مزے لوٹنے کے بعد حج کر واپس لوٹا تو طاہرہ اور جمیلہ کو حیرانگی اور پریشانی نے گھیر لیا اور وہ یہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہونے لگیں کہ لوگ کیسے آگے بڑھ بڑھ کر مفکر شیخ سے گلے مل رہے تھے اور اس حاجی صاحب کہہ کہہ کر مخاطب ک رہے تھے۔ شاید یہ لوگ مفکر شیخ کی اصلیت سے واقف نہیں تھے
ایک دن طاہرہ نے جمیلہ سے کہا کہ کیا تمہیں یہ علم ہے کہ جب مفکر شیخ بڑے شیطان کو پتھر مار رہا تھا تو بڑے شیطان نے مفکر کے کان میں آ کر کہا کہ کمال ہے یا شیخ ۔آپ بھی ہمیں پتھر مارنے والوں میں ہیں حالانکہ اپکو تو پتھر کھانے والوں میں ہونا چاہیئے
طاہرہ اور جمیلہ کی اس گفتگو کی تفصیل بھی ان ہی رپورٹوں میں پیش کی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبار اپنے قارئین کے لیئے تحقیقاتی رپورٹوں کے سلسلے میں ایک نیا سلسلہ بہت جلد شروع کر رہا ہے جسے پاکستان کے ماضی کے موقر روزنامے ‘‘مساوات لاہور‘‘ کے سابقہ فوٹو گرافر حالیہ مقیم جرمنی طاہر ملک تحریر کر رہے ہیں۔
اس سلسلے کی پہلی قسط سے پہلے چند سوالات جن کے جوابات اس تحقیقاتی رپورٹ میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی
۔۔۔۔۔۔طاہرہ کا جمیلہ سے کیا رشتہ تھا؟
۔۔۔۔۔مفکر شیخ کا طاہرہ اور جمیلہ سے کیا تعلق تھا؟
۔۔۔۔۔۔مفکر کو لاہور کے ایک اخبار میں چپڑاسی کی نوکری کس نے دلوائی تھی؟
۔۔۔۔۔۔لاہور ایکسائز کے دفتر سے چرس کون لاتا اور کون کون کہاں کہاں پیتا تھا؟
۔۔۔۔۔۔مفکر شیخ کو بازار حُسن میں پٹائی سے کس نے بچایا تھا؟
۔۔۔۔۔۔ہنڈا ففٹی نمبر ایل ایچ آر ۷۷۴۸ کس کی موٹر سائیکل تھی؟
۔۔۔۔۔اور پھر یہ کیسے ہوا کہ نو سو چوہے کھا کے بلا حج کو چلا
ان اور ایسے کئی سوالات کی تفصیل بہت جلد آپ کے سامنے آنے والی ہے
جنرل یحییٰ خان کی جنرل رانی سے سب واقف ہیں لیکن طاہر ملک اپنی اس تحریر میں آپکو جمیلہ،طاہرہ اور مفکر شیخ سے ملوائیں گے
اس سلسلے ‘‘ لاہور کا بازار حُسن،جمیلہ-طاہرہ اور مفکر شیخ کی کہانی‘‘ کی پہلی قسط بہت جلد قارئین کے لیئے پیش کی جائے گی۔
انتظار کیجئے اس سلسلے کی پہلی قسط جلد آنے والی ہے