ایمرجنسی کو لگے اب تیسرا دن ہے لیکن سارے ملک میں جیسے ایک‘‘ہو‘‘کا عالم ہے۔مُش نے تو جو کرنا تھا کر لیا۔اپنی ہی قوم کو ایک بار

پھر فتح کر لیا اور بھاری بوٹوں کی دھمک سے وہ دھمال ڈالی کہ سچل سر مست اور لعل شہباز قلندر کے دیوانے بھی حیران ہیں۔
یوں تو کلامِ پاک کی کوئی آیت بھی نعوذ باللہ جھوٹ نہیں لیکن اس آیت کی تکذیب تو ہو ہی نہیں سکتی کہ
‘‘پھر ہم تم پر تم جیسے حاکم مسلط کر دیتے ہیں‘‘۔پاکستان
کی مٹی سے پیدا ہونے والی گندم کھانے والے اور اسی کے سوت اور ریشم سے
تیار شدہ لباس زیب تن کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری سب ‘‘اہل قلم‘‘
لگتا ہے ایک بار پھر جھوٹ اور ظلم سے سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ سہم کے گھروں
میں مقید ہو گئے ہیں یا خوف سے قلم کی سیاہی سوکھ گئی ہے۔
لیکن یہ دور
تو انٹرنیٹ کا ہے۔ قلم کار بھائیو اگر آپ کے خیالات ملک میں شائع نہیں ہو
سکتے تو دنیا بھر کے انٹر نیٹ موجود ہیں ان پر لکھو۔ جس جس کو ستارہ
امتیاز یا پرائڈ آف پرفارمنس ملا ہے اُسکا کا تو فرض دوسروں سے زیادہ ہے
کیونکہ یہ اعزاز بھی تو اسی ملک نے دیا ہے کسی نے ذاتی عنایت نہیں کی
کیونکہ یہ ملک سولہ کروڑ عوام کا ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔
میں آج منگل کی صبح پندرہ روز کے بعد واپس لندن پہنچا ہوں،
سڈنی سے چلتے ہوئے سخت گھبرا رہا تھا کہ چوبیس گھنٹے کا طویل سفر کیسے کٹے گا لیکن بھلا ہو میری ساتھ کی نشست پر بیٹھے ہوئے
سڈنی ٹائمز کے نامہ نگار‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘
کا کہ اس نے میری شکل سے شاید یہ اندازہ لگا لیا کہ میں پاکستانی ہوں اور
بُش کے حواری مُش کی نافذ کردہ ایمرجنسی کا جو قصہ لے کر بیٹھا تو اس نے
لندن تک کے سفر کا پتہ ہی نہیں لگنے دیا۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کی اس بات سے مجھے کوئی اختلاف نہیں کہ
‘‘مُش اور بُش دونوں پاکستان کے ساتھ کھیل رہے ہیں‘‘
اور بُش کے ایسے بیانات کھلم کھلا دھوکہ ہیں کہ ‘‘جنرل مشرف جتنی جلد ہو
سکے ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت کو بحال کریں‘‘۔صدر بش نے واشنگٹن میں
ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستانی رہنما سے کہا تھا کہ
ایمرجنسی نافذ نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد
ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام
سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے
گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال
کریں گے۔‘‘
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کہتا ہے کہ یہ سارے بیانات ڈرامے کے لکھے
ہوئے سکرپٹ کا حصہ ہیں اور ذرا سا بھی بالغ نظر انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ
مسٹر مُش کوئی بھی قدم مسٹر بُش کی منظوری اور انکے خیالات کے خلاف اٹھا
سکتے ہیں۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کو سب سے زیادہ حیرت اور افسوس پاکستان کے
قلم کاروں،کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں پر ہے جنہوں نے مُش کے اس غیر
جمہوری اقدام کا خاموشی سے ساتھ دیا ہے اور اس طرح یہ لوگ بھی ظالم کے ظلم
میں حصہ دار ہیں۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کو تو شاید باب شہرِ علم حضرت علی
علیہ السلام کے اس فرمان کاعلم بھی نہ ہو کہ ‘‘ظلم کے خلاف آواز بلند نہ
کرنا ظالم کا ساتھ دینا ہے‘‘ لیکن اس نے بات تو وہی کی ہے نا۔
سڈنی کے
اخبار کا‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ تو لندن سے برسلز روانہ ہو گیا کہ اسے وہاں غیر
جمہوری معاشروں میں صحافت کی اہمیت پر ہونے والے سیمینار میں شرکت کرنا
تھی اورمیں ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے گھر تک یہی سوچتا چلاآیا کہ جو بات
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کہہ رہا ہے وہ
اصغر
ندیم سید،حسن نثار،عبدالقادر حسن،عطا الحق قاسمی،امجد اسلام امجد،محمود
شام،سلیم یزدانی،ایاز میر،منو بھائی،ارشاد حقانی،مسعود اشعر،ڈاکٹر صفدر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ کیوں نہیں کہہ سکتے؟