17.10.2026, 08:03am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

مُش اور بُش دونوں پاکستان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔(صفدر ھمٰدانی)
14.10.2008, 02:29pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن
ایمرجنسی کو لگے اب تیسرا دن ہے لیکن سارے ملک میں جیسے ایک‘‘ہو‘‘کا عالم ہے۔مُش نے تو جو کرنا تھا کر لیا۔اپنی ہی قوم کو ایک بار پھر فتح کر لیا اور بھاری بوٹوں کی دھمک سے وہ دھمال ڈالی کہ سچل سر مست اور لعل شہباز قلندر کے دیوانے بھی حیران ہیں۔
یوں تو کلامِ پاک کی کوئی آیت بھی نعوذ باللہ جھوٹ نہیں لیکن اس آیت کی تکذیب تو ہو ہی نہیں سکتی کہ‘‘پھر ہم تم پر تم جیسے حاکم مسلط کر دیتے ہیں‘‘۔
پاکستان کی مٹی سے پیدا ہونے والی گندم کھانے والے اور اسی کے سوت اور ریشم سے تیار شدہ لباس زیب تن کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری سب ‘‘اہل قلم‘‘ لگتا ہے ایک بار پھر جھوٹ اور ظلم سے سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ سہم کے گھروں میں مقید ہو گئے ہیں یا خوف سے قلم کی سیاہی سوکھ گئی ہے۔
لیکن یہ دور تو انٹرنیٹ کا ہے۔ قلم کار بھائیو اگر آپ کے خیالات ملک میں شائع نہیں ہو سکتے تو دنیا بھر کے انٹر نیٹ موجود ہیں ان پر لکھو۔ جس جس کو ستارہ امتیاز یا پرائڈ آف پرفارمنس ملا ہے اُسکا کا تو فرض دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ یہ اعزاز بھی تو اسی ملک نے دیا ہے کسی نے ذاتی عنایت نہیں کی کیونکہ یہ ملک سولہ کروڑ عوام کا ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔
میں آج منگل کی صبح پندرہ روز کے بعد واپس لندن پہنچا ہوں،
 سڈنی سے چلتے ہوئے سخت گھبرا رہا تھا کہ چوبیس گھنٹے کا طویل سفر کیسے کٹے گا لیکن بھلا ہو میری ساتھ کی نشست پر بیٹھے ہوئے سڈنی ٹائمز کے نامہ نگار‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کا کہ اس نے میری شکل سے شاید یہ اندازہ لگا لیا کہ میں پاکستانی ہوں اور بُش کے حواری مُش کی نافذ کردہ ایمرجنسی کا جو قصہ لے کر بیٹھا تو اس نے لندن تک کے سفر کا پتہ ہی نہیں لگنے دیا۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کی اس بات سے مجھے کوئی اختلاف نہیں کہ ‘‘مُش اور بُش دونوں پاکستان کے ساتھ کھیل رہے ہیں‘‘ اور بُش کے ایسے بیانات کھلم کھلا دھوکہ ہیں کہ ‘‘جنرل مشرف جتنی جلد ہو سکے ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت کو بحال کریں‘‘۔صدر بش نے واشنگٹن میں ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستانی رہنما سے کہا تھا کہ ایمرجنسی نافذ نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال کریں گے۔‘‘
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کہتا ہے کہ یہ سارے بیانات ڈرامے کے لکھے ہوئے سکرپٹ کا حصہ ہیں اور ذرا سا بھی بالغ نظر انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ مسٹر مُش کوئی بھی قدم مسٹر بُش کی منظوری اور انکے خیالات کے خلاف اٹھا سکتے ہیں۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کو سب سے زیادہ حیرت اور افسوس پاکستان کے قلم کاروں،کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں پر ہے جنہوں نے مُش کے اس غیر جمہوری اقدام کا خاموشی سے ساتھ دیا ہے اور اس طرح یہ لوگ بھی ظالم کے ظلم میں حصہ دار ہیں۔
‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کو تو شاید باب شہرِ علم حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کاعلم بھی نہ ہو کہ ‘‘ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنا ظالم کا ساتھ دینا ہے‘‘ لیکن اس نے بات تو وہی کی ہے نا۔
سڈنی کے اخبار کا‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ تو لندن سے برسلز روانہ ہو گیا کہ اسے وہاں غیر جمہوری معاشروں میں صحافت کی اہمیت پر ہونے والے سیمینار میں شرکت کرنا تھی اورمیں ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے گھر تک یہی سوچتا چلاآیا کہ جو بات ‘‘جیمز سٹیورڈ‘‘ کہہ رہا ہے وہ اصغر ندیم سید،حسن نثار،عبدالقادر حسن،عطا الحق قاسمی،امجد اسلام امجد،محمود شام،سلیم یزدانی،ایاز میر،منو بھائی،ارشاد حقانی،مسعود اشعر،ڈاکٹر صفدر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ کیوں نہیں کہہ سکتے؟

:دیگر مضامین
(14.10.2008) تُم نے پاؤں کا جوتا بنایا ہے آئین کو!
(14.10.2008) جلتا ہوا یہ شہر بچانے کون آئے گا؟
(14.10.2008) مشتری ہشیار باش۔نوشتہ دیوار کون پڑھے گا؟
(14.10.2008) سروں کی فصل پک کر ہو چکی تیار سُن لو!
(14.10.2008) لبنان میں امریکی مداخلت۔مسلمان حاکم ابھی تک سو رہے ہیں
(14.10.2008) کیاعدلیہ کا فیصلہ فتح و شکست کا معاملہ نہیں؟
(14.10.2008) ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیا کوئی پوچھنے والا ہے
(14.10.2008) جولائی 7”سیون سیون“ لندن کی خوفناک یادیں
(14.10.2008) ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی کوششیں جاری
(14.10.2008) وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
(14.10.2008) فہیم جوزی کی ایک نظم ‘‘اندھیرا‘‘
(14.10.2008) جمیل ملک،حسین و جمیل بھی اور ملک صفت بھی
(14.10.2008) قومے فروختند چہ ارزاں فروختند
(14.10.2008) ‘‘ستم کا یہ کھیل ختم سمجھو‘‘
(14.10.2008) جیتے گا کون دیکھئے نفرت کے کھیل میں
(14.10.2008) پمرا ترمیمی آرڈینینس یا کالا قانون
(14.10.2008) پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو تاریخی آزادی دینےکی طرف ایک اور قدم؟
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔تیسری قسط
(14.10.2008) ظالمو جواب دو خون کا حساب دو۔۔اس نعرے کا خالق
(14.10.2008) کہاں سے ڈھونڈھ کے لاؤں تمہیں قمر عباس۔دوسری قسط



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں