16.10.2026, 02:42am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ذیابیطس کے مریضوں کے لیئے اہم معلومات۔ تیسری قسط۔از۔ڈاکٹر وجیہ الحسن بخاری
02.10.2012, 06:08am , منگل (GMT+1)

ڈاکٹر وجیہ الحسن بخاری

اس کے لئے خون میں شوگر یعنی گلوکوز  کوناپا جاتا ہے۔انسان کو آٹھ گھنٹے خالی پیٹ رہ کر یہ ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ اگرخالی پیٹ خون میں شوگر 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر   (یہ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اکائیاں ہیں، کچھ لیبارٹریاں ملی مول فی لیٹر   میں بھی خون کی شوگرناپتی ہیں)سے زیادہ ہو یا کھانا کھانے کے دو گھنٹوں بعدیا دن میں کبھی بھی 200 سے زیادہ ہو تو ذیابیطس کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ  نارمل خالی پیٹ انسان میں خون میں شوگر100 سے نیچے ہوتی ہے۔ایک اور بہت اچھا ٹیسٹ ہوتا ہے ہیموگلوبین ایچ ون سی ۔ یہ تقریبا تین ماہ تک خون میں اوسطاً    رہنے والی شوگر کی مقدار کا پتا دیتا ہے۔اگر یہ 6٫5 ہو یا اس سے زیادہ ہو تو بھی ذیابیطس کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔اگر خالی پیٹ خون میں شوگر 100 سے زیادہ ہو مگر 126 سے کم ہو یا دن میں کبھی بھی 140 سے زیادہ ہو  مگر 200 سے کم ہوتو ایسی صورت میں ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جسے گلوکوز ٹولرنس ٹیسٹ   کہتے ہیں۔ اس میں خالی پیٹ  انسان کو 75 گرام گلوکوز کھلا کر وقفے وقفے سے خون میں شوگر ٹیسٹ کی جاتی ہے۔اگر اس ٹیسٹ میں خون میں شوگر200 یا زیادہ نکل آئے تو ذیابیطس کی تشخیص کردی جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں شوگرنا تو نارمل ہوتی ہے اور نا اتنی زیادہ کہ ذیابیطس تشخیص کی جا سکے  ۔ اس کو ذیابیطس کی ابتدا سمجھنی چاہئے اور ایسے لوگوں کو خوراک اور ورزش سے اپنا وزن کم کرنا چاہئے۔ پہلی قسم  کی ذیابیطس کی تشخیص کے لئے بعض لوگوں میں ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے    جو اگر نکل آئے تو ذیابیطس کی پہلی قسم ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
نوٹ : ملی گرام فی ڈیسی لیٹر میں بتائی گئی شوگر کو اگر 18 سے تقسیم کردیں تو جو جواب آئے گا وہ  ملی مول فی لیٹرمیں ہو گا۔ اسی طرح ملی مول فی لیٹر میں بتائی گئی شوگر کو اگر 18 سے ضرب دے دیں تو جو جواب آئے گا وہ  ملی گرام فی ڈیسی لیٹر میں ہوگا۔ 
 اگر خون میں گلوکوز  (شوگر) جو کہ ایک طرح کی چینی ہے بڑھ جائے تو نقصان کیا ہے؟
جب خون میں شوگربڑھ جاتی ہے تو پھر وہ گردوں کے راستے پیشاب میں نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر ایسا  180شوگرکے درجے پر ہوتا ہے۔اگر چاٹ بناتے ہوئے پھلوں پر چینی ڈال دیں تو وہ پانی کو پھلوں میں سے باہر کھینچ لیتی ہے ۔ اسی طرح اگر پیشاب میں شوگرہو تو وہ جسم کا پانی باہر کھینچ لیتی ہے ۔ چنانچہ جب پیشاب میں جسم کا پانی مل جائے تو پیشاب کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اسی وجہ سے جب خون میں شوگربڑھی  ہوئی ہو تو پیشاب زیادہ آتا ہے۔اب اگر جسم کا پانی پیشاب کے رستے باہر نکل گیا ہو تو جسم میں پانی کی کمی ہوجائے گی۔ لہذا جسم ہمیں اکسائے گا  کہ پانی پئو تاکہ پانی کی کمی پوری کی جاسکے۔ اسی لئے ایسی حالت میں پیاس زیادہ لگتی ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے اکثر بڑی عمر کے لوگوں میں خون میں بڑھی ہوئی شوگرکی سرے سے کوئی علامت ہی نہیں ہوتی۔ 
شوگر سے پیدا ہونے والے مسائل
اب آپ کو سمجھانے کے لئے اور طب کی مشکل اصطلاحات کو استعمال کئے بغیر آسان الفاظ میں شوگر کی کچھ پیچیدگیوں کا ذکر ہوگا۔ایسا سمجھئے کہ شوگر جاکر خون کی چھوٹی اور بڑی نالیوں میں جم جاتی ہے اور انہیں بند یا تنگ کردیتی ہے۔ جب خون کی نالیاں تنگ پڑ جائیں تو پھر وہ اعضا کو پورا خون فراہم نہیں کرپاتیں۔ کچھ اعضا خون کی کمی برداشت نہیں کرپاتے اور بیمار ہوجاتے ہیں۔
 جن اعضا کی چھوٹی خون کی نالیاں    متاثر ہوتی ہیں ان میں آنکھیں، گردے ، پاوَں اور اعصاب شامل ہیں۔
آنکھوں کے مسائل ۔ آنکھوں کے پیچھے جو روشنی کو محسوس کرنے والا پردہ ہوتا ہے اسے ریٹینا   کہتے ہیں۔ یہ شوگر سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے  ۔ریٹینا کی خون کی نالیاں جب تنگ پڑ جائیں تو یہ جسم سے فریاد کرتا ہے کہ مجھے خون فراہم کرو۔ نتیجتاً جسم اس کی خون کی فراہمی بحال کرنے کے لئے اس میں نئی خون کی نالیاں بنا دیتا ہے۔ خون کی یہ نئی نالیاں کچی ہوتی ہیں اور کبھی پھٹ جاتی ہیں ۔ جب پھٹ جائیں تو آنکھ میں خون بھر جاتا ہے اور دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ریٹینا خون کی فراہمی کی کمی سے مر بھی سکتا ہے اور جب ریٹینا نہ رہے تو ظاہر ہے روشنی کو محسوس نہیں کیا جاسکتا لہذا بینائی  چلی جاتی ہے۔ اس کا علاج شوگر کو قابو میں رکھ کر اور  لیزر کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔بیمار ریٹینا کو لیزر سے  کہیں کہیں ایسےجلا دیا جاتا ہے کہ بینائی پر اثر نہ پڑے۔آنکھوں میں شوگر کی وجہ سے موتیا   بھی اتر آتا ہے۔ 
گردوں کے مسائل۔گردوںمیں خون کی نالیاں اگر  متاثر ہوں تو گردے کمزور ہوجاتے ہیں  ۔ گردوں میں ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ خون کو چھانتے رہتے ہیں۔جو ناکارہ اور زہریلے مادے چھن کر خون سے نکلتے ہیں ان کو پیشاب بنا کر گردے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں ۔  خون کے  کچھ کارآمد مادے  بھی چھن کر گردوں میں آتے ہیں جنہیں وہ واپس خون میں ڈال دیتے ہیں ۔ لیکن جب گردے کمزور ہوجاتے ہیں تو پھر وہ خون کو چھاننا کم کردیتے ہیں اور خون کے کارآمد مادوں ،جیسے پروٹین ،کو واپس جذب کر کے خون میں نہیں ڈال سکتے لہذا پیشاب میں پروٹین کا اخراج ہونے لگ جاتا ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ گردے  بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں اور مریض کو ڈائیلیسز    پر ڈالنا ضروری ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر 80/130 سے نیچے ہو اور شوگر قابو میں ہو۔دوائیوں کی ایک خاص قسم جو اینجیوٹینسن    ہارمون کو روک کر بلڈ پریشر کم کرتی ہے  اس میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔
اعصاب کے مسائل۔اعصاب کے اندر خون کی چھوٹی نالیاں جب بند ہوجاتی ہیں تو اعصاب مرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ہم اپنے جسم کو محسوس اعصاب ہی  کی وجہ سے کرتے ہیں اور اعصاب ہی جسم کو حرکت دیتے ہیں۔عام طور پر پہلے پیروں کے اعصاب متاثر ہوتے ہیں اور پھر ہاتھوں کے۔ جس جگہ کے بھی اعصاب متاثر ہوں وہ جگہ سُن رہتی ہے یا اس میں جلن ہوتی رہتی ہے۔ کچھ اعصاب   معدے اور آنتوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔اگر یہ متاثر ہو جائیں تو بدہضمی رہتی ہے، ڈکار آتے ہیں اور قبض رہنے لگ جاتی ہے۔ آدمیوں میں اعصاب 44 کی کمزوری سے جنسی مسائل جیسے ایستادگی    کا نہ ہونا ذیابیطس میں ایک بہت عام مسئلہ ہے۔اعصاب کی بیماری کا علاج شوگر کو قابو میں رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگرپیروں  یا ٹانگوں میں جلن بہت زیادہ ہو تو ایک دوا ایمیٹریپٹیلین    اس میں کارگر  ثابت ہوتی ہے۔
ذیابیطس میں  بعض اوقات  چندلوگوں کو ایک  اعصابی مرض ہوتا ہے جس میں ایک دن اچانک ایک ران میں درد شروع ہوجاتا ہےاور وہ ٹانگ کمزور محسوس ہوتی ہے۔ کچھ دن بعد وہ ران دوسری ران کے مقابلے میں  پتلی نظر آتی ہے۔ایساپٹھوں کے ضائع ہوجانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اکثر ایسے مریضوں کو چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور پیشاب اور پاخانے کے مسائل،  جیسے پیشاب کی دھار کا رکنا یا کمزور ہونا، قبض یا  دست لگ جانا، پیش آسکتے ہیں۔اکثر اوقات کچھ عرصے بعدران کے ساتھ ساتھ پوری ٹانگ میں یہ درد پھیل جاتا ہے اور دوسری ٹانگ بھی اس مرض کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کو ڈایابیٹک اےمائیوٹروفی       کہتے ہیں۔ اس کا علاج شوگر پر قابو اور درد کو کم کرنے والی کچھ خاص ادویات ہیں جیسے ایمیٹریپٹیلین     ۔ عام دردوائیں اس میں کام نہیں کرتی۔
پاوْں کے مسائل۔اعصاب جب متاثر ہوتے ہیں تو پیروں میں جلن محسوس ہوتی ہے  خاص طور پر  رات کے وقت اور آہستہ آہستہ پاوَںمیں جو محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ اعصاب کے ناکارہ ہو جانے کی وجہ سے جاتی رہتی ہے۔ چنانچہ پاوَں سُن رہتے ہیں اور اگر ان میں چوٹ لگ جائے تو محسوس نہیں ہوتا ۔ لہذا مریض اپنے پاوَں کا خیال نہیں رکھ پاتا اور پاوَں میں جوتا کاٹنے کی وجہ سے ،  ٹھوکر لگنے سے  یا پیروں کی انگلیوں کے درمیان پھپھوندی    لگ جانے کی وجہ سےزخم ہو جاتے ہیں جس پر جراثیم حملہ کردیتے ہیں اور انفیکشن  ہوجاتی ہے۔ ذیابیطس کا مریض پاوَں کی انفیکشن کو آسانی سے ٹھیک نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مدافعتی نظام   کمزور ہوتا ہےلہذا جراثیم آسانی سے حملہ آور ہوجاتے ہیں  اور جسم اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے ان جراثیموں کو پوری طرح مار نہیں سکتا۔ پھر خون میں  گلوکوزکی زیادتی جراثیموں کوپلنے کے لئیے زیادہ خوراک  مہیا کردیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے پاوَں کے زخم خطرناک حد تک جراثیموں کے حملے کی زد میں آجاتے ہیں اور خراب ہو کر پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کی آپریشن کر کے صفائی کرنی پڑتی ہے اور  پیپ نکالنی پڑتی ہے اور  بعض اوقات توزخم اتنا خراب   ہوجاتا ہے کہ پاوَں بالکل ہی گل سڑ جاتا ہے اور جسم میں اُس سے زہر نکل کر پھیلنے لگتا ہے ۔ ایسی صورت میں پاوَں کاٹنا پڑجاتاہے۔ 
کچھ اعضاء ایسے ہیں جن کی خون کی بڑی نالیاں    تنگ پڑجاتی ہیں۔
دماغ کے مسائل۔ اگر دماغ میں خون کی نالی بند ہو تو فالج ہو سکتا ہے جسے سٹروک    کہتے ہیں۔ اس کاعلاج بھی شوگر کو قابو میں رکھ کر اور  بلڈ پریشراور کولیسٹرول کو کم رکھ کراور ایسپرین    کی 100 ملی گرام کی دوا  روز لے کر کیا جاتا ہے۔ کچھ شوگر کے مریضوں کی دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو جاتی ہے ۔اس مرض کو  ایٹریل فیبریلیشن    کہا جاتا ہے ۔اس بیماری میں دل کے اندر  کچھ خون جم جاتا ہے ۔ دل  سارے جسم میں خون کو گردش کرواتا ہے۔اگر دل کے اندر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے ہوں تو وہ دل سے نکل کرخون کی دھار میں شامل ہو کر دماغ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جا کر خون کی نالیوں میں پھنس  کر انہیں بند کر دیتے ہیں۔ اس سے انسان کو فالج ہو جاتا ہے۔اس سے بچنے کے لئے ایک دوا جسے وارفرین    ہیں ایٹریل فیبریلیشن میں دی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک اور دوا اس مقصد کے لئے پیش کی گئی ہے جس کا نام ڈیبی گیٹرین   ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ ورافرین لیتے ہوئے مریضوں کا خون کا ایک ٹیسٹ اکثر مہینے میں ایک یا دو دفعہ اور بعض اوقات تو ہر تھوڑے دنوں بعدکروانا  پڑتا ہے جسے آئی این آر   کہتے ہیں۔مگر ڈیبی گیٹرین کے ساتھ اس ٹیسٹ کے کروانے کی ضرورت نہیں۔ 
 دل کے مسائل۔اسی طرح دل کی خون کی نالیاں جب تنگ ہو جائیں تو دل کا دورہ   پڑ سکتا ہے ۔عام طور پر دل کے دورے سے چھاتی میں درد ہوتاہے مگر ذیابیطس میں تو اکثر لوگوں کو دل کے دورے کا درد ہی نہیں محسوس ہوتا جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں درد کا  اعصاب کی وجہ سے پتا چلتا ہے۔مگر جیسا کہ آپ نے اوپر دیکھا کہ شوگر کے مرض میں اعصاب تباہ ہوجاتے ہیں لہذادل میں اٹھنے والے درد کا پتہ ہی نہیں چلتا۔درد کا ہونا فائدہ مند ہے کیونکہ انسان چھاتی کے دردسے گھبرا کر ہسپتال جاتا ہے جہاں اس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔مگر ذیابیطس کےاکثر  مریضوں کو دل کے دورےمیں چھاتی میں درد کی بجائے چند ہلکی پھلکی شکایات   ہوتی ہیں جیسے چھاتی میں گھٹن، یا سانس کا چڑھنا، گردن یا جبڑے کا بھاری محسوس ہونا،   یا بعض اوقات صرف طبیعت میں بےچینی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہو اور طبییعت میں خرابی کی کوئی  اوروجہ نہ سمجھ آرہی ہو تو فوراً ہسپتال جائیں اور ای سی جی   کروائیں۔ ایک خون کا ٹیسٹ ہوتا ہے ٹروپونین    وہ بھی ضرور کروائیں۔ یاد رکھیں کہ دل کا دورہ فوری جان لے سکتا ہے اور 30 فیصد لوگ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں۔ دل کے مرض کا علاج بھی ایسپرین، اور بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کم کر کے کیا جاتا ہے اور شوگر کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔بعض اوقات دل کا بائی پاس    آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ 
بعض اوقات ٹانگوں کی خون کی نالیاں تنگ پڑ جاتی ہیں ۔ اگر ایسا ہو تو مریض جب بھی چلتا ہے تو اسے ٹانگوں میں درد  یا اینٹھن ہونے لگتی ہے جو کہ رک جانے سے  تقریباً فوراً ٹھیک ہوجاتی ہے۔ اسے کلاڈیکیشن   کہاجاتا ہے۔اس کا علاج بھی  شوگر پر قابو، ایسپرین اور بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو نیچے رکھنا ہے۔ بعض اوقات آپریشن کرنا پڑتا ہے۔
ایک بہت ہی ضروری بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی خون کی بڑی نالیوں کو بہت نقصان دیتی ہے۔ لہذا ذیابیطس کے مریض کو فورا تمباکو نوشی چھوڑدینی چاہئیے کیونکہ تمباکو نوشی اور شوگر مل کر خون کی بڑی نالیوں کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہیں ۔ ایک اور  بات ضرور یاد رکھیں کہ شوگر میں لگنے والی فالج، دل اور گردے کی بیماری کے علاج میں شوگر کو قابو رکھنا  توضروری ہے  ہی مگر اُس سے کہیں زیادہ ضروری بلڈ پریشر کو کم رکھنا ہے۔ لہذا بلڈ پریشر سے غفلت نہ برتیں۔
دانتوں کی بیماری ۔اکثر شوگر کے لوگوں کے دانت بہت خراب ہوتے ہیں۔ لہذا دانتوں کو صاف رکھیں اور ڈینٹسٹ کے پاس سال میں دو دفعہ دانتوں کی صفائی کروانے جانا چاہئے۔ خیال رہے کہ ڈینٹسٹ نئے غیر استعمال شدہ اوزار آپ کے اوپر استعمال کرے ورنہ آپ  کو ڈینٹسٹ سے ہیپاٹائٹس بی یا سی یا ایڈز کا مرض  لگ سکتا ہے۔
حمل اور ذیابیطس۔ کچھ عورتوں کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے۔ اسے گیسٹیشنل ذیابیطس  کہتے ہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد یہ شوگر اکثر و بیشتر ٹھیک ہو جاتی ہے مگر ایسی عورتوں کوبعد میں شوگر ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔حمل میں ذیابیطس بچے کے لئے بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے بچے کی نشونما رک سکتی ہے، بچے کے ارد گرد بہت زیادہ پانی اکٹھا ہو سکتا ہے   جس سے ماں کو تکلیف ہوتی ہے اور بعض اوقات زچگی وقت سے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ بچے کے  جسم کے بننے میں نقائص ہو سکتے ہیں جیسے دل، ہڈیوں اور بڑی آنت کا ادھورا بننا۔ ایسے بچے بہت موٹے بھی ہو سکتے ہیں   جس کی وجہ سے ان کی پیدائیش میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔لہذا ان سب باتوں سے بچنے کے لئے ماں کی شوگرحمل میں کئی دفعہ ٹیسٹ کروانی چاہئے تاکہ اگر شوگر نکلے تو فوراً اُس کا علاج شروع کیا جاسکے۔شوگر کی مریض  ماؤں کو لازماً ایک ماہر امراض نسواں  کے پاس زچہ بچہ کلینک  میں لگاتار جاکر اپنا معائینہ کرواتے رہنا چاہئے۔ اگر حمل میں شوگر ہو جائے  یا حاملہ عورت کو پہلے سے ہی شوگر ہو تو اسکی شوگر کو بہت سختی سےقابو میں  رکھا جاتا ہے۔ ایسی ماوْں کو انسولین کے انجکشن لگانے پڑتے ہیں اور ان کی شوگر عام ذیابیطس کے مریضوں سے کافی کم درجے پر رکھی جاتی ہے۔ ان کی خالی پیٹ خون کی شوگر 100 سے نیچے ہو اور کھانے دو گھنٹے بعد کی شوگر 120 سے نیچے ہونی چاہئے۔
شوگر کا کم ہونا۔بعض اوقات ذیابیطس کا مریض دوا  زیادہ لے لے یا کھانا کم کھائے تو خون میں شوگر (گلوکوز)  بہت کم ہو جاتی ہے جسے لوگ شوگر ڈاوَن ہونا  یا لو    ہوناکہتے ہیں۔  طب کی زبان میں اس کو ہائیپوگلائسیمیا    یا  پھر صرف ہائیپو کہاجاتا ہے۔خون میں شوگرجب 70 سے نیچے گر جاتی ہے تو تب شوگر کم ہونے کی علامات شروع ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسم ہر وقت  شوگرکو جلا کر اس سے توانائی حاصل کرتا رہتا ہے۔ جب شوگرکم ہو جائے تو  تمام جسم اور خاص طور پر دماغ اپنا کام کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہ ایک نہایت خطرناک چیز ہے اور اس سے موت بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے ہر حال میں بچنا چاہئے۔ شوگر کم ہونے کے دوران مریض کو پریشانی اور خوف محسوس ہو تا ہے۔ بہت کمزوری محسوس ہوتی ہے اور ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ٹھنڈے پسینے آتے ہیں اور دل تیز دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو مریض کو فوراً کوئی میٹھی چیز کھانی چاہئے جیسے  میٹھی گولیاں، مشروبات یا چینی وغیرہ اور اپنی شوگر فوراً چیک کرنی چاہئے۔ میٹھی چیز کھانے کے بعد کچھ اور بھی کھانا چاہئے جیسے کہ تھوڑی روٹی یا چاول تاکہ شوگر دوبارہ نیچے نہ آجائے۔اگر اس وقت مریض کو کوئی میٹھی چیز نہ دی جائے تو مریض بہکی بہکی باتیں کرنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر آخر میں بیہوش ہوجاتا ہے۔ اگر پھر بھی اسکا علاج نہ ہو،  جو کہ اسے تیزی کے ساتھ ہسپتال میں لےجانا ہے تاکہ اُسے گلوکوز کی ڈرپ لگ سکے،  تو مریض مر سکتا ہے یا اُس کے دماغ  کو  ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔شوگر کے مریضوں کو گھر سے باہر جاتے وقت اپنے ساتھ میٹھی گولیاں ضرور رکھنی چاہئں۔ شوگر کے وہ  مریض  جن کی شوگر اکثر کم ہوجاتی ہےاپنے گھرمیں گلوکوز  کا پاؤڈر یا 15 گرام گلوکوز کی گولیاں رکھیں اور اپنے گھر والوں کو بتائیں کہ اگر  اُن کی شوگر کم ہو اور وہ بہکی بہکی باتیں کر رہے ہوں تو انہیں فوراً گلوکوزدیا جائے یا کوئی بھی میٹھی چیز اور اگر وہ بےہوش ہوں تو ایمبولینس کو فوراً بلایا جائے  یا انہیں کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا جائے۔بہتر تو یہی ہے کے بےہوش مریض کے منہ میں کوئی چیز نہ ڈالی  جائے کیوں کہ وہ  میٹھا  یا چینی مریض کی سانس کی نالی میں چلی جائے گی جس سے بےہوش مریض   کا،  جو کھانسی کر کے اپنے گلے کو صاف نہیں کرسکتا،دم گھٹ سکتا ہے۔ مگر پاکستان  میں  بعض اوقات ٹریفک کی وجہ سے یا ایمبولینس نہ آنے کی وجہ سے  بےہوش مریض ہسپتال نہیں  پہنچ پاتا۔ اگر مریض کی شوگر اکثر کم ہو جاتی ہو اور بے ہوشی کا خطرہ ہو تو ایسے مریضوں کو اپنے گھر میں  گلوکاگون   ایک  ملی گرام کا  انجکشن بھی رکھنا چاہئے۔ یہ انجکشن ایسے ہی لگتا ہے جیسے انسولین کا یعنی کھال کے نیچے۔  گلوکاگون سے شوگر کچھ دیر کے لئے اوپر آجاتی ہے مگر اس دوران اگر مریض کچھ نہ کھائے  تو پھر واپس نیچے چلی جاتی ہے۔گلوکاگون کا فائدہ یہ ہے کہ  یہ بےہوش مریض کو بھی لگایا جاسکتا ہے۔بعض اوقات گلوکاگون سے بھی مریض بے ہوشی سے نہیں جاگتا۔ میرے خیال میں  اگر مریض  بےہوش ہو اور گلوکاگون  کا اثر  بھی نا ہوا ہو اور  30 منٹ سے زیادہ گزر گئے ہوں اور جلد ہسپتال پہنچنے کی صورت نہ بن رہی ہو تو مجبوری کے عالم میں  گلوکوز یا  پھر چینی ،مریض کو بائیں کروٹ لٹا  کر  اِس طرح کہ اُس کا بائیاں رخسار       زمین  یا بستر کے  ساتھ لگ رہا ہو، اُس کی زبان کے نیچے  چمچے سے ڈال دیں۔یاد رکھیں کہ ہر بے ہوش انسان کو  اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق بائیں کروٹ لٹانا  چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض  اگر بے ہوشی کی حالت میں  الٹی کرے تو وہ الٹی  سانس کی نالی میں نہیں جاتی۔ ایک سے دوچمچے بہت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے زیادہ مریض کی سانس کی نالی میں چلاجائے گا ۔ بہت سے لوگ جنہیں شوگر کا مرض کئی سالوں سے ہو ان کے اعصاب شوگر سے اتنے خراب  ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں شوگر کے کم ہونے کا بھی پتا نہیں چلتا اورشوگر کم ہونے سے وہ بےہوش تو ہو جاتے مگر چونکہ انہیں شوگر کم ہونے کی  کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی لہذا وہ میٹھا کھا کر بےہوشی  سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے۔ ایسے مریضوں کو اپنی شوگر روزانہ چیک کرنی چاہئے اور ان کے ڈاکٹر ایسی حالت میں ان کی شوگرکو بہت قابو میں رکھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔  


:دیگر مضامین
(02.10.2012) مجتبیٰ حسین مرزا بہتر سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد نیوجرسی میں انتقال کر گئے
(25.09.2012) مظفر رزمی چھہتر سال کی عمر پا کر انیس ستمبر کو مظفر نگرمیں رحلت کر گئے
(21.09.2012)  کراچی اٹھارہ دنوں میں فائرنگ ، پرتشدد واقعات اور آتشزدگی میں 413 افراد ہلاک
(20.09.2012) نیو جرسی میں انتقال کرنے والے سید سجاد ناظم زیدی مرحوم کی یاد میں
(18.09.2012) حسینی دائر ۃ المعارف کے علمی و تحقیقی عمل کا ایک باب ۔مولانا میرزا محمد جواد
(17.09.2012) سید سجاد ناظم کی مجلس سوئم سولہ ستمبر اتوارکو مسجد علی نیو جرسی میں ہوئی
(16.09.2012) ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں تراسی سال کی عمر میں انتقال کرگئیں
(15.09.2012)  ادبی تنظیم بزم اردو سیتاپورکی آئندہ طرحی شعری نشست سات اکتوبر کو ہو گی
(15.09.2012) پاکستان کے موجودہ تکلیف دہ حالات پر پاک یورو جرنلٹس فورم کے تحت کل اہم مذاکرہ
(11.09.2012) لاہور کا بازار حُسن۔جمیلہ،طاہرہ اور مفکر شیخ۔ایک سچی کہانی
(08.09.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان کا کردار۔23ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(05.09.2012) پاک یورو جرنلسٹس فورم کی محمد خوشتررحمٰن خان کو عالمی اخبار کا بیورو چیف بھارت بننے پر مبارک
(26.08.2012) فرینکفرٹ کی معزز شخصیت سید سعید کی صاحبزادی فوزیہ سید نے بائیو آرگنز کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر لی
(24.08.2012) فرینکفرٹ میں فن و ادب ایسوسی ایشن اور پاک یورو جرنلسٍتس فورم کی تقریب آج ہفتے کے روز
(23.08.2012) فرینکفرٹ کی مقبول شخصیت صالح جی کو دوستوں اور احباب کی موجودگی میں دفن کر دیا گیا
(21.08.2012) پاکستان کے سينئر صحافي شميم الرحمن منگل کی صبح کراچي ميں انتقال کرگئے
(18.08.2012) یوم آزادی پاکستان کی تقریب پاکستانی قونصلیٹ فرینکفرٹ میں
(17.08.2012) حسینی دائرۃ المعارف کی کتاب "الحسین والتشریع الاسلامی جلد 1 پر مقالہ
(10.08.2012) اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو اور علی اس کا دروازہ ہیں
(09.08.2012) بھارت کے تاریخی شہر لکھنؤ میں شہادت علی علیہ السلام کے سلسلے کا جلوس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں