17.10.2026, 10:57am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
 
 

مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا
14.10.2008, 02:53pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن

آسٹریلیا کے بیس روزہ سفر سے واپس لندن آئے ہوئے بھی ایک ہفتہ ہونے کو ہے لیکن اس ضمن میں سفر نامے کی بھی مزید کوئی قسط نہ آنے کی یہ وجہ نہیں کہ یہ تحریر وطن عزیز کے آئین کی طرح‘‘معطل‘‘ ہوگئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سفر نامے کی مزید اقساط‘‘آئین کی معطلی‘‘ کی نذر ضرور ہو گئی ہیں۔
مجھ جیسا قلم کار جو اسی قلم کے سہارے زندہ ہے اور اسی قلم کی نسبت سے جانا بھی جاتا ہے اور سچی بات تو یہ کہ یہی قلم میرے رزق کا بھی باعث ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وطن عزیز پر ایسا کڑا وقت آجائے کہ آئین کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا جائے،ذرائع ابلاغ کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اپنے ہی ہاتھوں سے ٹی وی چینلوں اور اخبارات کا گلا دبا ڈالیں،وکلا کو جانوروں کی طرح پیٹا جائے،عدلیہ کو پا با زنجیر کر دیا جائے،ججوں کو پی سی او تحت حلف اٹھانے پر مجبور کیا جائے،اپنی مرضی کی عدالت اور منصف منتخب کیئے جائیں،عام شہریوں کو حق گوئی کا مزا چکھانے کے لیئے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کی جائے،حاکمِ وقت یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی خود کو معصوم بنا کر پیش کرے اور یہ کہے کہ میں نے کون سا کام آئین کے خلاف کیا ہے۔۔۔تو اس صورت میں یہ قلم کیا لکھے گاِ مشاعروں کی داستان؟ کینبرا،میلبورن اورسڈنی کی سیر؟ کھانے اور دعوتیں،سیرو تفریح؟ یا پھر وہ کچھ جو کچھ ان کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور جس کا ایک ایک لمحہ اُس وطن عزیز کے مستقبل کی داستان رقعم کر رہا ہے جسکی بنیادوں میں مجھ جیسے کتنے ہی لوگوں کے آبا و اجداد کا خون ہے کہ جنہوں نے اس خطہ زمین کے حصول کے لیئے کون کون سی قربانی نہیں دی۔
بس یہی ایک وجہ تھی جس کے باعث آسٹریلیا میں بیس روز کا ذکر موخر ہوا لیکن یہ قلم سویا نہیں ،بیدار رہا اور الحمد اللہ بیدار ہے۔
آسٹریلیا کے سفر نامے کی وہ اقساط جنکا آغاز میں نے سڈنی میں قیام کے دوران ہی شروع کر دیا تھا ابھی خاصی تعداد میں شائع ہونا باقی ہیں لیکن ان میں وقفےوقفے سے التوا آتا رہے گا کہ ابھی تک ملکِ عزیز کے حالات نہایت ناگفتہ ہیں اور آپ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ بعض اوقات بہت سے موضوعات کو دیگر موضوعات پرفوقیت حاصل ہو جاتی ہے اور قلم ایسے میں اپنی سمت کا تعین خود کرتا ہے۔
‘‘آسٹریلیا میں بیس روز‘‘ کی اگلی یعنی پانچویں قسط شائع ہونے کے لیئے تیار ہے لیکن میں نے اسکی اشاعت سے قبل اپنے تئیں یہ مناسب سمجھا کہ ایک کالم میں سڈنی سے لیکر میلبورن اور پھر کینرا سے لیکر وولنگانگ تک کے اپنے تمام کرم فرماؤں اور میزبانوں کا ایک مشترکہ شکریہ ادا کر دیاجائے کہ سُنت نبوی و علوی بھی ہے اور ہماری اُس تہذیب کا حصہ بھی کہ جو جدید مغربی تہذیب کی چکا چوند سے بے جا طور پرمتاثر ہو کر اپنی کتنی ہی اچھی چیزوں کو خیر باد کہہ چکی ہے جن میں سے ایک شکریے کی ادائیگی بھی ہے۔
میرے قارئین میں سے کوئی بھی ناموں کی ترتیب کی مناسبت سے یہ تاثر نہ لے کہ پہلے والے نام بعد میں آنے والے ناموں سے زیادہ شکریے کے مستحق ہیں۔ یہ سب نام یہ کالم لکھتے ہوئے جیسے جیسے میرے ذہن کی تختی پر نمودار ہو رہے ہیں میں انہیں لکھے چلا جا رہا ہوں۔
یقین کیجئے کہ آپ سب وہ کہ جنکے نام لوحِ دل پر محفوظ ہیں اور وہ کہ میں جن کے نام نہیں بھی جانتامیرے دل کے نہاں خانے میں ایک طویل عرصے تک مجھے اپنی عنایات اور محبتوں کی یاد دلاتے رہیں گے۔
وہ جنہوں نے اپنا قیمتی وقت مجھ جیسے طالب علم کو رفاقت دینے میں گزارا اور وہ جو بوجوہ یا اپنی مصروفیات کے باعث کوئی رابطہ نہ رکھ پائے یا رکھنا نہیں چاہا وہ سب بھی میری یادوں کے خزانے کا انمول حصہ ہیں۔
سب سے پہلے لوحِ دل کی پہلی سطر پر لکھے ہوئے ناموں میں اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا کے روح رواں ڈاکٹر شبیر اور انکے اہل خانہ اور آسٹریلیا میں ‘‘صدائے وطن‘‘ کی شکل میں اعلیٰ معیار کی صحافت کو قائم رکھنے والے برادرم سید ظفر حسین اور انکے برادر خورد سید جاوید حیسن اور انکے اہلِ خانہ ہیں۔
ڈاکٹر شبیر خود بھی ہشت پہلو شخصیت ہیں لیکن انکے گھر کی جاوداں بہار میں سب سے بڑا حصہ انکی اہلیہ اور ہماری قابل صد احترام بھابھی فرحت کا ہے کہ جن کے ہاتھوں میں اُس خلاق دو جہان نے جنت کے کھانوں کی لذت دی ہے۔ اسی خانوادے کا ایک بیدار مغز فرد ڈاکٹر شبیر کا چھوٹا بیٹا عابد ہے جو سوالات کرنے کے معاملے میں بقول میرے پوری امت مسلمہ کا قرض ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بیٹی فرحشادی کے بعد اگرچہ ہیوسٹن میں مقیم ہے لیکن اس گھر میں اسکا ذکر اسقدر ہے وہ یہیں موجود لگتی ہے۔ اسی گھر کا ایک نہایت سلجھا ہوا فرد ڈاکٹر صاحب کا بڑا اسد بیٹا  ہے کہ جس کی صحبت میں رہنے میں ایک اپنی طرح کا لطف ہے۔
ڈاکٹر شبیر حیدر میرے اور میری اہلیہ ماہ پارہ کے محسن اور ایک زمانے تک یاد رہنے والے شاعر مرحوم ضمیر جعفری کے بھتیجے ہیں اور انکی کتنی خصوصیات ان میں باہم نظر آتی ہیں۔اس خانوادے کاذکر میرے سفر نامے کے ابواب میں خوب خوب آئے گا کہ سڈنی سے باہر میرا سب سے زیادہ وقت اسی گھر میں گزرا ہے جہاں مجھے اپنے گھر کی خوشبو کا احساس ہوا ہے۔
اس گھر کے سربراہ سے لیکر اس گھر کے درو دیوار تک کا شکریہ کہ ان کے لیئے شاید شکریے کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔
لوحِ دل کی پلی سطر میں ڈاکٹر شبیر حیدر کے بالکل ساتھ لکھا ہوا ایک اور نام میرے ہم پیشہ اور ہم نفس برادر عزیز سید ظفر حسین اور انکے اہلِ خانہ کا ہے کہ آسٹریلیا کے بیس روزہ قیام میں ایک تہائی قیام اسی گھر میں رہا ہے کہ اس کے لیئے گھر کا لفظ ایک عام سا لفظ ہے۔
سید ظفر حسین ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں اور اس مفاد پرستی کے عہد میں کتنی ہی بلامفاد دوستیوں اور محبتوں کے امین ہیں۔
آسٹریلیا کے سفر نامے میں اس خانوادے کا ذکر بھی بہت آئے گا کہ یہ ذکر ان پر احسان نہیں بلکہ انکا حق ہے کیونکہ اس گھر کے ایک ایک فرد نے اس فقیر کے لیئے جس محبت اور اپنائیت کا اظہار کیا اسکا احاطہ شاید یہ الفاظ نہ کر سکیں۔
یہ معیار کوئی میرا قائم کردہ نہیں بلکہ خلاقِ دو جہان نے کلامِ پاک میں کئی مقامات پر ارشاد فرمایا ہے کہ ‘‘ تم میں سے بعض کو بعض پر فوقیت ہے‘‘۔ اور یہ فوقیت کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر رُخ میں ہے۔ اسی معیار کے مطابق ڈاکٹر شبیر حیدر اور سید ظفر حسین کے خانوادے کو متعدد نسبتوں سے دوسرے کرم فرماؤں پر فوقیت ہے۔ لیکن ایسے اور بھی بہت سے احباب کا ذکر بھی آگے چل کر آئے گا جنکی فوقیت کا اپنا مخصوص شعبہ ہے۔
میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ ‘‘کرنے والا اور نہ کرنے والا اور جاننے والا اور نہ جاننے والا‘‘ برابر نہیں ہو سکتے اسی لیئے جہاں محبتوں کے امین ان احباب کا کھل کر تذکرہ ہو گا وہاں عدل کے تقاضے کے تحت ان لوگوں کا بھی ذکر ضروری ہے جو تعداد میں آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں لیکن وہ اپنی ہی برادری کے بڑے بڑے کاموں کو اپنی کوتاہ اندیشی اور نادانی کے باعث بہت کم تر بنا دیتے ہیں۔
بحر حال یہ سارے اذکار آگے چل کر آتے رہیں گے۔ بات ہو رہی تھی برادر محترم سید ظفر حسین کیے خانوادے کی اور اس گھر میں کھلنے والے گلابوں کی کہ جنکی خوشبو نہ جانے کب تک میرا حصار کیئے رکھے گی۔
ظفر حسین کے بارے میں بہت کچھ لکھا جانا ہے کہ ایسے لوگ پاکستان سے باہر مقیم پاکستانیوں کے لیئے باعث افتخار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس گھر کی زینت اور ہماری بہت عزیز بھابھی نفیسہ جو اپنے نام کی طرح نفیس بھی ہیں اور اسمِ با مسمیٰ بھی۔ نفیسہ بھابھی نے اس قیام کے دوران ایک لمحے کو بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں لندن سے ہزاروں میل دور کسی اور ملک یا کسی اور شہر میں ہوں۔ اب جو واپس پلٹ کر آئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں تو اکثر دوپہر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابھی نفیسہ بھابھی کی آواز آئے گی کہ‘‘کچھ نہیں تو کم از کم یہ پھل ہی کھا لیجئے‘‘ اور میری نظروں کے سامنے سات قسم کے پھلوں سے بھری ہوئی وہ ڈش گھوم جاتی ہے جو ہر دوپہر خاص طور پر میرے لیئے تیار ہوتی تھی کہ میں کوئی تیس برس سے دوپہر کے کھانے کا عادی نہیں۔
بھابھی نفیسہ کی نفاست کا بھی جامع ذکر سفر نامے میں آتا رہے گا۔ اسی گھر کے روشن چراغوں میں ظفر حسین کے دونوں بیٹے طلال اور ہلال کے علاوہ اس گھر کی خوشبو فریحہ بھی شامل ہیں کہ ان کے ہونے کے احساس نے سڈی میں قیام کے دوران مجھ میں میرے اپنے دونوں بچوں کا احساس شدید طور پر زندہ رکھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ آسٹریلیا سے مستقل اپنے بچوں کو فون کرنا میرے شیڈول کا اہم حصہ تھا۔
شکریہ ظفر بھائی،بھابھی نفیسہ،فریحہ،طلال اور ہلال کا کہ یہ بچے بھی اپنے بزرگوں کی روایات کے امین ہیں۔ پروردگار ان کو ہر قدم پر کامیابی عطا کرے۔
اور اب ذکر ایک الگ سی شخصیت سید جاوید حیسن کا کہ جو حقیقیت میں تو ظفر حسین کا بھائی ہے لیکن ظفر سے بہت مختلف
----------------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(دوسری قسط)

گزشتہ پہلی قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔اور اب ذکر ایک الگ سی شخصیت سید جاوید حسین کا کہ جو حقیقیت میں تو ظفر حسین کا بھائی ہے لیکن ظفر سے بہت مختلف۔۔۔۔۔سید ظفر حسین اور جاوید حسین دونوں جنگ کویت کے زمانے میں کویت میں ہی مقیم تھے اور دونوں وہاں سے خالی ہاتھ نکلے تھے لیکن پھر ایک بار اللہ کے سہارے اور اپنی محنت سے ان دونوں بھائیوں نے بردران یوسف کی طرح نہیں بلکہ برادران حسنین علیہ السلام کی طرح اُس محبت اور یگانگت کا ثبوت دیا جو آج کے زمانے میں عنقا ہے اور اسی محبت اور یگانگت کا پھل آج وہ رزق حلال کی صورت میں کھا رہے ہیں۔
جاوید حسین کو جس طرح باری تعالیٰ نے ظاہری خوبصورتی عطا کی ہے اسی طرح وہ دل کے بھی خوبصورت ہیں اور یہی ایک مومن کی نشانی ہوتی ہے کہ اسکا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہوتا ہے۔
میں نے جو یہ فقرہ لکھا تھا کہ جاوید اپنے بھائی ظفر سے مختلف ہے تو اسکا مقصد کوئی دونوں بھائیوں کے درمیان تقابل نہیں ہے بلکہ میرے اُس فلسفے کی غمازی ہے کہ خلاق دو جہاں نے ہر کسی کو ایک خاص وصف سے نوازا ہوتا ہے اور اگر انسان کو اپنے اسی وصف کا ادراک ہو جائے تو وہ خود آشنائی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
جاوید حسین کے بارے میں بھی اصل سفر نامے میں خوب کھُل کر باتیں ہوں گی لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ نماز و روزے اور عبادات کا پابند یہ دوست عزیز قناعت اور صبر کی دولت کے ساتھ ساتھ علم اور عالم کی عزت کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔
میں نے خود اپنی ان آنکھوں سے اسے جس طرح علما کی عزت کرتے دیکھے ہے سچ پوچھیں تو مجھے جاوید حسین پر رشک آنے کے ساتھ ساتھ اپنی کم مائیگی کا بھی احساس ہوا ہے۔ جاوید بھائی میں عزت کرنے کی اسی سعادت کی وجہ سے وہ خود بھی شہر بھر میں عزت سے نوازے جاتے ہیں اور یہ عزت انکا حق ہے۔
مجھ جیسے طالب علم کو بھی نہ جانے کیوں انہوں نے صاحبانِ علم کی صف میں لا کھڑا کیا اور جس عزت اور محبت سے نوازا اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس دنیا میں مفادات کی خاطر نام نہاد عزت کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن کسی مفاد کے بغیر کسی کی عزت آج کے دور میں کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی انسان سے نا اُمید نہیں ہوا۔
جاوید کے بارے میں بہت تفصیل سے سفر نامے میں باتیں ہونگی لیکن یہاں اُنکا اور انکی اہلیہ صبا کے ساتھ ساتھ انکے دونوں بیٹوں اور بیٹی کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے کہ بہت تھوڑے سے وقت میں اس خانوادے نے بہت زیادہ عزت دی ۔ میں شرمندہ ہوں کہ ان کو اتنا وقت نہیں دے پایا جتنا مجھے دینا چاہیئے تھا لیکن اس میں میری کوئی خود غرضی نہیں بلکہ مصروفیات کی نوعیت تھی جس سے جاوید بھائی بھی بہت اچھی طرح آگاہ ہیں۔ انشااللہ اگر پالنے والے کو منظور ہوا تو اس کا ازالہ بھی کر دوں گا۔ پروردگار آپ کو اپنے تمام خانوادے سمیت اپنی پناہ میں رکھے۔
آسٹریلیا میں قیام کے دوران جن لوگوں نے اپنی محبتوں کے حوالے سے مجھے مقروض کیا اُن میں ایک نام برادر محترم عارف صادق کا بھی ہے۔ خود میرا اپنا کہنا ہے کہ میں نے اپنی تمام عمر میں پہلا ایسا کوئی انسان دیکھا ہے جو بیک وقت عارف بھی ہو اور صادق بھی۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ایسے ایسے صادق دیکھے ہیں کہ جن کے سامنے کزب بھی شرمائے اور جنہوں نے قوموں کو کیا سستے داموں فروخت کیا ہے اور اسکے ساتھ عارف بھی ایسے ایسے دیکھے کہ جن پر خود عارفانِ وقت بھی اشک افشانی کریں۔ مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے عارف صادق عارفوں کا افتخار اور صادقوں کا فخر ہیں۔
لانبہ قد اور دبلا جسم اور سر میں چاندی کی طرح چمکتے ہوئے بال زمانے کے نرم گرم سفر اور تجربات سے گزر کر کُندن ہونے کی غمازی کرتے ہیں۔ بھائی عارف صادق اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا کے سیکرٹری جنرل ہیں اور اگر کوئی میری سچ گوئی کا بُرا نہ منائے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ‘‘اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا‘‘ جن دو بڑے ستونوں پر قائم ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر شبیر حیدر اور دوسرے برادرم عارف صادق ہیں۔
عارف صادق سے ہماری ملاقات اگر چہ اس طرح نہیں رہی جیسے ڈاکٹر شبیر اور بھائی سید ظفر حیسن سے تھی لیکن ان سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ان سب کے اختتام پر جی چاہا کہ بھائی عارف صادق سے مزید بات ہو اور مزید تبادلہ خیال کیا جائے۔ عارف صادق بہت اچھے اشعار کہتے ہیں اور انکی غزل کے اشعار انکی طرح منفرد ہیں۔ سفر نامے میں محبتوں کے ان امین لوگوں کا جب ذکر ہو گا تو تفصیل بھی آئے گی اور انکی غزلوں کے نمونے بھی۔ یہاں تو صرف قلب صمیم سے اتنا عرض کرنا ہے کہ بھائی عارف صادق ۔۔۔
Thanks a lot
ایک شکریہ جو مجھ پر قرض ہے وہ سڈنی کی شاعرہ فرحت اقبال اور انکے منکسر المزاج شوہر اقبال صاحب کا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی جہاں بہت پیارے ہمسفر ہیں وہاں بہت نفیس میزبان بھی ہیں۔
آسٹریلیا میں پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے سڈنی کے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا کے لیئے اپنے دیدہ دل فرش راہ کیئے ان میں یہ دونوں میاں بیوی صف اول میں ہیں۔ یہ چند سطور تو ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی غرض سے لکھ رہا ہوں لیکن انکی محبتوں اور عنایات کی تفصیل تو ‘‘ آسٹریلیا میں بیس روز‘‘ کے عنوان سے لکھے جانے والے سفر نامے کی متعدد اقساط کے دوران آئے گی جس کی چار اقساط پہلے ہی القمر آن لائن پر شائع ہوچکی ہیں اور شکریے کے ان کالموں کے بعد اصل سفر نامے کی پانچویں قسط اور اسکے مزید اقساط کی اشاعت شروع ہو گی۔
فرحت اقبال یوں تو بہت سی خواتین کی نسبت کم گو ہیں لیکن ان کی بولنے کی ساری توانائی انکی غزلوں میں نظر آتی ہے۔ مجھ طالب علم کو انہوں نے اپنا شعری مجموعہ‘‘تنہائی کے مکان میں‘‘ عنایت کیا جسکے بارے میں تفصیل سے لکھنا ابھی مجھ پر قرض ہے اور اس میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں کتاب پڑھے بغیر کتاب پر لکھنے کا عادی نہیں ہوں۔
فرحت اقبال کا یہ مجموعہ جولائی دوہزار پانچ میں شائع ہوا تھا اور اسکے بعد سے اسوقت دو ہزار سات تک انکی غزل کا سفر کافی پیش رفت کر چکا ہے۔اسوقت صرف تبرک کے طور پر فرحت اقبال صاحبہ کا ایک شعر آپ بھی پڑھتے چلیئے تا کہ انکی غزل کی نزاکت سے آپ بھی روشناس ہو سکیں۔ باقی کتاب پر تفصیلی بات سفر نامے میں ہو گی۔
میری  آنکھوں  میں فقط  اشک نہیں ہیں فرحت
میں نے اک خواب بھی آنکھوں میں چھُپا رکھا ہے
سچ پوچھیں تو یہ اشک بھی تو خواب ہی  ہوا کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے آنکھ کھُل جانے سے خواب گُم ہو جاتا ہے اسی طرح اشک اگر آنکھ سے باہر نکل آئے تو خود اشک بھی خُشک اور آنکھ بھی خُشک۔ نہ جانے کس شاعرکا یہ خوبصورت شعر اسوقت یاد آیا ہے۔
وہ اشک بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
شکریہ آپکا فرحت اقبال صاحبہ۔اقبال بھائی آپکا اور جمال،ثاقب اور الطاف کا۔
اب جو بات چلی ہے کتابوں کی تو ایک شکریہ ہنستی مسکراتی کوثر صفت اور جمال فکر  ڈاکٹر کوثر جمال اور انکے شوہر جاوید احمد رانا  کا کہ سڈنی میں پہلی دعوت اگر فرحت اقبال کے ہاں تھی تو آخری ڈاکٹر کوثر جمال کے ہاں۔ اور ان دونوں میزبانوں کی خوبی بھی منفرد تھی کہ دونوں نے اپنی تخلیقات از راہ عنایت پیش بھی کیں ورنہ میں نے ڈاکٹر شبیر حیدر اور ظفر حسین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آسٹریلیا میں اپنی کتاب کسی کو پیش کرنے کا رواج نہیں؟ یوں تو کئی اہلِ ادب کو اپنے ایک سے زائد مجموعے بغل میں دابے دیکھا لیکن شاید انہیں ہم جیسے مبتدیوں کے بارے میں یہ یقین نہ ہو کہ ہم بھی اچھا شعر یا نثر پڑھ سکتے ہیں اور اُس پر اظہار خیال بھی کر سکتے ہیں۔
یہاں بیس روز کے قیام کے دوران جو دو مجموعے ہمیں پیش کر کے ہماری عزت افزائی کی گئی وہ دونوں مجموعے خواتین کے ہیں۔ پہلا فرحت اقبال کی شاعری کا جس کا میں ذکر کر چکا اور دوسرا ڈاکٹر کوثر جمال کے افسانوں کا‘‘جہانِ دگر‘‘ جسے ابھی میں نے جستہ جستہ پڑھا ہے اور یہ واقعی ایک جہانِ دگر ہے۔ اس مجموعے پر بھی تفصیلی بات سفر نامے میں ہی ہو گی۔
ڈاکٹر کوثر جمال ہمہ صفت موصوف خاتون ہیں اور زندگی کے ہر رُخ میں مسکراتی نظر آتی ہیں۔انکے افسانوں کایہ مجموعہ دو ہزار چھ میں شائع ہوا ہے اور مجھے یقین ہے اسکے بعد لکھے ہوئے افسانون میں انکے اس فن کی پختگی اور نکھر کر سامنے آئی ہوگی۔ افسوس تو اس بات کا رہا کہ ہم خود انکی زبانی انکاافسانہ نہ سُن سکے۔خیر۔۔یار زندہ صحبت باقی۔
ڈاکٹر کوثر جمال صاحبہ آپکا اور آپکے شوہر نامدار جاوید احمد رانا کی محبتوں اور عنایات کا بہت بہت شکریہ
بات کتابوں کی ہو رہی اور خواتین کی تو ابھی دو خواتین کا شکریہ ادا کرنا باقی ہے اور وہ ہیں ڈاکٹر شگفتہ نقوی اور ڈاکٹر نگہت نسیم۔ ان دونوں ڈاکٹروں میں فقط‘‘ڈاکٹری‘‘ کے اشتراک کے علاوہ شاید ہی کوئی چیز مشترک ہو کیونکہ ڈاکٹر شگفتہ نقوی تو ‘‘گائناکالوجیسٹ‘‘ ہیں یعنی ماہر امراضِ نسواں جبکہ ڈاکٹر نگہت نسیم‘‘سائیکاٹرسٹ‘‘ یعنی نفسیاتی امراض کی ماہر ہیں اور انکی روزمرہ مصروفیات کا زیادہ تر وقت ایسے لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے جنہیں ہم بد تہذیبی کی زبان میں پاگل کہتے ہیں لیکن ڈاکٹر نگہت سلیم کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ رہ کر اصل زندگی
۔کا علم ہوتا ہے۔ ایسے میں جی چاہتا ہے کہ ہم جیسا انسان بھی کہے کہ
 
-----------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(تیسری قسط)

گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔لیکن ڈاکٹر نگہت نسیم کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ رہ کر اصل زندگی کا علم ہوتا ہے۔ ایسے میں جی چاہتا ہے کہ ہم جیسا انسان بھی کہے کہ ‘‘کاش ہم بھی پاگل ہی ہوتے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم کو یہ قلم (کی بورڈ) نہ جانے بار بار نگہت سلیم کیوں لکھتا ہے یہ بات میری سمجھ میں ہر گز نہیں آ رہی۔



شکریے کی دوسری قسط کے بعد انکا سڈنی سے جو ایک بہت خوبصورت ای میل ملا ہے تو اس کے مندرجات بزات خود کسی افسانے کا کوئی ابتدائیہ ہے لیکن اس میں چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر کوثر جمال کے بعد یہ ڈاکٹر صاحبہ بھی افسانہ نگار ہیں۔ میں حیران ہوں کہ سڈنی میں قیام کے دوران کسی نے ان کے اس فن کے بارے میں اس فقیر کو آگاہ ہی نہیں کیا اور اگر کیا تھا تو پھر میں نے رجسٹر کیوں نہیں کیا؟ خیریہ ایک سوال بھی کسی ماہر نفسیات کے لیئے ہے۔
ڈاکٹر نگہت نسیم خیر سے دو افسانوی مجموعوں کی خالق بھی ہیں جن میں سے ایک کانام ‘‘گرد باد حیات‘‘ اور دوسرے کا نام ‘‘مٹی کا سفر‘‘ ہے۔ میں نے اب ان سے التجا بھی کی ہے اور درخواست بھی کہ وہ سزا کے طور پر اب اپنے یہ دونوں مجموعے سڈنی سے بذریعہ ڈاک لندن روانہ کریں۔
جیسے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ شکریے کا یہ کالم محض شکریہ ادا کرنے کے لیئے ہیں ورنہ ایسی تمام شخصیات کا تفصیل سے ذکر سفر نامے میں ہوگا جو ‘‘آسٹریلیا میں بیس روز‘‘ کے عنوان سے پہلے ہی القمر آن لائن پر شائع ہونا شروع ہو چکا ہے اور اب تک اسکی چار اقساط شائع ہو چکی ہیں جبکہ پانچویں اگلے چند روز میں شکریے کے ان کالموں کے بعد شائع ہوگی۔
ڈاکٹر نگہت شاید مشکلات میں بھی بلکہ مشکلات پر بھی مسکرانے والی خاتون ہیں اورممکن ہے کہ انہوں نے رزق کے حصول کے لیئے ایسے شعبے کا انتخاب بھی اسی وجہ سے کیا ہے کہ غموں اور دکھوں کو یا تو ہنس کر سہہ جاؤ یا پھر مسکرا کر ٹال دو۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے سڈنی میں قیام کے دوران ایک مقامی ریڈیو کے لیئے مجھ طالب علم کا ایک لائیو یعنی براہ راست انٹرویو بھی کیا جو اگر آپ سچ پوچھیں تو میری اب تک کی زندگی کے چند نہایت خوبصورت اور زندہ انٹرویوز میں سے ایک ہے کیونکہ اس میں وہ روایتی باتیں نہیں ہیں کہ میں کب،کہاں،کیسے اور کیوں پیدا ہوا وغیرہ۔
انشاللہ اب جو ڈاکٹر صاحبہ نے اس انٹرویو کی سی ڈی مجھے بھائی ظفر حسین کی وساطت سے روانہ کر دی تو اسے سفرنامے کے دروان آپ سماعت بھی فرما سکیں گے۔
 ڈاکٹر نگہت نسیم کا بھی شکریہ اور یہ شکریہ صرف اس لیئے کہ ہماری بگڑتی ہوئی تہذیب کی اس اچھی روایت کو برقرار رہنا چاہیئے۔
اس سے قبل ایک اور ڈاکٹر صاحبہ کی بھی بات ہوئی تھی جن کے بارے میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر شگفتہ نقوی  ‘‘گائناکالوجیسٹ‘‘ ہیں اور پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں جسے اب بھی اکثریت لائلپور کے نام سے جانتی ہے مقیم رہی ہیں اور یہیں اپنی طبی اُپچ سے لوگوں کو صحت اور صحت سے آگاہی کا خیرِ کار کرتی رہی ہیں اور اب کچھ عرصے سے میلبورن میں اپنے بیٹے کے ساتھ مقیم ہیں۔
ڈاکٹر مسکراتی نقوی(جی ہاں شگفتہ کا سادہ ترین ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے نا)دراصل برادر محترم سید ظفر حسین کی اہلیہ اور ہماری بھابھی نفیسہ کی  عرف عام میں کزن اور ہماری رشتوں کی تکون میں اگر میں غلط نہیں تو تایا زاد بہن ہیں۔
میرے سڈنی پہنچنے سے پہلے وہ بھی بھائی ظفر حسین کے ہاں میلبورن سے آ کر قیام پذیر تھیں اور یہ مجھ جیسے طالب علم کی خوش قسمتی ہے کہ کچھ روز انکی صحبت میں گزرے اور ان کے بیدار ذہن سے اٹھنے والے سوالات و جوابات سے خود میں نے بھی بہت کچھ سیکھا۔
ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی پہلی ہی ملاقات میں بتایا کہ وہ ہماری اہلیہ ماہ پارہ سے اُن کے کالج کے زمانے سے واقف ہیں۔ یہ سُن کر ہم نےجب تفصیل اس اجمال کی چاہی تو انہوں نے بتایا کہ کالج کے زمانے میں جب وہ سرگودھا سے انٹر کالجیٹ مشاعروں اور مباحثوں میں شرکت کے لیئے لائلپور گئی تھیں تو ڈاکٹر شگفتہ بھی اُس محفل میں موجود تھیں۔ دیکھا آپ نے۔
 جس دنیا کو ہم بہت وسیع و عریض کہتے ہیں وہ دراصل انسان کے دل کی طرح دیکھنے میں بہت چھوٹی سی ہے۔ زندگی کے اس سفر میں کون،کسے اور کہاں مل جائے،کیا معلوم؟
ڈاکٹر صاحبہ اب عملی طور پر تو طب سے منسلک نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنی اس طبی صلاحیت کو روحانی رُخ دے رکھا ہے جسکا کا تفصیل سے ذکر سفرنامے میں ہی گا تا ہم یہاں یہ بتاتا چلوں کہ وہ ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں اور اس کتاب کا نام ہے‘‘زندہ کہانیاں‘‘۔
یہ کتاب اگست دو ہزار پانچ میں شائع ہوئی تھی اور اس میں موجود زندہ کہانیوں کو میں اس لیئے نہیں پڑھ سکا کہ شاید میں اس قابل نہیں تھا کہ ڈاکٹر شگفتہ صاحبہ مجھے بھی یہ کتاب عنایت کرنے کا اعزاز عطا کرتیں۔
انہوں نے یہ کتاب برمنگھم میں اپنی کسی جاننے والی خاتون کو دینے کے لیئے میری ڈیوٹی لگائی تھی اور اسی ناطے سے میں نے اسکی صرف ورق گردانی کی ہے۔ اب اگر از راہ عنایت ڈاکٹر شگفتہ صاحبہ نے یہ زندہ کہانیاں ہمیں بھی عنایت کی تو اسے پڑھ کر اس کے بارے میں اظہار خیال سفر نامے کے ابواب میں ہو جائے گا ورنہ ہم کوئی نقاد تو ہیں نہیں کہ کتاب کو پڑھے بغیر اُس پر تبصرہ کرنے کے فن کے بھی ماہر ہوں۔ بہت بہت شکریہ ڈاکٹر شگفتہ نقوی صاحبہ آپکی محبتوں کا۔
اور اب شکریہ سڈنی کے بابائے تعلیم سید زوار شاہ صاحب کا ادا کرنا ہے کہ جو ایک کالم کا موضوع ہر گز نہیں ہیں بلکہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو سید زوار شاہ ایک کتاب کا موضوع ہیں۔
 اب ذرا آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ جس شخص نے پانچ جی ہاں پانچ ایم اےکیئے ہوں اور وہ کسی صورت میں اس کا اظہار بھی نہ کرے تو ایسے منکسر المزاج انسان کے بارے میں کیا لکھا جائے گا۔
سید صاحب مزاج کے بھی سید ہیں اور مجھ جیسے فقیر انسان کو انہوں نے جس عزت سے نوازا اور اپنے کام کاج سے چھٹی لیکر پورا ایک دن مجھے سڈنی شہر دکھانے میں صرف کیا وہ میری عزت افزائی ہی تو ہے۔
جن ممالک میں لوگ اپنے حقیقی رشتے داروں اور قریب ترین احباب کو بھی تعطیل کے دن شہر دکھانے کی زحمت کرتے ہیں وہاں اس سید صفت دوست نے ویک ڈے میں ایک پورا دن اس مقصد کے لیئے صرف کیا کہ مجھے جو سڈنی کا معروف برج اور اوپرا ہاؤس دیکھنے کی خواہش تھی اسے خوب جی بھر کے پورا کیا۔
سید زوار حسین پاکستانی برادری میں اور سڈنی کی مسلم برادری میں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں کہ تعلیم و تدریس کے علاوہ وہ سماجی اور رفاعی کاموں میں بھی خوب دلچسپی لیتے ہیں اور اسی ناطے سے وہ سڈنی کی امام بارگاہ ‘‘محمدی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بھی صدر ہیں جہاں انہوں نے مجھے مرثیہ نو تصنیف سنانے کے لیئے بھی مدعو کیا۔
سید زوار شاہ کے ساتھ گزارے ہوئے تمام لمحات کا تفصیلی ذکر سفر نامے میں تو آئے گا ہی لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ اپنی ظاہری شکل و صورت میں زروا صاحب ایسے ہیں جیسے کوئی عربی شیخ عراق میں امریکی قبضے کے بعد اپنے تیل کے کنوئیں اونے پونے بیچ کر سڈنی میں آ بسا ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ سید صاحب بولیں نہ۔
سید زوار شاہ کا شکریہ اس لیئے بھی کہ ان کی وساطت سے میں نے سڈنی کے الزہرا کالج کا دورہ کر سکا،ان کے سربراہ سے ملاقات کر سکا اور پھر سڈنی کی مسجد الزہرا دیکھنے کے علاوہ اس کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکا۔
ان تمام عنایات کے لیئے سید زوار شاہ صاحب کا شکریہ اس وعدے کے ساتھ کہ انکی تمام رفاقتوں اور عنایات کا تفصیلی زکر‘‘آسٹریلیا میں بیس روز‘‘ کے ابواب میں آتا رہے گا۔
ایک شکریہ سڈنی کے امام حسین اسلامک سینٹر کے ریزیڈنٹ عالم ڈاکٹر منصور لغائی کا کہ بہت ہی مختصر سے وقت میں انہوں نے مجھ پر اپنی شخصیت کا گہرا اثر چھوڑا۔
میں نے برادرم جاوید حسین کے ساتھ اس امام حسین سینٹر میں نماز جمعہ انہی منصور لغائی کی اقتدا میں ادا کی اور انکا غیر روایتی خطبہ بھی سُنا۔
ڈاکٹر منصور اور امام حیسن اسلامک سینٹر کا تفصیلی ذکر بھی سفر نامے میں شامل رہے گا۔
اور اب شکریہ ادا کرنا ہے مجھے میلبورن میں اپنے میزبانوں اور احباب کا کہ جن میں سر فہرست برادرم سید افتخارشاہ انکی اہلیہ اور بچے ہیں کہ جنہوں نے لمحے بھر کو بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم گھر سے کہیں باہر ہیں۔
(جاری ہے)
   ----------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(چوتھی قسط)


گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب شکریہ ادا کرنا ہے مجھے میلبورن میں اپنے میزبانوں اور احباب کا کہ جن میں سر فہرست برادرم سید افتخار شاہ ،انکی اہلیہ اور بچے ہیں کہ جنہوں نے لمحے بھر کو بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم گھر سے کہیں باہر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے بڑھنے سے پہلے آغاز میں ہی ایک بات کی تصحیح کرتا چلوں کہ جن ڈاکٹر مسکراتی نقوی یعنی شگفتہ نقوی کا ذکر گزشتہ کالم میں ہوا تھا اُنکا ایک بہت ہی افسانہ نما ای میل موصول ہوا ہے جس میں یہ انکشاف چونکا دینے والا ہے کہ محترمہ ڈاکٹر شگفتہ نقوی صاحبہ کی ایک کتاب نہیں بلکہ وہ الحمد اللہ نو جی ہاں نو جسے انگریزی زبان میں نائن کہا جاتا ہے اتنی کتابوں کی مصنف ہیں۔

ماشااللہ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ کہ اس عہد میں سب سے زیادہ ضرورت قلم ہی کی ہے کہ اسی قلم نے ہر عہد میں ہر ظالم و جابر حکمران کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے از راہ عنایت یہ بھی وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اپنی کتابوں کا ایک مکمل سیٹ لندن میں مجھ تک پہنچائیں گی۔دیکھا آپ نے یہ سیٹ والی بات ہے نا ‘‘اپ سیٹ‘‘ کرنے والی بات۔

اب ایک تازہ ترین واقعہ بھی سماعت فرماتے جائیں۔ گزشتہ کالم میں بھائی زوار شاہ کا بھی زکر ہوا تھا جو الحمد اللہ پانچ ایم اے ہیں لیکن ان دنیاوی ڈگریوں کو انہوں نے کبھی باعث افتخار نہیں جانا اور اسکے باوجود معصوم طینت انسان ہیں۔ انکی اس معصومیت کی دلیل یہ تازہ ترین واقعہ آپکی نذر ہے۔

ان دنوں دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی مقیم ہیں وطنِ عزیز کے حالات انکے لیئے انتہائی تکلیف دہ ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح ان حالات سے باخبر رہنے کے لیئے ٹی وی دیکھتے،ریڈیو سنتے اور اخبار پڑھتے ہیں۔ زوار شاہ صاحب نے اسی ضمن میں چند دن قبل یہ خبر بھی کہیں پڑھی کہ ‘‘صدر مشرف کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ ہونے والا ہے‘‘۔

انہوں نے اپنے قریبی احباب سے معصومیت میں استفسار کیا کہ کیا‘‘پرویز مشرف کی اہلیہ کو بھی نا اہل قرار دیا جا رہا ہے؟‘‘۔ پہلے تو دوستوں کو اس انکشاف پر حیرت ہوئی لیکن مزید تفتیش پر پتہ چلا کہ زوار صاحب کو لفظ اہلیت پر اہلیہ کا گماں گزرا تھا‘‘۔ دیکھا آپ نے سید صاحب کی معصومیت؟

اس جملہ معترضہ کے بعد اب شکریہ ادا کرنا ہے میلبورن کے اپنے میزبان سید افتخار شاہ اور انکے تمام اہل خانہ کا کہ جن سے یوں تو میری یہ پہلی ملاقات تھی لیکن دو دن کے قیام دوران ایک لمحے کو بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ خانوادہ میرے لیئے نیا ہے یا میں انکے لیئے کوئی نیا فرد ہوں۔

 افتخار شاہ اس لیئے بھی باعث عزت ہے کہ وہ میرے بہت عزیز دوست(یاد رہے کہ میں لفظ دوست نہایت احتیاط سے استعمال کرتا ہوں) اور میرے بچپن کے ساتھی،واقعی اپنی طرز کے ایک منفرد انسان،بہت اچھے مقرر اور منتظم،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک اچھے سخن فہم حال مقیم دی ہیگ نیدر لینڈ سید اعجاز سیفی کے بھانجے ہیں۔

افتخار شاہ ہمارے بھائی سید ظفر حسین اور جاوید حیسن کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ اس لیئے ایسے سی رُخی رشتوں کے ساتھ جب کوئی کسی کے ہاں جائے گا تو وی آئی پی خود بخود بن جائے گا۔

افتخار اور انکے تمام اہل خانہ کی بے پایاں مہمان داری دیکھ کر احساس ہوا کہ ‘‘سیفی شاہ‘‘ کا سارا گھرانہ آفتاب ہے۔ میں نہایت شرمندہ ہوں کہ میں کھانے پینے کے معاملے میں اپنے میزبانوں کی امید اور معیار پر پورا نہ اُتر سکا بلکہ میرے ہمراہ میلبورن جانے والے‘‘اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا‘‘ کے صدر محبی ڈاکٹر شبیر حیدر کو بھی میری وجہ سے رمضان نہ ہونے کے باوجود روزے کی سی کیفیت میں سے گزرنا پڑا۔
افتخار شاہ کی ساری محبتوں اور عنایتوں کا تفصیلی ذکر تو سفرنامے کے ابواب میں ہو گا لیکن یہاں صرف اس بات کا شکریہ ادا کرتا چلوں کہ نہایت کم وقت میں انہوں نے ہمیں اتنا میلبورن تو دکھا دیا کہ اب اگر میں صرف میلبورن کے بارے میں بھی ایک مکمل کتاب لکھنا چاہوں تو لکھ سکتا ہوں۔

میرا بیٹا محمد بہت سے پاکستانیوں کی طرح کرکٹ کا دلدادہ ہے اور خود بھی کرکٹ کھیلتا ہے اس لیئے سڈنی جانے سے قبل بھی اس کا مشورہ تھا کہ میلبورن کی کرکٹ گراؤنڈ ضرور دیکھئے گا کہ یہ بھی ایک تاریخی جگہ ہے۔ میں جب سڈنی سے میلبورن جا رہا تھا تو محمد نے ایک بار پھر مجھے اسکی یاد دہانی کروائی،لہٰذا جب میں میلبورن پہنچا تو میں نے افتخار شاہ سے بہت سی فرمائشوں کے ساتھ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ دیکھنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا اور پروردگار نے یہ خواہش بھی پوری کروائی۔

اسکا ذکر تو سفر نامے میں ہوگا لیکن یہاں ایک تاریخی بات کا ذکر کرتا چلوں کہ میلبورن جانے سے ایک رات پہلے میں برادرم ظفر حسین کے ساتھ انکے دولت کدے پر کمپیوٹر پر بیٹھا کام کر رہا تھا کہ لا شعوری طور پر میں نے انکی زندگی کے یادگار لمحات کے بارے میں دریافت کیا تو ظفر حسین جو عمومی طور پر اپنی ذات کے بارے میں بہت کم بتاتے ہیں بڑے فخر سے بتانے لگے کہ جس شہر میلبورن آپ کل جارہے ہیں اسی شہر کا ایک واقعہ بھی میری زندگی کا یادگار واقعہ ہے۔

‘‘ذکر ہے1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا جو پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں جیتا تھا اور فخر کی یادگار بات یہ ہے کہ اس تاریخی فتح کے بعد جب عمران خان اپنی ساری ٹیم کے ساتھ کپ ہاتھ میں اٹھائے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کا چکر لگا رہے تھے تو دنیا بھر کے میڈیا نے دیکھا بھی اور آج بھی اسکی وڈیو ریکارڈنگ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ٹیم کے ساتھ جو ایک شخص ٹیم کے علاوہ ہاتھ میں ایک بریف کیس اٹھائے عمران خان کے ساتھ دوڑ رہا ہے وہ ہمارا بھائی اور دوست‘‘سید ظفر حسین‘‘ ہے ‘‘۔

یہ واقعہ تو بر سبیل تذکرہ لکھ ڈالا۔ اصل بات جو کہنی ہے وہ تو یہ ہے کہ ،افتخارِ دوستان اور افتخارِ عزیزاں اعلیٰ حضرت افتخار شاہ صاحب آپکا،آپکی اہلیہ اور بچوں کا سب کا شکریہ اور سب سے زیادہ  شکریہ یہاں بھی میرے بہت ہی محترم اور برادر عزیز سید ظفر حسین کا کہ انہوں نے ہمیں بہت سے دیدہ اور نا دیدہ مصائب سے محفوظ رکھا اور نہ صرف یہ کہ سید افتخار شاہ کے ہاں قیام کا مشورہ دیا بلکہ اس ضمن میں سارا انتظام بھی فرمایا۔

ورنہ یہاں صرف اتنا بتاتا چلوں کہ ہمارے میزبان میلبورن کی اردو اکیڈمی کے احباب تھے جن میں سے شاید نوے فیصد کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ میں اور ڈاکٹر شبیر حیدرکہاں ٹھہرے ہیں اور جنہیں علم تھا کہ ہم سید افتخار شاہ کے دولت کدے پر ہیں انہیں ہمارے محفوظ ہونے کااتنا یقین واثق تھا کہ انہوں نے کسی طور کچھ جاننے کی بھی زحمت نہیں کی۔ خیر یہ سارا ذکر اذکار سفر نامے میں شامل رہے گا۔

اب جو میلبورن کی بات ہو رہی ہے اور میں ڈاکٹر شبیر حیدر کا شکریہ بھی پھرایک بار ادا کرنے لگوں تو شاید آپ یہ سمجھیں گے کہ میرا ارادہ اگلے برس پھر سڈنی کے عالمی مشاعرے میں جانے کا ہے جسکی بنیاد شاید میں نے ابھی سے رکھنی شروع کر دی ہے اور کوئی نہ کوئی موقع نکال کر ڈاکٹر شبیر حیدر کا شکریہ ادا کرتا رہتا ہوں۔

 یقین کیجئے اگر آپ کا اندازہ اسی قسم کا ہے تو آپ ایک سو دس فیصد غلط ہیں۔ لیکن اب جو میں وجہ میلبورن کے حوالے سے وولنگانگ کے ڈاکٹر شبیر حیدر کے شکریے کی لکھوں گا تو آپ میرے ہمنوا ہوں گے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ڈاکٹر شبیر حیدر نے میلبورن میں ایک ایسی باغ وبہار بلکہ سدا بہار شخصیت سے ملوایا کہ اگر ان سے ملاقات نہ ہوتی تو میں شاید بہت سے اسرار ورموز اور خوب جی بھر کر زندہ رہنے کے کتنے ہی نسخوں سے محروم رہ جاتا۔

ڈاکٹر سیف چوپڑا یوں تو طب کے شعبے کے آدمی ہیں لیکن یہ ایک شعبہ انکی پہچان نہیں ہے بلکہ شاعری اور موسیقی سے لیکر یوگا تک کے شعبے انکی زندگی کے کتنےہی رُخ آشکار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سیف چوپڑہ اور انکی اہلیہ محترمہ اس زمین پر ہی جنت کے ایک ٹکڑے میں رہتے ہیں اور موت چونکہ برحق ہے اس لیئے مجھے یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں بھی ان دونوں میاں بیوی کو ایک ساتھ جنت ارضی کے بدلے میں جنت عرشی میں رکھے گا۔

ڈاکٹر سیف چوپڑہ کی مادری زبان گجراتی ہے لیکن اردو سے انکا عشق ایسا ہے کہ وہ ہر وقت اردو کی زلفیں سنوارنے میں لگے رہتے ہیں اور اس پر مزید یہ کرم کہ گاتے اس خوبصورتی سے ہیں کہ ان کے گھر کے اردگرد درختوں کے پرندے نہایت خاموشی سےہارمونیم پر گائی جانے والی انکی نعتیں سنتے رہتے ہیں۔

 زمین پر بیٹھے ہوئے ڈاکٹر سیف چوپڑہ کی انگلیاں جب ہارمونیم پر اس طرح چل رہی تھیں جیسے کوئی کسی حسینہ کےبالوں کو سہلا رہا ہو تو مجھے انکے ساتھ بیٹھ کر گولڑہ شریف کے صاحبزادہ نصیر الدین نصیر کی نعت سنتے ہوئے یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے میں کسی درخت کا ایک پرندہ ہوں۔

ایک بات میں پورے وثوق اور یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اس انگریزی زدہ ماحول اور زمانے میں ڈاکٹر سیف جیسے اردو کے عاشق نہایت قابل تعظیم ہیں کہ جنہوں نے کسی اعزاز کی تمنا اور کسی مفاد کے بغیر ‘‘اردو ماں‘‘ کو سینے سے لگا رکھا ہے۔
 ایک راز کی بات بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ اگر کسی فلم ساز کو بھارت کے سیاستدان ایل کے ایڈوانی پر فلم بناتے ہوئے بہت حد تک انکے ہم شکل کی ضرورت ہو تو وہ مجھ سے یاڈاکٹر شبیر حیدرسے رابطہ قائم کرے۔

ڈاکٹر سیف چوپڑہ صاحب آپ کویاد ہے نا کہ میں چلتے ہوئے کہا تھا کہ‘‘چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو‘‘ ہاہاہا۔۔۔آپ پریشان ہو گئے تھے نا۔

اسوقت تو آپ کی یہ پریشانی بھائی افتخار شاہ اور ڈاکٹر شبیر حیدر نے ختم کردی تھی لیکن میں اسکا مفصل حال سفرنامے میں لکھوں گا۔ میں بہت شرمندہ ہوں کہ آپ کے در دولت پر رکنے کی آپکو خواہش پوری نہ کر سکا اور اسکی وجہ وقت کی نہایت قلت تھی لیکن پروردگار آپ کو صحت اور عُمر عطا کرے اور میرا وعدہ کہ اگر میرے خالق ومالک کی عنایت خاص سے اب میلبورن کا سفر قسمت میں ہوا تو آپ کے ہاں قیام بھی ہو گا اور طعام بھی۔ ایک بار پھر  آپ کا اور آپکی اہیلہ محترمہ کا بہت بہت شکریہ۔

ملیبورن میں ہونے والے اردو مشاعرے کی روداد اور اسکے بارے میں میرے بے لاگ تاثرات انشااللہ سفرنامے کے صفحات کا حصہ بنیں گے لیکن یہاں مجموعی طور پر اس محفل کے تمام منتظمین اور اردو اکیڈمی کے ارباب بست وکشاد کا شکریہ کہ انہوں نے کسی نہ کسی طرح اس محفل کا اہتمام کیا تو،اور انکی اس مساعی کی وجہ سے بہت سے اردو ادب کے چاہنے والوں کے علاوہ ریڈیو آسٹریلیا کی میلبورن شاخ میں اردو پروگرام کی ایگزیکٹو پروڈیوسر یاسمین سید صاحبہ سے بھی بہت مختصر ملاقات ہوئی اور سچ کہوں کہ میلبورن ریڈیو میں اردو سروس کا دفتر دیکھنے کا بہت شوق تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے ایسا بھی نہ ہو سکا۔

 یاسمین سید صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے از راہ کرم میری سڈنی آمد سے قبل ریڈیو میلبورن کے لیئے ایک تفصیلی انٹرویو بھی کیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ میری آمد سے قبل ہی میرے خیالات سے واقف تھے۔

اور اب ایک شکریہ سڈنی کے سید اقتدار عابدی کا کہ جو سڈنی جیسے شہر میں رہ کر بھی اکثر لکھنؤ کی روایت کے امین نظر آتے ہیں اورخاص طور پر جب وہ کسی امام بارگاہ میں چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوئے خدائے سخن میر ببر علی انیس کے مرثیے سے اقتباس پڑھ رہے ہوتے ہیں تو دعا دینے کو جی چاہتا ہے کہ وہ تنہا ہی سہی لیکن ایک جماعت کی طرح کم ازکم انیس اور مرثیے کو اپنے تئیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

وہ سڈنی کے ایک مقامی ایف ایم ریڈیو کے لیئے بھی پروگرام کرتے ہیں اور انکی محبت کہ ایسے ہی ایک پروگرام کے لیئے انہوں نے مجھے بھی مدعو کیا اور جب میں وولنگانگ میں ڈاکٹر شبیر حیدر کے ہاں میقم تھا تو انہوں اس پروگرام کی ریکارڈنگ ٹیلی فون پر ہی کی۔ اس ایک پروگرام کی تیاری کے لیئے بھائی اقتدار عابدی نے جس طرح تفصیل طے کی اور جس طرح چھوٹی چھوٹی بات کو لکھ کر طے کیا اس سے انکی محنت کرنے کے انداز کا پتہ چلتا ہے۔

اس عہد میں بھائی اقتدار کا نام بھی کیسا پُر کشش ہے اور میرے جیسا آدمی جو ہر عہد میں اقتدار اور صاحبانِ اقتدار کے خلاف رہا ہو اور جس نے اپنے قلم کو انکی قصیدہ گوئی یا مدح سرائی کے لیئے کبھی بھی استعمال نہ کیا ہو اسکا‘‘اقتدار عابدی‘‘کے ساتھ خاصہ وقت گزارنا ایک اچنبھے کی بات ہے۔ بھائی اقتدار عابدی آپ کا بھی شکریہ۔

شکریہ سڈنی کے شاعر اور نفیس انسان سید توقیر حسنین کا کہ جن سے کوئی طویل ملاقات مصروف پروگرام کی وجہ سے نہ ہو سکی تا ہم انکی محبت کا شکریہ کہ انہوں نے اپنے در دولت پر مدعو کیا لیکن کینبرا کے سفر کی وجہ سے یہ پروگرام بھی ادھورا رہا۔شکریہ سید توقیر حسنین کا کہ وہ میرے تمام ادبی پروگراموں میں تو موجود رہے لیکن خاص طور پر مرثیے کی دونوں محفلوں میں انکی موجودگی اس لیئے بھی اچھی لگی کہ شاعر سے زیادہ سخن فہم قابل تعظیم ہوا کرتا ہے۔ سید توقیر حسنین کا ایک بار پھر شکریہ۔

ایک شکریہ سڈنی میں پاکستانی ریسٹورینٹ ‘‘تندوری ہٹ‘‘ کے مالک ‘‘مشتاق برکت‘‘ کا کہ انہوں نے اپنے ریسٹورینٹ پر کھانے کے لیئے مدعو کر کے میری عزت افزائی فرمائی۔ اللہ انکے تمام نیک کاموں میں برکت دے کہ برکت تو خود انکے نام کا ایک حصہ ہے اور یہ دعا بھی کہ وہ ایسے مشتاق رہیں جن کا بہت سے دوستوں کو اشتیاق رہے۔

اپنے ریسٹورینٹ پر انہوں نے سید ظفر حیسن اور جاوید حیسن سمیت ہم سب دوستوں کو جو عزت دی وہ اس مفاد پرستی کے عہد میں سچ پوچھیں تو بہت کم ہوتی جارہی ہے۔مشتاق برکت کی متعدد برکات اور اس ریسٹورنٹ کے بزنس میں انکی رات دن کی کوششوں اور اسے فیملی بزنس بنانے کی تمام مساعی کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ سفر نامے کے ابواب میں رہے گا۔

اسی ‘‘تندوری ہٹ‘‘ پر ایک پاکستانی نوجوان سے بھی سید ظفر حسین نے ملاقات کروائی جس کا منظر اور پس منظر ایک ہی ہے اور جس کے لیئے میں نےیہ شعر کہا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس سے صفدر مل کر یوں محسوس ہوا۔۔۔۔اُس منظر میں پس منظر بھی شامل تھا۔

(جاری ہے)

-------------------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(پانچویں قسط)



گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔اسی ‘‘تندوری ہٹ‘‘ پر ایک پاکستانی نوجوان سے بھی سید ظفر حسین نے ملاقات کروائی جس کا منظر اور پس منظر ایک ہی ہے اور جس کے لیئے میں نے یہ شعر کہا تھا۔
اُس سے صفدر مل کر یوں محسوس ہوا۔۔۔۔اُس منظر میں پس منظر بھی شامل تھا
۔بھائی ظفر حسین نے منظر مرزا کی جو خوبیاں بتائیں تھیں یہ نوجوان مجھے ان سے بھی کچھ زیادہ ہی لگا اور منظر کی ان تمام مناظر کا ذکر سفرنامے میں رہے گا۔

برسبیل تذکرہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ پاکستان سے میرے ایک کرم فرما نے لکھا ہے کہ اگر شکریے کے کالموں کی تعداد یہ ہے تو پھر باقی سفرنامے کی صورت حال کیا ہو گی؟

 صرف اتنا عرض کرؤں کہ میں نے ایک زمانے سے یہ اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے جس ملک سے واپس آتا ہوں وہاں کے دوستوں کا انکی محبتوں کے لیئے اور اپنی مصروفیت میں سے وقت دینے پر شکریہ ضرور ادا کرتا ہوں اور یہ بات تو ان یورپی ممالک کی ہے جہاں میں اختتام ہفتہ پر یا تین چار دن کے لیئے جاتا ہوں۔

یہاں آسٹریلیا کا تو مسلہ ہی الگ سا ہے کہ یہاں میں نے پورے بیس روز گزارے ہیں اور بیس روز بھی ایسے جو بیس سال کی محبتوں کے برابر ہیں اور جیسے میری روح میں بس گئے ہیں۔ نفرتوں اور مصائب کے اس دور میں اگر کسی کو اتنی محبتیں اور اتنی اپنائیت ملے تو مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ایسے شخص پر اللہ کا ضرور کرم ہوتا ہے اور میں اُن خوش بخت لوگوں میں سے ہوں جو جس سفر پر جاتا ہے واپسی پر اس کے پاس سب سے زیادہ بوجھ ان محبتوں اور عنایات کا ہوتا ہے جو وہاں سے سمیٹ کر لاتا ہے۔

یہ تو شکر ہے کہ ان محبتوں کا بوجھ نظر نہیں آتا ورنہ کسی بھی ملک سے واپسی پر مجھے ایر لائن کو اضافی وزن کے زمرے میں خاصی رقعم دینا پڑے۔

خیر بات ہو رہی تھی منظر مرزا کی کہ لمحے بھر کو گفتگو کا منظر بدل گیا۔ اس منظر نے سڈنی سے کینبرا تک کے راستے میں اپنی ذات اور کمالات کے ایسے ایسے مناظر دکھائے کہ بھائی ظفر حسین پر ایمان لانا ہی پڑا۔ یہاں کسی تفصیل میں جائے بغیر صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ منظر مرزا ایک اچھا دوست ہے،اس سے بھی اچھا ہم سفر ہے،خوبصورت آواز کا مالک ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بہت اچھا‘‘کُک‘‘ ہے۔

جی ہاں رابن کُک نہیں بلکہ صرف کُک۔

جتنی اچھی اسکی آواز ہے اُتنا ہی مزا بھی اسکے ہاتھ میں ہے اور اسکا مظاہرہ سڈنی کی ایک دعوت میں ہم نے بنفس نفیس کیا ہے اور اس دعوت کے لیئے بھی اسی وقت شکریہ ادا کرتا چلوں اپنے کرم فرما اور بھائی ظفر حسین کے نہایت عزیز دوست جناب ڈاکٹر شوکت جاوید کا کہ جنہوں نے یہ شاندار دعوت یوں تو اپنے مخصوص احباب کے لیئے کی تھی لیکن اسمیں مجھے بھی مدعو کرکے میری عزت افزائی فرمائی۔

 ڈاکٹر شوکت جاوید پاکستان میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے برادر اصغر ہیں۔ اس دعوتِ شیراز کا مکمل حال ادھار رہا۔

اسی دعوت میں شکم سیری کا انتظام منظر مرزا کے پاس تھا جس نے واقعی اپنی آواز کی طرح اپنے کھانا پکانے کے جوہر بھی خوب خوب دکھائے۔ منظر مرزا جب ہمارے ساتھ کینبرا جا رہے تھے تو یہ انکی وجہ سے سچ بات تو یہ ہے کہ ڈھائی گھنٹے کا یہ سفر جیسے کوئی ایک ڈیدھ گھنٹے میں ہی تمام ہوا ۔

اسی لیئے تو حدیثِ رسول ہے کہ اچھا ہم سفر بھی پروردگار کی نعمت اور احسان ہوا کرتا ہے۔ بھائی منظر مرزا آپکی رفاقت کا بھی بہت شکریہ اور اللہ کرے کہ آپ کے سارے منظر بہاروں کے رنگوں سے مزین رہیں۔

بھائی ظفر حسین نے ابھی اپنی ایک تازہ ای میل میں میری توجہ اس جانب دلوانے کی سعی کی ہے کہ اس شکریے کی فہرست میں شاید میں دو نام بھول گیا ہوں۔

ایک نام تو میری بہت ہی عزیز دوست کہوں یا ساتھی یاکرم فرمامحترمہ عظمیٰ گیلانی کا ہے کہ جن کو پاکستان اور پاکستان سے باہر مقیم اردو جاننے والے لوگ ڈرامے کے حوالے سے جانتے ہیں اور بلاشبہ پاکستان میں خاص طور پر ٹی وی ڈرامے کو جو اعتماد ، سنداور یقین عظمیٰ گیلانی سے ملا اسمیں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے۔

میرے لیئے عظمیٰ گیلانی ستر کے عشرے کے اوائل کی وہ عظمیٰ ہیں جنہوں نے ابھی اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا اور میں وہ خوش قسمت آدمی ہوں جنکے صبح کے ‘‘ڈسک جوکی‘‘ پروگرام میں موہنی حمید،ریحانہ اورنگ زیب،مہناز رفیع اور ماہ پارہ صفدر کے ساتھ شرکت کیا کرتی تھیں۔

لیجئے میں نےتو وہ سارے قصے کہانیاں لکھنی شروع کر دیں جو عظمیٰ کا ذکر کرتے ہوئے لکھنی تھیں۔ لہٰذا یہیں پر بریک۔
تو ظفر بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شکریے کی فہرست میں عظمیٰ گیلانی کو میں بھول سکتا ہوں۔ شکریہ تو بہت‘‘گج وَج‘‘ کے ادا ہو گا مگر ابھی نہیں۔

دوسرا نام جس کے بارے میں بھائی ظفر حسین نے یاد دہانی کروائی ہے وہ کینبرا میں وطنِ عزیز کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی کا ہے کہ جنہوں نے اس فقیر کو وہ عزت عطا کی کہ جس نے خود انکے قد کو سرو قد کر دیا۔ انکی محبتوں کا ذکر بڑی تفصیل سے سفرنامے میں آئے گا اور جب انکا شکریہ ادا ہونے لگے گا تو اسوقت بھی میں اپنے قلبی جزبات کا اظہار کرؤں گا۔

یہاں تو بھائی ظفر حسین سے عرض کرنا ہے کہ قبلہ ان دونوں ناموں کا شکریہ اس تسلسل کے یعنی‘‘ شکریے‘‘ کے آخری کالم میں ہو گا کیونکہ ہم شاعر لوگوں کے نزدیک غزل کا یا تو مطلع بہت زور کا ہونا چاہیے یا پھر مقطع۔ اس فارمولے کے مطابق شکریے کی اس غزل کا مطلع تو ہوچکا ہے لیکن ابھی مقطع ہونا باقی ہے۔

 میرے اس فارمولے سے وہ احباب جنکا ذکر ہو چکا ہے قطعی طور پر یہ مطلب نہ نکالیں کہ مطلع اور مقطع کے درمیان بھرتی کے شعر ہوتے ہیں کیونکہ اچھی غزل کا ہر ایک شعر زنجیر کی کڑی ہوتا ہے اور کسی ایک کڑی کے بغیر زنجیر کسی صورت میں زنجیر نہیں رہتی بکھری ہوئی بے ترتیب سی شے بن جاتی ہے۔

بات پہنچی تھی منظر مرزا اور سید ظفر حسین کے ہمراہ کینبرا کے سفر تک جس میں ‘‘ہم سفری‘‘ کا لطف منظر مرزا کے موبائل ٹیلی فون کی گفتگو اور انکے ترنم کی وجہ سے دوبالا ہو گیا۔ اسی سفر کے دوران میں نے خود انکے درخواست کی کہ وہ میری ایک غزل کے چند شعر اگر کینبرا کے سفارتخانے میں ہونے والی تقریب میں گنگنا دیں گے تو محفل مزید خوبصورت ہو جائےگی اور پھر منظر مرزا نے میری ایک کئی سال پرانی غزل کے شعر سنا کر واقعی تقریب کے منظر میں جان ڈال دی۔
خود اپنے آپ میں اپنا کمال رکھتا ہے۔۔۔وہ ایک شخص جو میرا خیال رکھتا ہے۔

بات ہورہی ہے کینبرا کے سفر اور قیام کی تو ایک شکریہ پاک آسٹریلیافرینڈشپ کے سربراہ خاور سلیم اور انکے ساتھی کا جنہوں نے مقامی کیمونٹی ریڈیو کے لیئے میرا انٹرویو ریکارڈ اور نشر کیا۔ کینبرا کے سفر کا یہ رُخ بھی سفر نامے میں شامل رہے گا۔

کینبرا کے پاکستانی سفارتخانے میں اس طالبعلم کے اعزاز میں ہونے والی تقریب کا حال تو مجھے یہاں بیان نہیں کرنا کہ یہ موضوع سفرنامے کا ہے لیکن اس اعزاز کے لیئے کینبرا کے ادبی ذوق کے حامل احباب کے ساتھ جہاں کینبرا کے ادبی جمود میں ارتعاش پیدا کرنے والے برادرم محمد علی کا شکریہ خاص ادا کرنا ہے وہاں سب سے زیادہ شکریے کے مستحق کینبرا میں پاکستانی سفارتخانے کے تمام احباب بشمول عزت مآب سفیر پاکستان جناب جلیل عباس جیلانی،ڈپٹی ہائی کمشنر تنویر اختر خاصخیلی اورجیلانی صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب نسیم صاحب ہیں کہ جنہوں نے سفارتخانے میں اس ادبی تقریب کا اہتمام اورانتظام کر کے مجھے زیر بارِ احسان کیا ہے۔



شکریہ جناب سرفراز خانزادہ کا بھی کہ وہ یوں تو سعودی عرب میں پاکستان کے سفارتخانے میں نائب سفیر ہیں لیکن آسٹریلیا میں نجی دورے پر آئے ہوئے تھے اور اس تقریب میں بھی شریک ہوئے اور میری عزت افزائی کہ میرے بارے میں کلماتِ خیر بھی کہے۔

کینبرا کے سفارتخانے میں اس طالب علم کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے ہونے والی اس تقریب میں شامل اُن تمام حاضرین و سامعین کا بھی بہت بہت شکریہ کہ جنکی شمولیت نے اس تقریب کو کامیاب بنایا۔

کینبرا کے اس سفر کے حوالےسے محترم و مکرم محمد علی کی اہلیہ اور بچوں کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے کہ انکے در دولت پر ہونے والی دعوت میں جہاں بہت نفیس لوگوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کا موقع ملا وہاں لزیز  کھانے سے شکم سیری بھی ہوئی۔

محترم ومکرم محمد علی کاشکریہ ادا کر کے میں ان کے جذبات اور محبتوں کو کم تر نہیں بنانا چاہتا لیکن اس بات کا ضرور اقرار کرؤں گا کہ سڈنی کے سالانہ عالمی مشاعرے کے موقع پر کینبرا جو محفل شعر سجایا کرتا تھا اس برس بوجوہ اسکا انعقاد نہ ہونے کی وجہ سے جو ایک کمی محسوس ہو رہی تھی اسکا اہتمام محترم ومکرم محمد علی نے اس ملاقات کی صورت میں کر کے اس کمی کا خاصی حد تک ازالہ بھی کر دیا۔

محمد علی صاحب نے سفارتخانے میں ہونے والی اس تقریبِ ملاقات میں جو الفاظ اس طالب علم کے بارے میں فرمائے وہ فقط انکی محبت اور فرائضِ میزبانی کے زمرے میں آتے ہیں ورنہ‘‘من آنم کہ من دانم‘‘۔ بھائی محمد علی آپکی حقیقی محبت کا شکریہ اور یہیں پر آپکا شکریہ اس حوالے سے بھی ادا کرتا چلوں کہ ہماری ویب سائٹ کے انگریزی اخبار‘‘ڈیلی ون ورلڈ‘‘ کے لیئے آپ کا قلمی تعاون بلاشبہ قابل قدر ہے۔

یہاں پر ایک شکریہ ان احباب کا بھی کہ جنکی محبتوں اور عنایات کا جواب شاید میں اُس طرح نہیں دے پایا جس طرح میں چاہتا تھا لیکن اسکی واحد وجہ میری وہ مصروفیات تھیں جنکے بارے میں ان احباب کو بھی آگاہی ہے۔

اسی ضمن میں شکریہ پاکستان ایسوی ایشن آف آسٹریلیا کے صدر جناب اعجاز خان کا،آسٹریلیا میں پی آئی اے کے مینجر جناب ندیم جعفر کا،ماہنامہ رابطہ کے مینجنگ ایڈیٹر جناب مُنیر محمد کا،رانا موٹرز کے ایم ڈی رانا کلبِ عباس کا،سڈنی کے اطہر زیدی کا،صدائے وطن کے مشیر ڈاکٹر اکرم حسن کا اور پاکستان مسلم لیگ ق کے آسٹریلیا میں چیف آرگنائزر راجہ محمد اسلم کا۔


اور اب شکریہ ادا کرنا ہے مجھے سڈنی کے امام حسن سینٹر کے تمام ٹرسٹیز کا اور اس مرکز کےروحِ رواں عزیزم عباس علی اور ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی کا کہ جن کی توجہ خاص کی بدولت مجھے جیسے ہیچ مدان کو آسٹریلیا کی سرزمین پر ‘‘مرثیہ نوتصنیف‘‘ متعارف کروانے کی سعادت ملی۔

(جاری ہے)

  -------------------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(چھٹی قسط)



گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔اور اب شکریہ ادا کرنا ہے مجھے سڈنی کے امام حسن سینٹر کے تمام ٹرسٹیز کا اور اس مرکز کے ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمیکا کہ جن کی توجہ خاص کی بدولت مجھ جیسے ہیچ مدان کو آسٹریلیا کی سرزمین پر ‘‘مرثیہ نوتصنیف‘‘ متعارف کروانے کی سعادت ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری خوش بختی ہے کہ اس ہیچ مداں نے محمد و آل محمد کے کرمِ خاص سے اردو مرثیے کا یورپ بھر میں احیا کیا ہے اور یہ ایک ایسا عطیئہ خالق لوح وقلم ہے کہ اس میں میرا اپنا کمال بہت کم اور انکی عطا بہت زیادہ ہے اور یہی ایک فخر ہے جس پر میں نخل ثمر بار کی طرح مسرور ہوں۔

اسی اردو مرثیے کو اور خود تصنیف مرثیے کو آسٹریلیا میں بھی آغاز کرنے کا اعزاز عزت دینے والے نے اسی طالبعلم کو عنایت کیا اور میں دنیا کے اس حسین خطے میں خود تصنیف مرثیہ پڑھنے والا پہلا شخص قرار پایا اور اس سعادت کے حصول میں جہاں ڈاکٹر شبیر حیدر اور برادر معظم سید ظفر حسین کے علاوہ سید زوار حسین اور دیگر بہت سے احباب کا حصہ ہے وہاں خاص توجہ سڈنی کے امام حسن سنیٹر کی انتظامیہ بالخصوص اس مرکز کے ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی اور اس مرکز کے روح رواں برادرم عباس علی اور انکے خانوادے کی ہے۔

اس فہرست میں ایک نام اسی مرکز کے محترم باقررضا کا بھی ہے جنہوں نے سب مومنین کی طرح بے پایاں عزت اور محبت دی۔

مولانا محمد جعفر خوارزمی اور عباس علی کے بارے میں تفصیلی ذکر تو سفر نامے میں آئے گا لیکن یہاں ایک بات کا تذکرہ کرتا چلوں کہ عباس علی کے خانوادے کی مثال ایک منفرد اور بہت الگ سی مثال اس حوالے سے ہے کہ اگر کوئی انسان کسی مقصد کو پورا کرنے کی ٹھان لے تو پھر قدرت بھی ایسے ایسے رُخ اور وسیلوں سے انکی مدد کرتی ہے کہ انسان خود حیران ہو جاتاہے۔

برادر عباس علی کے والد برسوں پہلے جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا تشریف لائے تھے بلکہ یوں کہوں کہ قدرت نے انہیں ایک اس مقصد کے لیئے یہاں بھیجا تھا اور پھر زندگی کے عجیب عجیب نشیب و فراز کے بعد اس خاندان نے اپنے عزم صمیم کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لیئے جس نظریے کے تحت تمام تر مقامی مخالفتوں کے باوجود یہ امام حسن سینٹر قائم کیا اور اسمیں ہر سن و سال کے بچوں،بچیوں،خواتین و حضرات اور بزرگوں کے لیئے نئی سوچ اور فکر کے ساتھ جس طرح پروگرام اور مصروفیات کو ترتیب دیا ہے وہ اس امر کی نفی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں عزا خانوں اور مساجد میں شدت پسندی کا درس دیا جاتا ہے۔

ہاں ان جگہوں پر اگر کسی شدت پسندی کا درس دیاجاتا ہے تو وہ ہے محبت میں شدت پسندی،انسان دوستی میں شدت پسندی،حق گوئی اور حق شناسی میں شدت پسندی،احترام آدمیت میں شدت پسندی۔

برادر عباس علی کے گھرانے کی ریڑھ کی ہڈی انکی والدہ معظمہ حمیدہ بیگم ہیں اور یہی وہ خاتون ہیں جو اس تمام گھرانے میں اردو خوب اچھی طرح جانتی اور سمجھتی اور بولتی ہیں۔

محمد و آلِ محمد سے ان خاتون کا عشق ہی تو ہے کہ انکی کوکھ سے جنم لینے والے عباس علی نے سڈنی میں ایک ایسے مرکز کی کمان سنبھال رکھی ہے جو میرے نزدیک دنیا بھر کے ایسے بہت سے مذہبی مراکز کے لیئے ایک مثال ہے۔

ایسے مراکز کو اگر ذہنی اور فکری طور پر بیدار کسی ریزیڈنٹ عالم کی خدمات میسر آ جائیں تو سونے پر سہاگہ ہوا کرتا ہے۔ اپنے علم اور اس علم کی ترسیل کے حوالے سے ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی اس مرکز اور یہاں کے فیض حاصل کرنے والوں کے لیئے جس سادہ اور موثر انداز میں ترویج درسِ محمد و آلِ محمد اور تہزیبِ افراد کر رہے ہیں اس پر وہ واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

میں نے انکی بہت مختصر سی گفتگو سُنی ہے اور ان سے ملاقات بھی کوئی طویل نہیں ہوئی لیکن اس مختصر سی مدت میں مجھے انکی شعر فہمی اور مرثیہ شناسی کاادراک ہوا ہے۔ انکے خانوادے کے بارے میں بھی تحریر کرؤں گا لیکن یہ بتاتا چلوں کہ وہ راولپنڈی کے لیفٹینٹ جنرل سید تصور حسین کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو دینِ حقہ کی تعلیم دلوا کر زمین پر ہی جنت خرید لی تھی۔ ستر کی دہائی میں مجھے ان سے ملاقات کا شرف رہا ہے اور میں اس خاندان کی نجابت و شرافت اور علم دوستی سے آگاہ ہوں۔

مسلہ یہ نہیں ہوتا کہ خودآپ نے کتنا علم حاصل کیا ہے۔اصل بات تو یہ ہوتی ہے کہ جو علم آپکو ودیعت ہوا ہے اس سے بنی نوعِ انسان کو کیسے اور کتنا فائدہ ہو رہا ہے اوراس علم کی ترسیل کیسے ہو رہی ہے۔ میں مولانا محمد جعفر خوارزمی سے برسوں سے تو واقف نہیں لیکن جو چند گھنٹے انکی صحبت میں گزرے ہیں انکی روشنی میں پورے صدق دل سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ان کے سینے میں موجود علم تاثر کی ایک بلند حد کے ساتھ انکی ہونٹوں کے راستے سننے والوں کے قلوب و اذہان کو منور و معطر کرتا ہے۔ اس شعبے میں شیریں بیانی بھی ایک وصف ہے جو انہیں خدائے متعال نے دے رکھا ہے۔

یہ انہی علم دوست احباب کی ہی وجہ سے تھا کہ مجھے سڈنی کے امام حسن سینٹر میں مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کی سعادت ملی اور خوشی اس بات کی ہوئی کہ عزت وذلت کا فیصلہ کرنے والے خالقِ کون ومکان نے یہاں بھی بڑی عزت سے نوازا۔

اس ‘‘ٹیک اوے‘‘ کے دور میں اکثر و بیشتر لوگ پکی پکائی کے عادی ہو چکے ہیں اور اسی زوال پزیری کی صورت میں مطالعے اور کتب بینی عادت میں بے حد کمی کے ساتھ ساتھ ادب اور فنون کی قدر دانی بھی کم ہوئی ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی اصنافِ سخن اور ایسے مضامین و فنون کو اپنانے کے گھبراتے اور گریز کرتے ہیں جن میں محنت کرنے کا عنصر شامل ہو۔

ایسی ہی صورت حال اردو مرثیے کو لکھنے اور سننے کے معاملے میں بھی ہے۔ لیکن مجھے کسی لگی لپٹی بغیر یہ اعتراف کرنا ہے کہ امام حسن سینٹر کے سامعین کی سخن شناسی میں مجھے کوئی شک نہیں اور جس محبت اور توجہ سے ان سامعین و حاضرین نے مرثیہ سماعت فرمایا ا س سے مجھے بہت حوصلہ ملا ہے۔

یہ ساری تفصیل تو سفرنامے میں شامل ہو گی لیکن اس چند سطور کا واحد مقصد تو فقط ان احباب کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ بس ایک بار پھر امام حسن سینٹر سڈنی کے تمام منتظمین کا شکریہ اور شکریہ برادر عباس علی اور ریزیڈنٹ عالم مولانا محمد جعفر خوارزمی کا۔

عالم اور مولانا کی بات ہوئی ہے تو ایک شکریہ اپنے نہایت ہی محترم و معظم اور محسن مولانا صادق حسن صاحبکا ادا کرتا چلوں کہ جن کے علم سے یوں تو میں لندن کی مجالس میں بھی فیض یاب ہوتا رہتا ہوں لیکن یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے سڈنی میں محمدی ویلفیئر ایسوسی ایشن میں ہونے والی ایک مجلس میں برادر سید ظفر حسین کی اعانت سے قبلہ مولانا صادق حسن سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

میں سید ظفر حسین اور انکی صحافت سے ایک عرصے سے واقف ہوں لیکن اسی مجلس کے دوران جس محبت اورسچائی کےساتھ مولانا صادق حسن صاحب نے بھائی ظفرحسینکا تذکرہ کیا اورانکی خدمات کو سراہا اس سے مجھے بھائی ظفرکو مزید قریب سے جاننے کا موقع بھی ملا۔

مولانا صادق حسن صاحب اب مستقل طور پر آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مقیم ہیں لیکن دنیا بھر میں تبیلغِ دینِ حقہ کے لیئے محو سفر رہتے ہیں۔ انکی ذات گرامی کے بارے میں فقط ایک کالم لکھنا بھی زیادتی ہے کیونکہ وہ ایسے افراد میں شامل ہیں جو مکمل کتاب کا موضوع ہیں۔

آج کے اس کمرشل دور میں جبکہ ہر چیز کمرشل ہو چکی ہے حتیٰ کہ اس عہد نے منبر پر بیٹھنے کو بھی اور ذکرِ اہلبیت کو بھی کمرشل بنا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ پاک ذکر کرنے والے لوگوں کی ایک خاصی بڑی تعداد دین کو اللہ،اسکے رسول اور اسکی اہلبیت کے فرمان کے مطابق پیش کرنے کی بجائے منتظمین اور سامعین و حاضرین کی منشا اور مرضی کے مطابق پیش کرتے ہیں تو ایسے ماحول اور ایسی فضا میں مولانا صادق حسن صاحب جیسے علم پھیلانے والے لوگ بہت کم بلکہ نایاب ہیں جو لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ اور اسکے رسول کو خوش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس کٹھن سفر میں کتنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سڈنی میں محمدی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جس مجلس عزا میں مولانا صادق حسن صاحب سے ملاقات ہوئی اسمیں انہوں نے جس محبت اور جس انداز میں مجھ جیسے طالب علم کی تعریف کی اسکے جواب میں لفظ‘‘شکریہ‘‘ بہت چھوٹا لفظ ہے۔ اس ہیچ مداں کے بارے میں انہوں نے منبر سے جو الفاظ استعمال کیے اور میرے والد مرحوم مصطفٰی علی ھمٰدانی سمیت میرے تمام خانوادے کی علمی اور ادبی خدمات کا ذکر کیا وہ مولانا صادق حسن کی اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی ہے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں اور یہ میرا تجربہ بھی ہے کہ اس عہد کے جہاں اور بہت سے المیے ہیں ایک بڑاالمیہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی کی تعریف کرتے ہوئے یا کسی کی حقیقی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایسے تنگ دل ہو جاتے ہیں کہ خون شریانوں میں رُک رُک کر چلتا ہے۔

ایسے میں مولانا صادق حسن صاحب جیسے لوگ اس امر کی واضع دلیل ہیں کہ علم انسان کو اعتراف حقیقت کے ساتھ ساتھ سبک سیری اور وسیع القلبی سکھاتا ہے۔

آسٹریلیا کے بارے میں سفر نامہ لکھتے ہوئے مولانا صادق حسن کی دینی اور علمی خدمات کا تفصیلی ذکر تو ہو گا لیکن یہاں انکی ایک خاص عنایت پراظہارممنونیت کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نےاس متبرک محفل میں میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کی مغفرت کے لیئے فاتحہ خوانی کےعلاوہ دعائےخاص بھی کروائی۔ پرودگارانکی مغفرت فرمائےاورمولانا صادق حسن جیسےصاحبان علم کی صحبت ہم جیسے خوشہ چینوں کو میسر رہے۔ قبلہ مولانا صادق حسن صاحب آپ کی محبتوں کا احسان مند رہوں گا۔

ایک شکریہ اگر چہ قدرے تاخیر سے ادا ہو رہا ہے لیکن‘‘ہوئی تاخیرتو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھی‘‘ یہ شکریہ ادا کرنا ہے سڈنی سے شائع ہونے والے جریدے‘‘رابطہ‘‘ کے روح رواں اور ادب دوست منیر محمد کاجنہوں نےنہایت خوبصورت تحائف دینے کے علاوہ اپنے اس جریدے کے کچھ شمارے بھی از راہ عنایت عطا کیئےجنہیںدیکھ کراحساس ہوا کہ اگر ہم اپنے اپنے وطنِ ثانی میں صاف ستھری صحافت کے حامل ایسےجریدےشائع کریںتوان سے بلاشبہ رابطے بڑھیں گے بھی اورمضبوط بھی ہوں گے۔

میں نہایت شرمندہ ہوں کہ برادرمنیر محمد کی محبتوں کا اسی شدومد سے جواب نہ دے سکا جس شدومد سے انہوں نے اظہار کیا۔اسکی وجہ سوائے پیشگی بنےہوئےپروگراموںکی مصروفیت کے علاوہ اور کچھ نہیں تھی۔ یارزندہ صحبت باقی۔اگر اس سرزمین پر دوبارہ آنا ہوا تو جن دوستوں کےشرف میزبانی سے لطف اٹھانا ہو گا انکی فہرست میںمنیر محمد سرفہرست ہوں گے۔

ویسےبھی منیر محمد  اپنےجریدے‘‘رابطہ‘‘ کی مناسبت سے رابطوں کےقائل تو ہوں گے ہی تو ٹیکنالوجی کے اس دور میں ای میل سے تو رابطہ قائم رہ ہی سکتا ہے۔ آپ ہمیشہ کامیاب و کامران رہیں۔ منیر محمد آپ کا بہت شکریہ۔

مجھے یہ تو معلوم تھا کہ پاکستان کرکٹ کا ایک بہت بڑا نام‘‘وقار یونس‘‘ شادی کے بعد اب مستقل طورپر آسٹریلیا میں مقیم ہو گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس شہرمیں ہے۔ یہ مسلہ بھی ایک روز ‘‘سڈنی کی ڈائریکٹری‘‘ سید ظفر حسین نے حل کر دیا اور معلوم ہوا کہ وقار یونس کے ہم زلف کامل خان سے بھائی ظفر کامل طور پر آگاہ ہیں۔ لہٰذا جب کامل خان صاحب کو فون کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وقار یونس تو سڈنی سے باہر ہیں اور کامل خان سڈنی میں موجود نہیں۔

میرا بیٹا محمد چونکہ کرکٹ کا شیدائی ہے اس لیئےسوچا تھاکہ وقاریونس کےساتھ ملاقات کےعلاوہ محمد کے لیئے وقار یونس کی خاص تصاویر بھی بناؤں گا لیکن یہ سب شاید قسمت میں نہیں تھا کہ صرف پاکستان کرکٹ کے ہی نہیں بلکہ دنیائےکرکٹ کےاس بہت بڑے کھلاڑی سے ملاقات ہو سکے۔

تا ہم اب سڈنی سے بھائی سید ظفر حسین نے تحریر کیا ہے کہ وقار یونس کے ہم زلف کامل خان نے انہیں بتایا ہے کہ وقار یونس کو ہماری ملاقات کی خواہش سے آگاہ کیا گیا تھا اور انہوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ آسٹریلیا سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ نہ مل سکے۔ تا ہم انہوں نے ہم جیسے اپنے‘‘فینز‘‘ کے لیئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ بہت شکریہ وقار یونس آپ کا اور کامل خان صاحب آپ کا بھی۔

‘‘شکریہ‘‘ کے ان کالموں کی اب آخری قسط آن پہنچی اور اسے میں پہلے ہی غزل کا مقطع قرار دے چکا ہوں۔ اس مقطع میں سخن گسترانہ بات والا معاملہ نہیں ہو گا بلکہ ان کرم فرماؤں کا ذکر ہو گا جو مقطع کی جان ہیں

لیکن اس سے پہلے ایک مجموعی شکریہ ادا کرنا ہے اپنے تمام میزبانوں،دوستوں،ناقدوں،چاہنے والوں،نہ چاہنے والوں،محبتیں دینے والوں،وقت جسی قیمتی شے عنایت کرنے والوں،عزت دینے والوں اور آسٹریلیا سے واپس آنے کے بعد بھی یاد رکھنے والوں کا۔

سب سے زیادہ شکریہ انکا بھی کہ جنہیں شاید مجھ جیسا فقیر سڈنی میں بھی یاد نہیں تھا۔


کینبرا کے بھائی محمد علی آپ نے اپنی ای میل میں مجھ جیسے مبتدی اور طالب علم کے لیئے کہ جسے گروہ بندی کے مارے لوگ شاعر بھی ماننے کو تیار نہیں جو کچھ لکھا ہے وہ آپ کے ارشادات کے مطابق تو ‘‘تعریف اور حقیقی تعریف‘‘ ہے لیکن سچ پوچھیں تو مجھے اسقدر تعریف پڑھ کر خود سے شرمندگی ہے۔ میں تو بہت عاصی اور کم علم سا انسان ہوں۔

 تعلقات عامہ کی دنیا سے کوسوں دور،سچ اور حق بات منہہ پر بلکہ حاکم وقت کے منہہ پر کہنے کی وجہ سے دوست کو بھی دشمن بنانےلینے والا انسان، مفادات کے ماحول میں دم کشیدہ اور منافقت کے لبادے اوڑھے ہوئے نام نہاد قلم کاروں کی دنیا میں ایک ایسا غیرمقبول شخص جیسے اپنے تئیں بہت سے نام نہاد اور دھڑے بندیوں کے مارے ہوئے شاعر لوگ شاعر بھی ماننے کو تیار نہیں۔

بلا شبہ میں ایسا شعرگو ہوں بھی نہیں کہ جس کے شعر ظالم اور ظلم کے خلاف ہوں اور وہ خود ظلم اور ظالم کا ساتھی ہو،جس کے شعرنفرت اورجھوٹ کی مخالفت میں ہوں اور اسکا اپنا کردار نفرت اور جھوٹ کا آمیزہ ہو،جس کے شعر بنجر زمینوں میں محبت کی فصلیں کاشت کرتے ہوں اور وہ خود سر سبزذہنوں کو بنجر کرتا ہو۔

بھائی محمد علی آپکا یہ حُکم کہ آپ کے اس محبت نامےکوشائع کرؤں میں اس لیئے پورا نہ کر سکوں گا کہ بہت چھوٹے چھوٹے ذہنوں کے مالک اور فکر سےعاری لوگ اسے‘‘من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو‘‘ کے زمرے میں ڈال دیں گے۔

مجھے آپکی محبت اور جزبات پر قطعی کوئی شک نہیں اور میرے بارے میں جو کچھ آپ نے تحریر کیا ہے وہ باعثِ اعزاز ہے لیکن بات وہی ہے جو میں نے شعر کی صورت میں کہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

حالات ابھی ایسے نہیں شہر کے صفدر۔۔تم ایسی غزل سوچ کے دیوان میں رکھنا۔

اور اب لیجئے پیش ہے شکریے کے عنوان سے لکھے ہوئے ان کالموں کاساتواں اور آخری کالم جو اس غزل کا مقطع ہے اور اس مقطع کا پہلا مصرعہ بہت ہی محبت کرنے والی عظمیٰ گیلانی کے نام۔

(جاری ہے)

  -------------------------------------

ایک کالم فقط‘‘شکریے‘‘ کا(ساتویں اور آخری قسط)



 

گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔اور اب لیجئے پیش ہے شکریے کے عنوان سے لکھے ہوئے ان کالموں کاساتواں اور آخری کالم جو اس غزل کا مقطع ہے اور اس مقطع کا پہلا مصرعہ بہت ہی محبت کرنے والی عظمیٰ گیلانی کے نام۔۔۔۔۔۔انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔ سوچا تو یہی تھا کہ عظمٰی گیلانی کا تزکرہ شروع ہو گا لیکن بات ایک لمحے کے لیئے ایک الگ سی کرنا پڑ رہی ہے۔

ابھی چند ہی روز پہلے سڈنی سے برادرم سید ظفر حسین نے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آئی یوخان تعطیلات پر سڈنی سے پشاور گئے ہوئے تھے کہ وطن کی مٹی نے انکے پاؤں کچھ ایسے پکڑ لیئے کہ وہ اسی مٹی کا رزق بن گئے۔ ظفر نے بتایا کہ وہ ہر سال سال نو کے لیئے پاکستان جایا کرتے تھے اور اس سال وہ ایک اور نیا سال نہیں دیکھ سکے۔

خالقِ موت و حیات انکی مغفرت کرے کہ میری تو ان سے صرف چند گھنٹوں کی ایک ہی ملاقات تھی جو ڈاکٹر شوکت جاوید کے گھر پر ہونے والی دعوت میں ہوئی تھی اور وہیں پر ظفر حسین نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر آئی یو خان آسٹریلیا میں پاکستان کے نامور ڈاکٹروں میں سے ہیں اور انکا ایک اور تعارف یہ تھا کہ وہ پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان کے برادر نسبتی تھے کہ انکی بڑی بہن غلام اسحاق خان کی اہلیہ تھیں۔

ڈاکٹر آئی یو خان کو ظاہر ہے کہ میں نے صرف ایک بار دیکھا اور کوئی ایسی فکری نشست بھی ان سے نہیں ہوئی کہ میں انکے خیالات سے آگاہ ہو سکتا لیکن سڈنی میں قیام کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کو جب انکا معترف پایا تو یہ سوچنا پڑا کہ جہاں انکا حلقہ احباب وسیع ہے وہاں انکی خوبیوں اور کامیابیوں کا اعتراف کرنے والوں کا حلقہ بھی کوئی مختصر نہیں ہے۔

وہ لوگ جو اپنے آبائی وطن سے دور کسی بھی وطن ثانی میں قیام کے دوران اپنے وطن اور ہم وطنوں کا نام روشن کرتے ہیں اور انکی نیک نامی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہی دراصل اپنے وطن کے سفیر ہوا کرتے ہیں اور ڈاکٹر آئی یو خان بھی ایسے ہی مخلص سفیر تھے۔
موت زندگی سے بھی بڑی حقیقیت ہے لیکن انسان اسی حقیقیت سے یا تو نظریں چراتا ہے یا پھر جان بوجھ کر اسے یاد نہیں کرنا چاہتا وگرنہ موت کو یاد رکھنا ہی دراصل زندگی کی بے بساطی کا احساس دلواتا ہے۔

اس بے بساطی پر جو انسان اسقدر اترائے کہ اسکے پاؤں زمین پر نہ ٹکیں اور سر فخر کی حدود سے نکل کر تکبر کے کوہ ملامت کو چھونے لگے اور اسے روئے زمین پر اپنے علاوہ دوسرے لوگ حشرات الارض لگتے ہوں اورخود پسندی کے لا علاج مرض میں مبتلاہو اور جو بزعم خوش دانشوری کے منصب پر بھی فائز ہو جو اللہ کی دی ہوئی تخلیقی اور قلم کاری کی نعمت کو بھی دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیئے استعمال کرتا ہو اور جو اس روئے زمین پر خود کو طاقت کا سرچشمہ اور انسانوں کا رازق سمجھتا ہو تو ایسے انسان کے لیئے شاید دعائے خیر کرنا بھی الفاظ کا زیاں ہی تو ہے۔ میرا ایک شعر ہے۔
زندگی کے سارے رشتے سانس سے
سانس کا  رشتہ  جُڑا ہے موت سے


 

زندگی بھی تو اسی حقیقت کا نام ہے کہ آنے اور جانے کے اسی عمل کے درمیان کاروبار حیات چلتا رہتا ہے اور چلتے ہوئے کاروبار حیات کا تقاضہ ہے کہ نفس مضمون کی طرف واپس آیا جائے۔

آسٹریلیا میں بیس روزہ قیام کے دوران جن احباب نے اس خاکسار کو اپنی عنایات اور محبتوں کے تحفوں سے نوازا یہ چند کالم فقط انکے شکریے کے لیئے لکھ رہا تھا اور اس موضوع کے آج کے کالم میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ اعتراف کرتا چلوں کہ میں چونکہ پیشہ ور قسم کا سفر نامہ نگار نہیں ہوں اس لیئے سفر کے دوران نوٹس لینے کی بھی عادت نہیں ہے اور یاداشت پر یقین کی بدولت یہ ٹوٹے پھوٹے لفظ تحریر کر کے ایک تصویر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔

اسی لیئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی محسن اورصاحب توقیر کا نام رہ جاتا ہے۔ اسی لیئے سڈنی،میلبورن،کینبرا اور وولنگانگ کے کسی ایسے فرد کا نام رہ گیا ہو جسکی محبتوں کا میں مقروض ہوں تو وہ میری معذرت قبول کریں۔ اسی ضمن میں ایک بار پھر دوست عزیز سید ظفر حسین کا ممنون ہوں کہ وہ مجھے ایسے کچھ نام گاہے بگاہے یاد بھی دلوا دیتے ہیں اور کچھ ناموں کی تصحیح بھی فرما دیتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو دوست کا اصل مطلب ہے بھی یہی کہ وہ آپ کو آپ کی کمی یا خامی سے آگاہ کرتا رہے نہ کہ اسکا ڈھنڈورا شہر بھر میں کرے اور خود آپ کو معلوم ہی نہ ہو۔

ایسے میں اگر کوئی نام رہ گیا تو بلاشبہ وہ نام سفر نامے کی اقساط میں ضرور شامل ہو گا۔

ذکر ہونا تھا عظمیٰ گیلانی کا کہ دوسرے بہت سے موضوعات پر بات کرنا ضروری ہو گیا۔ عظمٰی گیلانی کے بارے میں اس سے قبل کہیں میں نے لکھا تھا کہ وہ کسی ایک کالم کانہیں بلکہ ایک مکمل کتاب کا موضوع ہیں۔

 میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جس نے عظمٰی کو اپنی فنی زندگی کے آغاز سے دیکھا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ کتنے ہی عشرے گزرنے کے باوجود عظمیٰ ابھی تک اپنی پوری اہلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پائیں اور ان کے اندر چھپا ہوا فنکار ابھی عنوان شباب میں بھی نہیں جبکہ خود عظمیٰ شباب کی منزل سے بہت آگے گزر گئی ہیں

عظمیٰکی فنی زندگی اور انکی مکمل زندگی کا تفصیلی حال انشاللہ سفر نامے میں لکھوں گا لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ ستر کے عشرے اوائل میں جب میں لاہور ریڈیو پر پروگرام پروڈیوسر تھا تو عظمیٰ گیلانی لاہور ریڈیو کی مقبول اناؤنسرز میں شامل تھیں اور اسوقت لاہور ریڈیو پر اناؤنسرز کی ایک کہکشاں موجود تھی۔

سینئر لوگوں میں عزیز الرحمٰن،مظفر حسین اور اخلاق احمد کے علاوہ میرے والد مصطفیٰ علی ہمدانی تھے اور تروتازہ آوازوں میں عظمیٰ گیلانی کے قافلے کے ہم سفر نعیم سارنگ،خالدہ ارجمند،بادشاہ گر زیدی،روحی راجہ،حسن جلیل،داؤد جعفری،بدیع الزمان،عائزہ ریاض اور ایسے ہی کچھ دوسرے نام بھی تھے۔

میں اس زمانے میں لاہور ریڈیوسے صبح کا ڈسک جوکی پروگرام‘‘صبح کے ساتھ ساتھ‘‘ کیا کرتا تھا اور یہ پاکستان میں ڈسک جوکی پروگراموں کا آغاز تھا۔ میرے اس پروگرام کی مقبولیت میں ان آوازوں کا بھی بہت عمل دخل تھا جن کی شیریں گفتاری سامعین کو ریڈیو کا دلدادہ بنا دیتی تھی۔ ان آوازوں میں موہنی حمید،مہناز رفیع، (اسوقت کی ) ریحانہ اورنگ زیب اور ماہ پارہ زیدی کے علاوہ عظمیٰ گیلانی بھی شامل تھیں۔

ریڈیو اسوقت نوکری نہیں بلکہ تہذیب اور فن کا ادارہ تھا اور اس میں کام کرنے والے لوگ اسے نوکری نہیں بلکہ ایک تحریک سمجھاکرتے تھے اور اسی لیئے اسوقت یہاں کام کرنے والے ایک خاندان ہوا کرتے تھے۔ پروگرام کے بعد بیٹھ کر سب کا اکٹھے ناشتہ کرنا،ایبٹ روڈ سے چنے اور نان منگوانا،کینٹین کی میلے کچیلے کپوں میں چائے پینا اور بہت کم پیسوں میں بھی بہت ہنسی خوشی سے کسی مفاد کے بغیر وقت گزارنا۔

یہی وہ دن ہیں جب سے عظمیٰ گیلانی ہم سے اور ہم ان سے شناسا ہیں۔ یہ ساری تفصیل سفر نامے میں۔ لیکنن یہ عجب اتفاق ہے کہ ستر کے عشرے کے اواخر میں عظمیٰ گیلانی سے میری آخری ملاقات ہوئی اور پھر کتنے ہی عشروں کے بعد اکتوبر دو ہزار سات میں جب وہ سڈنی کے عالمی مشاعرے کے موقع پر والہانہ محبت کے ساتھ مجھ سے ملیں تو ارد گرد کھڑے لوگ اشاروں اشاروں میں شاید ایک دوسرے سے بہت کچھ پوچھ رہے ہوں گے۔ لیکن میری نظروں میں تو ستر کے عشرے کا لاہور کا وہ ریڈیو اسٹیشن تھا جہاں عظمیٰ اسی طرح میرے والد مصطفٰی علی ھمدانی اور عزیز الرحمٰن سے بھی کرتی تھیں۔

عظمیٰ گیلانی کے ساتھ یہاں انکی بہو بھی موجود تھی جو مجھے بتا رہی تھیں کہ ‘‘جب سے آپ کے سڈنی آنے کا معلوم ہوا ہے امی آپکی ،آپکے والد کی اور لاہور ریڈیو کی باتیں کرتی رہی ہیں‘‘۔

بہاولپور سے آ کر لاہور میں مقیم ہونے والی عظمیٰ گیلانی پہلے صداکارہ اور بعد میں ادکارہ ہے اور میری دانست میں انکی اداکاری دراصل انکی صداکاری کی مرہون منت ہے۔

 وہ جتنی اچھی اداکارہ ہیں اس سے بہت اچھی صداکارہ ہیں اور شاید ابھی وہ آنکھ پیدا ہی نہیں ہوئی جو عظمیٰ گیلانی کی صداکاری کی صلاحیتوں کو استعمال کر سکتی۔

لیکن ان تمام عناصر سے قطع نظر عظمیٰ گیلانی بہت خوبصورت دل کی مالک اور نہایت شستہ گفتگو کرنے والی خاتون ہیں۔

عظمیٰ گیلانی اب مستقل طور پر آسٹریلیا میں مقیم ہیں جہاں انکی بیٹی،داماد،بیٹا،بہو اور انکے شوہر ایک خوبصورت سے گھر میں بہت سی قلبی خوبصورتیوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ پروردگار انکو صحت دے اور خوش رکھے کہ کسی دوست کے لیئے دعا کرنا دراصل خود اپنے لیئے دعا کرنا ہے۔

عظمیٰ گیلانی نے اپنے دردولت پر مجھ فقیر کے لیئے ایک ‘‘دعوت شیراز‘‘ کا بھی اہتمام کیا جس میں میرے ہمراہ بھائی ظفر حسین،انکی اہلیہ اور ہماری نفیس مزاج بھابھی نفیسہ اور انکی تایا زاد بہن ڈاکٹر شگفتہ(مسکراتی) نقوی بھی تھیں۔ ان خوبصورت اور یادگار لمحات کا تفصیلی ذکر سفر نامے میں۔

عظمیٰ جی آپ کا بہت شکریہ۔مجھے آپ سے برسوں بعد مل کر یوں لگا کہ وقت گزرا نہیں کہیں تھما ہوا ہے۔

اور اب ایک الگ سا شکریہ کہ شاید اسے‘‘شکریہ‘‘کہنا درست نہ ہو لیکن مجھ طالب علم کے پاس اس کے علاوہ کوئی لفظ نہیں اور یوں بھی مجھے کوئی عالمِ لسانیات اور دانشور قسم کا انسان ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔

 اس اعترافِ کم علمی کے بعد بہت سا شکریہ آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی کا کہ خبروں اور صحافت کی دنیا میں ہونے کی وجہ سے میں اُن سے صرف ایک سول سرونٹ اور دفتر خارجہ کے ایک فعال اور تازہ فکر سفارتکار کی حیثیت سے واقف تھا لیکن سڈنی میں ان سے ہونے والی ملاقات اور پھر اُن کی مسلسل کرم نوازی اور محبت نے انکی زندگی اور ذات کے بہت سے در مجھ پر وا کیئے۔

سب سے بڑی چیز جس نے مجھے محترم جلیل عباس جیلانی کے حوالے سے متاثر کیا وہ انکی ادب دوستی ہے۔ اگر مجھ سے سچ پوچھیں تو مرحوم مصطفیٰ زیدی کے بعد میں نےکسی دوسرے سول سرونٹ کو دیکھا ہے جس نے تین چار گھنٹے ایک مشاعرے میں گزارے ہوں اور وہ بھی چہرے پر کسی ناگواری کے تاثر کے بغیر۔

صرف مشاعرے کا مہمان خصوصی ہونا ہی نہیں بلکہ شعر کو محسوس کرنا اور اچھے شعر پر دل کھول کر داد دینا اور پھر ایسی تقریر کہ جو انکشافات سے بھری پڑی ہو اور تقریر بھی جسے میں نے‘‘نثر میں شاعری‘‘ کہا ہے۔

عزت مآب جلیل عباس جیلانی نے پاکستان کے دفتر خارجہ میں ایک سفارتکار کے طور پر جو وقت اب تک گزارا ہے وہ نہایت کامیاب اور منفرد ہے۔ انکی تقرری کے دوران شاید مشکل ترین زمانہ بھارت میں تعیناتی تھی لیکن وہ یہاں سے بھی نہایت کامیابی،خوش اسلوبی اور سفارتی بھول بھلیوں سے گزر آئے۔

سڈنی کے عالمی مشاعرے میں انکی تقریر اگر مجھے کہیں سے ملی تو اسے ضرور آسٹریلیا کے سفر نامے میں شامل کرؤں گا کہ یہ بہت دلچسپ اور خوبصورت مختصر سا افسانہ ہے۔ یہی وہ تقریر تھی جس میں انہوں نے مشاعرے کے سرور میں بہت سے انکشافات بھی کیئے اور ان میں سے سب سے بڑا انکشاف حاضرین کو حیرت زدہ کر گیا۔

جلیل عباس جیلانی صاحب نے جب یہ بتایا کہ پاکستان کے مرحوم بزرگ سیاستدان نوبزادہ نصر اللہ خان انکے نانا تھے تو لوگ واقعی حیرت زدہ رہ گئے لیکن میں سوچنے لگا کہ جینیات کی سائینس واقعی سچی ہے اور اسی جینیات کا اثر ہے کہ وہ شعر نہ کہنے کے باوجود شعر کی زبان میں بات کرتے ہیں اورکسی محفل مشاعرہ میں کئی گھنٹے تک بیٹھے رہے۔

مجھ پر ذاتی طور پر انکی بہت مہربانی اوراحسان ہے کہ اپنی اسناد سفارت پیش کرنے کی بے پایاں مصروفیات کے باوجود بھائی سید ظفر حسین کے گھر پر ٹیلی فون پر مفصل بات بھی کی اور میری تازہ نظموں پر اظہار خیال بھی کیا۔ اور سب سے بڑی یہ مہربانی کہ کینبرا میں اپنی عدم موجودگی کے باوجود انہوں نے سفارتخانے کے اہلکاروں کو مجھ جیسے طالب علم کے ساتھ جلدی میں ترتیب دی گئی شام منانے کی ہدایات دیں۔


مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ میں اس حوالے سے پہلا پاکستانی شاعر یاادیب ہوں جس کے ساتھ آسٹریلیا کے پاکستانی سفارتخانے میں شام منائی گئی۔ عزت اور ذلت تو قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے لیکن اس سے کس کو انکار ہے کہ یہی انسان اس روئے زمین پر اسکا خلیفہ ہے۔


میں نے اس تقریب کے موقع پر بھی کہا تھا کہ اور ایک بار پھر اس حقیقت کو ‘‘آن ریکارڈ‘‘ رکھنا چاہتا ہوں کہ  برسوں سے بیرون ملک اپنے قیام کے دوران اور اپنی تیس سال سے زائد عرصے کی قلم کاری کی زندگی کے دوران پہلی مرتبہ کہیں پاکستان کے سفارتخانے میں گیا ہوں۔

 اسکی وجوہات بہت سی ہیں جنکا تفصیلی ذکر ضرور کرؤں گا لیکن ایک بات واضع کرتا چلوں کہ میں کبھی بھی سرکاری درباری آدمی نہیں رہا اور حکمرانوں کی دست درازیوں اور ناعاقبت اندیشیوں کو طشت از بام کرنا میری شاعری کا بنیادی عنصر ہے لہٰذا ایسے کسی شخص کو کسی سرکاری تقریب میں یا سفارتخانے میں مدعو کرنا کیا خود کو مشکلات کے جال میں پھنسانا نہیں؟

لیکن اس کے باوجود عزت ماب جلیل عباس جیلانی کا مجھ جیسے الفاظ گر کو یہ عزت دینا انکی خاندانی پرداخت اور ادب دوستی کے ساتھ ساتھ حقیقی اور سچی شاعری سے انسیت کی علامت ہے۔

ہمارے ملک کے سرکاری شعبوں خاص طور پر دفتر خارجہ جیسے اداروں میں ایسے نستعلیق افراد کی بہت کمی ہے۔ لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ آپ اپنے شعبے میں چاہے کتنے بھی ماہر ہوں یہ اس لیئے بہت بڑی بات نہیں کہ یہ تو آپ کا شعبہ ہے۔ اصل باعثِ اعزاز بات یہ ہے کہ آپ زندگی کے دوسرے شعبوں اور فنون کے بارے میں آگاہ ہوں اور کسی ایک فن کے معترف بھی۔

جلیل عباس جیلانی اس حوالے سے اُن معدودے چند سفارتکاروں میں شامل ہیں جو بہت کامیاب اور اچھے سفارتکار کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ سے بھی شناسا اور آگاہ بھی ہیں اور ان میں دلچسپی بھی لیتے ہیں اور یہی بیداری فکر کی علامت ہے۔

آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی صاحب آپکا بہت بہت شکریہ کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ لفظ آپکی محبتوں کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔

اور اب سب سے آخر میں ایک شکریہ امریکہ اور کینیڈا سے سڈنی آنے والے اپنے ساتھی شعرا کاجن سے ایک عرصے بعد ملاقات ہونا دراصل اس مشاعرے کا ایک اضافی اور نہایت اہم نتیجہ تھا۔

شکاگو کے افتخار نسیم افتی سے تو اکثر یورپ کے کسی نہ کسی ملک میں ملاقات ہو ہی جاتی ہے یا پھر وہ تسلسل کے ساتھ شکاگو سے لندن ٹیلی فون بھی کرتے رہتے ہیں تو ان سے رابطے اور ملاقات میں تعطل نہیں آتا اور یوں بھی وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے محبت کرنے والے اور محبت تقسیم کرنے والے انسان ہیں۔

میں زاتی طور پر اس امر سے آگاہ ہوں کہ انہیں اگر یہ معلوم بھی ہو کہ کوئی فرد انہیں اپنے فائدے کے لیئے استعمال کر رہا ہے تو پھر بھی اسے باور کرانے سے گریز کرتے ہیں۔

افتخار نسیم افتی ہر فن مولا ہے اور وہ بھی مولا جٹ سے بہت مختلف۔ وہ اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی شاعری کرتا ہے لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے محبت وہ اردو میں ہی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی افتی سے ملاقات ہوئی ہے انکے ساتھ بہت یادگار وقت گزرا ہے اور یہی کچھ سڈنی میں قیام کے دوران ہوا۔

برادر معظم سید اشفاق حسین سے 1974 کے بعد ملاقات ہوئی لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ میں اس دوران انکے علمی اور ادبی کام سے غافل رہا ہوں۔ کینیڈا میں رہتے ہوئے انہوں نے جس طرح سے اردو ادب کی خدمت کی ہے وہ بزات خود ایک کتاب کا موضوع ہے۔

 وہ اچھے شاعر ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے وہ ایک بہت اچھے انسان بھی ہیں۔  اس سفر میں اُن سے بہت زیادہ ملاقات کا موقع نہیں ملا لیکن انکی شاعری انکا بہت خوبصورت تعارف ہے۔ سفرنامے میں سید اشفاق حسین اور انکے ادبی سفر کا بھی تفصیلی ذکر رہے گا۔

ایک شکریہ امریکہ سے تشریف لانے والی نوشی گیلانی کا کہ جنہیں میں نے 1989کے بعد سڈنی میں دیکھا۔بہاولپور کی سرزمین کہ جہاں آغا سکندر مہدی اور ظہور نظر جیسے شاعروں نے شاعری کے نخلستان آبادکیئے وہیں سے نوشی گیلانی شاعری کے اس پودے کو قلب حزیں کے گملے میں سجا کر اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں اور اُس الگ سے ماحول اور فضا میں دل وجان سے اس کی پرورش کی۔

میں نوشی گیلانی کو اسوقت سے جانتا ہوں جب وہ مشاعروں میں سر پر بوسکی کی سفید چادر ارڑھے اپنے بھائی کے ساتھ آیا کرتی تھی اب اتنا وقت گزرنے کے بعد جب نوشی کو دیکھا تو ملتان کا وہ 1989کا آخری مشاعرہ بھی یاد آگیا جو ملتان کے ایک سرکاری اہل کار افسر ساجد ہر سال کرواتے تھے اور اس 89کے مشاعرے میں منیر نیازی،امجد اسلام امجد اور پروین شاکر کے علاوہ ماہ پارہ صفدر(میری اہلیہ) اور نوشی گیلانی بھی شریک تھیں۔

نوشی بلاشبہ بہت اچھی شاعرہ ہیں اور اس نے زندگی کے تجربات کو جس طرح اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اس پر سفرنامے میں بھی قدرے تفصیل سے لکھوں گا۔لیکن میں چونکہ‘‘محبت میں غلو‘‘ کا قائل نہیں ہوں اس لیئے ایسے لوگوں سے اختلاف کرنے کی جرآت رکھتا ہوں کہ جو فرط جزبات میں یا ادبی عدم آگاہی کی وجہ سے کبھی کبھی یہ کہہ جاتے ہیں کہ ‘‘نوشی گیلانی اس عہد کی سب سے بڑی شاعرہ ہیں‘‘

 میرے خیال میں یہ کہہ کر ہم نوشی گیلانی یا کسی اور کا قد بڑھاتے نہیں بلکہ گھٹاتے ہیں اور ضرورت ہے ایسے ‘‘شدت پسند ‘‘ فقروں سے گریز کیا جائے۔نوشی گیلانی بہت تازہ لہجے اور تازہ فکر کی مقبول شاعر ہیں اس سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں اور اس شجر کو ابھی چھتنار درخت بننا ہے۔

میں ذاتی طور فنون کے معاملے میں جنسی تقسیم کا قائل نہیں۔کسی بھی فن میں عورت یا مرد کی تخصیص فنکار کے قد کاٹھ کو بڑھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ شاعر،ادیب یا مصور مرد یا عورت نہیں بلکہ فقط فنکار اور تخلیق کار ہوتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں کتنے ایسے مرد شاعر ہیں جنہوں نے عورتوں کے جزبات کی ترجمانی کی ہے اور یوں بھی شعر زنانہ یا مردانہ نہیں ہوا کرتے۔

نوشی گیلانی سے ایک طویل عرصے کے بعد ملنے کے باوجود تفصیلی ملاقات نہ ہو سکی جس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن میلبورن سے واپسی کے سفر میں ڈاکٹر شبیرحیدر نے ایک اچھے سامع کا کردار ادا کیا اور میں اور نوشی گزرے ہوئے اس زمانے کو دوہراتے رہے جب شعر کہے جاتے تھے لکھے نہیں جاتے تھے اور جب مشاعروں میں دعوت نوے فیصد شاعر کو دی جاتی تھی شاعر کی ظاہری شخصیت یا اسکی کسی دھڑے سے وابستگی کو نہیں۔

نوشی گیلانی کا اس لیئے بھی شکریہ تمام مشاعروں میں ان کی موجودگی نے شاعروں اور سامعین دونوں کو بیدار رکھا۔

آسٹریلیا میں بیس روز کے قیام کے دوران ملنے والے احباب کے رسمی شکریے کے ان کالموں کا اختتام ہوا اور اب باقی ذکر اذکار سفر نامے کے ابواب میں رہے گا کہ اس سفرنامے کی چار اقساط میں نے سڈنی میں ہی قیام کے دوران لکھی تھیں تا ہم اب ان اقساط میں لکھی باتوں کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد اس یادگار سفر کی روداد تسلسل سے بیان ہو گی۔
ہر اک انداز ہے صفدر مرا دنیا سے الگ
دشمنِ جان  کو  محبوب سمجھتا ہوں میں


----------------------------------------------
(0) آپکی رائے        پرنٹ        احباب کو بتائیے        اُوپر


:دیگر مضامین
(14.10.2008) آسٹریلیا میں بیس روز
(14.10.2008) تم لوگ کر رہے ہوجو بیعت یزید کی!(صفدر ھمٰدانی)
(14.10.2008) مُش اور بُش دونوں پاکستان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔(صفدر ھمٰدانی)
(14.10.2008) تُم نے پاؤں کا جوتا بنایا ہے آئین کو!
(14.10.2008) جلتا ہوا یہ شہر بچانے کون آئے گا؟
(14.10.2008) مشتری ہشیار باش۔نوشتہ دیوار کون پڑھے گا؟
(14.10.2008) سروں کی فصل پک کر ہو چکی تیار سُن لو!
(14.10.2008) لبنان میں امریکی مداخلت۔مسلمان حاکم ابھی تک سو رہے ہیں
(14.10.2008) کیاعدلیہ کا فیصلہ فتح و شکست کا معاملہ نہیں؟
(14.10.2008) ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو کیا کوئی پوچھنے والا ہے
(14.10.2008) جولائی 7”سیون سیون“ لندن کی خوفناک یادیں
(14.10.2008) ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی کوششیں جاری
(14.10.2008) وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
(14.10.2008) فہیم جوزی کی ایک نظم ‘‘اندھیرا‘‘
(14.10.2008) جمیل ملک،حسین و جمیل بھی اور ملک صفت بھی
(14.10.2008) قومے فروختند چہ ارزاں فروختند
(14.10.2008) ‘‘ستم کا یہ کھیل ختم سمجھو‘‘
(14.10.2008) جیتے گا کون دیکھئے نفرت کے کھیل میں
(14.10.2008) پمرا ترمیمی آرڈینینس یا کالا قانون
(14.10.2008) پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو تاریخی آزادی دینےکی طرف ایک اور قدم؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں