گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔اور اب لیجئے پیش ہے شکریے کے عنوان سے لکھے ہوئے ان کالموں کاساتواں اور آخری کالم جو اس غزل کا مقطع ہے اور اس مقطع کا پہلا مصرعہ بہت ہی محبت کرنے والی عظمیٰ گیلانی کے نام۔۔۔۔۔۔انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔ سوچا تو یہی تھا کہ
عظمٰی گیلانی کا تزکرہ شروع ہو گا لیکن بات ایک لمحے کے لیئے ایک الگ سی کرنا پڑ رہی ہے۔

ابھی چند ہی روز پہلے سڈنی سے برادرم
سید ظفر حسین نے اطلاع دی کہ ڈاکٹر آئی یوخان تعطیلات پر سڈنی سے پشاور گئے ہوئے تھے کہ وطن کی مٹی نے انکے پاؤں کچھ ایسے پکڑ لیئے کہ وہ اسی مٹی کا رزق بن گئے۔ ظفر نے بتایا کہ وہ ہر سال سال نو کے لیئے پاکستان جایا کرتے تھے اور اس سال وہ ایک اور نیا سال نہیں دیکھ سکے۔
خالقِ موت و حیات انکی مغفرت کرے کہ میری تو ان سے صرف چند گھنٹوں کی ایک ہی ملاقات تھی جو
ڈاکٹر شوکت جاوید کے گھر پر ہونے والی دعوت میں ہوئی تھی اور وہیں پر ظفر حسین نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر آئی یو خان آسٹریلیا میں پاکستان کے نامور ڈاکٹروں میں سے ہیں اور انکا ایک اور تعارف یہ تھا کہ وہ پاکستان کے سابق صدر
غلام اسحاق خان کے برادر نسبتی تھے کہ انکی بڑی بہن غلام اسحاق خان کی اہلیہ تھیں۔

ڈاکٹر آئی یو خان کو ظاہر ہے کہ میں نے صرف ایک بار دیکھا اور کوئی ایسی فکری نشست بھی ان سے نہیں ہوئی کہ میں انکے خیالات سے آگاہ ہو سکتا لیکن سڈنی میں قیام کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کو جب انکا معترف پایا تو یہ سوچنا پڑا کہ جہاں انکا حلقہ احباب وسیع ہے وہاں انکی خوبیوں اور کامیابیوں کا اعتراف کرنے والوں کا حلقہ بھی کوئی مختصر نہیں ہے۔
وہ لوگ جو اپنے آبائی وطن سے دور کسی بھی وطن ثانی میں قیام کے دوران اپنے وطن اور ہم وطنوں کا نام روشن کرتے ہیں اور انکی نیک نامی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہی دراصل اپنے وطن کے سفیر ہوا کرتے ہیں اور ڈاکٹر آئی یو خان بھی ایسے ہی مخلص سفیر تھے۔
موت زندگی سے بھی بڑی حقیقیت ہے لیکن انسان اسی حقیقیت سے یا تو نظریں چراتا ہے یا پھر جان بوجھ کر اسے یاد نہیں کرنا چاہتا وگرنہ موت کو یاد رکھنا ہی دراصل زندگی کی بے بساطی کا احساس دلواتا ہے۔

اس بے بساطی پر جو انسان اسقدر اترائے کہ اسکے پاؤں زمین پر نہ ٹکیں اور سر فخر کی حدود سے نکل کر تکبر کے کوہ ملامت کو چھونے لگے اور اسے روئے زمین پر اپنے علاوہ دوسرے لوگ حشرات الارض لگتے ہوں اورخود پسندی کے لا علاج مرض میں مبتلاہو اور جو بزعم خوش دانشوری کے منصب پر بھی فائز ہو جو اللہ کی دی ہوئی تخلیقی اور قلم کاری کی نعمت کو بھی دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیئے استعمال کرتا ہو اور جو اس روئے زمین پر خود کو طاقت کا سرچشمہ اور انسانوں کا رازق سمجھتا ہو تو ایسے انسان کے لیئے شاید دعائے خیر کرنا بھی الفاظ کا زیاں ہی تو ہے۔ میرا ایک شعر ہے۔
زندگی بھی تو اسی حقیقت کا نام ہے کہ آنے اور جانے کے اسی عمل کے درمیان کاروبار حیات چلتا رہتا ہے اور چلتے ہوئے کاروبار حیات کا تقاضہ ہے کہ نفس مضمون کی طرف واپس آیا جائے۔
آسٹریلیا میں بیس روزہ قیام کے دوران جن احباب نے اس خاکسار کو اپنی عنایات اور محبتوں کے تحفوں سے نوازا یہ چند کالم فقط انکے شکریے کے لیئے لکھ رہا تھا اور اس موضوع کے آج کے کالم میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ اعتراف کرتا چلوں کہ میں چونکہ پیشہ ور قسم کا سفر نامہ نگار نہیں ہوں اس لیئے سفر کے دوران نوٹس لینے کی بھی عادت نہیں ہے اور یاداشت پر یقین کی بدولت یہ ٹوٹے پھوٹے لفظ تحریر کر کے ایک تصویر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔اسی لیئے کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی محسن اورصاحب توقیر کا نام رہ جاتا ہے۔ اسی لیئے سڈنی،میلبورن،کینبرا اور وولنگانگ کے کسی ایسے فرد کا نام رہ گیا ہو جسکی محبتوں کا میں مقروض ہوں تو وہ میری معذرت قبول کریں۔ اسی ضمن میں ایک بار پھر دوست عزیز سید ظفر حسین کا ممنون ہوں کہ وہ مجھے ایسے کچھ نام گاہے بگاہے یاد بھی دلوا دیتے ہیں اور کچھ ناموں کی تصحیح بھی فرما دیتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو دوست کا اصل مطلب ہے بھی یہی کہ وہ آپ کو آپ کی کمی یا خامی سے آگاہ کرتا رہے نہ کہ اسکا ڈھنڈورا شہر بھر میں کرے اور خود آپ کو معلوم ہی نہ ہو۔
ایسے میں اگر کوئی نام رہ گیا تو بلاشبہ وہ نام سفر نامے کی اقساط میں ضرور شامل ہو گا۔
ذکر ہونا تھا
عظمیٰ گیلانی کا کہ دوسرے بہت سے موضوعات پر بات کرنا ضروری ہو گیا۔ عظمٰی گیلانی کے بارے میں اس سے قبل کہیں میں نے لکھا تھا کہ وہ کسی ایک کالم کانہیں بلکہ ایک مکمل کتاب کا موضوع ہیں۔
میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جس نے عظمٰی کو اپنی فنی زندگی کے آغاز سے دیکھا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ کتنے ہی عشرے گزرنے کے باوجود عظمیٰ ابھی تک اپنی پوری اہلیت اور صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پائیں اور ان کے اندر چھپا ہوا فنکار ابھی عنوان شباب میں بھی نہیں جبکہ خود عظمیٰ شباب کی منزل سے بہت آگے گزر گئی ہیں
عظمیٰکی فنی زندگی اور انکی مکمل زندگی کا تفصیلی حال انشاللہ سفر نامے میں لکھوں گا لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ ستر کے عشرے اوائل میں جب میں لاہور ریڈیو پر پروگرام پروڈیوسر تھا تو عظمیٰ گیلانی لاہور ریڈیو کی مقبول اناؤنسرز میں شامل تھیں اور اسوقت لاہور ریڈیو پر اناؤنسرز کی ایک کہکشاں موجود تھی۔
سینئر لوگوں میں عزیز الرحمٰن،مظفر حسین اور اخلاق احمد کے علاوہ میرے والد مصطفیٰ علی ہمدانی تھے اور تروتازہ آوازوں میں عظمیٰ گیلانی کے قافلے کے ہم سفر نعیم سارنگ،خالدہ ارجمند،بادشاہ گر زیدی،روحی راجہ،حسن جلیل،داؤد جعفری،بدیع الزمان،عائزہ ریاض اور ایسے ہی کچھ دوسرے نام بھی تھے۔میں اس زمانے میں لاہور ریڈیوسے صبح کا ڈسک جوکی پروگرام
‘‘صبح کے ساتھ ساتھ‘‘ کیا کرتا تھا اور یہ پاکستان میں ڈسک جوکی پروگراموں کا آغاز تھا۔ میرے اس پروگرام کی مقبولیت میں ان آوازوں کا بھی بہت عمل دخل تھا جن کی شیریں گفتاری سامعین کو ریڈیو کا دلدادہ بنا دیتی تھی۔
ان آوازوں میں موہنی حمید،مہناز رفیع، (اسوقت کی ) ریحانہ اورنگ زیب اور ماہ پارہ زیدی کے علاوہ عظمیٰ گیلانی بھی شامل تھیں۔
ریڈیو اسوقت نوکری نہیں بلکہ تہذیب اور فن کا ادارہ تھا اور اس میں کام کرنے والے لوگ اسے نوکری نہیں بلکہ ایک تحریک سمجھاکرتے تھے اور اسی لیئے اسوقت یہاں کام کرنے والے ایک خاندان ہوا کرتے تھے۔ پروگرام کے بعد بیٹھ کر سب کا اکٹھے ناشتہ کرنا،ایبٹ روڈ سے چنے اور نان منگوانا،کینٹین کی میلے کچیلے کپوں میں چائے پینا اور بہت کم پیسوں میں بھی بہت ہنسی خوشی سے کسی مفاد کے بغیر وقت گزارنا۔
یہی وہ دن ہیں جب سے
عظمیٰ گیلانی ہم سے اور ہم ان سے شناسا ہیں۔ یہ ساری تفصیل سفر نامے میں۔ لیکنن یہ عجب اتفاق ہے کہ ستر کے عشرے کے اواخر میں عظمیٰ گیلانی سے میری آخری ملاقات ہوئی اور پھر کتنے ہی عشروں کے بعد اکتوبر دو ہزار سات میں جب وہ سڈنی کے عالمی مشاعرے کے موقع پر والہانہ محبت کے ساتھ مجھ سے ملیں تو ارد گرد کھڑے لوگ اشاروں اشاروں میں شاید ایک دوسرے سے بہت کچھ پوچھ رہے ہوں گے۔ لیکن میری نظروں میں تو ستر کے عشرے کا لاہور کا وہ ریڈیو اسٹیشن تھا جہاں عظمیٰ اسی طرح میرے والد مصطفٰی علی ھمدانی اور عزیز الرحمٰن سے بھی کرتی تھیں۔
عظمیٰ گیلانی کے ساتھ یہاں انکی بہو بھی موجود تھی جو مجھے بتا رہی تھیں کہ ‘‘جب سے آپ کے سڈنی آنے کا معلوم ہوا ہے امی آپکی ،آپکے والد کی اور لاہور ریڈیو کی باتیں کرتی رہی ہیں‘‘۔بہاولپور سے آ کر لاہور میں مقیم ہونے والی عظمیٰ گیلانی پہلے صداکارہ اور بعد میں ادکارہ ہے اور میری دانست میں انکی اداکاری دراصل انکی صداکاری کی مرہون منت ہے۔
وہ جتنی اچھی اداکارہ ہیں اس سے بہت اچھی صداکارہ ہیں اور شاید ابھی وہ آنکھ پیدا ہی نہیں ہوئی جو عظمیٰ گیلانی کی صداکاری کی صلاحیتوں کو استعمال کر سکتی۔
لیکن ان تمام عناصر سے قطع نظر عظمیٰ گیلانی بہت خوبصورت دل کی مالک اور نہایت شستہ گفتگو کرنے والی خاتون ہیں۔
عظمیٰ گیلانی اب مستقل طور پر آسٹریلیا میں مقیم ہیں جہاں انکی بیٹی،داماد،بیٹا،بہو اور انکے شوہر ایک خوبصورت سے گھر میں بہت سی قلبی خوبصورتیوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ پروردگار انکو صحت دے اور خوش رکھے کہ کسی دوست کے لیئے دعا کرنا دراصل خود اپنے لیئے دعا کرنا ہے۔
عظمیٰ گیلانی نے اپنے دردولت پر مجھ فقیر کے لیئے ایک ‘‘دعوت شیراز‘‘ کا بھی اہتمام کیا جس میں میرے ہمراہ بھائی ظفر حسین،انکی اہلیہ اور ہماری نفیس مزاج بھابھی نفیسہ اور انکی تایا زاد بہن ڈاکٹر شگفتہ(مسکراتی) نقوی بھی تھیں۔ ان خوبصورت اور یادگار لمحات کا تفصیلی ذکر سفر نامے میں۔عظمیٰ جی آپ کا بہت شکریہ۔مجھے آپ سے برسوں بعد مل کر یوں لگا کہ وقت گزرا نہیں کہیں تھما ہوا ہے۔
اور اب ایک الگ سا شکریہ کہ شاید اسے‘‘شکریہ‘‘کہنا درست نہ ہو لیکن مجھ طالب علم کے پاس اس کے علاوہ کوئی لفظ نہیں اور یوں بھی مجھے کوئی عالمِ لسانیات اور دانشور قسم کا انسان ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔
اس اعترافِ کم علمی کے بعد بہت سا شکریہ
آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی کا کہ خبروں اور صحافت کی دنیا میں ہونے کی وجہ سے میں اُن سے صرف ایک سول سرونٹ اور دفتر خارجہ کے ایک فعال اور تازہ فکر سفارتکار کی حیثیت سے واقف تھا لیکن سڈنی میں ان سے ہونے والی ملاقات اور پھر اُن کی مسلسل کرم نوازی اور محبت نے انکی زندگی اور ذات کے بہت سے در مجھ پر وا کیئے۔
سب سے بڑی چیز جس نے مجھے محترم جلیل عباس جیلانی کے حوالے سے متاثر کیا وہ انکی ادب دوستی ہے۔ اگر مجھ سے سچ پوچھیں تو مرحوم مصطفیٰ زیدی کے بعد میں نےکسی دوسرے سول سرونٹ کو دیکھا ہے جس نے تین چار گھنٹے ایک مشاعرے میں گزارے ہوں اور وہ بھی چہرے پر کسی ناگواری کے تاثر کے بغیر۔
صرف مشاعرے کا مہمان خصوصی ہونا ہی نہیں بلکہ شعر کو محسوس کرنا اور اچھے شعر پر دل کھول کر داد دینا اور پھر ایسی تقریر کہ جو انکشافات سے بھری پڑی ہو اور تقریر بھی جسے میں نے‘‘نثر میں شاعری‘‘ کہا ہے۔
عزت مآب جلیل عباس جیلانی نے پاکستان کے دفتر خارجہ میں ایک سفارتکار کے طور پر جو وقت اب تک گزارا ہے وہ نہایت کامیاب اور منفرد ہے۔ انکی تقرری کے دوران شاید مشکل ترین زمانہ بھارت میں تعیناتی تھی لیکن وہ یہاں سے بھی نہایت کامیابی،خوش اسلوبی اور سفارتی بھول بھلیوں سے گزر آئے۔ 
سڈنی کے عالمی مشاعرے میں انکی تقریر اگر مجھے کہیں سے ملی تو اسے ضرور آسٹریلیا کے سفر نامے میں شامل کرؤں گا کہ یہ بہت دلچسپ اور خوبصورت مختصر سا افسانہ ہے۔ یہی وہ تقریر تھی جس میں انہوں نے مشاعرے کے سرور میں بہت سے انکشافات بھی کیئے اور ان میں سے سب سے بڑا انکشاف حاضرین کو حیرت زدہ کر گیا۔
جلیل عباس جیلانی صاحب نے جب یہ بتایا کہ پاکستان کے مرحوم بزرگ سیاستدان نوبزادہ نصر اللہ خان انکے نانا تھے تو لوگ واقعی حیرت زدہ رہ گئے لیکن میں سوچنے لگا کہ جینیات کی سائینس واقعی سچی ہے اور اسی جینیات کا اثر ہے کہ وہ شعر نہ کہنے کے باوجود شعر کی زبان میں بات کرتے ہیں اورکسی محفل مشاعرہ میں کئی گھنٹے تک بیٹھے رہے۔مجھ پر ذاتی طور پر انکی بہت مہربانی اوراحسان ہے کہ اپنی اسناد سفارت پیش کرنے کی بے پایاں مصروفیات کے باوجود بھائی سید ظفر حسین کے گھر پر ٹیلی فون پر مفصل بات بھی کی اور میری تازہ نظموں پر اظہار خیال بھی کیا۔ اور سب سے بڑی یہ مہربانی کہ کینبرا میں اپنی عدم موجودگی کے باوجود انہوں نے سفارتخانے کے اہلکاروں کو مجھ جیسے طالب علم کے ساتھ جلدی میں ترتیب دی گئی شام منانے کی ہدایات دیں۔
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ میں اس حوالے سے پہلا پاکستانی شاعر یاادیب ہوں جس کے ساتھ آسٹریلیا کے پاکستانی سفارتخانے میں شام منائی گئی۔ عزت اور ذلت تو قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے لیکن اس سے کس کو انکار ہے کہ یہی انسان اس روئے زمین پر اسکا خلیفہ ہے۔
میں نے اس تقریب کے موقع پر بھی کہا تھا کہ اور ایک بار پھر اس حقیقت کو
‘‘آن ریکارڈ‘‘ رکھنا چاہتا ہوں کہ برسوں سے بیرون ملک اپنے قیام کے دوران اور اپنی تیس سال سے زائد عرصے کی قلم کاری کی زندگی کے دوران پہلی مرتبہ کہیں پاکستان کے سفارتخانے میں گیا ہوں۔
اسکی وجوہات بہت سی ہیں جنکا تفصیلی ذکر ضرور کرؤں گا لیکن ایک بات واضع کرتا چلوں کہ میں کبھی بھی سرکاری درباری آدمی نہیں رہا اور حکمرانوں کی دست درازیوں اور ناعاقبت اندیشیوں کو طشت از بام کرنا میری شاعری کا بنیادی عنصر ہے لہٰذا ایسے کسی شخص کو کسی سرکاری تقریب میں یا سفارتخانے میں مدعو کرنا کیا خود کو مشکلات کے جال میں پھنسانا نہیں؟
لیکن اس کے باوجود عزت ماب جلیل عباس جیلانی کا مجھ جیسے الفاظ گر کو یہ عزت دینا انکی خاندانی پرداخت اور ادب دوستی کے ساتھ ساتھ حقیقی اور سچی شاعری سے انسیت کی علامت ہے۔ہمارے ملک کے سرکاری شعبوں خاص طور پر دفتر خارجہ جیسے اداروں میں ایسے نستعلیق افراد کی بہت کمی ہے۔ لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ آپ اپنے شعبے میں چاہے کتنے بھی ماہر ہوں یہ اس لیئے بہت بڑی بات نہیں کہ یہ تو آپ کا شعبہ ہے۔ اصل باعثِ اعزاز بات یہ ہے کہ آپ زندگی کے دوسرے شعبوں اور فنون کے بارے میں آگاہ ہوں اور کسی ایک فن کے معترف بھی۔
جلیل عباس جیلانی اس حوالے سے اُن معدودے چند سفارتکاروں میں شامل ہیں جو بہت کامیاب اور اچھے سفارتکار کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ سے بھی شناسا اور آگاہ بھی ہیں اور ان میں دلچسپی بھی لیتے ہیں اور یہی بیداری فکر کی علامت ہے۔
آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عزت مآب جلیل عباس جیلانی صاحب آپکا بہت بہت شکریہ کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ لفظ آپکی محبتوں کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔اور اب سب سے آخر میں ایک شکریہ
امریکہ اور کینیڈا سے سڈنی آنے والے اپنے ساتھی شعرا کاجن سے ایک عرصے بعد ملاقات ہونا دراصل اس مشاعرے کا ایک اضافی اور نہایت اہم نتیجہ تھا۔
شکاگو کے افتخار نسیم افتی سے تو اکثر یورپ کے کسی نہ کسی ملک میں ملاقات ہو ہی جاتی ہے یا پھر وہ تسلسل کے ساتھ شکاگو سے لندن ٹیلی فون بھی کرتے رہتے ہیں تو ان سے رابطے اور ملاقات میں تعطل نہیں آتا اور یوں بھی وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے محبت کرنے والے اور محبت تقسیم کرنے والے انسان ہیں۔
میں زاتی طور پر اس امر سے آگاہ ہوں کہ انہیں اگر یہ معلوم بھی ہو کہ کوئی فرد انہیں اپنے فائدے کے لیئے استعمال کر رہا ہے تو پھر بھی اسے باور کرانے سے گریز کرتے ہیں۔
افتخار نسیم افتی ہر فن مولا ہے اور وہ بھی مولا جٹ سے بہت مختلف۔ وہ اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی شاعری کرتا ہے لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے محبت وہ اردو میں ہی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی افتی سے ملاقات ہوئی ہے انکے ساتھ بہت یادگار وقت گزرا ہے اور یہی کچھ سڈنی میں قیام کے دوران ہوا۔
برادر معظم سید اشفاق حسین سے 1974 کے بعد ملاقات ہوئی لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ میں اس دوران انکے علمی اور ادبی کام سے غافل رہا ہوں۔ کینیڈا میں رہتے ہوئے انہوں نے جس طرح سے اردو ادب کی خدمت کی ہے وہ بزات خود ایک کتاب کا موضوع ہے۔
وہ اچھے شاعر ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے وہ ایک بہت اچھے انسان بھی ہیں۔ اس سفر میں اُن سے بہت زیادہ ملاقات کا موقع نہیں ملا لیکن انکی شاعری انکا بہت خوبصورت تعارف ہے۔ سفرنامے میں سید اشفاق حسین اور انکے ادبی سفر کا بھی تفصیلی ذکر رہے گا۔
ایک شکریہ
امریکہ سے تشریف لانے والی نوشی گیلانی کا کہ جنہیں میں نے 1989کے بعد سڈنی میں دیکھا۔بہاولپور کی سرزمین کہ جہاں آغا سکندر مہدی اور ظہور نظر جیسے شاعروں نے شاعری کے نخلستان آبادکیئے وہیں سے نوشی گیلانی شاعری کے اس پودے کو قلب حزیں کے گملے میں سجا کر اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں اور اُس الگ سے ماحول اور فضا میں دل وجان سے اس کی پرورش کی۔

میں نوشی گیلانی کو اسوقت سے جانتا ہوں جب وہ مشاعروں میں سر پر بوسکی کی سفید چادر ارڑھے اپنے بھائی کے ساتھ آیا کرتی تھی اب اتنا وقت گزرنے کے بعد جب نوشی کو دیکھا تو ملتان کا وہ 1989کا آخری مشاعرہ بھی یاد آگیا جو ملتان کے ایک سرکاری اہل کار افسر ساجد ہر سال کرواتے تھے اور اس
89کے مشاعرے میں منیر نیازی،امجد اسلام امجد اور پروین شاکر کے علاوہ ماہ پارہ صفدر(میری اہلیہ) اور نوشی گیلانی بھی شریک تھیں۔
نوشی بلاشبہ بہت اچھی شاعرہ ہیں اور اس نے زندگی کے تجربات کو جس طرح اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اس پر سفرنامے میں بھی قدرے تفصیل سے لکھوں گا۔لیکن میں چونکہ
‘‘محبت میں غلو‘‘ کا قائل نہیں ہوں اس لیئے ایسے لوگوں سے اختلاف کرنے کی جرآت رکھتا ہوں کہ جو فرط جزبات میں یا ادبی عدم آگاہی کی وجہ سے کبھی کبھی یہ کہہ جاتے ہیں کہ ‘‘نوشی گیلانی اس عہد کی سب سے بڑی شاعرہ ہیں‘‘
میرے خیال میں یہ کہہ کر ہم نوشی گیلانی یا کسی اور کا قد بڑھاتے نہیں بلکہ گھٹاتے ہیں اور ضرورت ہے ایسے ‘‘شدت پسند ‘‘ فقروں سے گریز کیا جائے۔نوشی گیلانی بہت تازہ لہجے اور تازہ فکر کی مقبول شاعر ہیں اس سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں اور اس شجر کو ابھی چھتنار درخت بننا ہے۔
میں ذاتی طور فنون کے معاملے میں جنسی تقسیم کا قائل نہیں۔کسی بھی فن میں عورت یا مرد کی تخصیص فنکار کے قد کاٹھ کو بڑھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ شاعر،ادیب یا مصور مرد یا عورت نہیں بلکہ فقط فنکار اور تخلیق کار ہوتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں کتنے ایسے مرد شاعر ہیں جنہوں نے عورتوں کے جزبات کی ترجمانی کی ہے اور یوں بھی شعر زنانہ یا مردانہ نہیں ہوا کرتے۔
نوشی گیلانی سے ایک طویل عرصے کے بعد ملنے کے باوجود تفصیلی ملاقات نہ ہو سکی جس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن میلبورن سے واپسی کے سفر میں ڈاکٹر شبیرحیدر نے ایک اچھے سامع کا کردار ادا کیا اور میں اور نوشی گزرے ہوئے اس زمانے کو دوہراتے رہے جب شعر کہے جاتے تھے لکھے نہیں جاتے تھے اور جب مشاعروں میں دعوت نوے فیصد شاعر کو دی جاتی تھی شاعر کی ظاہری شخصیت یا اسکی کسی دھڑے سے وابستگی کو نہیں۔
نوشی گیلانی کا اس لیئے بھی شکریہ تمام مشاعروں میں ان کی موجودگی نے شاعروں اور سامعین دونوں کو بیدار رکھا۔آسٹریلیا میں بیس روز کے قیام کے دوران ملنے والے احباب کے رسمی شکریے کے ان کالموں کا اختتام ہوا اور اب باقی ذکر اذکار سفر نامے کے ابواب میں رہے گا کہ اس سفرنامے کی چار اقساط میں نے سڈنی میں ہی قیام کے دوران لکھی تھیں تا ہم اب ان اقساط میں لکھی باتوں کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد اس یادگار سفر کی روداد تسلسل سے بیان ہو گی۔
ہر اک انداز ہے صفدر مرا دنیا سے الگدشمنِ جان کو محبوب سمجھتا ہوں میں

----------------------------------------------