سوات کی حسین وادی ، مینگورا ٹاؤن سال تھا انیس سو اٹھانوے ایک پری ملالہ یوسف زئی پیدا ہوئی۔ روشن چمکتی آنکھیں ذہانت عزم و ہمت کی مثال جس نے ہمیشہ علم کی شمع سے محبت کی جہل کے علمبرداروں سے ٹکر لی۔
ملالہ نے تعلیم حاصل کرنا اور اسے عام کرنے کا عزم کیا جب حسین ترین وادی سوات میں ظلم کا عروج تھا ۔ تعلیم کے دروازے بند کئے جانے لگے۔ظلم و ستم کا سلسلہ جاری تھا۔ اس وقت یہ نڈر ، امن پسند لڑکی چپ نہ رہی یہ سال دوہزار نو تھا۔ ملالہ نے سوات میں جاری ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا یہ انداز اپنایا کہ روزانہ ڈائری لکھنا شروع کیا۔
ڈائری کے اوراق میں اس روز پیش آنے والے واقعات کا ذکر ہوتا۔ ایک ایک لفظ سوات میں ہونے والی ناانصافیوں اور علم دشمنوں کے سلوک کے کرب کی عکاسی کرتاظلم سہنا بھی ظلم ہے اُس کے خلاف آواز اٹھائی ملالہ نے ۔ گل مکئی کے فرضی نام سے لکھی جانے والی ڈائری جو بین القوامی میڈیا پر شائع ہوتی رہی اور بہت سے راز افشا ہوتے رہے۔
دنیا کی توجہ گل مکئی کی جانب مبذول ہوگئی حکومت کی جانب سے لالہ کو ستارہ جرات ملا۔ اور انٹر نیشنل پیس ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کر دیا گیا ملالہ اپنے عزم پر قائم رہی ، اُس نے ملنے والی انعامی رقم غریب بچوں کی تعلیم اور فلاح میں خرچ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
سوات میں بچیوں کی تعلیم کے لیے گرانقدر خدمات فراہم کرنے والی اس ہونہار پاکستانی کو سیاست میں بہت زیادہ دلچسپی ہے یہ بڑی ہوکر اپنی سیاسی پارٹی تشکیل دنیا چاہتی ہے جس کی جڑیں پورے پاکستان میں ہوں ، اور اس کی پارٹی میں پڑھے لکھے لوگ ہوں۔
سندھ اسمبلی نے ملالہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے قرار داد بھی منظور کی اور کراچی کے مشن روڈ پر واقع گورنمنٹ گرلز اسکول کو ملالہ کے نام سے منسوب کردیا گیا۔
ملالہ نہ صرف اپنی سوچ کو قلم کے ذریعے لفظوں میں ڈھالنا جانتی ہے بلکہ گفتگو کا فن بھی خوب رکھتی تھی۔ اے آر وائی کے خصوصی پروگرام میں جب اسے پروگرام اینکرنگ کے لئے کہا گیا تو اس نے بڑے دلچسپ انداز میں اس کام کو بخوبی نبھایا۔ علم دشمن کے حملے میں زخمی ملالہ آج اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ننھے ہاتھوں سے لے کر کپکپاتے ہاتھ تک سب ملالہ کی زندگی کی دعا کے لئے اُٹھے ہوئے ہیں۔
ملالہ سفر ابھی جاری ہے جلد صحت یاب ہوجاؤ۔
سوات میں کشیدہ حالات کے باعث نقل مکانی کرنے والوں میں ہونہار طالبہ ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھی۔ شدت پسندی کے خلاف قلم کے ذریعے بے مثال جدو جہد پر ملالہ کو امن ایوارڈ سے نوازاگیا ۔
شدت پسندوں کے قلع قمع ہونے کے بعد وادی سوات کی رونقیں دوبارہ بحال ہو گئی ہیں۔ سوات سے شہریوں کی نقل مکانی کو تین سال مکمل ہو گئے۔ نقل مکانی کرنے والوں میں آٹھویں جماعت کی طالبہ بھی شامل ہے جس کا خاندان بھی گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
سوات میں دو ہزار نو میں آپریشن سے پہلے حالات انتہائی خراب تھے اور شدت پسند بیشتر علاقوں پر قابض تھے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ جنگجووٴں کے خوف سے کوئی شہری میڈیا سے بات نہیں کرسکتا تھا۔ ان حالات میں کم سن ملالہ نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے ڈائری لکھنا شروع کی جس میں وہ ظلم و ستم کی کہانیاں لکھا کرتی تھیں۔
اس ڈائری کو اتنی شہرت ملی کہ یہ تحریریں مقامی اور عالمی میڈیا میں جگہ پانے لگیں۔ ملالہ نے شدت پسندی کا قلم کے ذریعے خوب مقابلہ کیا جس کے اعتراف میں اسے حکومت پاکستان نے دس لاکھ روپے اور امن ایوارڈ سے نوازا۔