ملک کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر فاتحہ خوانی کی گئی اور پھول چڑھائے گئے۔ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کی 61ویں برسی آج سولہ اکتوبر کو منائی جارہی ہے۔
اس موقع پر کراچی میں ان کے مزار پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ نیوی کے چاک و چوبند دستے نے ان کے مزار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ان کے مزار پر لوگوں کی آمد اورفاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔لیاقت علی خان ،قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے اور قیام پاکستان کے بعد تمام اہم فیصلوں میں انہوں نے اپنے قائد کا بھرپور ساتھ دیا۔
قائد ملت لیاقت علی خان یکم اکتوبر اٹھارہ سو چھیانوے میں مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمین دار نواب رستم کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی مکمل ہوئی لیکن وہ مزید تعلیم کے لئے محمڈن اورینٹل کالج علی گڑھ گئے انیس سو اٹھارہ میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ اگلے سال قانون کی اعلٰیٰ تعلیم کیلے انگلینڈ گئے اور آکسفورڈ یونی ورسٹی سے قانون کی ڈگری لی۔
انیس سو تیئس میں ہندوستان واپس آئے۔ اسی سال آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ اور قیام پاکستان کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ قائد ملت لیاقت علی خان سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کے لئے جیسے ہی ڈائس پہنچے تو انہیں سید اکبر نامی شخص نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔