ناقصاں را پیر کامل۔۔۔ کاملاں را راہنما

علم بہت بڑی دولت ہے ۔ علم سے عقلمندی اور ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ علم سے دین و دُنیا ہے ۔ علم ذریعہ ہدائت ہے ۔ علم دُنیاوی ترقی کا سبب ہے۔ علم ایک روشنی ہے جس کیلئے ہر انسان کے لئے اپنی اوقات کے مطابق علم حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اسی لئے ہمارے پیارے رسول حضرت محمدّ مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم نے حصول ِ علم کو ہمیشہ ترجح دی اور فرمایا کہ علم کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہے یہاں تک کہ تمہیں دُور دراز یعنی چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔ اُس وقت زمینی مسافت بھی انتہائی مشکل تھی جو آج دوسرے ذریعوں سے اتنی مشکل نہیں رہی پھر بھی مشکل ہے ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔
جہاں تک علوم کا حصول ہے ان کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ۔ ہر علم کے جاننے اور سیکھنے کے لئے ایک قابل عالم اور اچھے اُستاد کی رہنمائی کی شد ت سے ضرورت ہوتی ہے ۔ اُستاد کا ایک اعلیٰ مقام ہوتا ہے۔ ایک اچھا اُستاد اپنے شاگرد کی زندگی بدل کر رکھ دیتاہے۔ مگر کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنا مطلوبہ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اُس علم کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں جہاں سے تحقیق کا کام شرع ہوتا ہے ۔
یہ تحقیقی گوہر ِ نایاب علم کے پیاسوں اور علم کے اُستادوں کے لئے مشعل ِ راہ ہوتے ہیں ۔ یہی وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن کے متعلق اگر ’’ ناقصاں را پیر ِ کامل ۔۔۔ کاملاں را راہ نماء ‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ ایسی ہی ہستیوں میں جناب صفدر ہمدانی کا نام بھی شامل ہے ۔
صفدر ہمدانی صاحب پاک یورو جرنلسٹس فورم کے چیئرمین ’’ آن لائن عالمی اخبار ویب سائٹ ‘‘ کے مدیر ِ اعلیٰ اور نامور ’ بے باک اور سینئر صحافی ہونے کے علاوہ ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ صحافت ان کو اپنے نامور والد ِ محترم مرحوم مصطففٰے علی ہمدانی سے ورثہ میں ملی جو نشریات کی دنیا کا ایک تاریخی نام ہے اور لسانیات کے حوالے سے جنکی خدمات تاریخی اور بے مثال ہیں ۔
صفدر ہمدانی صاحب جوصحافت کی دنیا کا تابندہ ستارا ہیں جن کی اس فیلڈ میں شاگردوں کی ایک طویل لسٹ ہے۔ ادب ’ شاعری اور مرثیہ نگاری میں ایک معتبر مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ تصنیف اور تحقیق میں بھی اُنکو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ یونیورسٹیوں میں ہمدانی صاحب کی تصنیف اور تحقیق پر ایم اے کے فائنل یا پی ایچ ڈی کے سٹوڈنٹس کو تھیسس دئے جاتے ہیں ۔ جو اُن کو خراج ِ تحسین اور اُن کے ورک کو معتبر تسلیم کرنا ہے ۔
حال ہی میں ایجوکیشنل یونیورسٹی لاہور سے ایم اے آر بی ایڈ فائنل کی ایک طالبہ مس مصباح ا اعظم نے جناب ہمدانی صاحب کی معیاری اور دل سوز ’’ مرثیہ نگاری ‘‘ پر تحقیقی تھیسس لکھ کر کامیابی حاصل کی ہے یہ تھیسس ایک کتاب کی شکل میں چھَپ چکی ہے ۔ جس کے لئے مس مصباح اعظم ’ نگران پروفیسر صائمہ عمران اور جناب صفدر ہمدا نی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
میں پاک یورو جرنلسٹس فورم کے وائس چیرمین کے طور پر اپنی تنظیم کے تمام ارکان کی طرف جناب صفدر ھمدانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی انکو باعزت رکھے اور مزید کامیابیاں عطا کرے
تحریر ۔ارشاد ہاشمی ۔ وائس چیئرمین پاک یور و جرنلسٹس فورم