16.10.2026, 12:00pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

برطانیہ میں حاجیوں کو لوٹنے والے قزاق ۔اللہ کے مہمانوں سے دھوکہ۔از۔سید اکمل حسین
24.10.2012, 01:03am , بدھ (GMT+1)

سید اکمل حسین ۔ لندن
شکیل شمسی(یو این این) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حج ایک ایسا فریضہ ہے جو ہر مسلمان پر واجب نہیں بلکہ صرف ان لوگوں پر فرض کیا گیا ہے جو مالی اور جسمانی طور پر اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔ لیکن ہر مسلمان دل میں یہ آرزو رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو حج کی توفیق دے۔ کچھ لوگ تواپنی محنت کی گاڑھی کمائی میں سے زندگی بھر ایک ایک پیسہ اس لئے بچاتے ہیں کہ ایک دن وہ حج بیت اللہ کا شرف حاصل کریں گے۔لاکھوں سادہ لوح مومن ہر طرح کی سختیاں اور پریشانیاں اس لئے جھیلتے ہیں کہ ہیں وہ اپنے اللہ کے حضور سر جھکانے کے لئے ایک دن مکہ مکرمہ میں حاضری دے سکیں۔کمزوری اور ناتوانی کے باوجود ہزاروں فرزندان توحید خانہء کعبہ کا طواف کرنے کے لئے ہزاروں میل کا سفر طئے کرتے ہیںراستوں کی صعوبتوں کو ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں۔ اسی طرح حجاز ونجد کے باشندے حاجیوں کے لئے  پانی کی سبیلیں لگانے ان کے مکہ  اور مدینہ میںآرام دہ  قیام کے سلسلے میں انتظامات کرنے کو اپنے لئے سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے اور اللہ کے ان مہمانوں کی سہولتوں کا ہر ممکن خیال رکھنے کے لئے سال بھر انتظار کرتے تھے۔ یہ نہیں ہندوستان کے کئی نوابوں اور فرمانروائوں نے حاجیوں کے قیام کے لئے مکہ اور مدینہ میں کئی شاندار رباط اور مہمان خانے بھی بنائے تھے تاکہ ہندوستان کے حاجی وہاں کسی معاوضہ کے بغیر رہ سکیں۔ حاجیوں کی سہولت کا  خیال رکھنے والے ان نیک بندوں کے بر عکس بحری اور ریگستانی قزاقوں کے گروہ بھی حاجیوں کے  انتظار میں رہتے تھے کہ کب اللہ کے نیک صفت بندے ادھر سے گزریں اور وہ حاجیوں کے قافلوں کو لوٹ سکیں۔
وقت کے ساتھ بحری اور صحرائی قزاق ختم ہو گئے اور اللہ کے مہمانوں کا دل کھول کر خیر مقدم کرنے والے اہل مکہ کے لئے بھی کاروباری مصلحتیں اور پیشہ ورانہ ضرورتیں منھ پھاڑ کر کھڑی ہو گئیں اور حج ان کے لئے بھی آمدنی کا بہترین ذریعہ بن گیا۔  لیکن ہم اان چند سطور میں  اہل مکہ کے تبدیل شدہ رویہ یا بحری اور صحرائی قزاقوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایسے قزاقوں کے کردار پر روشنی ڈال رہے ہیں جو حج منزلوں میں بیٹھے ہیں۔ یقین مانیئے کہ قزاقوں کی یہ لابی اس قدر اثر و رسوخ والی ہے کہ اگر کوئی اس کے خلاف زبان کھولے تو یہ طبقہ اس کا جینا دوبھر کردے۔ کسی اور کی مثال کیوں دوں اپنی ہی مصیبتوں کا ذکر کروں تو زیادہ بہتر رہے گا۔
 
 اتنی مقدس عبادت میں بے ایمانی؟ پھر سوچا کہ چوروں کی بھی تو کئی قسمیں ہوتی ہیں ایک چور وہ ہوتے ہیں جو اہل دنیا کا مال چرا کر بڑے بڑے عبادت کدے بنواتے ہیں۔اسمگلنگ کے پیسے سے یتیم خانوں کی امداد کرتے ہیں۔قتل کے لئے لی گئی سپاری کی رقم سے عبادت کدوں کی تعمیر میں بڑے بڑے چندے دیتے ہیں۔اس طرح کے چوراپنے  نام نہاد لیڈروں اور 
آج کل جاہل اور چھ جماعت پاس مولوی جو اپنی آپ کو معبود کہلاتے ہیں اور اس پر خوش ہونے کے لئے اپنی بغلوں میں معبود سربراہان عبادت کی شکل میں  اپنے پاس رکھتے ہیں۔بہت سے بے ایمان حج کے نام  پر معصوم  اور بے خبر مسلمانوں کو لوٹتے کے بعد چوری کی اسی رقم سے اپنا تن اور دوزخ کو بھرنے کے لئے خوراک و لباس خرید کر اپنے معبود کو خوش کرنے کے لئے سر بسجود ہوتے کرتے ہیں۔ اس طرح کے چوروں کا ایک ہی منشاء  ہوتا ہے کہ بس پکڑے نہ جائیں لیکن  اس چوری میں کچھ گروہ  اور سربراہان عبادت گاہ بھی شامل ہیں جو ان کی مدد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے بھی ہوتے سے جو  عبادت گاہوں میں چور دروازوں سے داخل ہو کر اپنی حکومت کو قائم کرنے کے لئے جعلی ووٹ یا جو افراد ان عبادت گاہوں میں ان کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشیں کرتا ہے  ان پر پابندی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے چوروں کا یہ  منظم گروہ صدقہ خمس زکات  مجالس کی فیس ہدیہ کے نام پر اور قربانی کی رقم  کو بے جا صرف کرنے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ رقم وصول کر کے درست جگہ یا معین کردہ جگہ پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کر لیتے ہیں ۔  اور حق دار کی امداد کرنے کے بجائے یتیموں  اور حق داروں کو ملنے والی امداد ہی کھا جاتا ہے۔مسجد کے میٹر سے اپنے گھر تک بجلی کا تار کھینچ لینا اس گروہ کی نظر میں بے ایمانی نہیں ہوتی۔ ان نام نہاد افراد کی معرفت مجھے  ایسے چوروں کے ایک ایسے گروہ سے الجھنے کا موقع ملا  جن کے لہو کی لکریں ان کے گھروں سے لے کر  مکہ و مدنیہ تک نظر آتی ہیں ۔ جو حاجیوں کو لوٹنے والے یہ افراد جن سواری پر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ سب بھی آپ کے سامنے ہے۔ 
برطانیہ کے ان گروہ ں  کا طریقہء کار بہت شاطرانہ ہے ۔اصل میں معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ حال ہی میں برمنگھم میں جو کچھ ہوا اس کی رپوٹ کچھ اس طرح سے ہے جو اسی اخبار میں کچھ دن پہلے شائع ہوئ تھی  شاید کسی کی نظر سے گزری ہو  
رپورٹ کچھ اس طرح سے ہے 
برطانیہ میں عازمین حج کو لٹنے سے بچانے کے لئے حکومت کے اقدامات کے باوجود بعض ٹریول ایجنٹوں نے اس سال بھی سیکڑوں عازمین حج کو لوٹ لیا ہے اور ان کے ساتھ ہزاروں پونڈ کا فراڈ کرکے رفو چکر ہوگئے ہیں۔ برطانوی حکومت نے اس سال خاص طور پر عازمین حج کو خبردار کیا تھا کہ وہ صرف ایاٹا کی منظور شدہ ایجنٹوں کے ذریعے حج کا سفر کریں۔ تاہم اس کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد ایسے نام نہاد ایجنٹوں کے چنگل میں پھنس گئی ہے جنہوں نے انہیں حج پر لے جانے کا جھانسہ دے کر ہزاروں پونڈ سے محروم کردیا ہے سیکڑوں افراد کو معلوم ہی نہیں کہ انہوں نے حج پر جانا بھی ہے یا نہیں۔ 

اگرچہ برطانیہ میں عازمین حج و عمرہ فراڈکے سلسلے میں 36 ٹریول ایجنٹوں کے خلاف پہلے تحقیقات ہو رہی ہے تاہم معلوم ہوا ہے کہ اس سال بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے ایجنٹوں کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔ایسوسی ایشن آف برٹش حجج کا کہنا ہے کہ بعض ایجنٹوں نے برطانوی مسلمانوں کے لئے شرمناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ برمنگھم کے ایک متاثرہ شخص صداقت حسین نے جنگ لندن کو بتایا کہ انہوں نے رمضان المبارک میں اپنے خاندان کے 14 افراد کے کیس ایک ایجنٹ کو دیئے اور طے یہ ہوا کہ وہ 2850 فی کس کے حساب سے ان کو حج پر لے کر جائے گا۔ ا

نہوں نے کہا کہ ایجنٹ نے ان سے 11 افراد کے ایک ہزار فی کس کے حساب سے 11 ہزار پونڈ ایڈوانس لئے اور تین افراد کی ساری پیمنٹ 2850 پونڈ فی کس کے حساب سے وصول کرلی جو 8550 پونڈ بنتی ہے۔صداقت حسین نے بتایا کہ مذکورہ ایجنٹ کافی عرصہ تک انہیں ٹالتا رہا مگر گذشتہ بدھ کو اس نے ان کے رابطہ کرنے پر انہیں بتاایا کہ ان کے ویزے لگ گئے ہیں اور انہیں ہفتہ 13 اکتوبر کو حجاج مقدس جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات سے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ہے اور ان کے سارے خاندان والوں نے سب کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اپنی تیاریاں مکمل کرلیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اب اس ایجنٹ نے صاف انکار کردیا ہے اور یہ موقف اپنایا ہے کہ ان کے ویزے مسترد ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی ایمسی میں فون کرکے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کے فارم پر ویزے اشو ہوچکے ہیں ۔ صداقت حسین نے کہا کہ ایجنٹ انہیں چار ہزار پونڈ واپس دے کر رفو چکر ہوگیا ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ اس نے ویزوں کے ساتھ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ ، والد ، اہلیہ اور دیگر خاندان کے افراد ان کے ساتھ حج پر جانا چاہتے تھے مگر سب کچھ لٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی شکایت ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج سے کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو۔ اس سلسلے میں صداقت حسین کی جانب سے فراہم کردہ ایجنٹ کے نمبر پر فون کیا گیا تووہ تبصرے یا رد عمل کے لئے دستیاب نہیں تھے۔ ان کا فون بند تھا اور ان کے لئے اس حوالے میسج چھوڑ دیا گیا۔ ٹریول ایجنٹوں کا شکار ہونے والے برمنگھم کے ہی راجہ محبت خان نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے چار افراد کو حج پر لے جانے کے لئے 3600 فی کس کے حساب سے 14 ہزار چارسو پونڈ اپنے اعتباری ایجنٹ کو دیئے تھے جس کے ساتھ وہ پہلے بھی حج پر جاچکے ہیں مگر وہ ایجنٹ اپنے گروپ کو لے کر چلا گیا ہے اور انہیں یہیں چھوڑ گیا ہے۔

 راجہ محبت نے بتایا کہ ان کے پاسپورٹس پر ویزے لگے ہوئے ہیں اور ایجنٹ انہیں پاسپورٹس دے بھی گیا ہے۔مگر انہیں نہ تو ٹکٹ دیئے گئے ہیں اور نہ ہی ہوٹل کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ایجنٹ کے دفتر سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ سعودی عرب چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیسے بھی گئے اور وہ حج پر بھی نہیں جاسکے۔ واضح رہے کہ برطانوی عازمین حج کے ساتھ ہر سال اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں اور ٹریڈنگ سٹنڈرڈ ایجنسی کے افسروں نے پہلے ہی عازمین حج کو اس قسم کے واقعات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی فراڈ ہوا تو اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس اور ٹریڈنگ سٹنڈرڈ ایجنسیوں کو دی جائے۔ 

برمنگھم کونسل کی ٹریڈنگ سٹنڈرڈز کی سربراہ سجیلہ نصیر اور انفورسمنٹ افسر ایم طارق نے بتایا ہے کہ وہ عازمین کے ساتھ فراڈ کے 36 کیسوں کی سماعت کررہے ہیں جب کہ ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج کے سرپرست اعلیٰ لارڈ نذیر احمد نے عازمین حج کو مشورہ دیا ہے کہ اگروہ سمجھیں کہ ان کے ساتھ فراڈ ہوا ہے فوری طورپر پولیس کو آگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ عازمین حج کو اس انداز سے پریشان کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ۔ ادھر ایسوسی ایشن آف حجاج کے جنرل سیکرٹری خالد پرویز نے کہا ہے کہ ان کے پاس بہت سے لوگوں کی شکایات آئی ہیں جن میں بعض ٹریول ایجنٹوں کی جانب سے عازمین کے ساتھ دھوکہ دہی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج میں محض چند روز رہ گئے ہیں مگرعازمین کی بڑی تعداد کو ابھی تک معلوم ہی نہیں کہ وہ حج پر جارہے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ کئی خاندان ذہنی کرب کا شکار ہیں اور ان کے ساتھ دھوکہ کرنے والے خود بھی مسلمان ہیں۔انہوں نے متاثرین سے کہا کہ وہ ٹریول ایجنٹوں کی اس طرز عمل کے خلاف پولیس کے پاس جائیں۔

یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب معذوروں کی ٹولی حج ویزہ پر سعودی عرب گئی ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی شکایتیں آچکی ہیں ، مگر اب سے پہلے وہ حج کے ایام ختم ہونے کے بعد لوٹ کر وطن آجاتے تھے اس لئے بات دب جاتی تھی مگر امسال ان معذوروں کے نہ لوٹنے کی وجہ سے معاملہ سنگین بن گیا ہے۔

معذور وں کا حج کمیٹی پر جانے کا معاملہ صرف ہمارے ملک کا نہیں ہے جنوب ایشیا کے کئی ملکوں سے یہ لوگ بڑی تعداد میں حج پر جاتے ہیں اور یہ لوگ  وہاں جاکر جو کچھ بھی کرتے ہیں اس کا اندازہ کرنا ہوتوذرا موسم حج میں مکہ اور مدینہ جاکر دیکھیں  تو خود بخود پتہ چل جائے گا کہ غربت میں زندگی جینے والے لوگ کس طرح موٹی رقم خرچ کرکے سعودی عرب جاتے ہیں اور کیوں جاتے ہیں۔در اصل ان کے پیچھے ایک پورا گینگ کام کررہا ہوتا ہے۔یہ مافیائی گنیگ غریب ،معذور افراد کو پیسے کا لالچ دے کر حج کے ویزہ پر سعودی عرب لے جاتے ہیں اور وہاں جاکر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ یہ کام اتنا منافع بخش ہے کہ مافیا ایک ایک معذور آدمی کوموٹی رقم پیشگی دے کر لے جاتا ہے اور پھر واپسی پر مزید کچھ دینے کا بھی وعدہ کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاسپورٹ بنانے و دیگر شرائط کو پوری کرنے میں جو اخراجات ہوتے ہیں وہ الگ ہیں۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان مافیائوں کو ان سے بھیک منگوانے میں کتنا منافع ملتا ہوگا۔ان معذور افراد کو پہلے ٹریننگ دی جاتی ہے کہ کس طرح انہیں بھیک مانگنی ہے۔ شرطہ (پولیس) کی گاڑی دیکھنے پر انہیں کس طرح سے ،بھاگنے کے بجائے ایک دیندار حاجی کی طرح وہاں پر سے نکل جانا ہے۔ان سے جدہ ایئر پورٹ ، مدینہ ایئر پورٹ پر بھیک منگوائی جاتی ہے۔جب حج کے ایام قریب آتے ہیں تو ان میں سے کچھ کو مکہ اور کچھ کو مدینہ لے جایا جاتا ہے۔یہ اتنے ٹرینڈ ہوتے ہیں کہ پولیس کی گاڑی نظر آتے ہی اتنے بھولے بھالے بن جاتے ہیں کہ دیکھ کر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہیآدمی اب سے  کچھ سکنڈ پہلے تک ہاتھ پھیلائے بھیک مانگ رہا تھا۔یہ وہاں کی پولیس کو آسانی کے ساتھ دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔اگر پکڑے بھی گئے تو انہیں زیادہ خوف نہیں ہوتا،کیونکہ انہیں بتا دیا جاتا ہے کہ سعودی حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے ،زیادہ سے زیادہ  انڈین حج آفس کے حوالے کردیتی ہے اور پھر وہاں سے انہیں واپس وطن بھیج دیا جاتا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لاپتہ حجاج بھکاری نہ ہوں لیکن  وہاں روپوش ہوگئے ہوں ،تاکہ گائوں کے علاقے میں چھوٹے موٹے کام، نوکری کرکے جب کچھ پیسہ کما لیں تو پھر واپس اپنے گھر آجائیں، ایسا بارہا دیکھا گیا ہے کہ لوگ حج اور عمرہ کے ویزہ پر سعودی عرب چلے جاتے ہیں ،وہاں کہیں چھپ کر کام پر لگ جاتے ہیں اور جب انہیں واپس آنا ہوتا ہے تو یہ کہہ کرسرینڈرہوجاتے ہیں کہ ان کے کاغذات غائب ہوگئے ہیں۔کچھ لوگ حج کے دوران تجارت کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کی پولیس انہیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیتی ہے ممکن ہے لا پتہ حجاج میں سے کچھ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہوں،لیکن اس کا امکان کم ہے کیونکہ عام طور پر ایسے حاجیوں کے بارے میں حج کمیٹی کو اطلاع دی جاتی ہے۔وجہ جو بھی ہو لیکن  معاملہ انتہائی حساس ہے کیونکہ اتنے افراد کا غائب ہوجانا اپنے آپ میں ایک تشویشناک بات ہے اور قابل غور بھی کہ ان کو واپس وطن کیسے لایا جائے سبراہان عبادت گاہ تو یہ کہہ کردامن جھاڑنے کی کوشش کر لیتے ہیں کہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے اس کا ان کی عباد ت گاہ  سے کوئی تعلق نہیں جبکہ وہ اپنی حصہ وصول کر چکے ہوتے ہیں۔   تو کون ۔اس کی ذمہ داری کسی ادارے کو لینی چاہئے۔

اگلی قسط میں آپ کو قربانی کی رقوم میں معلومات فراہم کروں گا جس سے آپ حضرات کو معلوم ہو گا کہ کسی طرح سے یہ رقوم خرد برد کی جاتی ہیں  ۔ 

:دیگر مضامین
(21.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔25ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(18.10.2012) ناقصاں را پیر کامل۔۔۔ کاملاں را راہنما ۔ از ۔ ارشاد ہاشمی ۔جرمنی
(17.10.2012) ملالہ یوسف زءی برمنگھم مینں زیر علاج ہے۔طویل نگہداشت کی ضرورت ہے
(16.10.2012) وطن عزیز پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی 61 ویں برسی
(14.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔24ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(11.10.2012) ہار گئے ہیں امن کے دشمن اور ملالہ جیت گئی۔صفدر ھمدانی
(10.10.2012) سوات میں ملالہ یوسف زئی پر حملہ۔ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا
(09.10.2012) جل، جنگل اور زمین. مهاپدياترا آگرہ سے 11 اکتوبر کودہلی کی طرف کوچ کرے گی.
(07.10.2012) مسلمانوں کا امیج مغربی ذرائع ابلاغ متواز پیش نہیں ہوتا
(03.10.2012) ہانسلو میں اشتیاق خان کی والدہ کی برسی پر مجلس مرثیہ کا انعقاد کیا گیا
(02.10.2012) موہن داس کرم چندر گاندھی کا یوم پیدائش پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے
(01.10.2012) فرینکفرٹ میں ہونے والے ایک حالیہ مشاعرے میں چھ سامعین اور باقی سب شعرا تھے
(29.09.2012)  پاکستان کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے
(27.09.2012) شریف اکیڈیمی کے سربراہ اور جرمنی کے شاعر شفیق مرآد احمدیت سے تائب ہوگئے
(27.09.2012) ماڑی انڈس میں ایک سو جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی
(26.09.2012) ادب کے نام پر برلن اور فرینکفرٹ میں ہونے والی تقریبات ناکامی کا شکار ہو گئیں
(23.09.2012) اشاعت مکرر۔تاریخی اشعار کہنے والے ''حسنی '' کو میں ایک دہائی سے جانتی ہوں ۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(22.09.2012) توہین رسالت فلم کے خلاف پاکستان میں جمعے کے روز کے احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہو گئے
(21.09.2012) جر منی ۔ سانجھا پنجاب کے ترقی پسندوں کا اکٹھ اور پنجابی ادبی سنگت جرمنی کی تشکیل نو
(18.09.2012) مذہب پر منافرت کے دھندے بند کیے جائیں ۔ فرینکفرٹ میں مذاکرہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں