عید الالضحیٰ سر پر ہے لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی جانوروں کے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آ رہے ہیں ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کا فریضہ مشکل بنادیا ہے ۔ ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں تگڑے تگڑے خوبصورت جانور تو موجود ہیں لیکن ان کے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں۔
شہر قائد کی موشی منڈی میں بیوپار کہتا ہے کہ ٹیکس اور مہنگائی نے ان کو قیمتیں بڑھانے پر مجبور کردیا ہے تو دوسری جانب خریدار کہتا ہے اتنا مہنگا جانور ان کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔ بیوپاری کہتے ہیں مہنگائی تو مہنگائی ٹیکسوں نے بھی ان کا جینا مشکل کردیا ہے ۔ ٹنڈو محمد جام کی مویشی منڈی میں سجے سجائے خوبصورت ہزاروں جانور اپنے خریدار کا انتظار کررہے ہیں جبکہ خریدار بھی تگڑا جانور دیکھ کر خوشی کا اظہار تو کرتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن بھاری قیمتیں سن کر خریدے بغیر ہی واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سکھر ،حیدرآباد کی مویشی منڈیوں کا بھی حال مختلف نہیں ہیں ۔ دور دراز سے آنے والے لوگ جس جانور کو پسند کرتے ہیں ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں ساٹ اب رخ کرلیں لاہور ،ملتان کی مختلف مویشی منڈیوں کا جہاں بیوپار کہتا ہے کہ گھی مکھن کھانے والا جانور کوڑیوں کے دام نہیں بیچے جاسکتے یہی وجہ ہے کہ بے انتہا رش ہونے کے باوجود بھی خریدار کم اور شوقین افراد زیادہ نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کی دہائی کرنے والے بیوپار اور خریدار دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں لیکن عید میں چند روز رہے ہیں اس لئے منڈیوں جوش و خروش بھی بڑھ رہا ہے۔
بکروں کے بیوپاریوں نے جانور بیچنے کے لئے جہاں ٹھاکر، نسیم وکی، اور ٹیڈی جیسے منفرد نام رکھے ہیں وہیں ان کے پاس انہیں وزنی کرنے کی ڈھیروں دلچسپ کہانیاں بھی دستیا ب ہیں۔ ساٹ موٹی موٹی نشیلی آنکھیں ، لمبے لمبے ریشمی کان اور دھاری دار جسم، عوام کا کہنا ہے کہ جانوروں کی یہ ادائیں اور بیوپاریوں کی دلچسپ کہانیاں انہیں لبھاتی تو ہیں تاہم بیوپاری بیچتے تو بکرے ہیں مگر قیمتیں مرسیڈیز کی وصول کرتے ہیں ۔ شوق کا اگرچہ کوئی مول نہیں تاہم مہنگائی نے مقابلہ بہت سخت کردیا ہے۔
عید قرباں قریب آتے ہی شہری انتظامیہ کے انسدادی اقدامات کے باوجود شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم ہوگئی ہیں۔ عید قرباں کے تقریباً ایک ماہ پہلے ہی شہری انتظامیہ سپر ہائی وے ،نیشنل ہائی وے اور آرسی ڈی ہائی وے پر مویشی منڈیوں کے قیام کیلئے مقامات کا تعین اور وہاں پانی و دیگر سہولیات کا انتظام کردیتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ضابطہ فوجداری کے دفعہ 144کے تحت ان مقامات کے علاوہ بکروں اور مویشیوں کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی جاتی ہے لیکن شہر بھر میں مختلف مقامات پرسیاست دانوں اور پولیس کی زیر نگرانی غیر قانونی مویشی منڈیاں عید کے بعد تک قائم رہتی ہیں۔
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ وہ منڈی میں ٹیکس اور دیگر واجبات ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ صوبائی و شہری حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود اختر کالونی،شاہ فیصل کالونی،شریں جناح کالونی،بنارس،عیسیٰ نگری، گلبرگ، اورنگی ٹاون،کورنگی،لانڈھی،فیڈرل بی ایریا اور گلستان جوہر میں سڑکوں ،فٹ پاتھوں ،خالی میدانوں اور ریلوے لائن کے اطراف میں بکروں اور مویشیوں کی خریدوفروخت جاری ہے۔
بعض بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈکیتی کے خطرے کے پیش نظر بھی منڈیوں میں اپنے جانور نہیں لے جاتے۔ بیوپاریوں کے ایک گروہ کا دعویٰ ہے کہ قانونی مویشی منڈیوں کی نسبت غیر قانونی مویشی منڈیوں میں جانوروں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔
جہاں غیر قانونی مویشی منڈیوں کو ختم کرنا ضروری ہے وہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت مویشیوں کے تاجروں ان خدشات کو دورکرنے کیلئے اقدامات کرے جنکی وجہ سے وہ اپنے مویشی منڈی لے جانےسے گریزاں ہوتے ہیں۔