15.10.2026, 02:32am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

موہن جو ڈارو کے بعد اب لکھن جو دڑو کی دریافت
24.01.2009, 01:10am , ہفتہ (GMT+1)

عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
 سکھر شہر کے قریب نو ہزار سال قدیم  شہر دریافت ہوا ہے۔یہ شہر اپنے زمانے کا ترقی یافتہ علاقہ بتایا جارہا ہے، جہاں‌ شیشے ،کپڑے اور برتن بنانے کی فیکٹریاں بھی موجود تھیں‌۔ اسے دنیا کی قدیم ترین تہزیبوں میں‌شمار کیا جارہا ہے۔

آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر غلام مصطفی شر نے ون ورلڈ کوبتایا ہے کہ اس شہر کا نام لکھن جو دڑو ہے جس کا   رقبہ بارہ کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ یہاں‌رہنے والی قوم تعلیم یافتہ اور مالدار تھی ، جس کے   دنیا میں دیگر قدیم اقوام  سے تجارتی رابطے تھے۔  لکھن جو دڑو کی مزید کھدائی کا کام جاری ہے ۔

اس کام میں‌  پشاور یونیورسٹی،پنجاب یونیورسٹی ،سندھ یونیورسٹی اور خیرپور یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ اور  طلبہ شریک ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کےصوبہ سندھ میں واقع موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سےملنےوالے حروف اور قدیمی مہروں کو پڑھنا عالمی ماہرین کے لیے ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔

موہنجو داڑو کے آثار سے ملنے والی زبان کون سی ہے اور ان مہروں پر کیا لکھا ہے، یہ ایسے سوالات ہیں جن کے مکمل جوابات آثار قدیمہ کے ماہرین ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔

موہنجو داڑو کی قدیم زبان کو سمجھنے کی ایک نئی کاوش سندھ کے بزرگ ادیب اور مححق عطا محمد بھمبھرو نے کی ہے جن کی لسانیات کی بیس سالہ تحقیق پر مبنی کتاب ’سندھو لکھت کا توڑ‘ کے نام سے سندھی زبان میں شائع ہوچکی ہے۔

اٹہتر سالہ محقق عطاء محمد بھمبرو تقریباً ایک سو پچاس کتابوں کے مرتب، محقق، مترجم اور لکھاری ہیں۔ان کی تازہ کتاب دو سو پچاس صفحات پر مبنی ہے۔ کتاب کویتا پبلیکشن حیدرآباد کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔

عطاء محمد بھمبرو کا کہنا ہے کہ سندھی زبان میں ’انڈس سکرپٹ‘ کی کتاب چھپوانے کے لیے پبلشر صفحات کی تعداد کم رکھنے کی گزارش کرتے ہیں۔اس لیے انہوں نے موئن جو داڑو کے ’انڈس سکرپٹ‘ کو پڑھنے کی ایک اور کتاب انگریزی میں لکھی ہے جو دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور وہ اسے جلد چھپوانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے تین ہزار دو سو حروف اور مہروں کے نشانات میں سے دو ہزار سکرپٹ کے نشانات کو پڑھنےکا دعویٰ کیا ہے۔ سندھی زبان میں ان کی اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس کی تقریب رونمائی عیدالفطر کے بعد حیدرآباد میں منعقد کی جائے گی۔

موہنجو داڑو کے قدیم آثار سے ملنے والے حروف کو پڑھنے کی کوششیں تو اس وقت سے شروع ہوگئی تھیں جب انیس سو چوبیس کے برطانوی اخبار ’السٹریڈ لندن نیوز‘ میں موئن جو داڑو کےقدیم آثار کی دریافت اور کھدائی کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔

عام طور پر کرنل ایل ای واڈیل کو ’انڈس سکرپٹ‘ پڑھنے والا پہلا ماہر سمجھا جاتا ہے جو انیس سو پچیس میں لندن یونیورسٹی میں لسانیات کے استاد تھے اور انہوں نے موہنجو داڑو کی انیس قدیمی مہروں کو بنیاد بنا کر تحقیقی مضمون لکھا مگر عطاء محمد بھمبرو کی نظر میں بینگلور کے ایس آر راؤ ’انڈس سکرپٹ‘ سمجھنے والے پہلے محقق ہیں۔

عطاء محمد بھمبھرو کا کہنا ہے کہ ایس آر راؤ کی کتاب ’دی ڈان اینڈ ڈیوولیشن آف انڈس سویلائزیشن‘ نے ان کی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے فاصلوں کے باوجود ایس آر راؤ کو ان کی غیر حاضری میں ہی اپنا گائیڈ مقرر کیا ہے۔

بھمبرو کے مطابق بینگلور کے راؤ پہلے محقق ہیں جنہوں نے نشاندہی کی ہے کہ موہنجو داڑو کی قدیم زبان اور موجودہ سندھی زبان کے درمیان ایک تعلق اور تسلسل موجود ہے۔ان کا کہنا تھا: ’میں نے راؤ کی تحقیق کو آگے بڑھایا ہے اور آپ میرے کام کو راؤ کی تحقیق کا ضمیمہ بھی کہہ سکتے ہیں‘۔

موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے حروف اور مہریں لکڑی اور پتھر کے چھوٹے تراشے ہوئے ٹکڑوں پر درج ہیں جن کے اوپر اور نیچے کے دونوں حصوں پر صوتی یا صورتی حروف تحریر ہیں۔ موئن جو داڑو کے ’انڈس سکرپٹ‘ کو مختلف ادوار میں پچیس کے قریب مختلف عالمی اور ملکی ماہرین نے پڑھنے کی کوششیں کی ہیں مگر مکمل سکرپٹ پڑھنا ان کے لیے مشکل کام رہا ہے۔

قدیم تہذیبوں کے آثارات سے ملنے والی زبانیں پڑھنے کے ماہر اور ’دی سکرپٹس آف ہڑپا اینڈ موہنجو داڑو اینڈ اٹس کنیکشن ودہ ہرسکرپٹس‘ کتاب کے مصنف جی آر ہنٹر کو پہلا محقق مانا جاتا ہے جنہوں نے موہنجو داڑو کے سکرپٹ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ سکرپٹ دائیں سے بائیں کی جانب لکھا جاتا تھا۔

عطاء محمد بھمبھرو کا کہنا ہے کہ سمیر اور مصر کے قدیم آثاروں سے ملنےوالے سکرپٹ بڑی مقدار میں دریافت ہوئے اور ان کی تحریریں لمبی ہونے کی وجہ سے محققین کو پڑھنےمیں آسانی ہوئی جبکہ بھمبرو کےمطابق موہنجو داڑو سے ملنے والے سکرپٹ کی تعداد کم اور محدود تحریروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے محققین کے لیے اس کو پڑھنا کافی دشوار کام رہا ہے۔

’انڈس سکرپٹ‘ کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ وہ صورتی یعنی پکٹوگرافک ہیں جبکہ محققین کے دوسرے حلقے کا خیال ہے کہ انڈس سکرپٹ تصوری یعنی آڈیوگرافک اور چند ایک کی نظر میں صوتی یعنی فونیٹیکل سکرپٹ ہےمگر بھمبھرو کی نظر میں زیادہ تر سکرپٹ تصوری اور تصویری کا امتزاج ہے۔

انڈس سکرپٹ کے بارے میں بھمبرو کی نئی کتاب کو قلم کاروں کے حلقوں میں سراہا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف سندھ میں انگریزی کے شعبے کے سابق پروفیسر قلندر شاہ لکیاری کے مطابق انڈس سکرپٹ کو پرکھنے کا کام منفرد نوعیت کا ہے اور عطاء محمد کے اس کام کو عالمی پذیرائی ان کی انگریزی کتاب کے بعد ہی مل سکے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھی زبان میں قدیم سکرپٹ پڑھنے کی مکمل کتاب پہلی مرتبہ شایع ہوئی ہے جو آئندہ دنوں میں محققین کےلیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔


:دیگر مضامین
(23.01.2009) عالمی اخبار کے نام
(23.01.2009) امام سید سجاد ابن الحسین کی شہادت
(23.01.2009) آپ سے درخواست ہے اسے مت دیکھیں
(22.01.2009) ون ٹو کا فور،فور ٹو کا ون
(18.01.2009) بجلی کا بل اور سانپ کی بل
(17.01.2009) توکیو سے جناب اطہر صدیقی کا تہنیتی پیغام
(15.01.2009) ھلال اور حلال میں اب کوئی فرق نہیں
(14.01.2009) برسلز میں سید علی رضا کی والدہ کے ایصال ثواب کی مجلس عزا
(13.01.2009)  فرینکفرٹ میں عزاداریء نواسۂ رسول
(10.01.2009) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(10.01.2009) امن کی فاختہ لہو لہان
(05.01.2009) کربلا ایک درسگاہ کہ جو زمان و مکان کی قید میں نہیں
(31.12.2008) خطبئہ زینب سلام اللہ علیہا
(29.12.2008) بنی اسرائیل سےریاست اسرائیل تک!
(28.12.2008)  ادبی بُھجنگ کے نام حیدر طباطبائی کا پیغام
(28.12.2008) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(28.12.2008) عظمتِ آبائے رسول
(28.12.2008) واقعہ کر بلا کا پسِ منظر
(28.12.2008) والدِ محترم حضرت حسن اور حسین جناب علی ابنِ ابی طالب کرم اللہ وجہہ
(26.12.2008) بے نظیر کی زندگی کا آخری سفر



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں