
سکھر شہر کے قریب نو ہزار سال قدیم شہر دریافت ہوا ہے۔یہ شہر اپنے زمانے کا ترقی یافتہ علاقہ بتایا جارہا ہے، جہاں شیشے ،کپڑے اور برتن بنانے کی فیکٹریاں بھی موجود تھیں۔ اسے دنیا کی قدیم ترین تہزیبوں میںشمار کیا جارہا ہے۔
آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر غلام مصطفی شر نے ون ورلڈ کوبتایا ہے کہ اس شہر کا نام لکھن جو دڑو ہے جس کا رقبہ بارہ کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ یہاںرہنے والی قوم تعلیم یافتہ اور مالدار تھی ، جس کے دنیا میں دیگر قدیم اقوام سے تجارتی رابطے تھے۔ لکھن جو دڑو کی مزید کھدائی کا کام جاری ہے ۔
اس کام میں پشاور یونیورسٹی،پنجاب یونیورسٹی ،سندھ یونیورسٹی اور خیرپور یونیورسٹی کے آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ اور طلبہ شریک ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کےصوبہ سندھ میں واقع موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سےملنےوالے حروف اور قدیمی مہروں کو پڑھنا عالمی ماہرین کے لیے ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔
موہنجو داڑو کے آثار سے ملنے والی زبان کون سی ہے اور ان مہروں پر کیا لکھا ہے، یہ ایسے سوالات ہیں جن کے مکمل جوابات آثار قدیمہ کے ماہرین ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔
موہنجو داڑو کی قدیم زبان کو سمجھنے کی ایک نئی کاوش سندھ کے بزرگ ادیب اور مححق عطا محمد بھمبھرو نے کی ہے جن کی لسانیات کی بیس سالہ تحقیق پر مبنی کتاب ’سندھو لکھت کا توڑ‘ کے نام سے سندھی زبان میں شائع ہوچکی ہے۔
اٹہتر سالہ محقق عطاء محمد بھمبرو تقریباً ایک سو پچاس کتابوں کے مرتب، محقق، مترجم اور لکھاری ہیں۔ان کی تازہ کتاب دو سو پچاس صفحات پر مبنی ہے۔ کتاب کویتا پبلیکشن حیدرآباد کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔
عطاء محمد بھمبرو کا کہنا ہے کہ سندھی زبان میں ’انڈس سکرپٹ‘ کی کتاب چھپوانے کے لیے پبلشر صفحات کی تعداد کم رکھنے کی گزارش کرتے ہیں۔اس لیے انہوں نے موئن جو داڑو کے ’انڈس سکرپٹ‘ کو پڑھنے کی ایک اور کتاب انگریزی میں لکھی ہے جو دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور وہ اسے جلد چھپوانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے تین ہزار دو سو حروف اور مہروں کے نشانات میں سے دو ہزار سکرپٹ کے نشانات کو پڑھنےکا دعویٰ کیا ہے۔ سندھی زبان میں ان کی اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس کی تقریب رونمائی عیدالفطر کے بعد حیدرآباد میں منعقد کی جائے گی۔
موہنجو داڑو کے قدیم آثار سے ملنے والے حروف کو پڑھنے کی کوششیں تو اس وقت سے شروع ہوگئی تھیں جب انیس سو چوبیس کے برطانوی اخبار ’السٹریڈ لندن نیوز‘ میں موئن جو داڑو کےقدیم آثار کی دریافت اور کھدائی کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔
عام طور پر کرنل ایل ای واڈیل کو ’انڈس سکرپٹ‘ پڑھنے والا پہلا ماہر سمجھا جاتا ہے جو انیس سو پچیس میں لندن یونیورسٹی میں لسانیات کے استاد تھے اور انہوں نے موہنجو داڑو کی انیس قدیمی مہروں کو بنیاد بنا کر تحقیقی مضمون لکھا مگر عطاء محمد بھمبرو کی نظر میں بینگلور کے ایس آر راؤ ’انڈس سکرپٹ‘ سمجھنے والے پہلے محقق ہیں۔
عطاء محمد بھمبھرو کا کہنا ہے کہ ایس آر راؤ کی کتاب ’دی ڈان اینڈ ڈیوولیشن آف انڈس سویلائزیشن‘ نے ان کی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے فاصلوں کے باوجود ایس آر راؤ کو ان کی غیر حاضری میں ہی اپنا گائیڈ مقرر کیا ہے۔
بھمبرو کے مطابق بینگلور کے راؤ پہلے محقق ہیں جنہوں نے نشاندہی کی ہے کہ موہنجو داڑو کی قدیم زبان اور موجودہ سندھی زبان کے درمیان ایک تعلق اور تسلسل موجود ہے۔ان کا کہنا تھا: ’میں نے راؤ کی تحقیق کو آگے بڑھایا ہے اور آپ میرے کام کو راؤ کی تحقیق کا ضمیمہ بھی کہہ سکتے ہیں‘۔
موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے حروف اور مہریں لکڑی اور پتھر کے چھوٹے تراشے ہوئے ٹکڑوں پر درج ہیں جن کے اوپر اور نیچے کے دونوں حصوں پر صوتی یا صورتی حروف تحریر ہیں۔ موئن جو داڑو کے ’انڈس سکرپٹ‘ کو مختلف ادوار میں پچیس کے قریب مختلف عالمی اور ملکی ماہرین نے پڑھنے کی کوششیں کی ہیں مگر مکمل سکرپٹ پڑھنا ان کے لیے مشکل کام رہا ہے۔
قدیم تہذیبوں کے آثارات سے ملنے والی زبانیں پڑھنے کے ماہر اور ’دی سکرپٹس آف ہڑپا اینڈ موہنجو داڑو اینڈ اٹس کنیکشن ودہ ہرسکرپٹس‘ کتاب کے مصنف جی آر ہنٹر کو پہلا محقق مانا جاتا ہے جنہوں نے موہنجو داڑو کے سکرپٹ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ سکرپٹ دائیں سے بائیں کی جانب لکھا جاتا تھا۔
عطاء محمد بھمبھرو کا کہنا ہے کہ سمیر اور مصر کے قدیم آثاروں سے ملنےوالے سکرپٹ بڑی مقدار میں دریافت ہوئے اور ان کی تحریریں لمبی ہونے کی وجہ سے محققین کو پڑھنےمیں آسانی ہوئی جبکہ بھمبرو کےمطابق موہنجو داڑو سے ملنے والے سکرپٹ کی تعداد کم اور محدود تحریروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے محققین کے لیے اس کو پڑھنا کافی دشوار کام رہا ہے۔
’انڈس سکرپٹ‘ کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ وہ صورتی یعنی پکٹوگرافک ہیں جبکہ محققین کے دوسرے حلقے کا خیال ہے کہ انڈس سکرپٹ تصوری یعنی آڈیوگرافک اور چند ایک کی نظر میں صوتی یعنی فونیٹیکل سکرپٹ ہےمگر بھمبھرو کی نظر میں زیادہ تر سکرپٹ تصوری اور تصویری کا امتزاج ہے۔
انڈس سکرپٹ کے بارے میں بھمبرو کی نئی کتاب کو قلم کاروں کے حلقوں میں سراہا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف سندھ میں انگریزی کے شعبے کے سابق پروفیسر قلندر شاہ لکیاری کے مطابق انڈس سکرپٹ کو پرکھنے کا کام منفرد نوعیت کا ہے اور عطاء محمد کے اس کام کو عالمی پذیرائی ان کی انگریزی کتاب کے بعد ہی مل سکے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھی زبان میں قدیم سکرپٹ پڑھنے کی مکمل کتاب پہلی مرتبہ شایع ہوئی ہے جو آئندہ دنوں میں محققین کےلیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔