فرمان نبوی ھے موت کے بعد تین عمل تمھیں فائدہ دیتے ھیں یعنی یہ کام اگر دنیا میں انسان کر جائے تو تا قیا مت اس کے لئے ثواب کا زریعہ بن جاتے ھیں ۔1 نیک عمل 2 علم کی اشاعت 3 وہ کام جو مشترکہ طور پر انسانیت کی بھلائی کے لیئے ھو ،یعنی

ایسا ادارہ بنا دیا جئے جو مجموعی طور پر لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرے ۔ان تمام کا ثواب انسان کو اس وقت تک ملتا رھتا ھے جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھا رھے ھوں
الحمد للہ ھم مسلمان ھیں اور دین اسلام کی امتیازی شان ھے کے اس میں اچھے کام کی ترغیب دی گئی ھے اور برائی سے روکا گیا ھے اور میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ھے تکبر بناوٹ سے نفرت سکھائی گئی ھےقران پاک کی آیت ھے ترجمہ یہ وہ لوگ ھین کے اگر ھم ان کو اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کرتے ھیں زکوۃ دیتے ھیں اور نیکی کا حکم اہر برائی سے روکتے ھیں اس آیت کی رو سے ھم برائیوں کا سد باب دعوت خیر دے کر کر سکتے ھیں اس کا بھترین زریعہ لوگوں کو تعلیم اور علم دینا ھے ھم دعوت خیر دے کر زکوۃ ادا کر کر کے اپنا فرض منصبی نبھا سکتے ھیں کیوں کے ھم مسلمان ھیں عقیدہ آخرت پہ پختہ یقین ھے
ھمارا انسان بڑا ھوتا ھے بوڑھا ھوتا ھے مر جاتا ھے ۔ اسی عمل میں آج جہاں پہاڑ ھیں کل ریت ھو گی فنا کا عمل جاری رھتا ھے کیوں نا ایسے عمل کیئے جائیں جو آخرت میں نیک نامی اور دنیا میں قلب سکون کے ساتھ ھر دل عزیزی کا سبب ھو
اگر ھم آخرت پر اپنا عقیدہ پختہ نھی رکھتے جزا سزا پر یقین نھیں رکھتے تو ھمارا ایمان لانا بھی بے سود ھے انسان کو اللہ نے عقل دی ھے شعور دیا ھے ھمیں چاھیئے اپنا فرض پھچانیں سورۃ مومنون کی آیت 15 ھے کیا تم سمجھتے ھو کہ ھم نے تم کو بے کار پیدا کیا ھے اور تم ھماری ظرف لوٹ کر نھیں آؤ گے ؟پھر سورۃ قیامت میں ارشاد ھوتا ھے کیا انسان سمجھتا ھے کے بیکار چھوڑ دیا جائے گا ،۔اس طرح سورۃ جاثیہ میں ارشاد ھے جو لوگ برائیاں کرتے ھیں کیا وہ سمجھتے ھیں کہ ھم انھیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان رکھتے ھین اور نیک عمل کرتے ھیں کیا وہ زندگی اور موت میں برابر ھیں اگر انسان کے نیک عمل اور برے عمل کا تصور نا ھو تو تمام فرق مٹ جائے
اللہ سورۃ الا اعراف میں فرما راھا ھے آیت 129 اہر پرھیز گاروں کے لئے آخرت کا گھر بھتر ھے کیا تم عقل نھین رکھتے پھر سورت یوسف کی آیت نمبر 57 ھے بے شک آخرت کا اجر دینا کی مضدوری سے بہتر ھے اسی طرح سورۃ ھود کی آیت نمبر 114 ھے بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ھیں ایک اور جگہ سورۃ الا احقاف آیت 16 ھے یہ وہ لوگ ھیں جن کے اچھے عمل کو ھم قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرین گے اللہ کیتنا مھربان رحم والا ھے وہ ھماری خطایئں مٹا دینا چاھتا ھے ھم ھی اس کی رحمت سے اپنے اعمال کی وجہ سے محروم ھیں
آپ سے پر زور اپیل ھے آگے بڑھیں نیکی کے کام میں میرا ساتھ دیں خود بھی روحانی آسودگی کی طرف گامزن ھوں دوسرؤن کو بھی حق اور سچ کی تعلیم دیں میں مفت سکول گاؤں میں چلا رھی ھوں میرے دو سکول ایسے گاؤں میں ھیں جھان گورنمٹ کے کوئی سکول نھیں اور وھاں رھنے والے کافی بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ھیں میں اپنے محدود وسائل کے باعث اکیلے ساب کام ںھیں کر سکتی آپ کا ساتھ دینا آپ کے لیےا ایک ایسے چیک کی صورت ھے جو آپ آخرت میں نقد کیش کی صورت میں ملے گا جس کا اللہ پاک نے وعدہ فرمایا ھے کسی صاحب کو اگر وزٹ کرنا ھے تو وہ خود بھی آکر ھمارے کام اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ھے ھماری ویلفئر سوسائٹی رجسٹرڈ ھے سکول بھی باقاعدہ رجسٹڑد ھے محکمہ تعلیم کی طرف سے شکریہ
شاہ جمال ویلفیر سوسائٹی ڈسٹرکٹ راجن پور میں 1991 میں بنائی گئی شروع میں ھم صرف ٹی بی جیسی مہلک بیاری کے لئے ھی کام کر رھے تھے جس میں بیوہ عورتوں کی مدد بھی کیا کرتے تھے جیسے لڑکیوں کی شادی میں جھیز میں مدد دینا

اورکسی طالب علم کو داخلہ فیس کی فراھمی وغیرہ لیکن ھمارے بڑے بیٹے کی وفات کے بعد ھم نے یہ ویلفئر سوسائٹی پھر نئے نام سے رجسٹرڈ کرائی آور سکول قائم کئے شروع میں تین سکول بنائے جو فورا ھی سیلاب کی نظر ھو گیا وسائل کی کمی کی وجہ سے ھم دوبارہ تعمیر نھیں کر سکے یہ سکول بستی سنجرانی میں تھا جس کے دو کمرے صحن چار دیواری تھی اور واش روم بھی تھا ایک اس سکول میں 52 کے قریب بچے پڑھتے تھے
ان میں کافی بچیاں ایسی بھی تھیں جو ھنر مندی کی تربیت لے رھی تھیں سلائی کڑھای سکھنا وغیرہ ایک سکول کی عمارت گر گئی دوسرا اساتزہ کی تنخواہ نا ھونے کی وجہ سے یہ سکول بند ھے کوئی این جی او یا کوئی محیر حضرات ھماری مدد کریں تو یہ سکول پھر سے شروع کیا جا سکتا ھے جس سے کافی غریب بچوں کو تعلیم دینے میں مدد مل سکتی ھے جس سے وہ تعلیم اور ھنر مند ھو کر باعزت زندگی گزار سکتے ھیں ،پھر اب جو کام ھم کر رھے ھیں اں کی تفصیل یہ ھے ایک تی بی ھسپتال جو یونین کونسل مرغائی نامی قصبہ میں ھے پتہ ھے یونین کونسل مرغائی ضلع راجن پور پنجاب پاکستان ،پھر سکول شاہ جمال تعمیر انسانیت سکول مرغائی قصبہ مرغائی 3،سکول بستی کچہ لال بخش اس میں ایک سکول ھم چلا رھے ھیں ادھر گورمنٹ کا ایک ھی لڑکوں کا سکول ھے اور لڑکیوں کا ایک بھی نھیں اور سلائی سیکھنے جیسا تو کوئی بھی انتظام نھین ھے
ھم سکول تو چلا رھے ھین لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے زیادہ بچے نھیں پڑھا سکتے کیوں کی ھم صرف 2 اسانزہ کی ھی تنخواہ دے سکتے ھین جب کے زیادہ بچے داخل کریں تو اور استاد بھی راکھنا پڑتے ھیں ھمارے مرغائی سکول میں 3 استاد ھیں اور ایک قاری ھے ٹی بی ھسپتال میں ھم مفت ادویات دیتے ھیں اور خوراک کا خرچ بھی کیوں بھت غریب لوگ ھیں دوا کے ساتھ اچھی خوراک بھی ضروری ھوتی ھے تب ٹی بی جیسی مہلک بیماری جاتی ھے ھم نے اپنے زاتی خرچ سے ایکسرے مشین بھی خرید کی ھے مفت ایکسرے کرتے ھیں تمام مریضوں کا ۔۔۔کوئی اگر زیادہ نھیں تو انفرادی بھی مدد کر سکتا ھے جیسے کیسی غریب کا علاج اپنے زمہ لے کر یا کیسی بچے کا زمہ لا کر اس کی پڑھا ئی کا خرچ اٹھا کر اس سلسلہ میں وہ ھم سے رابطہ کر سکتے ھیں یا خود آکر یہ کام کریں ھمیں صرف کام سے غرض ھے نام سے نیھیں ھم اپنا سارا ادارہ بھی ان کے حوالے کر دیں گئ جو اس کو ھمدردی کی بنیاد پہ چلانا چاھے کیوں کے اللہ جانتا ھے ھم صرف خدمت خلق کا جزبہ رکھتے ھیں ھمیں پیسہ یا شہرت کی ضرورت نھیں ھے ،پھر ھم ادھر لا وارث بچوں کے لئے بھی ایک گھر بنا نا چاھتے ھیں کیوں کے اکثر ادھر ایسے واقعات ھوئے کے نوزائدہ بچہ کو کوئی نا پسندیدہ سمجھ کے مار کر گلا دبا کر پھینک گئے ھم چاھتے ھیں مہم شروع کی جائے کے لوگ ایسے مار کر نا پھینکیں ھمیں دے دیا کریں ھم ان کی زمہ داری لیں گے پالنے تعلیم دینے عزت نام سب دینے کی
چند ساعتوں کے لیئے آیئے ہم آپکو اس سارے منصوبوں کے پاس پشت کام کرنے والی شخصیت سے ملواتے ہیں۔ وہ خود اپنے بارے میں کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔میرا نام سیدہ رافیہ ھے میرے شوھر کا نام سید منور حسین شاہ ھے ھم مل کر یہ سوسائٹی چلا رھے ھیں
میں ایک مقامی میگزین کی ایڈیٹر بھی ھوں جو ھمارے ضلع سے چھپتاھے مین نے گریجویٹ کیا ھے اس کے علاوہ میں نے شارٹ کورسز اور ڈپلومہ کورسز بھی کیئے ھیں جس میں بیوٹیشن اور فیشن ڈیزائن شامل ھے میں نے قران پاک کو تفسیر کے ساتھ پڑھا ھے اور اسلامیک تیچینگ کا کورس بھی کیا ھے
ھمارے رابطہ نمبر ھیں 03008686801 اور 03336443606
www.shahjamalwelfaresociety.com