17.10.2026, 04:00am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

عالمی اخبار کا چار سال میں چالیس سال کا سفر ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
01.11.2012, 01:01am , جعمرات (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم
میں جب یہ مضمون لکھنے بیٹھی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کہ ایساہو اہے . عالمی اخبار کے ساتھ ساتھ میں نے بھی چار سال میں چالیس سال  کا سفر یوں طے کیا کہ  اڑتالیس ماہ کے دو ہزار آٹھ سو گھنٹوں میں ایک لاکھ  بہتر ہزار آٹھ سو سیکنڈز ایسے گزارے کہ وہ   چار سواسی مہینوں کے اٹھائیس ہزار آٹھ سو گھنٹوں کے سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار سکینڈز میں بدل گئے ۔ 

میں نے اس دوران دو کتابیں (سفید جھیل اور یہی دنیا ہے یہیں کی باتیں ) لکھیں اور دو کتابیں آخری مراحل میں ہیں ۔ اور جانے کتنی خبریں لکھیں ، بلاگ لکھے اور کتنی  نظمیں اور افسانے لکھ ڈالے ، کتنے ہی جید قلمکاروں کی تخلیقات پڑھیں اور کتنے ہی لکھنے والوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سارے نئے لکھاری  اور احباب شامل کارواں ہوئے ۔۔ شاید اتنا کچھ ایک انسان کی زندگی میں ہونے کے لئے ایک عمر کافی نہ ہو پر مجھے کہنے دیجئے کہ ان چار برسوں میں عالمی اخبار سے وابسطہ ہر فرد نے میری طرح  اپنا اپنا تخلیقی سفر طے کیا اور الحمدوللہ ہم  سب کا سفر جاری و ساری ہے ۔

سفر کی جب بھی بات ہو تی ہے تو  مجھے جانے کیوں  سڑک کے دائیں طرف  فٹ پاتھ پر رستہ ڈھونڈنے والا  بوڑھا نابینا شخص یاد آجا آتا  ہے جس سے مجھے جانے کیوں اتنی انسیت تھی  کہ میرا جی کرتا تھا کہ  گاڑی روک کربس اسے جاتا دیکھے جاؤں ۔ میں کئی سال  الزبتھ روڈ سے  گزرتی ہوئی اپنے ہوسپٹل جاتی رہی تھی ۔۔  پونے نو بجے کےقریب  اکثر  سگنل کے پاس جہاں سے  مڑ کر مجھے اپنے ہوسپٹل کی کار پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنی ہوتی تھی۔  اسی سڑک کے دائیں جانب فٹ پاتھ پر وہ نابینا جا رہا ہوتا تھا۔ اکثر جب سگنل بند ملتا تو میں  دیر تک اس کے  کالے چشمے اور سفید چھڑی کو دیکھتی رہتی اور میری نظریں اس وقت تک اس کا تعاقب کرتیں رہتیں  جب تک وہ سڑک ٹٹولتا ہوا گزر نہ جاتا ۔۔ 

مجھے آج عالمی اخبار کے ساتھ اپنا ہی نہیں ہر قلمکار کا سفر اسی نابینا کی سفید چھڑی جیسا لگ رہا ہے جو اسے خود پر یقین اور اعتبار جیسی منزلیں سونپ کر منزل کی طرف لے جاتا ہے ۔ 

اس نابینا کو دیکھ کر میں اکثر یہ بھی سوچا کرتی تھی کہ خوابوں کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کی روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس لیئے کسی نابینا اور بینا کے لئے خواب تو خوابوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا   ۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے  ہمیں اپنی ایک آنکھ کو ہر وقت خوابوں سے بھرا رکھنا چاہیئے تاکہ وہ محبت اور سکون کی وادیوں میں کھوئی رہے اور دنیا میں خوشیاں  بانٹتی رہے   ۔ اور اپنی دوسری آنکھ کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ دنیا کے تلخ حقائق سے آگہی بھی رہے اور ہر آنے والی مصیبت و پریشانی کا ادراک وقت سے پہلے ہو جائے ۔ اور یہ بھی کہ وقت پڑنے  پر خواب دیکھنے والی آنکھ کو بھی بیدار کر لیا جائے  تاکہ مل کر حالات کا مقابلہ کیا جاسکے ۔خواب دیکھنے والے لوگ تو  “ زندہ لوگ “  ہوتے ہیں۔

 یہ بہت بڑا سچ ہے کہ جو لوگ عمر بھر آنکھیں کھلی رکھتے ہیں وہ خوابوں کی زبان سے ناواقف رہتے ہیں اور دنیا سے بیزار مایوس  پھرتے ہیں ۔ پر وہ  لوگ جو خواب دیکھنے والے ہوتے ہیں وہ اپنی عمر آسودگی سے جیتے ہیں اور کبھی مایوس نہیں ہوتے ۔  دراصل خواب ہی منزل کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے ۔۔۔ 

 جو سچ پوچھیں تو چار سال قبل  جب عالمی اخبار کا خواب ہم نے دیکھا تھا اور یکم نومبر دوہزار آٹھ اپنے اس خواب کوجب حقیقت بنایا  تو اس وقت  میری ایک نہیں دونوں آنکھیں خوابوں سے بھری ہوئی تھیں  ۔ مجھے کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ میں نے خواب دیکھنے والی آنکھوں کے ساتھ مشکلات کا سامنا  کیا ۔۔ اللہ کریم رحیم نے ہر موقع پر میری راہنمائی فرمائی ،  مجھے استقامت عطا کی ۔۔۔ میرے سفر کو رواں  رکھا اور مجھے کبھی تھکنے نہ دیا  ۔ 

 میرا ایمان ہے کہ خواب  انسان کو خوش طبعی اور اس کی بلند خیالی کو پرواز عطا کرتے ہیں ۔ خواب انسان کو ایسی منزلوں کی طرف لے چلتے ہیں جہاں سفر رکتے نہیں اور انسان کبھی تھکتے نہیں  ۔۔ اللہ پاک نے بلند خیالی ہی کو اس عزت سے نوازا ہے کہ وہ انسان کو کامیابی ، شہرت اور دولت پر غرور نہیں کرنے دیتی ۔  ۔۔۔ انسان کو  دنیاوی جاہ و مرتبے کی لالچ اور دنیا دار نہیں ہونے دیتی  ۔ خواب دیکھنے والا انسان  آزاد رہتا ہے اور اپنی کسی ایک کامیابی کو آخری کامیابی نہیں سمجھتا ۔۔۔۔ 

آج چار سال بعد بھی میری دونوں آنکھیں خوابوں سے بھری ہوئی ہیں  ۔۔۔ عالمی اخبار کے ساتھ چار سال میں چالیس سال کا سفر طے کرنے والی میں ،  اپنی اور اپنے ہم رکابوں کی  اس کامیابی کو آخری نہیں سمجھتی ۔۔۔ 

:دیگر مضامین
(11.10.2012) طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.09.2012) ستایئس ستمبر۔۔۔ پاکستان میں سیاحت کا عالمی دن ؟ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2012) سب اچھا ہے ۔راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔قند مکرر
(03.05.2012) لیاری میں مفادات کا کیسا سفاک تماشا ہو رہا ہے ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.03.2012) اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں .......۔۔از.ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(17.02.2012) خوف اور ہراس “ کی یہ تحریریں از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔اشاعت مکرر
(12.02.2012) قرآن کہتا ہے کہ تمہاری تباہی دراصل تمہاری بے حسی ہے ۔ از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(06.02.2012) بلوچستان میں ہرروز نیا جنازہ ، نیا سوگ اور نیاماتم ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(25.12.2011) آج قائد اعظم ھم میں نہیں ھیں اور ھم ان جیسے نہیں ھیں۔از۔نگہت نسیم
(14.11.2011) امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں اور اسکی ضرورت بھی نہیں ۔از۔نگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(11.11.2011) دل بہت اداس ہے معصوم زین ڈاکٹر کی غفلت کا شکار بن گیا ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(19.10.2011) نسلی تعصب کسی عہد کسی قوم تک محدود نہیں؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(05.10.2011) مارنے والے سے بڑا ظالم خاموش رہنے والا ہے ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(24.07.2011) افتی نسیم بالکل شیشہ مچھلی جیسا آر پار دیکھ لو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(31.05.2011) جھگڑے جنگ، اور جنازے ( اشاعت مکرر ) ۔از نگہت نسیم ۔سڈنی
(13.05.2011) صدر سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں ؟ دیوانی ہے کیا عدالت۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.05.2011) اسا مہ بن لاڈن کی موت یا موت کا ڈرامہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.04.2011) جی کو دھڑکا لگا تھا پل پل کا ۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.03.2011)  بس جی ..! رات گئی بات گئی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(11.02.2011) مبارک کے اقتدار سے الگ نہ ہونے کی خبر غم کی خبر بن گئی ۔..۔ از ۔۔...نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں