وہ جو کل کہتا تھا وردی ہے مرے جسم کی کھال
خود پرستی میں جسے سچ کہوں حاصل ہے کمال
جس نے پھیلائے ہیں ہر سمت مفادات کے جال
جس کی ہٹ دھرمی نے
کیا ملک کا کر ڈالا ہے حال
حد تو یہ ہےکہ نہیں ان کو یہ احساسِ زوال
جانے کس سمت سفر جاری ہے بتلائے گا کون؟
حوصلہ دینے مکینوں کو بھلا آئے گا کون؟
شہر کا شہر جلانے پہ بضد ہے جو جمیعت اُسے سمجھائے گا کون؟
بھوک کے مارے ہوئے بچوں کوبہلائے گا کون؟
وہ جو اس قوم کو اس ظلم سے دلوائے نجات
تم ہی بتلاؤ کہ اب ایسا نبی آئے گا کون؟
رہنما اندھا اگر ہو تو کہو
شہر کے اندھوں کو پھر راستہ دکھلائے گا کون؟
اک سراسیمگی پھیلی ہوئی ہر چہرے پر
خوف کی نظم ہے لکھی ہوئی ہر چہرے پر
ایک اُمید ہے ٹوٹی ہوئی ہر چہرے پر
آنکھ اس حال پہ روتی ہوئی ہر چہرے پر
مسکراہٹ بھی ہے سہمی ہوئی ہر چہرے پر
ایسی نفرت کی فضا میں جو محبت لکھے
میں اُسے شہرِ محبت کا پیمبر لکھوں
لوگ کہتے ہیں بدلنے کو ہے گھر کا موسم
میں مگر خواب میں رہنے کا تو عادی ہی نہیں
میرے کاندھوں پہ تھرکتی ہوئی ہجرت کی صلیب
چیخ کر کرتی ہے ہر لمحہ یہی مجھ سے سوال
نااُمیدی کی لُغت میں کسے کہتے ہیں زوال؟
ناخُدا کو ہے غلط فہمی خُدا ہونے کی
اس کو نہ جانے گُماں کیوں ہے میسحائی کا
وہ جو باعث بنا اقوام میں رسوائی کا
کل وہی کہتا تھا وردی ہے مرے جسم کی کھال
اب بدلتے ہوئے موسم کا تقاضہ ہے الگ
جو ہوا ختم الگ تھا، یہ تماشہ ہے الگ
چہرہ وردی میں چھُپا اور یہ چہرہ ہے الگ
جسم سے ‘‘کھال‘‘ کا اب ہو چکا رشتہ ہے الگ
وہ الگ راہ تھی اب سوچنا رستہ ہے الگ
فطرتِ سنگ الگ،فطرتِ آئینہ الگ
حال کی نبض الگ،قصئہ پارینہ الگ
بادشاہ ہی نہیں،درباریو سب ہوش کرؤ
جسم سے کھال الگ ہوگئی اب ہوش کرؤ!