15.10.2026, 04:41am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر برسبین آسٹریلیا، عشرہ محرم کی مجالس شام غریباں کی مجلس کے ساتھ اختتام پزیر
29.11.2012, 07:10am , جعمرات (GMT+1)

سید مصباح حسین۔نگہت نسیم ۔ وڈیو اور تصاویر۔ سیدحیدر رضوی
 مجلس سوئم امام حسین علیہ السلام۔27.11.12

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 27نومبر منگل کو بعد از نماز مغربین مجلس سوئم امام حسین علیہ السلام منعقد ہوئی جو مکمل طور پر مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا تھی۔ سوئم کی اس مجلس کو کربلا کی ماؤں کے نام سے منسوب کیا گیا تھا اور مرثیہ نگار،مفکر اہلبیت صفدر ھمدانی نے ::ماں:: کے عنوان سے مرثیہ نوتصیف پیش کیا۔

مجلس عزا کے بعد حسب معمول سینہ زنی اور نوحہ خوانی ہوئی جس کے بعد نیاز امام پیش گئی

مرثیے سے قبل سلام،سوز،منقبت پیش گئی اور برادر حیدر رضوی نے مرثیہ جوش سے منتخب اقتباس پیش کیئے

مرثیہ نو تصنیف سے قبل مفکر اہلبیت جناب صفدر ھمدانی نے اپنے سامعین خاص طور پر خواتین،بچیوں اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انکے بقول نہ صرف انکی معروضات کو مسلسل گیارہ روز سنا بلکہ ہر مجلس کے بعد متعدد سوالات بھی کیئے جو اس بات کی نشانی ہے کہ انکا پیغام ایک بڑی اکثریت تک پہنچا ہے

انہوں نے کہا کہ علم دین پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور یہ ہر مسلم مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ دین کا علم حاصل کرے اور جہاں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے وہ اپنے سے بہتر سے پوچھے تا کہ منبر و مسجد کو مفاد پرست اور خالص پیشہ ور ملاؤں سے نجات دلوائی جائے جو عام مسلمان کو حصول علم کی طرف راغب کرنے کی بجائے انکو اپنا ذہنی غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں

جناب صفدر ھمدانی نے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر برسبین کے صدر سید ابرار حسین بخاری کے علاوہ مولانا حسنی،برادر مصباح جیلانی اور حیدر رضوی کا خصوصی شکریہ ادا کیا
 
آسٹریلیا میں جناب صفدر ھمدانی اس سے قبل بھی دو مرتبہ تشریف لا چکے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ پوری مجلس عزا مرثیہ کی ہو گی جو تاریخی اعتبار سے مجالس عزا کی بنیاد ہے

برسبین میں مزید ایک روز قیام کے بعد اب مفکر اہلبیت صفدر ھمدانی کی اگلی منزل سڈنی ہو گی جہاں وہ مجلس عزا پڑھنے کے علاوہ ڈاکٹر نگہت نسیم کی تین کتابوں کی اجرا کی تقریب میں شرکت کریں گے اور مختلف ریڈیو کو انٹرویو بھی دیں گے۔ وہ کینبرا میں جناب محمد علی مہمان ہو گے جہاں کربلا کے حوالے سے فکری نشست اور ادبی تقریب بھی ہو گی

وہ آٹھ دسمبر کو سڈنی سے واپس لندن روانہ ہو جائیں گے






 

دس محرم  شام غریباں کی مجلس۔25.11.12
آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 25نومبر اتوار کو دس محرم الحرام بعد از نماز مغربین مجلس شام غریباں منعقد ہوئی جس میں سوگواران حسین نے سینہ زنی،گریہ وزاری اور نوحہ خوانی کی جسکے بعد نیاز امام پیش کی گئی

اب سوئم کی مجلس عزا ستائیس نومبر بروز منگل شام ساڑھے سات بجے منعقد ہو گی جو کربلا کی ماؤں کے نام مجلس مرثیہ نوتصینف ہو گی جسمیں مرثیہ نگار شاعر آل عبا سید صفدر ھمدانی ماں کے عنوان سے اپنا نو تصنیف مرثیہ پیش کریں گے اور یوں فاطمہ زہرا اسلام سینٹر برسبین میں محرم الحرام کے اولیں عشرے کی مجالس اختتام کو پہنچ جائیں گی

برسبین میں مجالس عزا کے انعقاد کی کامیابی یوں تو یہاں کے صاحبان فکر وفہم اور باعمل افراد کی مساعی کا نتیجہ ہے لیکن اس کی متحرک قوت جناب ابرار حسین بخاری ہیں جو اسکو انتہائی نظم وضبط اور کربلا والوں کے شایان شان بنانے کے لیئے شب و روز کوشاں ہیں اور اب انکا ھدف دینی مقاصد کے لیئے اہل تشیح کا اپنا عزا خانہ قائم کرنا ہے جسکے لیئے انکے اھداف نہایت واضع ہیں۔پروردگار انکو انکے اھداف میں کامیابی عطا کرے۔

دس محرم  صبح عاشور کے اعمال اور مجلس۔25.11.12
آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 25نومبر اتوار کو دس محرم الحرام صبح عاشور کے اعمال اور مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

روز عاشور کے اعمال دن گیارہ بجے جناب سید مصباح جیلانی نے کروائے اور بعد ازاں مختصر طور پر شہادت شہزادہ علی اصغر پڑھی جسکے بعد ماتم ہوا

یوم عاشور شہادت امام حسین کے حوالے سے ماہ محرم کی اہم ترین مجلس عزا عصر کی نماز کے بعد منعقد ہوئی جس میں مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا اور سوگواران حسین سے بھرا ہوا ہال کربلا کے شہیدوں کو اشکوں کا نزرانہ پیش کر رہا تھا۔

 اس خصوصی مجلس سے عشرہ محرم کی مجالس اور سوئم امام کی مجلس عزا سے خطاب کرنے کے لیئے لندن سے تشریف لائے شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نے روز عاشور کے مصائب اور شہادت امام حسین علیہ السلام پیش کی۔ انہوں نے صبح عاشور میں ہم شکل پیمبر علی اکبر کی اذان سے لیکر امام حسین علیہ السلام کی شہادت تک کے مصائب اپنے مخصوص انداز میں ادا کیئے۔


اختتام مجلس پر نوحہ خوانی کی گئی اور سینہ زنی کی گئی جسکے بعد فاقہ شکنی کروائی گئی
نو محرم  شب عاشور کی مجلس۔24.11.12

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 23نومبر جمعہ کو نو محرم الحرام شب عاشور کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد  مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا اور آج کی شب شہزادہ علی اکبر کی شہادت کے حوالے سے کلام پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر وجیہ بخاری نے مومنین کے بے حد اصرار پر ..رب جانے تے حسین جانے.. پیش کیا

مرثیہ نگار اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی  نے شب عاشور کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے میدان میں آل رسول کی یہ آخری رات ہے اور کل صبح طلوع ہونے والا عاشور کا سورج جو منظر دیکھے گا وہ قیامت تک خون کے آنسو رلوائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فقط مصائب بیان کرنے کی راتیں ہیں۔ انہوں نے شب عاشور کی مناسبت سے اپنے خطاب میں فرمایا کہ دراصل امام حسین نے یہ ایک رات کی مہلت لی نہیں تھی بلکہ دی تھی کہ جو بھی حُر جیسا ہے وہ ادھر آنا چاہے تو آ جائے۔ امام حسین نے اپنے اصحاب اور انصار سے حجت تمام کرتے ہوئے کہا کہ میں تم سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں تم میں سے جو جانا چاہے چلا جائے میں اسے یہ ضمانت دیتا ہوں کہ ہم انہیں کوثر پر ملیں گے۔ایک روایت ہے کہ امام نے انہیں جنت میں انکے گھر بھی دکھائے۔ امام کی اس تقریر پر کوئی فرد بھی اٹھ کر نہیں گیا۔ تب امام حسین نےچراغ بجھا دیا اور کہا کہ لو میں چراغ گل کردیا اب تم میں سے جو جانا چاہے چلا جائے کیونکہ یہ اشقیا میرے خون کے پیاسے ہیں۔ لیکن چراغ روشن ہوا تو ہر ایک عاشق حسین زارو قطار رو رہا تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امام مظلوم نے فرمایا کہ ایسے صحابی تو میرے بابا علی کو بھی نہیں ملے۔


اس کے بعد مرثیہ نگار اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی  نےمرثیہ تو تصنیف کی صورت میں شہادت علی اکبر پڑھی جس پر خوب رقت ہوئی۔ بعد ازاں ایک گھنٹے تک ماتم ہوا اور نیاز امام پیش گئی۔
فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر برسبین کے صدر سید ابرار بخاری

احباب نے شب عاشور کے اعمال کیئے اور اب کل برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں پہلے دن میں اعمال روز عاشور ہوں گے اور بعد ازاں مجلس یوم عاشور ہو گی اور رات میں مجلس شام غریباں منعقد ہو گی


آٹھ محرم کی مجلس۔23.11.12

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں بائیس نومبر جمعرات کو آٹھ محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہواجسکی سعادت مصباح جیلانی کو ملی اور انہوں نے ہی آج نظامت کے فرائض بھی سرانجام دیئے جس کے بعد  مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا

آج کی مجلس میں جناب حیدر زیدی نے شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کے مقبول و معروف مرثیئے کے منتخب بند پیش کیئے اور اس ےس قبل مرثیہ اور مرثیہ نگاروں کی عزت و احترام پر ایک پراثر مختصر گفتگو بھی کی


اپنی گفتگو سے قبل مرثیہ نگار اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی  نے ــذات میں حیدر کا سا کردار پیدا کیجئےــ کے عنوان سے نہایت فکر انگیز چند اشعار پڑھے اور اعجاز قرآن اور علم علی کے حوالے سے اپنی آٹھویں تقریر میں ایک بار پھر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم ہی تمام دینی اور دنیاوی خزانوں کی کنجی ہے اور علم پر عملت ہی دنیا اور آخرت کے مصائب و مشکلات سے آزادی کا موجب ہے۔انہوں نے علی عاشقوں اور حسین کے ماننے والوں سے کہا کہ ہم پر علم کا حصول اور علم پر عمل سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ ہمارے پاس علم کا ایک در نہیں بارہ در ہیں۔

علم کے حوالے اقوال علی کے سلسلے میں انہوں نے ایک نہایت فکر انگیز قول باب العلم پیش کیا۔ اللہ کے حبیب کے حبیب علی نے فرمایا کہ تیرے علم کا تجھ پر یہ حق ہے کہ اسے ایسے لوگوں کے سامنے بیان کر جو اسکے اہل اور مستحق ہیں اور جو لوگ اسکے لائق  اور اہل نہیں انکے سامنے اسے بیان نہ کر،نااہل لوگوں کو علم سکھانے والا ظالم ہے اور غیر مستحقوں کے ساتھ احسان کرنے والا اپنے احسان کو ضائع کر دیتا ہے

جناب صفدر ھمدانی نے کہا کہ علم شعور دیتا ہے اور شعور کی بیداری خفتہ ضمیری سے بچاتی ہے اور خفتہ ضمیری بے ضمیری کا پہلا زینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا میں نواسہ رسول کو بے ضمیروں کا سامنا تھا ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ یزید کی فوج میں ساٹھ صحابی رسول اور چھ سو کے قرین حفاظ قرآن بھی تھے۔ بس یہ حقیقت اس بات کی غماز ہے کہ ضمیر اگر رسول کے صحابی کو بھی سو جائے اور بے ضمیری غالب آ جائے تو اسے بھی دوش رسول پر بیٹھنے والا حسین دکھائی نہیں دیتا

آج کی مجلس میں علمدار حسینی حضرت عباس کی شہادت کے مصائب پیش کیئے گئے اور شاعر آل عبا نے شہادت عباس اور عظمت علم کے عنوان سے نو تصنیف مرثیے کے منتخب بند پیش کیئے

مجلس عزا کے بعد ماتم و نوحہ خوانی ہوئی اور بعد ازاں جناب عقیل عباس کی جانب سے نزر حضرت عباس و بی بی سکینہ پیش کی گئی

سات محرم کی مجلس۔22.11.12

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں بائیس نومبر جمعرات کو سات محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

‎مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد  مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا
آج کی مجلس میں جناب حیدر زیدی نے شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کے مقبول و معروف مرثیئے کے منتخب بند پیش کیئے



اپنی گفتگو سے قبل مرثیہ نگار اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی  نے آج راولپنڈی،کراچی اور کوئٹہ میں شیعان حیدر کرار پر ہونے والے حملوں کی سخت مزمت کی اور اسے حکمت یزید اور حکمت ابن زیاد کا تسسل قرار دیا اور حکومت وقت پر سخت تنقید کی کہ وہ اپنے عوام اور خاص طور پر اہل تشیح کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں جان دینے والوں کے لیئے دعائے مغفرت بھی کروائی

مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کیا اور اپنے موضوع  قرآن اور علم علی کے تسلسل میں نہج البلاغہ اور دیگر اہم کتب سے استدلال پیش کیئے۔

انہوں نے ساتویں محرم کے مختصر واقعات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سات محرم کو یزیدی فوج نے نہر فرات پر پہرے سخت کر دیئے اور آل رسول تو آل رسول انکے جانوروں کے لیئے بھی پانی بند کر دیا گیا اور زہرا کا لال نرغہ اشقیا میں آ گیا۔

آغاز گفتگو میں جناب صفدر ھمدانی نے خواتین اور نوجوانوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا کہ وہ انکی معروضات کو زیادہ انہماک سے سنتے بھی ہیں اور بعد از مجلس سوالات بھی کرتے ہیں جو فکری بیداری کے عمل کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ ان جیسے لوگوں کا مقصد ہی مسلمانوں میں اور خاص طور پر علی سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں میں شعور و فکر بیدار کرنا ہے کہ خفتہ شعوری آخر کار خفتہ ضمیری پر منتج ہوتی ہے اور کربلا میں یزید اور اسکی حکمت پر عمل کرنے والوں کی یہی خفتہ ضمیری تھی جو اپنے سامنے موجود اللہ کے آخری نبی کے نواسے اور ال رسول کو شناخت نہیں کر سکے۔ یزید کی فوج میں حفاظ قرآن کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لیکن کیا ستم ہے کہ وہ وارثان قرآن کو نہ پہچان سکے۔ اسی فوج یزیدی میں اللہ کے رسول کے کچھ صحابی بھی موجود تھے جنکی تعداد پر تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انکی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ حیرت کی اور خفتہ ضمیری کی بات نہیں کہ ان صحابیوں نے کم سے کم یہ تو دیکھا ہو گا کہ مسجد نبوی میں جب امام حسین حالت سجدہ میں پشت رسول پر سوار تھے تو اللہ کے رسول نے سجدے کو کسقدر طول دیا تھا۔ انہوں نے یہ تو دیکھا ہو گا کہ امام حسین کی مسجد نبوی میں آمد پر اللہ کے حبیب رسول نے اپنے خطبے کو کیسے روکا اور منبر سے اتر کر جگر گوشہ بتول کو گود میں اٹھا لیا۔ بس علم کا حصول اسی خفتہ ضمیری سے بچاتا ہے اور اگر علم عمل کے ساتھ ہو تو صرف فرد بزات خود ہی نہیں بلکہ اسکے اردگرد کی فضا بھی جاگتی رہتی ہے اور ذہنی و فکری طور پر بیدار ہوتی ہے

اعجاز قرآن اور علم علی کے موضوع کے تسلسل میں اپنی ساتویں گفتگو میں انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ نےعلم کی جوجو فضیلت جیسے جیسے بیان کی ہے قرآن ناطق علی ابن ابی طالب نے اپنے فرمودات میں علم کو عمل کے ساتھ ستعمال کرنے لیئے اسی قرآنی لہجے اور لگ بھگ انہی الفاظ میں قرآن کی آیات کی تشریح اور تفصیل کی ہے۔تسلسل کلام کے لیئے نہایت مختصر طور پرگزشتہ دنوں کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ عمل والا علم یقین کو پختہ تو کرتا ہے لیکن ایمان کو بھی مستحکم بناتا ہے اسی لیئے جب اللہ کے حبیب نے علی کو کُل ایمان کہا تو اسی کلیے کے مطابق وہ کُل صبر بھی قرار پائے کیونکہ باب العلم بھی یہ کہہ چکے تھے کہ ایمان کا صبر کے ساتھ ہونا ہی محکم ایمان کی نشانی ہے اور صبر کی یہی معراج کربلا میں قدم قدم پر نظر آتی ہے۔

آج سات محرم کو حسین کے شیر خوار ششماہے علی اصغر کے مصائب بیان کیئے گئے کہ جسکی شہادت نے سنگ سنگ دل دے سنگ دل کو بھی رونے پر مجبور کر دیا تھا،حسین اصغر کی میت کو ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے معراج صبر پر تھے اور یزید کی فوج بے حسی،سنگ دلی اور اہلبیت دشمنی کی معراج پر تھی

مصائب شہزادہ علی اصغر کی مناسبت سے انہوں نے نوتصنیف مرثیے سے شہادت کے بند پیش کیئے
مقتل میں ذوالفقار سے کھودا زمین کو
مٹی میں رکھا پیار سے اس نازنین کو
داخل مکاں میں کر دیا جیسے مکین کو
کیسی بقا ملی ہے محمد کے دین کو
۔۔۔۔۔
اصغر کو رولو سبطِ پیمبر کے واسطے
پیٹو سروں کو زہرا و حیدر کے واسطے 


چھ محرم کی مجلس۔21.11.12

آسٹریلیا کے شہر برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں اکیس نومبر بدھ کو چھ محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

‎مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب مصباح جیلانی کے حصے میں آئی اور بعد میں مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا

 مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کیا اور اپنے موضوع  قرآن اور علم علی کے تسلسل میں نہج البلاغہ اور دیگر اہم کتب سے استدلال پیش کیئے۔

انہوں نے چھٹی محرم کے مختصر واقعات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ  ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی عمر سعدکے نام ایک خط لکھا کہ مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے تو چھپ کر باتیں کرتا ہے۔دیکھ میرا خط پاتے ہی امام حسین (ع) پر پانی بند کر دو اور انھیں موت کے گھاٹ اتار نے کی
جلد سے جلد کوشش کرو۔

چھٹی  محرم الحرام کو ابن زیاد نے عمر سعد کو خط میں لکھا کہ امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے چھٹی محرم الحرام بروز پیر کو خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار کعب ابن الحروکوتین ہزار،حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ان کے علاوہ چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا کہ اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں،ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں۔

تجھے چاہئے کہ بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے۔ اسی تاریخ کو خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں عمر ابن سعد کے لیے لکھا کہ یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے۔اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے۔


علم کی فضیلت پر بات کرتے ہوئے گزشتہ ایام کی طرح اس مجلس عزا میں بھی انہوں نے قرآن کو ہی مرکز و محور قرار دیتے ہوئے سوری نمل کی آیت نمبر پندرہ کا حوالہ دیا کہ اللہ نے اپنے دو برگزیدہ نبیوں داؤد اور سلمان کو بھی مومن بندوں میں علم کی بنیاد پر ہی ممتاز قرار دیا۔ انہوں نے گزشتہ روز کی طرح آج بھی علم اور عمل کے حوالے سے باب العلم کے چند فرمودات پیش کیئے اور یہ بھی بتایا کہ قرآن کی چھ سورتیں جانوروں کے ناموں پر ہیں جن میں گائے،شہد کی مکھی،چیونٹی،مکڑی،جنگی گھوڑے اور ہاتھی شامل ہیں

جناب صفدر ھمدانی سے مولا علی سے سوالات کے ضمن میں مضر نامی ایک اعرابی کا واقعہ سنایا نے جس نے مسجد نبوی میں ایک ہی سانس میں باب العلم سے بے شمار سوال کر ڈالے لیکن علم لدنی کے وارث نے مضر کی ایسی تسلی کروائی کہ اسے عظمت باب العلم تسلیم کرنا پڑی

‎روایات میں آتا ہے کہ حضور پاک ۖ کے وصال مبارک کے تقریباً دس یوم کے بعد ایک اعرابی بیابان سے چل کر مسجد نبوی کے دروازے پر آیااس نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔صحابہ کرام  جو وہاں موجود تھے ان کو سلا م کیااور حضور پاکۖ کے وصال مبارک پر غم کا اظہار کرنے کے بعد پوچھا کہ تم میں سے رسول پاک ۖ کے وصی کون ہیں ؟حضرت ابو بکر صدیق  نے حضرت علی کی طرف اشارہ کیاچنانچہ وہ حضرت علی کی طرف متوجہ ہوا اور حضرت علی کو سلام کیا ، حضرت علی نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام یا مضر۔یہ جواب سن کر سب حیران ہوئے اعرابی نے کہا ، آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟ حضرت علینے فرمایا مجھے رسول اللہ   نے خبر دی ہے اور تمہارے حال کی کیفیت مجھے دکھائی ہے اگر تم چاہتے ہو کہ میں حضور ۖ سے جو کچھ تمہارے بارے میں سنا ہے تم سے بیان کر وں ۔

اعرابی نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپۖنے فرمایا علی بن ابی طالب اور میں رسول پاک ۖکا چچا زاد بھائی ہوں ۔اعرابی نے کہا الحمد للہ۔اسکے بعد حضرت علی نے فرمایا تم عرب کے ایک مرد ہو تمہارا نام مضر ہے تم نے اپنی قوم کو رسول کریم ۖ کی بعثت کی خبر دی تھی اور حضور کے اوصاف جمیلہ میں تم نے قوم کو یہ کہا کہ تہامہ میں ایک آدمی کھڑا ہو گاجس کے رخسار چاند سے زیادہ منور، گفتگو شہد سے زیادہ میٹھی ہو گی ۔جو شخص اس کی پیروی کرے گا نجات حاصل کرے گا،مساکین اور یتامیٰ کا والی ہوگا ، خچر پر سوار ہوگا ، اپنے جوتے خود پیوند لگائے گا، شراب نوشی اور زنا کو حرام قرار دے گا، ناحق قتل اورسود سے منع کرے گا ، خاتم الانبیا ہو گا ۔نماز پنجگانہ کی ادئیگی کریں گے اور رمضان المبارک کے روزے رکھیں گے ، حج بیت اللہ کریں گے ۔ اے گروہ ! اس پر ایمان لے آؤ اور اسکی تصدیق کرو ۔ جب تم نے اس امر کی طرف انہیں راہنمائی کی تو انہوں نے تیرے ساتھ ظلم و ستم کا سلوک کیا اور تجھے قید میں ڈال دیا ، پھر جب حضور نبی کریم ۖ کا وصال ہوگیا اور تیری قوم کو سیلاب سے ہلاک کر دیا گیا اور تجھے قید خانہ سے خلاصی حاصل ہوئی اس کے بعد تیرے کانوں میں غیب سے یہ آواز پہنچائی گئی کہ اے مضر ! بلاشبہ محمد  ۖ کا وصال ہو گیا اور تو ان کے صحابہ کرام میں سے ہے ، مدینہ منورہ کی طرف جا اور ان کے روضہ انور کی زیارت کراور اس طرح تو منازل طے کر کے اب یہاں پر آن پہنچا ہے ۔

‎اعرابی نے جب یہ ساری باتیں سنیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ اے علی آپ و اس واقعہ کی خبر کیسے ہوئی ؟ حضرت علی نے فرمایا ، مجھے حضور پاک ۖ نے خبر دی ہے اور فرمایا کہ میرے وصال کے بعد مضر میری قبر پر آئے گا تم جب اس سے ملو تو میرا سلام اسے پہنچا دینا۔مضر نے جب حضور ۖ کے سلام کی خوشخبری سنی تو خوشی سے آگے بڑھ کر حضرت علی کے سر مبارک کو بوسہ دیا اس کے بعد اس نے حضرت علیسے کہا کہ میں نے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں آپ مجھے ان سوالات کے جوابات دیں ۔حضرت علی نے فرمایا کہ تم سوالات کرو ۔ چنانچہ مضر نے حضرت علیسے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے :

‎?وہ کون سانر ہے جسکا باپ اور ماں نہیں ؟ ?۔وہ کون سی مادہ ہے جو بغیر ماں باپ کے موجود ہوئی ہو ؟ ?۔ ایسا رسول جو نہ جن ہو نہ انسان اور نہ ہی فرشتوں میں سے ہوچوپایوں اور درندوں میں سے بھی نہ ہو؟?۔ ایسی قبر جس نے قبر والے کو بھی سیر کرائی ہو؟ ?۔ ایسا حیوان جس نے اپنے ساتھیوں کو ڈرایا ہو ؟ ?۔ ایسا جسم جس نے ایک بار کھایا پھر کبھی نہیں ؟ ۔ زمین کا ایسا حصہ جہاں ایک مرتبہ سورج چمکا اور پھر آج تک نہیں چمکا اور قیامت تک نہیں چمکے گا؟?۔ ایسا پتھر جس سے زندہ کی پیدائش ہوئی ؟ ?۔ وہ عورت جس سے تین ساعت میں لڑکے کی ولادت ہوئی ؟ ۔ د و ساکن جو حرکت نہیں کرتے ؟  ۔ دو متحرک جو ساکن نہیں ہوتے ؟  ۔ دو دوست جو دشمن نہیں ہوتے ؟  ۔ دودشمن جو دوست نہیں ہوتے ؟ ??۔ شے کیا ہے لا شے کیا ہے ؟ ??۔ رحم میں سب سے پہلے کس اعضا ء   کی شکل بنتی ہے ؟  ۔ قبر میں سب سے آخر میں کون سی چیز فنا ہوتی ہے ؟

‎حضرت علی نے ان سوالات کے نہایت تفصیل سے جوابات دئیے اور فرمایا جس نر کے بارے میں تم نے سوال کیا ہے کہ جس کا ماں باپ نہیں وہ حضرت آدم  ہیں اور وہ مادہ جو بغیر ماں کے پیدا ہوئی وہ حضرت حوا ہیں اوروہ نر جن کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی وہ حضرت عیسیٰ ہیں اور وہ رسول جو جنات ، انسانوں اور فرشتوں میں سے نہیں تھا کوا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قابیل کی تعلیم کے لئے بھیجا تھا اور وہ قبر جس نے صاحب قبر کو اپنے ساتھ سیر کرائی وہ مچھلی تھی جس نے حضرت یونس  کو اپنے پیٹ میں تین دن تک رکھا اور سمندر کے اطراف و جوانب میں پھرتی رہی اور وہ حیوان جس نے اپنے ساتھیوں کو ڈرایا تھا چیونٹی تھی جو خوراک کی تلاش کے لئے باہر نکلی تھی کہ دوسری چیونٹیاں ایک ستون پر چڑھی تھیں حضرت سلیمانکر سر کے اوپر تھا اس چیونٹی نے اپنی قوم سے کہا کہ خبردار! تمہارے گزرنے سے مٹی نہ گرے اللہ تعالیٰ کا پیغمبر تم سے تکلیف اٹھائیگا اور وہ جسم جس نے ایک مرتبہ کھایا ، پیا نہیں اور قیامت تک نہیں کھائے گا وہ حضرت موسیٰ  کا عصا مبارک ہے جس نے جادوگر وں کے جادو کو ایک لقمہ میں ختم کر ڈالا اور وہ زمین کا ٹکڑا جہاں تیک مرتبہ سے زیادہ سورج نہیں چمکا وہ دریائے نیل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کیلئے پھاڑ اور اسکی گہرائی کی زمین دکھائی دینے لگی سورج اس پر چمکاچنانچہ اسکے نیچے سے غبار اٹھا حضرت موسیٰ  اور ان کی قوم کے جانے کے بعد وہ پھر مل گیا اور اپنی شابقہ حالت پر آگیا اور وہ پتھر جس نے حیوان کی ولادت ہوئی وہ پتھر وہ تھا جس سے حضرت صالح   کی اونٹنی پیدا ہوئی اور وہ دو ساکن غیر متحرک زمین اور آسمان ہیں اور تحریک سے یہاں مراد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے اور وہ دو متحرک جو کبھی بھی ساکن نہیں ہوتے چاند اور سورج ہیں اور وہ عورت جس نے تین ساعت میں بچہ جنا حضرت مریم  تھیں کہ تین ساعت میں ان سے حضرت عیسیٰ  کی ولادت ہوئی اور وہ دوست جو کبھی ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوتے جسم اور جان ہیں اور وہ دو دشمن جو کبھی دوست نہیں ہوتے موت اور زندگی ہیں شے مومن ہے اور لا شے کافر ہے۔ احسن اشیاء   صورت بنی آدم ہے ۔ رحم میں سب سے پہلے جس چیز کی شکل بنتی ہے وہ شہادت کی انگلی ہے اور قبر میں سب سے آخر میں جو چیز فنا ہوتی ہے بندہ کے سر کی ہڈی ہے ۔

فضائل آل محمد کے بعد ابن الحسن شہزادہ قاسم کی شہادت کے مصائب بیان کیئے گئے جس کے بعد ماتم اور نوحہ خوانی ہوئی اور بعد میں نزر امام پیش کی گئی

چھ محرم کی اس مجلس عزا میں مرثیہ نگار سید فضل حسین عرفی ہاشمی ابن وحید الحسن ہاشمی نے ایک مرثیے کے چند بند پیش کیئے اور ان کے علاوہ اسد رضا، وجیہہ بخاری،حیدر نقوی۔معطر رضا ، ڈاکٹر علی عباس نے کربلا والوں کی یاد میں نزرانہ عقیدت پیش کیا

پانچ محرم کی مجلس۔20.11.12

برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں بیس نومبر منگل کو پانچ محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

‎مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا اور بعد میں مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کیا اور اپنے موضوع کے تسلسل میں اس استدلال کو پیش کیا کہ اللہ تعالی نے انبیا کو بھی دوسرے انبیا سے افضل قرار دینے کا معیار علم کو ہی رکھا اور جب طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو اسوقت کے لوگوں نے اعتراض کیا لیکن اللہ نے کہا کہ طالوت کو علم کی بنیاد پر یہ منصب عطا کیا گیا ہے

انہوں نے آج کی اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری مجالس عزا اور منبر جو گزشتہ کئی صدیوں سے یونیورسٹی کا کردار ادا کر رہے تھے وہ جزباتی اور مسلکی موضوعات کا شکار ہو گئے ہیں اور پھر اس پاکیزہ شعبے میں بھی کمرشل ازم کے درآنے سے سطحیت ابھر کر سامنے آئی ہے جس سے علمی اور فکری مجالس جو ہمارا طرہ امتیاز ہو اکرتا تھا وہ پس پشت چلا گیا ہے

انہوں نے ایک بار پھر قرآن کے حوالوں اور احادیث رسول کے ساتھ ساتھ فرامین آئمہ کی مدد سے حصول علم اور حاصل کردہ علم ہر عمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خود باب شہر علم نے فرمایا کہ علم عمل کو تلاش کرتا ہے اور باعمل انسان کی خالص علم کے بوجھ کو محسوس کر سکتا ہے اور جہاں سے عمل رخصت ہو جائے وہاں سے ایک دن علم بھی رخصت ہو جاتا ہے

انہوں نے تسبیح فاطمہ کو اللہ کے حبیب کی طرف سے خاتومن جنت بیٹی کو پیش کردہ علمی تحفہ قرار دیا اور اور تسبیح فامہ کے عنوان سے اپنی طویل مسدس کے چند بند پیش کیئے

اس موقع پر انہوں نے علم کی حوالے سے باب شہر علم کے لگ بھگ تین سو فرمودات کی حامل ایک کتاب کو بھی متعارف کروایا اور اس میں سے چند فرامین سے سامعین کو آگاہ کیا اور اسی ضمن میں علم کے حوالے سے مولا علی کے صحابی جناب کمیل سے مولا علی کی گفتگو بھی اختصار سے پیش کی

انہوں نے کہا کہ یہ علم حقہ سے دل کو منور کرنے کی ہی وجہ تھی کہ حُر نو محرم کی رات کو اپنے تمام مناصب چھوڑ کر امام حسین کی غلامی میں آ گیا تھا اور پھر حشر تک کے لیئے آزاد قرار پایا

اس موقع پر انہوں نے جناب حُر ابن ریاحی پر لکھے اپنے مرثیئے میں سے منتخب بند شہادت جناب حُر کے حوالے پیش کیئے

مجلس عزا کے بعد نوحہ خوانی اور سینہ زنی ہوئی جس کے بعد سوگواران حسین کے لیئے نیاز امام پیش کی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار محرم کی مجلس۔19.11.12

‎برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 19نومبر پیر کو 4 محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔

‎مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا اور بعد میں مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کیا

مجلس عزا کی نظامت سید مصباح حسین جیلانی اور جمیل کاظمی کر رہے ہیں جبکہ کربلا والوں کے حضور نزرانہ عقیدت پیش کرنے والوں میں عقیل عباس رضوی، غلام حیدر نقوی، عامر نقوی،وجیہ بخاری،ڈاکٹر علی عباس، سید معطر رضا اور سید حیدر رضوی شامل ہیں

سید حیدر رضوی دنیا کے اس حصے میں مرثیہ تحت اللفظ کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جو ایک قابل تعریف بات ہے اور وہ ان مجالس عزا میں شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کے مقبول مراثی سے اقتباسات پیش کرتے ہیں

چار محرم کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نے کہا کہ اعجاز قرآن اور علم علی کے حوالے سے مختصر گفتگو کے اس سلسلے میں یہ چوتھا مرحلہ ہے۔انہوں نے گزشتہ دنوں کی گفتگو کا نہایت اختصار سے خلاصہ کرتے ہوئے آج کی مجلس عزا کی گفتگو کو منسلک کرتے ہوئے کہا کہ آج میں رزق فکر وفہم کے طور پر دوباتیں اپنے سامعین کے اذہان عالیہ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ اول تو یہ کہ قرآن میں اللہ کا لہجہ اور بعد میں آل رسول کی گفتگو کا لہجہ ایک ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ معصومین کا تسلسل کسی ایک موضوع یا رخ کے حوالےسے ایک ہی جیسا نہیں ہوتا بلکہ جس رخ سے یا جس موضوع سے ان معصومین کے فرمودات،انکے اقوال،انکے خطبات اور ان کے کردار کو دیکھیں یہ ایک ہی نظر آتے ہیں اور علم کے معاملے میں بھی بالکل ایسا ہی ہے اسی اگر سورہ فاتحہ کے گزشتہ روز کے موضوع کو آگے بڑھائیں تو پتہ چلے گا کہ جہاں اللہ پاک نے خود کو اس سورہ کو مرکز قرآن قرار دیا وہاں اللہ کے حبیب نے اس ہر مشکل اور ہر دکھ سے نجات کی کلید بتایا اور پھر مولا علی نے کہا کہ اگر میں اس ایک سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھوں تو اسکی ضخامت اتنی ہو گی کہ اسے بہتر اونٹ اٹھا سکیں گے،اس تسلسل میں باقر العلوم امام باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ میں علوم معارف کا سمندر بند ہے۔

جناب صفدر ھمدانی نے کہا کہ خالص علم یا تو قرآن کا ہے یا پھر رسول اور ال رسول کا ہے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تصویر ہیں اور انکا ہر ایک عمل قرآن کی آیت کی تسویر بنا دیتا ہے۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ الزہرا اور سیدہ زینب سلام اللہ کے خطبات کا حوالہ بھی دیتے ہوئے کہا کہ اگر محققانہ نگاہ سے دیکھیں تو ان تمام ہستیوں کی گفتگو میں جہاں نفس مضمون اور اسکا ٹریٹمنٹ ایک جیسا ہے وہاں ان سب کا لہجہ قرآن کا لہجہ ہےاور یہی ایک دلیل اس امر کے لیئے کافی ہے کہ اللہ نے کلام پاک میں اپنے لیئے جب ہم کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس ہم سے عملی مرآد یہی وہ باکردار،باعمل اور پرنور ہستیاں ہیں کہ جن کے عمل پر قرآن کی آیتیں صادق آتی ہیں۔

انہوں نے مولا علی کے غیر منقوط خطبے اور الف کے بغیر والے خطبے کو ادب کے میدان میں ایک ایسی کاوش قرار دیا جسکی مثیل ناممکن ہے لیکن مولائے کائنات سے عشق کرنے والے انیس و دبیر نے اس منبع فیض سے فیض حاصل کرتے ہوئے کئی کئی غیر منقط مراثی لکھے

علم کے موضوع پر گفتگو کے تسلسل میں جناب سید صفدر ھمدانی اپنی ایک طویل مسدس کو اختصار سے پیش کیا جسکے بعد شہادت عون و محمد کی مناسبت سے مرثیہ نو تصنیف میں سے مصائب کے بند پیش کیئے

مجلس عزا کے بعد نوحہ خوانی اور سینہ زنی ہوئی جس کے بعد سوگواران حسین کے لیئے نیاز امام پیش کی گئی

تین محرم کی مجلس۔18.11.12

برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں 18نومبر اتوار کو تین محرم الحرام کی مجلس عزا منعقد ہوئی اور کربلا کے شہیدوں کو پرسہ پیش کیا گیا۔ مجلس عزا کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا اور بعد میں مرثیہ نگار شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم علی اور اللہ کی لاریب کتاب کے حوالے سے تیسری محرم کی مجلس میں اس گفتگو کو اور آگے بڑھانا ہے کہ علی کے عاشق اور آل محمد سے محبت کرنے والے کی پہچان علم اور مسلسل طلب علم ہے۔

انہوں نے نہج البلاغہ اور کالم پاک کے طرز تخاطب اور الفاظ کے استعمال کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جیسے کلام اللہ میں متعدد جگہ یکتا و واحد خدا نے خود کو ہم کہہ کر مخاطب کیا ہے اسی طرح اللہ کے حبیب اور ختم المرسلین سے براہ راست علم حاصل کرنے والے باب شہر علم نے بھی متعدد جگہوں ہر ہم کا لفظ استعمال کیا ہے جو انکے قرآن ناطق اور مفسر ناطق ہونے کی دلیل ہے

انہوں نے کہا کہ مولائے کائنات نے فرمایا کہ علم یقین دیتا ہے،یقین معرفت عطا کرتا ہے اور دین کی ابتدا اسکی معرفت ہی ہے اور معرفت کی اسکی تصدیق ہے اور کمال تصدیق توحید ہے ، گویا یقین کی بنیا د بھی علم ہی طے ہوا۔ تو اس ناطے سے یقین اور ایمان کا کس قدر گہرا تعلق ہے

نہج البلاغہ میں قرآن کے استدلالی انداز اور ایک جیسے لہجے کا ذکر کرتے ہوئے جناب صفدر ھمدانی نے بتایا کہ علم القرآن سے شغف رکھنے والے اہل علم نے قرآن کو ایک منفرد نظر سے دیکھا بھی ہے اور تحقیق بھی کی ہے اور یہ جو قرآن کو معجزہ کہا گیا ہے تو اسکے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ قاری کو یا جستجو کرنے والے کو حیران کر دیتا ہے

انہوں نے کہا کہ قرآن میں کوئی ایک زہر زبر بھی اتفاقی نہیں ہے بلکہ اللہ کی اس الہامی کتاب میں زبور توریت اور انجیل کا عرق موجود ہے اور خود قرآن کا عرق سورہ فاتحہ اور سورہ فاتحہ کا عرق بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں ہے

انہوں نے بتایا کہ قرآن میں اللہ نے خود فرمایا کہ یہ باعث شفا ہے اور اسمیں ہر خشک و تر ہے گویا اگر کسی ایک رخ سے بھی قرآن سے ہدایت نہیں ملتی تو نعوذ باللہ قرآن مشکوک ہو جاتا ہے۔ قرآن کی یہ ہدایت مجلد قرآن سے یا قرآن سامط سے نہیں بلکہ قرآن ناطق سے ہے اور قرآن ناطق وہ ہم ہیں جن کااشارہ تمام حکمتوں کی حکمت والے اللہ نے خود دیا ہے اور ان ہم نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہی کلام پاک کی عملی تفسیر ہیں

اپنی ایک گھنٹے سے زائد کی تقریر میں مفکر حسینیت نے متعدد مقامات کو مومنین کو فکری اور بیدار مغزی کے پیغامات دینے کے لیئے دیگر علوم اور دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور اس بات کی تشریح کی کہ جس طرح قرآن پاک میں کوئی ایک حرف و لفظ بے وجہ نہیں اسی طرح وارثان قرآن کے ہاں بھی انکی تحریروں اور فرمودات میں کوئی حرف و لفظ بے وجہ نہیں اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے بالالتزام ہے

بعد ازاں نے مصائب آل رسول بیان کیئے جسکے بعد ماتم و نوحہ خوانی ہوئی ،جسکے اختتام پر مومنین کے لیئے نیاز امام پیش کی گئی





دو محرم کی مجلس۔17.11.12
برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں سترہ نومبر ہفتہ دو محرم الحرام کی مجلس منعقد ہوئی جسکا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مختلف مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیاجس کے بعدد شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا قرآن مجلد شکل میں کسی ایسے فرد یا افراد کا متلاشی تھا جو اسکی ایات کو عمل کے سانچے میں ڈھال کر بتاتے اور اسی لیئے پروردگار نے آل رسول کو منتخب کیا جنہوں نے قرآن کی ایک ایک آیت کی عملی تصویر پیش کی۔ انہوں نے ایک بار پھرعلی کے عاشق کے لیئے حصول علم کو شرط قرار دیا اور کہا کہ قبر کا سامان آپکو خود کرنا ہے لیکن قبر سے برزخ تک اور شفاعت کا مرحلہ اللہ کے رسول اور انکے اہل بیت طے کروائیں گے۔انہوں نے قرآن کے معجزاتی پہلو بھی بین کئے اور ان تحقیقی پہلوؤں کا ذکر کیا جن میں کلام پاک کے زیر زبر ،پیش،تشدید وغیرہ گنے گئے ہیں۔انہوں نے کسی بھی کام کرنے کے لیئے نیت کو اہم ترین پہلو بتایا اس بات پت زور دیا ہے کہ آج کے دور میں ہم پر جو زوال کی کیفیت ہے اسکی وجہ بھی عمل اور محبت آل محمد سے دوری ہے۔انہوں نے اپنے مراثی سے بھی اقتباسات پیش کیئے اور دوسری محرم کے مصائب بیان کیئے

بعد ازاں ماتم اور نوحہ خوانی کی گئی اور مومنین کے لیئے نیاز امام کا انتظام تھا

...............................
سولہ نومبر جمعہ یکم محرم الحرام کی مجلس

برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں سولہ نومبر جمعہ یکم محرم الحرام کی مجلس منعقد ہوئی جسکا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مومنین نے سوز،سلام اور مرثیہ پیش کیا جس کے بعدد شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محب علی و محب اہلبیت ہونا ایک سعادت ضرور ہے اور یہ انتخاب خود کربلا والے ہی کرتے ہیں لیکن یہ ایک بہت بڑی زمیداری بھی ہے جسکا اولیں تقاضا خود کو فرامین آل رسول کے مطابق خود اور اپنے خانوادوں کی ڈھالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلد قرآن قرآن سامط ہے جسکی عملی تفسیر رسول اور آل رسول ہیں اور ہمیں اپنی زندگیوں کو انہی کے فرمودات اور ہدایات کی روشنی میں گزارنا ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عزاداری جناب زینب سے کیا ہوا وعدہ ہے اور خاتون جنت کی دعا ہےلیکن عزادار کی پہلی ضرورت اپنے کردار کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ دوسروں کے لییے مثال بن سکے۔انہوں نے کہا کہ عشق علی و اہلبیت کا دعویٰ اسوقت تک بے معنی ہے جب تک آپکو عشق رسول نہیں اور عشق رسول کا امتحان یہی ہے جو جس سے محمد و آل محمد منع کریں اس کو ترک کردو اور جسکے کرنے کا حکم دیں بس اسے بجا لائیں۔ انہوں نے انیس و دبیر کے بغیر نکتوں کے مرثیوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکا خیال ان خدایان سخن کو باب شہر علم مولا علی سے ملا جنہوں نے بغیر نکتوں کے خطبہ لکھا اور یہ انکشاف کیا کہ خود انکو یہ خیال قرآن کی غیر منقوط آیات سے آیا۔ انہوں نے اپنے لکھے ہوئے مرثیے سے کچھ بند عشق رسول کے موضوع پر پیش کرنے کے بعد مصائب میں قبر رسول،قبر حسن مجتبیٰ اور قبر خاتون جنت سے امام حسین کی وداع کے مصائب پڑھے جسکے بعد نوحہ خوانی اور ماتم زنی ہوئی۔

اختتام پر مومنین میں نیاز امام تقسیم کی گئی  
..............
15.11.12چاند رات کی مجلس
 
برسبین کے فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر میں پندرہ نومبر جمعرات سے محرم الحرام کی مجالس کا انعقاد شروع ہو گیا ہے جس میں قرب وجوار کے مومنین نے بڑی تعداد میں شرکت کی

چاند رات کی مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکا شرف مصباح حسین کو ملا جسکے بعد سوز سلام پیش کیا گیا۔ نظامت کے فرائض بھی سید مصباح حسین نے ادا کیئے جسکے بعد شاعر آل عبا اور مفکر اہلبیت سید صفدر ھمدانی نےفضائل و مصائب آل محمد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اہلبیت سے محبت کرنے والے کی پہلی نشانی اسکا علم کا پیاسا ہونا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علی کو ماننا اور علی کی ماننا دو الگ الگ باتیں ہیں کوشش یہ کی جائے کہ علی کی مانی جائے کیونکہ علی وہی کہتے ہیں جو محمد کہتا ہے اور محمد قرآن کے الفاظ میں خود کچھ نہیں کہتے بجز کہ جو پرودگار چاہتا ہے۔انہوں نے مسلمانوں میں بے عملی کی زندگی کو باعث تکلیف قرار دیا اور کہا کہ قبر کی منزل کی پہلی ضرورت علم اور صرف علم ہے
 
----------------------------------------------
معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق  صفدر ھمٰدانی  بدھ 14.11.12کو برسبین پہنچ گئے

معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب اور مرثیہ نو تصنیف پیش کرنے کے لیئے منگل کو لندن سے روانہ ہوئے اور بدھ کو برسبین پہنچ گئے جہاں ہوائی اڈے پر دیگر مومنین کے علاوہ فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر برسبین کے صدر جناب ابرار بخاری اور شاعر و مرثیہ نگار عرفی ہاشمی نے انکا استقبال کیا

صفدر ھمدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانہ
میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے. 

صفدر ھمٰدانی نے  ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت  کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ' کفن پہ تحریریں' 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں 'فرات کے آنسو'...مرثیوں کا مجموعہ....نورِ کربلاعزائی شاعری پہ تحقیق... اور'معجزئہ قلم'رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ... فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین''کلیات حسین''  حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔

اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ'' تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا''  شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک''زینت ہستی'' ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ''عطائے رضا'' کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ '' رو رہا ہے آسماں'' مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے'' بادل۔چاند اور میں '' اور'' گونگی آنکھیں'' زیر ترتیب ہے۔

    مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،،سویڈن میں سٹاک ہولم اور لن شاپنگ، ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو۔۔شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانہ اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔

محترم المقام جناب صفدر ہمدانی لندن میں مقیم ہیں ۔آج بروز منگل تیرہ نومبر دوہزار بارہ کی صبح دس بجے برسبین آسٹریلیا کے لیئے روانہ ہو چکے ہیں ۔ جہاں وہ یکم تا بارہ محرم فاطمہ زہرا اسلامک سینٹر، برسبین میں مجلس و مرثیہ عزا سے خطاب فرمائیں گے ۔

مرثیہ نگاری ان کی فکر کا غالب حصہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے  “ گزشتہ پچیس تیس سال میں کربلا والوں کی یاد کی حامل مجالس روایتی مجالس بنتی چلی جا رہی ہیں اور علم و فکر ان مجالس سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے ہمیشہ اس امر پرزور دیا کہ عام انسان کو علم حاصل کرنا ہے کیونکہ روز محشر اس نے اپنا حساب خود دینا ہے اور کوئی اسکی جگہ جواب نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولائے متقیان علی ابن ابی طالب نے اسی لیئے علم کو حقیقت وحدانیت قرار دیا ہے کہ علم یقین دلاتا ہے جبکہ یقین معرفت اور معرفت توثیق تو حید ہے ۔

محترم المقام جناب صفدر ہمدانی برسبین میں دو ہفتے قیام کے بعد  سڈنی تشریف لائیں گے جہاں مختلف مکتبہ فکر سے 
تعلق رکھنےوالے افراد سے ملاقات کریں گے۔ 


:دیگر مضامین
(24.11.2012) یا رب کوئی غم نہ دینا سوائے غمِ حسین کے ..از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(15.11.2012) برطانیہ میں عشرہ محرام الحرام 2012 کون کہاں کہاں خطاب کرے گا
(12.11.2012)  صدائے وطن کے مدیر اعلی سید ظفر حسین کا عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ پر خصوصی پیغام
(09.11.2012) شاعر مشرق اور مفکر اسلام علامہ اقبال کی زندگی کے مثالی روشن ایام
(08.11.2012)  اوباما 270 سے زیادہ الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے امریکا کے 45ویں صدر منتخب
(07.11.2012)  امریکہ کہ ادارے زنیبہ میں محفل غدیر کا ایک اہم اور مقدس اجتماع
(02.11.2012) تسبیح کے دانوں میں پروئے ہوئے ہم لوگ ......۔از : ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.11.2012) یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
(01.11.2012) عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ یکم نومبر 2012۔گرافکس سید اکمل حسین
(01.11.2012) عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ پر تیسرے مصطفیٰ علی ھمٰدانی ایوارڈ کا اعلان
(30.10.2012) یکم نومبر 2012عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔ایک اور اہم سنگ میل
(28.10.2012) عالمی اخبار کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے قارئین اور قلم کاروں کو عید مبارک
(24.10.2012) برطانیہ میں حاجیوں کو لوٹنے والے قزاق ۔اللہ کے مہمانوں سے دھوکہ۔از۔سید اکمل حسین
(21.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔25ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(18.10.2012) ناقصاں را پیر کامل۔۔۔ کاملاں را راہنما ۔ از ۔ ارشاد ہاشمی ۔جرمنی
(17.10.2012) ملالہ یوسف زءی برمنگھم مینں زیر علاج ہے۔طویل نگہداشت کی ضرورت ہے
(16.10.2012) وطن عزیز پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی 61 ویں برسی
(14.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔24ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(11.10.2012) ہار گئے ہیں امن کے دشمن اور ملالہ جیت گئی۔صفدر ھمدانی
(10.10.2012) سوات میں ملالہ یوسف زئی پر حملہ۔ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں