16.10.2026, 11:29am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

یا رب کوئی غم نہ دینا سوائے غمِ حسین کے ..از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
24.11.2012, 10:10pm , ہفتہ (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم

دس محرم الحرام 61 ھ کا خونی آفتاب

دس محرم الحرام 61 ھ کا خونی آفتاب اپنی پوری خون آشامیوں کے ساتھ طلوع ہوا ۔ لیکن اس صبح کی سپیدی میں حر ابن یزید ریاحی نے اپنے بھائي بیٹے اور غلام کے ساتھ لشکر کفر و نفاق سے نکل کر لشکر حق میں شمولیت اختیار کرلی ۔اس کے بعد شخصی مبازرت کے طریقے سے جنگ کا آغاز ہوا ۔

حضرت علی اکبر (ع) نے صبح کی اذان دی ، لشکر اسلام و قرآن نے امام حسین (ع) کی امامت میں نماز فجر ادا کی ابھی سر سجدوں سے بلند نہیں ہوئے تھے کہ کمانیں کڑکیں اور نماز کےلئے ایستادہ بیسیوں مجاہدین راہ حق تیروں کی پہلی بوچھاڑ میں ہی شہید ہوگئے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا ۔

امام سے اجازت لے کر غازیان اسلام میدان میں جاتے اور شہید ہوتے رہے ۔

پہلے اصحاب کام آئے اور پھر اعزہ کی باری آئی ۔ اٹھارہ سالہ شبیہ پیغمبر (ص) ، نو ، دس سال کے عون و محمد (ص) تیرہ سالہ قاسم (ع) 32 سال کے بھائي عباس علمدار ، حتی چھ ماہے علی اصغر (ع) کو بھی راہ اسلام میں حسین (ع) نے قربان کردیا اور پھر ننھی سی قبر کھودکے اصغر (ع) کو دفنا کے شبیر (ع) اٹھ کھڑے ہوئے دامن کو جھاڑکےاب حسین تشنہ کام ، زخموں سے چور ، شدت پیاس سے کہتے ہیں :

انابن صاحب الکوثر ، میں تو ساقی کوثر کا بیٹا ہوں ، میں تو شافع محشر کا بیٹا ہوں ۔پھر اک عزم کے ساتھ اٹھے اور در خیمہ پر آکر آواز دی اے زینب و ام کلثوم ۔۔ اے رقیہ و سکینہ ۔۔۔۔ حسین کا آخری سلام قبول کرو ۔

اس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ علیل تھے۔ علالت کے باوجود اپنے والد گرامی سے اجازت طلب کی مگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے سمجھایا کہ ایک تو آپ رضی اللہ عنہ علیل ہیں اور دوسرے آپ رضی اللہ عنہ کا زندہ رہنا ضروری ہے کیونکہ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر چراغ گل ہو چکا ہے۔

ہر پھول مرجھا چکا ہے، اب میری نسل میں فقط تو ہی باقی رہ گیا، مجھے تو شہید ہونا ہی ہے اگر تو بھی شہید ہو گیا تو میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کیسے چلے گی۔ تجھے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کی بقاء کے لئے زندہ رہنا ہے‘

‘ پھر آپ کو کچھ نصیحتیں کیں اور یوں فرزند صاحب ذوالفقار حضرت حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سب سے رخصت لی اور دامن سے لپٹی پارۂ دل کو بھی سینے سے لگاکر بہن کے حوالے کردیا اور میدان میں آکر ایسی جنگ کی کہ یزیدی لشکر کوفے کی دیواروں سے ٹکراتا نظر آيا ۔

کربلا کی تپتی دوپہر میں حضرت امام حسین علیہ السلام دیر تک یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے رہے۔ پورے یزیدی لشکر میں کہرام مچ گیا۔ حیدر کرار کا یہ فرزند جس طرف تلوار لے کر نکلتا یزیدی لشکر خوفزدہ بھیڑوں کی طرح آگے بھاگنے لگتا۔

حضرت سیدنا امام حضرت امام حسین علیہ السلام دن کا طویل حصہ میدان کربلا میں تنہا دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور دشمنوں میں سے ہر کوئی آپ کے قتل کو دوسرے شخص پر ٹالتا رہا کیونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا قتل کوئی بھی اپنے ذمہ نہ لینا چاہتا تھا۔

حضرت سیدنا امام حضرت امام حسین علیہ السلام نہر علقمہ پر پہنچے اوربھائی کو آواز دی ۔۔۔ کاش تم ہوتے اور تین دن کے پیاسے حسین (ع) کی جنگ کا منظر دیکھتے اور جب نہر سے پلٹے تو آواز سنائي دی ۔۔

“اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ اس حال میں کہ میں تجھ سے راضی اور تو مجھ سے راضی ہے “۔

امام نے تلوار نیام میں رکھ لی تیروں ، نیزوں شمشیروں کی بارش ہونے لگی جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ پتھر ماررہے تھے ۔حسین گھوڑے سے گرے ،بارگاہ معبود میں شکر کا سجدہ ادا کیا۔

آخر شمر بن ذی الجوشن نے کہا : ’’تمہارا برا ہو کیا انتظار کر رہے ہو؟ کام تمام کیوں نہیں کرتے؟

حضرت امام حسین علیہ السلام ہر طرف سے دشمنوں میں گھر چکے تھے ۔ آپ نے پکار کر کہا ۔۔ “ کیا میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟ واﷲ! میرے بعد کسی بندے کے قتل پر اﷲ تعالیٰ اتنا ناخوش نہیں ہو گا جتنا میرے قتل پر“
(ابن اثیر، 4 / 78)

عمر بن سعد لشکر یزید کا امیرتھا ۔ اس کے حکم پر شمر بن ذی الجوشن امام حسین علیہ السلام کے سینے پر بیٹھ گیا اور سر امام کو کاٹنے کا اردہ کیا ۔ جس پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ “ کیا توں مجھے جانتا ہے کہ میں کون ہوں ۔ شمر بولا میں تجھے خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہاری ماں فاطمہ ، باپ علی اور جد امجد محمد مصطفی ہیں ، میں تمہیں ضرور قتل کروں گا“ ۔

شمر کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین علیہ السلام پر ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر امام حسین علیہ السلام کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے حضرت امام حسین علیہ السلام لڑکھڑا گئے۔ اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹے ۔ شمر نے امام حسین علیہ السلام پر شمشیر کی بارہ ضربیں لگائی اور امام حسین علیہ السلام کےسر کو کاٹ دیا ۔

ایک اور روایت کے مطابق خولی بن یزید آگے بڑھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کو نیزہ مارا جس سے حضرت امام حسین علیہ السلام گر پڑے۔ سنان بن ابی عمرو بن انس نخفی نے خولی سے کہا کہ امام حسین کے سر کو بدن سے جدا کردو تو خولی کانپنے لگا تو سنان نے ا سے کہا کہ توں کانپ کیوں رہاہے اور تیرے بازوکیوں سست ہو گئے ہیں ۔اس کے بعد سنان بن نخفی خود آگے بڑھا اور امام حسین کے سر مبارک کو تن سے جدا کر دیا اور خونی یزید کے حوالے کر دیا۔
(البدایہ والنہایہ، 8 / 188)

کربلا ایسی بپا ہوئی کہ رہتی دنیا تک امام حسین علیہ السلام کا استغاثہ بشریت کے کانوں میں گونجتا رہے گا ۔۔

” کیا کوئی ہے جو میری مدد کرے ، کیا کوئی ہے جو میری نصرت کرے “میں پیاسا ہوں ، پیاسا شہید کیا گیا ہوں ، میری پیاس بجھاؤ ، روئے زمین پر حق و انصاف اور اسلام و قرآن کی حکمرانی قائم کرو، جس دن ظالموں کا خاتمہ ہوگا میری پیاس بجھ جائے گي“

یوں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشۂ بتول سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں جانثاری کی ایک نئی تاریخ رقم کر کے قربانی کی ایک لازوال مثال قائم کر دی اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ باطل کے خلاف حق کی سربلندی کے لئے اگر سر تن سے جدا بھی ہوتا ہے تو پرواہ نہ کی جائے اور قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔

اس سانحہ کو قید زمین و مکاں نہیں
اک درس دائمی ہے شہادت حسین (رض) کی

یہ رنگ وہ نہیں جو مٹانے سے مٹ سکے
لکھی گئی ہے خون سے امامت حسین (رض) کی

سو جان سے فدا تھے نبی (ص) کیوں حسین (رض) پر
عقدہ کھلا یہ معرکۂ کربلا کے بع
د

تاریخ گواہ ہے کہ دس محرم سنہ 61 ھ۔ کو میدان کربلا میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بہتّر جاں نثاروں کے ہمراہ دین مقدس اسلام آزادی اور حریت کی پاسداری کے لئے بے مثال شجاعت و دلیری اور ایثار وفداکاری کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر کے اسلام کو ہمیشگی عطا کی ہے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : میں ایسے ذلّت آمیز ماحول میں موت کو سعادت و خوش نصیبی سمجھتا ہوں اور ستمگروں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت وبدبختی ۔

مظلومیت کا کیسا یہ سکہ جما دیا
چشمٍ بشر کو اشک بہانا سکھا دیا
اعجاز ہے حسین علیہ السلام کا
کٹوا کے سر یزید کے سر کو جھکا دیا
(صفدر ھمدانی
)

واقعہ کربلا کی اہمیت
کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا۔ اس واقعہ کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔

جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔
( صحیح البخاری ، ترمذی شریف)

اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی ۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی ۔ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔

خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی ۔ لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔

یہ تصور ہی کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم یا تعدی خود ان لوگوں نے کی جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے مزید براں امام حسین کا جو تعلق آنحضور سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ امام حسین نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں انھیں سرے سے درخو اعتنا ہی نہ نہ سمجھا گیا ۔

اس سے یزید کے اعمال کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح ، ملی ، اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں توانسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پرقادر ہے اور ایسی مثالوں سے تو یورپ کی ساری تاریخ بھری پڑی ہے ۔

لٰہذا ان حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظام حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف ، حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جدوجہد کا تعلق ہے یہ کہنا درست ہوگا کہ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی لٰہذا امام حسین نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔

باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی ۔ اور انھیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا۔ امام حسین کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی ۔
سچ ہے کہ

” اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد “

یوم عاشو ر کے آخر وقت کھڑے ہو کر حضرت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، امیر المومنین علی المر تضی علیہ السلا م جنا ب فاطمتہ الزہرا علیہ السلام امام حسن مجتبٰی علیہ السلام اورباقی ائمہ علیہم السلا م پر سلام بھیجئے اور گریہ کی حالت میں ان کو پرسہ دیجئے اور یہ زیا رت پڑھئے :

سلام ہو آپ پر اے سید الشہدء سلطان کربلا حسین ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
عربی میں لکھی زیارت امام مظلوم آقا حسین علیہ السلام سے ماخوز )

اے میرے خدائے برگزیدہ و برتر
میرے رب کریم خالق کائینات
اے حیات و ممات کے مالک
سلام ہو آپ پر اللہ کے نبی آدم کہ اللہ سبحان تعالی آپ کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کے نبی آدم کہ آپ نوح کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پراللہ کے نبی نوح کہ آپ ابراہیم کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کے دوست ابراہیم کہ آپ موسیٰ کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کے کلیم موسیٰ کہ آپ عیسیٰ کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کی روح عیسیٰ کہ آپ محمد کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کے حبیب محمد کہ آپ علی کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اللہ کے دوست مومنوں کے امیر علی کہ آپ حسن کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پراللہ کی راہ میں شیہد ہونے والے حسن کہ آپ حسین کے وارث ہیں
سلام ہو آپ پر اے حسین علیہ السلام ، سلام ہو آپ پر
سلام ہو آپ پر اللہ کے رسول کے فرزند ۔۔۔ سلام ہو آپ پر
سلام ہو آپ پر اے بشیر و نذ یر اور وصیوں کے سہارے حسین
سلام ہو آپ پر اللہ کے رسول کی دختر فاطمہ کے فرزند حسین
سلام ہو آپ پر اللہ کے رسول کی دختر ، بتول ، طاہرہ سیدہ فاطمہ زہرا
سلام ہو آپ پر کہ اللہ نے جہانوں کی عورتوں کا آپ کو سردار فرمایا
سلام ہو آپ پر اے حسین ابن علی ابن ابی طالب سلام ہو آپ پر
سلام ہو آپ پر اے اللہ کے پسندیدہ نبی کے پسندیدہ فرزند حسین
سلام ہو آپ پر اللہ کی راہ میں شہیدوں کے سردار پیارے حسین
سلام ہو آپ پر اللہ کی راہ میں خون کے چراغ جلانے والے حسین
سلام ہو آپ پر اے امام ہدایت و پاکیزگی والے دلارے  حسین
سلام ہو آپ پر اور ان تمام ارواح پرجوآپ کے آستاں پر سوگئیں
سلام ہو آپ پر اور ان ارواح پر جو آپ کی قربت میں رہیں
سلام ہو آپ پر اور ان پر جو آپ کے زائروں کے ہمراہ آئیں
سلام ہو آپ پر اے سید الشہدء سلطان کربلا حسین
 سلام ہو آپ پر یہی کہتے میں دن سے رات کروں
سلام ہو آپ پر جب تک میں اس جہاں میں رہوں

نویں محرم الحرام

نویں محرم کی شب حر بن یزید تمیمی حضرت امام حسین کے لشکر میں شامل ہو گئے

نویں محرم الحرام بروز جمعرات کی شب کو امام حسین اور عمر بن سعد میں آخری گفتگو ہوئی۔آپ کے ہمراہ حضرت عباس اور علی اکبر بھی تھے۔آپ نے گفتگو میں ہر قسم کی حجت تمام کر لی۔

نویں کی صبح کو آپ نے حضرت عباس کو پھر کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا۔

تھوڑی دیر کے بعد امام حسین نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر پھر عباس سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی آپ نے سعی بلیغ شروع کردی جب بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے۔ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا کہ دشمنوں نے آکر اسے بند کر دیا۔

دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا حتی کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے اور اپنا تعارف کرایا لیکن کچھ نہ بنا ۔

مورخین لکھتے ہیں کہ نویں تاریخ کو شمر کو فہ واپس گیااور اس نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ اگرحسین (ع) بیعت نہیں کرتے تو انھیں قتل کرکے ان کی لاش پرگھوڑے دوڑادے اور اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو شمر کو چار ج دے دے ہم نے اسے حکم تعمیل حکم یزید دے دیا ہے۔

ابن زیاد کا حکم پاتے ہی ابن سعد تعمیل پر تیار ہو گیا۔اسی نویں تاریخ کو شمر نے حضرت عباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیش کش کی انھوں نے بڑی دلیری سے اسے ٹھکرادیا
( تفصیل کے لیے ملاخطہ ہوذکر العباس از176تا182)

اسی نویں کی شام آنے سے پہلے شمر کی تحریک سے ابن سعد نے حملہ کاحکم دے دیا۔امام حسین (ع) خیمہ میں تشریف فرما تھے۔آپ کو حضرت زینب(ع) پھر حضرت عباس (ع) نے دشمن کے آنے کی اطلاع دی۔حضرت نے فرمایا کہ مجھ پر ابھی غنودگی طاری ہو گئی تھی۔میں نے آنحضرت کو خواب میں دیکھا۔انھوں نے فرمایا کہ انک تروح غدا حسین (ع) تم کل میرے پا س پہنچ جاؤ گے .

جناب زینب رونے لگیں اور امام حسین (ع) نے حضرت عباس (ع) سے فرمایا کہ بھیا تم جاکر ان دشمنوں سے ایک شب کی مہلت لے لو۔حضرت عباس(ع) تشریف لے گئے اور لڑائی ایک شب کے لیے ملتوی ہو گئی۔ تا کہ یزیدی لشکر کو ایک رات اور یہ سوچنے کاموقع مل جائے اور نواسہ رسول یہ رات اپنے پروردگارکی عبادت اور دعا میں بسر کریں ۔رات کی تاریکی صحرائے کربلا میں ہرطرف پھیل چکی تھی

۔امام حسین (ع) نے اہل حرم کے خیموں کی پشت پر خندق کھودنے کا حکم دیا اور جب خندق تیار ہوگئی تو اس میں آگ جلوادی تا کہ دشمن کا لشکر پیچھے سے خیموں پر حملہ نہ کرسکے اور پھر پشت خیمہ سے مطمئن ہو گئے تو حضرت امام حسین علیہ السلام نےاپنے اصحاب کو خیمے میں طلب کیا اور چراغ گل کرکے فرمایا جوجانا چاہتا ہے وہ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاکر چلا جائے ۔لیکن امام مظلوم علیہ السلام کے اصحاب باوفا نے اس بات کا پختہ عزم رکھا تھا کہ وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے نواسۂ رسول (ص) اور دین کا دفاع کریں گے ۔

رفقاء سے سیدنا حضرت امام حسین علیہ السلام کا تاریخی خطاب

ابن سعد کے دستے واپس لوٹنے کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے رفقاء کو جمع کیا۔ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے نہایت فصیح و بلیغ خطاب فرمایا کہ

’’میں کسی کے ساتھیوں کو اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر نہیں سمجھتا اور نہ کسی کے اہل بیت کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا دیکھتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ تم سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا کرے گا۔ اگر تم میں سے کوئی جانا چاہتا ہے تو رات کی تاریکی میں چلا جائے۔ بے شک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں جب مجھے قتل کریں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہیں ہو گی مگر آپ علیہ السلام کے اصحاب اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے

’’اے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے، ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، ہاتھوں اور جسموں سے آپ رضی اللہ عنہ کا دفاع کریں گے۔ جب ہم قتل ہو جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔‘‘
(البدایہ والنہایہ، 8 / 176 – 177)

آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے جذبات سن کر انہیں اجازت مرحمت فرمائی اور پھر آپ کے اصحاب نے آپ کی معیت میں رات بھر نوافل ادا کئے اور بارگاہِ ایزدی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ مغفرت کی دعائیں مانگیں۔
(البدایہ والنہایہ، 8 / 177)، (ابن اثیر، 4 / 59)

نو محرم کی رات کو صحرائے کربلا میں خدا کے برگزیدہ ،باایمان اور شجاع بندوں کی عبادت و مناجات کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب تعداد میں تھوڑے تھے لیکن پہاڑ سے زیادہ ثابت قدم تھے ۔چنانچہ ایک لمحے کے لئے بھی سیّد الشّہدا علیہ السلام کی مددو نصرت سے غافل نہ ہوئے .

حسین (ع) ابن علی (ع) نے فطرتیں بدلی ہیں اک شب میں
بجھی ہے شمع اور محفل سے پروانے نہیں جاتے

72 جان نثار ، اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے کھڑے تھے اور حقیقی معنوں میں “کل ایمان “ کل کفر و نفاق سے جنگ و مقابلے کے لئے تیار تھا ۔

امام حسین نے اس مختصر ترین فوج کو منظم کیا۔ میمنہ پر زبیر بن قیس کو اور میسرہ پر حبیب بن مطہر کو متعین کرکے علم عباس کو مرحمت فرمایا ۔ جنگ کے آغاز سے پیشتر اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی اور ان سے تائید اور نصرت چاہی۔ اس کے بعد اتمام حجت کے لیے دشمنوں کی صفوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

” اے لوگو! جلدی نہ کرو ۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کاجو حق ہے اسے پورا کرلینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو ۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلوگے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی ۔ تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے “

جونہی آپ تقریر کے اس حصے پر پہنچے تو خیموں سے اہل بیت کی مستورات کی شدت رنج سے چیخیں نکل گئیں۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اور اپنے بھائی عباس کو انہیں چپ کرانے کے لیے بھیجا۔ جب خاموشی طاری ہوئی تو آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

” لوگو ! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں ۔ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے رسول پر ایمان لائے؟ کیا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ میرے والد کے چچا نہ تھے؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہ تھے؟ کیا تمہیں رسول اللہ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے؟

اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے۔ ہے ۔ تو بتاؤ کہ تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا ہے؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے میرے متعلق رسول اللہ کی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کرسکتے ہو ۔ تم مجھے بتاؤ کہ کیا آپ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے “

لیکن کوفیوں اور ان کے سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صرف حر بن یزید تمیمی پر آپ کی اس تقریر کا اثر ہوا اور وہ یہ کہتے ہوئے حضرت امام حسین کے لشکر میں آ شامل ہوا۔

” یہ جنت یا دوزخ کے انتخاب کا موقع ہے۔ میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے “

نو یں محرم روز تا سو عا بھی کہتے ہیں
امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ نویں محرم روز تا سو عاہے کہ اس دن فوج یزید نے امام حسین اوران کے انصار کاگھیراؤ کرکے لوگوں کوان کے قتل پرآمادہ کیا ابن مرجانہ اورعمر سعد اپنے لشکر کی کثرت پرخوش تھے اورامام حسین کوان کی فوج کی قلت کے با عث کمزور ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہوگیاتھا کہ اب امام حسین کاکوئی یارومدد گارنہیں آسکتا اورعراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کریں گے امام جعفر صادق نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب وضعیف یعنی امام حسین پر میرے والد بزرگوارفدادقربان ہو ں ۔

آٹھویں محرم الحرام

آٹھویں محرم کی شب کو خیمہ آلِ محمد پر پانی بند ہو گیا۔ پیاس کی شدت نے بچوں کو بے چین کر دیا


آٹھویں محرم الحرام بروزبدھ کی شب کو خیمہ آلِ محمد پر پانی بند ہو گیا۔ پیاس کی شدت نے بچوں کو بے چین کر دیا ۔امام حسین (ع) نے حالات کو دیکھ کر حضرت عباس کو پانی لانے کا حکم دیا آپ چند سواروں کو لے کر تشریف لے گئے اور بڑی مشکلوں سے پانی لائے۔


وَلِذَالِکَ سُمِیَ العَبَّاسُ السقَاء اسی سقائی کی وجہ سے حضرت عباس(ع) کو سقاء کہا جاتا ہے۔


رات گزرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو یزید ابن حصین صحرائی نے بااجازت امام حسین (ع)، ابن سعد کو فہمائش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔


اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں حسین (ع) کو پانی دے کر حکومت چھوڑدوں ۔ امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ابن حصین اور ابن سعد کی گفتگو کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے خیموں کے گرد خندق کھودنے کاحکم دیا۔


اس کے بعد حضرت عباس(ع) کو حکم دیا کہ کنواں کھود کر پانی برآمد کرو۔آپ نے کنواں تو کھودا۔لیکن پانی نہ نکلا۔


حضرت عباس علیہ السلام


حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔


ولادت با سعادت

حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اھلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھاحضرت علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جوانساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسین (ع) کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شہید ہوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی ۔


ابتدائی زندگی

حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا´ علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے ۔


جنگ صفین

جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے ۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ھیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ھیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ھے۔


واقعہ کربلا اور حضرت عباس علیہ السلام

واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔


شہادت

دس محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہ بنت الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباس کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔


ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔


ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے

سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے

ساتویں محرم الحرام

ساتویں محرم الحرام بروزمنگل عمر ابن حجاج کو پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا کہ امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے پھر مزید احتیاط کے لیے چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا۔ اور پانی کی بندش کر دی گئی۔

پانی بند ہو جانے کے بعد عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی جس کا جواب حضرت عباس نے دیا۔ آپ نے غالباََ طعنہ زنی کے جواب میں خیمہ سے انیس قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔

اور یہ بتادیا کہ ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے۔لیکن ہم اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں۔

چھٹی  محرم الحرام

چھٹی  محرم الحرام کو ابن زیاد نے عمر سعد کو خط میں لکھا کہ امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے چھٹی محرم الحرام بروز پیر کو خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار کعب ابن الحروکوتین ہزار،حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ان کے علاوہ چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا کہ اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں،ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں۔

تجھے چاہئے کہ بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے۔ اسی تاریخ کو خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں عمر ابن سعد کے لیے لکھا کہ یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے۔اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے۔

ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی عمر سعدکے نام ایک خط لکھا کہ مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے تو چھپ کر باتیں کرتا ہے۔دیکھ میرا خط پاتے ہی امام حسین (ع) پر پانی بند کر دو اور انھیں موت کے گھاٹ اتار نے کی جلد سے جلد کوشش کرو۔

پانچویں محرم الحرام

پانچویں محرم الحرام یوم یک شنبہ اتوار کو شیث ابن ربعی کو چار ہزار،عروہ ابن قیس کو چار ہزار سنان ابن انس کو دس ہزار،محمد ابن اشعث کو ایک ہزار ۔عبداللہ ابن حصین کو ایک ہزار کا لشکر دے کر کربلا روانہ کر دیا گیا۔

بیاں سرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا قبلہ روضہ شبیر ہو جائے
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ

چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ کوابن زیاد نے مسجد جامع میں ایک خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین (ع) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور کہا کہ حکم یزید سے تمھارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں تم اس کے دشمن حسین (ع) سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ۔

اس کے کہنے سے بے شمار لوگ آمادہ ء کر بلا ہو گئے اور سب سے پہلے شمر نے روانگی کی درخواست کی ۔

چنانچہ شمر کو چارہزار،ابن رکاب کو دوہزار،ابن نمیر کو چار ہزار ،ابن رھینہ کوتین ہزار،ابن خرشہ کو دو ہزار سواردے کر روانہ کر بلا کردیا گیا
جو کربلا میں ہوئی تھی نازل خُدا کی آیت حسین وہ ہے

وہ جس کی قرآں نے بارہا دی ہے خود شہادت حسین وہ ہے

لکھی ہے دینِ خُدا کی جس نے لہو سے قسمت حسین وہ ہے

وہ بعد نبیوں کے جس کی جاری رہی ھدایت حسین وہ ہے

حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا

حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب کا
(صفدر ہمدانی

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ

تیسری محرم الحرام یوم جمعہ کو عمر ابن سعد پانچ ، چھ اور بقول علامہ اربلی بائیس ہزار سوار و پیادے لے کر کربلا پہنچا اور اس نے امام حسین (ع) سے تبادلہ خیالات کی خواہش کی۔

حضرت نے ارادہ کوفہ کا سبب بیان فرمایا۔اس نے ابن زیاد کوگفتگو کی تفصیل لکھ دی اور یہ بھی لکھا کہ امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ اگر اب اہل کوفہ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس جانے کوتیارہوں ۔ابن زیاد نے عمر بن سعد کے جواب میں لکھا کہ اب جب کہ ہم نے حسین (ع) کو چنگل میں لے لیا ہے تو وہ چھٹکارا چاہتے ہیں۔

یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ان سے کہہ دو کہ یہ اپنے تمام اعزاواقرباسمیت بیعت بزید کریں یاقتل ہونے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔میں بیعت سے پہلے ان کی کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔

اسی تیسری تاریخ کی شام کو حبیب ابن مظاہر قبیلہ ابنی اسد میں گئے ا ور ان میں سے جانبازامداد حسینی کے لیے تیار کئے وہ انھیں لارہے تھے کہ کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔اس نے چار سوکالشکر بھیج کر اس کمک کو روکوا دیا۔

تیسر ی محرم کے اعمال
یہ وہ دن ہے کہ جس میں حضرت یو سف قید خا نے سے آزاد ہو ئے تھے جو شخص اس دن کا رو زہ رکھے حق تعا لی اس کی مشکلات آسان فرما تا ہے اوراس کے غم دو ر کر دیتاہے ۔ حضرت رسو ل اللہ سے روایت ہوئی ہے کہ اس دن کاروزہ رکھنے والے کی دعا قبو ل کی جا تی ہے ۔

دو محرم الحرام امام حسین علیہ السلام اپنے ساتھیوں اور خاندان کے ہمراہ کربلا پہنچے

 امیر معاویہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکے اصول دین کی خلاف ورزی کی

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد شورائیت پر تھی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ادوار اس کی بہترین مثال تھے۔ حضرت حسن بن علی سے امیر معاویہ نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہ کریں گے مگر حضرت امیر معاویہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکے اسی اصول دین کی خلاف ورزی کی تھی کیونہ اسلامی نقطہ حیات میں شخصی حکومت کے قیام کا کوئی جواز نہیں ۔ ابھی تک سرزمین حجاز میں ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے جنہوں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دور دیکھا تھا ۔ لٰہذا ان کے لیے امیر معاویہ کی غلط روایت قبول کرنا ممکن نہ تھا ۔ امام حسین عليہ السلام نے ان ہی اصولوں کی خاطر یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

یزید کا ذاتی کردار
یزید کا ذاتی کردار ان تمام اوصاف سے عاری تھا جو امیر یا خلیفہ کے لیے شریعت اسلامیہ نے مقرر کیے ہیں۔ سیروشکار اور شراب و شباب اس کے پسندیدہ مشاغل تھے لٰہذا ذاتی حیثیت سے بھی کسی فاسق و فاجر کو بطور حکمران تسلیم کرنا امام حسین عالی مقام کے لیے کس طرح ممکن ہو سکتا تھا

بیعت پر اصرار
یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد حاکم مدینہ ولید بن عقبہ کی وساطت سے بیعت طلب کی ولید نے سختی سے کام نہ لیا لیکن مروان بن الحکم بزور بیعت لینے کے لیے مجبور کر رہا تھا۔ ان حالات میں امام حسین عليہ السلام نے سفر مکہ اختیار کیا اور وہاں سے اہل کوفہ کی دعوت پر کوفہ کے لۓ روانہ ہوئے ۔

اہل کوفہ کی دعوت
جب امام حسین عليہ السلام مکہ پہنچے تو اہل کوفہ نے انھیں سینکڑوں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہ خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کر سکیں لیکن غدار اہل کوفہ نے ان سے غداری کی اور اپنے وعدوں سے پھر کر امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہ دیا۔

27 رجب60 ہجری میں حضرت امام حسین مع اہل و عیال مکہ روانہ ہو گئے
ولید بن عتبہ نے امام حسین اور عبداللہ بن زبیر کو قاصد کے ذریعہ بلایا ۔ ابھی تک امیر معاویہ کی وفات کی خبر مدینہ میں عام نہ ہوئی تھی ۔ تاہم بلاوے کا مقصد دونوں حضرات نے سمجھ لیا ۔امام حسین سے جب بیعت کے لیے کہاگیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کر سکتا۔ جب بیعت عام ہوگی اس وقت آ جاؤں گا ۔ ولید راضی ہو گیا اور انھیں واپس لوٹنے کی اجازت دے دی ۔ عبداللہ بن زبیر ایک دن کی مہلت لے کر مکہ روانہ ہوگئے۔ بعد میں ان کا تعاقب کیا گیا مگر اس اثناء میں وہ کہیں دور جا چکے تھے۔ جب مروان کو اس صورت حال کا علم ہوا تو ولید سے بہت ناراض ہوا اور کہا کہ تم نے بیعت کا وقت کھو دیا ۔ اب قیامت تک ان سے بیعت نہ لے سکو گے۔ امام حسین عجیب الجھن سے دوچار تھے اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے تو بیعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا ۔ لٰہذا وہ27 رجب60 ہجری میں مع اہل و عیال مکہ روانہ ہو گئے۔ مکہ پہنچ کر شعب ابی طالب میں قیام کیا۔

مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی
امام حسین نے کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ اصل صورت حال معلوم کریں۔ مسلم کوفہ پہنچے کے پہلے ہی دن بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ کوفہ کے اموی حاکم بشیر نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا۔ کوفیوں کے جذبات سے متاثر ہو کر مسلم بن عقیل نے امام حسین کو کوفہ آنے کا لکھا۔

ابن زیاد کوفہ کوفہ کا حاکم مقرر
ان حالات کی بنا پر یزید نے فوراً نعمان کو معزول کر دیا اور عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کر دیا۔ کوفہ پہنچ کر اس نے اعلان کیا کہ جو لوگ مسلم سے اپنی وفاداریاں توڑ لیں گے انہیں امان دی جائے گی ۔ اس کے بعد ہر محلہ کے رئیس کو بلایا اور اسے اپنے اپنے علاقہ کے امن و امان کا ذمہ دار قرار دے کر مسلم بن عقیل کی جائے پناہ کی تلاش شروع کردی ۔ اس وقت مسلم ایک محب اہل بیت ہانی بن عروہ کے ہاں چلے گئے ۔ ابن زیاد نے ہانی کو بلا کر مسلم کو پیش کرنے کا حکم دیا اور ہانی نے انکار کر دیا جس پر انھیں قید میں ڈال کر مار پیٹ کی گئی ۔

مسلم بن عقیل کی گرفتاری اور شہادت

شہر میں افواہ پھیل گئی کہ ہانی قتل ہو گئے ۔ یہ خبر سنتے ہی مسلم نے اٹھارہ ہزار ہمنواؤں کے ساتھ ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ ابن زیاد کے پاس اس وقت صرف پچاس آدمی موجود تھے۔ چنانچہ اس نے حکمت سے کام لیا اوران رئیسان کوفہ کی ترغیب سے لوگوں کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔آخر کام مسلم کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے ۔ مجبوراً مسلم بن عقیل نے ایک بڑھیا کے گھر پناہ لی لیکن اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر خود جا کر ابن زیاد کو اطلاع کر دی ۔ابن زیاد نے یہ اطلاع پا کر مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت مسلم بن عقیل تن تنہا لڑنے پر مجبور ہوئے جب زخموں سے چور ہوگئے تو محمد بن اشعث نے امان دے کر گرفتار کر لیا ۔ لیکن آپ کو جب ابن زیاد کے سامنے پیش کیاگیا تو اس نے امان کے وعدہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔ مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرے قتل کی اطلاع امام حسین تک پہنچا دینا اور انھیں میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ ’’اہل کوفہ پر ہرگز بھروسہ نہ کریں اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں وہیں سے واپس چلے جائیں‘‘ ۔ ابن اشعث نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ایک قاصد حضرت امام حسین کی طرف روانہ کر دیا۔

امام حسین کا سفر کوفہ
اہل مکہ اور مدینہ نے آپ کو کوفہ جانے سے باز رکھنے کے لیے پوری کوششیں کیں کیونکہ کوفیوں کا سابقہ غدارانہ طرز عمل ان کے سامنے تھا۔ عمرو بن عبدالرحمن ، عبداللہ ابن عباس ، عبداللہ بن زبیر سب نے مشورہ دیا کہ ’’چونکہ کوفہ یزید کی حکومت کے تحت ہے وہاں ان کی افواج اور سامان سب کچھ موجود ہے اور کوئی قابل اعتماد نہیں اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ مکہ ہی میں رہیں۔‘‘ عبداللہ ابن زبیر نے تجویز کیا کہ آپ مکہ میں رہ کر اپنی خلافت کی جدوجہد کریں ہم سب آپ کی مدد کریں گے ۔

لیکن جب امام حسین رضا مند نہ ہوئے تو حضرت عبداللہ ابن عباس نے آپ کو کوفہ کی بجائے یمن جانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ ’’اگر کوفہ کاسفر آپ کے نزدیک ضروری ہے تو پہلے کوفیوں کو لکھیے کہ وہ یزید کے حاکموں کو وہاں سے نکالیں پھر آپ وہاں کا قصد کریں۔‘‘ لیکن امام حسین نے کہا کہ ’’اے ابن عمر میں جانتا ہوں کہ تم میرے خیر خواہ ہو ۔ لیکن میں عزم کر چکا ہوں۔‘‘ اس پر ابن عباس نے کہا کہ ’’اگر آپ نہیں مانتے تو کم از کم اہل و عیال کو ساتھ نہ لے جائیے مجھے ڈر ہے کہ عثمان کی طرح آپ بھی بال بچوں کے سامنے ذبح کیے جائیں گے۔ ‘‘ لیکن ان تمام ترغیبات کے باوجود امام حسین اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور بالآخر 3 ذوالحج 60 ھ کو مکمہ معظمہ سے کوفہ کے لیے چل پڑے۔ آپ کی روانگی کے بعد آپ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر نے ایک عریضہ اپنے لڑکوں عون اور محمد کے ہاتھ روانہ کیا کہ :
” میں آپ کو اللہ تعالٰی کا واسطہ دیتا ہوں کہ جونہی میرا خط آپ کو ملے لوٹ آئیے کیونکہ جس جگہ آپ جارہے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہاں آپ کی ہلاکت اور آپ کے اہل بیت کی بربادی ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ ہلاک ہوگئے تو دنیا تاریک ہو جائے گی ۔ کیونکہ اس وقت آپ ہی ہدایت یافتہ لوگوں کا علم اور مومنوں کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ آپ سفر میں جلدی کیجیے ۔ میں بھی جلد آپ کے پاس پہنچتا ہوں “

حضرت عبداللہ بن جعفر ، عمر بن سعد حاکم مکہ کا سفارشی خط لے کر امام حسین سے ملے اور انھیں بتایا کہ کوفہ کے لوگوں پر اعتماد مناسب نہیں عمر بن سعد اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ آپ مکہ لوٹ آئیں تو میں یزید کے ساتھ آپ کے معاملات طے کرادوں گا اور آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ لیکن آپ نے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق سفر کوفہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ مجبور ہو کر عبداللہ بن جعفر واپس ہو گئے مگر عون اور محمد کو ساتھ رہنے دیا۔ راستہ میں مشہور شاعر فرزوق آپ سے ملا اور امام حسین سے عرض کی
” لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ۔ قضاء الہی آسمان سے اتری ہے اور اللہ تعالٰی جو چاہتا ہے کرتا ہے “

لیکن آپ نے اس کے باوجود سفر کو بدستور جاری رکھا ۔

ابن زیاد کی تیاریاں اور تمام اہم راستوں کی ناکہ بندی
ابن زیاد کے حکم سے پولیس کے افسر حصین بن نمیر نے قادسیہ سے جبل لعل تک سواروں کو مقرر کر دیا اور تمام اہم راستوں کی ناکہ بندی کر دی ۔ امام حسین کے قاصد قیس کو ابن زیاد کے آدمیوں نے گرفتار کرکے قتل کر دیا ۔ جب آپ بطن رملہ سے آگے بڑھے تو انھیں عبداللہ ابن مطیع ملے ۔ انھوں نے آپ کو آگے جانے سے روکا محمد بن اشعث کے بھیجے ہوئے قاصد نے آپ کو مقام ثعلبیہ پر مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر دی ۔ اب آپ سفر کوفہ کے بارے میں متردد ہوئے۔ ساتھیوں نے واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن مسلم کے بھائیوں نے اپنے بھائی کے خون کا انتقام لینے کی خاطر سفر جاری رکھنے کے لیے زور دیا۔ جس کے بعد پوزیشن واضح ہو گئی۔ آپ کے ساتھ دوران سفر بہت سے بدوی شامل ہو چکے تھے۔ آپ نے ان سب کو جمع کیا اور فرمایا جو لوگ واپس جانا چاہیں انہیں اجازت ہے۔ چنانچہ سوائے ان جان نثاروں کے جو مدینہ سے ساتھ آئے تھے سب ساتھ چھوڑ گئے۔

امام حسین کی پیش قدمی روکنے کے لیے حر بن یزید تمیمی کو روانگی
ابن زیاد نے امام حسین کی پیش قدمی روکنے کے لیے حر بن یزید تمیمی کو روانہ کیا۔ ذمی حشم کے مقام پر آپ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ امام حسین نے اسے کوفیوں کے خطوط کے دو تھیلے منگوا کر دکھائے اور کہا کہ ’’اب آپ لوگوں کی رائے بدل گئی ہے۔ تو میں واپس جانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ لیکن حر نے کہا کہ ہمیں تو آپ کو گرفتار کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ امام حسین نے اپنا سفر کوفہ جاری رکھا۔

آپ نے مقام بیضہ پر خطبہ دیا ۔ جس میں اپنےمقاصد کی وضاحت کی ۔ آپ نے فرمایا:
” لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم ، محرمات الہٰی کے حلال کرنے والے ، خدا کا عہد توڑنے والے ، خدا اور رسول کی مخالفت اور خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قول و فعل کے ذریعہ سے غیرت کا اظہار نہ کیا تو خدا کا حق ہے کہ اس شخص کو اس بادشاہ کے ساتھ دوزخ میں داخل کر دے۔ لوگو! خبردار ہو جاؤ ۔ ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی اور رحمٰن کی اطاعت چھوڑ دی ہے۔ ملک میں فساد پھیلایا ہے۔ حدود الہٰی کو معطل کر دیا ہے ۔ مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہوئی حرام کر دیا ہے۔ اس لیے مجھ کو غیرت میں آنے کا زیادہ حق ہے “

کچھ دور جاکر طرماج بن عدی سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے آپ کو یمن چلنے کی دعوت دی لیکن آپ نے یہ پیش کش شکریہ کے ساتھ ٹال دی ۔

میدان کربلا آمد
امام حسین کا قافلہ اور حربن یزید کا لشکر ساتھ ساتھ آگے کی طرف چلتے رہے جہاں کہیں آپ کے قافلہ کا رخ صحرائے عرب کی طرف ہو جاتا حر آپ کو روک دیتا اور رخ پھیر کر کوفہ کی طرف کر دیتا۔ چلتے چلتے آپ نینوا پہنچے ۔ وہاں ابن زیاد کے ایک قاصد نے حر کو ایک خط پہنچایا جس میں حکم تھا
” جونہی میرا یہ خط اور میرا قاصد تم تک پہنچیں حسین اور ان کے ساتھیوں کو جہاں وہ ہیں وہیں روک لو اور انھیں ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو بالکل چٹیل میدان ہو اور جہاں کوئی سبزہ اور پانی کا چشمہ وغیرہ نہ ہو میرا یہ قاصد اس وقت تک تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا ۔ جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے تم نے اس کی حرف بحرف تعمیل کی “

حر نے تمام صورت حال سے امام حسین کو آگاہ کیا اور کہا کہ ’’اب میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا ۔ ‘‘بالآخر یہ مختصر سا قافلہ 2 محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کو کربلا کے میدان میں اترا۔

کربلا (عربی میں كربلاء ) عراق کا ایک مشہور شہر ہے جو بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں صوبہ الکربلا میں واقع ہے۔ یہ کربلا کے واقعے اور امام حسین علیہ السلام کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے پرانے ناموں میں اسے نینوا اور الغادریہ شامل ہیں۔ اس کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے جو محرم اور صفر کے مہینوں میں زائرین کی وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے۔

واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا جس سے آپ کے چہرہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں۔

صاحب مخزن البکا لکھتے ہیں کہ کربلا پر درود کے فوراََ بعد جنابِ ام کلثوم نے امام حسین (ع) سے عرض کی،بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارادل دھل رہا ہے۔ امام حسین (ع) نے فرمایا بس یہ وہی مقام ہے جہاں بابا جان نے صفیں کے سفر میں خواب دیکھا تھا۔یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارا خون بہے گا۔کتاب مائتین میں ہے کہ اسی دن ایک صحابی نے ایک بیری کے درخت سے مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہو گیا۔

اسی تاریخ کو آپ کے حکم سے برلبِ فرات خیمے نصب کئے گئے ۔حرنے خیمے لگانے پر مزاحمت کی اور کہا کہ فرات سے دور خیمے نصب کیجئے۔ عباس ابن علی کو غصہ آگیا امام حسین (ع) نے غصہ کوفروکیا۔اور بقول علامہ اسفر ائنی تین یاپانچ میل کے فاصلہ پر خیمے نصب کئے گئے ۔

نصبِ خیام کے بعد ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوئے تھے۔کہ چند اشعار آپ کی زبان پر جاری ہوئے۔جنابِ زینب نے جونہی اشعار کو سنا اس درجہ روئیں کہ بے ہوش ہوگئیں۔حضرت امام حسین رخسار پر پانی چھڑک کر انہیں ہوش میں لائے ۔ پھر آلِ محمد داخل خیمہ ہوئے۔اس کے بعد ساٹھ ہزار درہم پر سولہ مربع میل زمین خرید کر چند شرائط کے ساتھ انھیں کو ہبہ کر دی۔

امام حسین (ع) کا خط اہل کوفہ کے نام

کربلا پہنچنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کیلئے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسہر کے ذریعہ سے ایک خط ارسال فرمایا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تمھاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں الخ۔قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔اور انھیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکر پیش کر دیا گیا۔ابن زیاد نے خط مانگا۔قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے اس خط کو کھا لیاابن زیاد نے انہیں بضرب تازیانہ شہید کر دیا۔

عبیداللہ ابن زیاد کا خط امام حسین (ع) کے نام

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کے کربلا پہنچنے کے بعد حرنے ابن زیاد کو آپ کی رسیدگی کربلا کی خبردی۔ا س نے امام حسین (ع) کو فوراََ ایک خط ارسال کیا۔جس میں لکھا کہ مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ،یا آپ کو قتل کر دوں۔امام حسین (ع) نے اس خط کا جواب نہ دیا۔اَلقَاہُ مِن یَدِہ اور اسے زمین پر پھینک دیا۔ اس کے بعد آپ نے محمد بن حنفیہ کو اپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اور تحریر فرمایا کہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیا ہے اور عنقریب عروس موت سے ہم کنار ہو جاؤں گا۔

یکم محرم الحرام کے اہم واقعات

1. آغاز ایام عزاء
محمد و آل محمد (ص) کے حزن واندوہ کا پہلا دن ہے ۔ تمام انبیاء و ملائکہ ، تمام اہل اسلام کے لئے غم اندوہ کا دن ہے ۔

2. یکم محرم الحرام کے دن خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔آپ کے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔

نام ونسب
آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و*کنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی
آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

ہجرت
ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ” تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے” مگر کسی کافر کی ہممت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔

عمر ابن الخطاب ، رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں
ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا “جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔” [صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 ]

مزید ایک موقع پر فرمايا ” اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زندگی کے اہم واقعات


آپ ایک انصاف پسند حاکم تھے۔ یک مرتبہ آپ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جھاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔

جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :
1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔
3-باریک کپڑا نہ پہننا۔
4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔
اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

شہادت
یکم محرم کو ایک ایرانی مجوسی غلام ابولولو فیروز نامی بدبخت نے آپ کو اس وقت شہید کردیا جب آپ نماز پڑھارہے تھے۔آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

3. آج جناب زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی

4. واقعہ شعب ابی طالب (ع)
مولوی شبلی صاحب نے لکھا ہے کہ اہل قریش تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کو محصور کرکے تباہ کر دیا جائے چنانچہ تمام قبائل نے ایک معاہدہ مرتب کیا کہ کوئی شخص خاندان بنی ہاشم سے نہ قرابت کرے نہ ان کے ہاتھ خرید و فروخت کرے نہ ان سے ملے نہ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان جانے دے جب تک وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کے لئے حوالے نہ کر دیں ۔ یہ معاہدہ منصور ابن عکرم نے لکھا اور در کعبہ پر آویزاں کردیا گیا ۔ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان بنی ہاشم کے ساتھ شعب ابو طالب میں پہاڑ کا ایک درہ تھا جو خاندان ہاشم کا موروثی تھا پناہ گزیں ہئے تین سال تک بنی ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ پتے کھا کھا کے بسر کرتے تھے ابن سعد کی روایت ہے کہ بچے جب بھوک سے روتے تھے تو باہر آواز آتی تھی قریش سن سن کر خوش ہوتے تھے ۔(سیرت النبی ،ج/۱ص/۱۸)

علامہ حلبی نے لکھا ہے :
”حضرت ابو طالب (ع) یہ معمول بنا لیا تھا کہ ہررات حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے کہ میرے پاس میرے ہی فرش پر سو رہو پھر جب سب لوگ سو جاتے تھے تو آپ حضرت کو اس جگہ سے ہٹا دیتے اور اپنے بیٹوں یا حقیقی بھائیوں یا چچا زاد بھائیوں سے کسی کو حکم دیتے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر سو رہے اس خوف سے کہ شب کو کوئی دشمن دھوکے سے حضرت کو قتل نہ کر دے“ ( سیرت حلبیہ ،ج/۱ص/۳۴۲)

قریش کے بائیکاٹ ختم ہونے کی وجہ


اس شعب سے نکلنے کی بھی جو صورت ہوئی وہ جناب ابو طالب (ع)کے کمال ایمان کی دلیل ہے جب شعب میں تقریبا تین برس ہو گئے تو ایک روز حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب ابو طالب سے کہا: اے چچا مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ عہد نامہ قریش کے وہ تمام الفاظ جو ظلم اور قطع برادری پر مشتمل تھے کیڑوں نے کھا لئے اور اس میں سے صرف وہ ٹکڑا باقی رہ گیا ہے جس پر خا کا نام لکھا ہوا تھا”و کان ابو طالب لا یسک فی قولہ “ جناب ابو طالب (ع) کا یہ حال تھا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو خبر یا وحی بیان کرتے تھے اس میں ذرہ برابر شک نہیں کرتے تھے یہ سنتے ہی اس پر بھی یقین کر لیا اور شعب سے نکل کر قریش کے پاس گئے اور کہا : کہ جو تم نے عہد نامہ لکھا ہے اسے کیڑا کھا گیا ہے اور خدا کے نام کے سوائے اس کا کوئی مضمون باقی نہیں رہا ۔

محمد (ص) نے مجھ سے ایسا بیان کیا ہے اس کا کاغذ کو منگا کر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی خبر صحیح ہو کہ تم سب ہم لوگوں پر ظلم و قطع رحم کر رہے ہو اور اگر ان کی خبر جھوٹ نکلے تو ہم سب لوگ جان جائیں گے کہ تم لوگ ہی حق پر ہو اور ہم لوگ باطل پر ہیں یہ سن کر سب کے سب جلدی گھڑے ہو گئے اور اس عہد نامہ کو اتار لائے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو فرمایا ہے بالکل صحیح ہے ۔
اب تو ابو طالب کا نفس خوب مضبوط ہو گیا ان کی آواز میں بھی طاقت آگئی کہنے لگے اب تو تم لوگوں پر اچھی طرح واضح ہو گیا کہ اس معاملہ میں تم ہی لوگ ظلم و ستم کرتے اورقطع رحمی کا ارتکاب کر رہے ہو اس پر ان سب نے اپنے اپنے سر جھکالئے پھر اس عہد نامے کے توڑ نے کو آمادہ ہو گئے ۔

4. جنگ ذات الرقاع
یہ واقعہ ۴ ء ہجری کا ہے ، مدینہ منورہ کے اطراف میں جو کفار (قبیلہ انمار ، ثعلبہ اور غطفان ) رہتے تھے وہ لوگ مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہتے تھے لیکن رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چار سو یا سات سو افراد کے ساتھ مدینہ کے باہر تشریف لے گئے جہاں پر ان کفار سے جنگ ہوئی ، یہ جنگ تین دن تک ہوتی رہی آخر کار اسلام کو کامیابی حاصل ہوئی۔ایک قول کی مطابق یہ جنگ ماہ جمادی الاول ۴ ھء میں دشمن مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ھتا لہٰذا آنحضرت (ص) نے اصحاب کو لیکر ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے آگے بڑھے لیکن وہ سامنے نہ آئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔

5. اسلام میں زکات اصول کرنے کی ابتداء

6. یزید کے خلاف اہل مدینہ کا قیام۔

7. یکم محرّم الحرام، کفّار قریش کااصحاب و انصار سےاقتصادی بائیکاٹ
بعض مورخین کے بقول ہجرت نبوی (ص) سے 6 سال قبل یکم محرم کے دن ، حضور اکرم (ص) اور آپ (ع) کے اصحاب و انصار کے بائیکاٹ کے لئے کفّار قریش نے معاہدہ کیا ۔ کفّار کے سرغنے اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرا گئے تھے ، اسی لئے انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو روکنے اور مسلمانوں کو ستانے کے لئے ان کا اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

اس معاہدے کی روسے ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے کسی قسم کالین دین کرے ۔ اس معاہدے کے تحت حضور اکرم (ص) اور آپ (ص) کے انصار واجبات تین سال تک مکے کے نزدیک ایک درے میں محصور رہے جسے شعب ابی طالب کہتے ہیں ۔

8. حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کو اس مدت میں سختیاں جھیلنی پڑیں ، لیکن آپ (ص) کے باوفا اصحاب نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا ، شعب ابی طالب میں محاصرے کے دوران ، پیغمبر اکرم (ص) کے عزیز چچا حضرت ابوطالب اور شریک حیات حضرت خدیجۃ الکبری (ع) نے وفات پائی ۔

قریش کے بعض سردار جو مسلمانوں سے خونی رشتہ رکھتے تھے ، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نادم ہوگئے اور انہوں نے حضور اکرم (ص) اور مسلمانوں کا محاصرہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ معاہدے کا متن دیکھنے گئے تو وہ انگشت بدنداں رہ گئے ، پوری تحریر کو سوائے خداوند عالم کے نام کے دیمک نے چاٹ لیا تھا ۔اس طرح مسلمانوں کا بائیکاٹ ہجرت سے تین سال قبل 15 رجب کو ختم ہوگیا ۔

9. یکم محرم سنہ 19 ہجری قمری کو اسلامی لشکر نے مصر کو فتح کیا

یہ سرزمین اس وقت رومی بادشاہت کے زیر قبضہ تھی اور اہل مصر رومی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آچکے تھے اور وہ دلی طور پر مسلمانوں کی کامیابی چاہتے تھے ۔ آخر کار اسلامی لشکر نے رومی فوج کو شکست دے کر مصر کے شہر یکے بعد دیگرے فتح کرلئے اور یہ ملک بھی اسلامی حکومت کے دائرے میں شامل ہوگیا ۔

10. یکم محرم سنہ 1011 ہجری قمری کو مشہور مسلمان عالم دین شیخ حسن بن زین الدین نے وفات پائی

وہ عظیم مرجع تقلید شہید ثانی کے فرزند تھے ۔شیخ حسن 959 ہجری قمری میں جنوبی لبنان میں واقع شہر جیل عامل میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے بچپن سے ہی قرآن کریم اور دیگر دینی علوم حاصل کرنا شروع کئے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وہ حوزہ علمیہ نجف اشرف گئے ۔ آپ نے قوی حافظے اور بھر پور صلاحیتوں کی بنا پر بہت جلدی دینی علوم پر عبور حاصل کرلیا ۔ انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کیں ۔ ان کی مشہور ترین کتاب” معالم الدین و ملاذ المجتہدین “ہے ۔ اس کتاب کی وجہ سے وہ صاحب معالم کے لقب سے مشہور ہوئے ۔

پہلی محر م کی رات کے اعمال

کتاب اقبال میں اس رات کی چندنمازیں ذکر فرمائی ہیں :

۱۔ سو رکعت نماز کہ ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید پڑھے :

۲۔ دو رکعت نماز کہ پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ انعام اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ یاسین پڑھے :

۳۔ دورکعت نماز کہ ہر رکعت میں سو رئہ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے

پہلی محر م کادن
یہ سال کا پہلا دن ہے اور اس کے لئے دوعمل بیان ہوئے ہیں ۔

۱۔ روزہ رکھے اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا سے روایت کی ہے ۔کہ جوشخص پہلی محر م کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کر ے تو وہ اس کی دعا ء قبو ل فرما ئے گا۔ جیسے حضرت زکر یا علیہ السلام کی دعاء قبو ل فر مائی تھی ۔

۲۔ امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ پہلی محرم کے دن دو رکعت نمازادا فرماتے اورنماز کے بعداپنے ہاتھ سو ئے آسما ن بلند کر کے دعاء پڑھتے تھے :

شیخ طوسی نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے ۔ یو م عاشور کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے ۔
حوالہ جات

1. ^ ابن عساکر
2. ^ ابن عساکر
3. ^ دمع السجوم ص 252
4. ^ خصائص الکبریٰ ، الصواحق المحرقہ
5. ^ بخاری شریف، مشکوٰۃ ، مستدرک الحاکم، خصائص الکبریٰ
6. ^ صحیح البخاری
7. ^ ترمذی شریف
التماس دعا

 

1433 ھ کا سال تاریخ کا حصہ بن کر اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے، جسکے ساتھ ہی 1434 ھ کا سال ہر سال کی مانند محرم الحرام کی سرخی لئے وقت کے افق پر نمودار ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا مہینہ ہے ، اسی ماہ سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے : یقینا اللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور( یہ تعداد ) اسی دن سے ہے جب سے آسمان وزمین کواس نے پیدا فرمایا تھا ، ان میں سے چارحرمت وادب والے مہینے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو ، اورتم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ، اورجان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے -

التوبۃ ( 36 ) اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سال کے بارہ میں مہینے ہیں جن میں سے چارحرمت والے ہیں ، تین تومسلسل ہیں ، ذوالقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورجمادی اورشعبان کے مابین رجب کامہینہ جسے رجب مضرکہا جاتا ہے )
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2958 ) ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :
لہذا تم ان میں اپنی جانوں پرظلم وستم نہ کرو } اس کا معنی یہ ہےکہ :
یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سےاس آيت { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں مروی ہے :
تم ان سب مہینوں میں ظلم نہ کرو اورپھر ان مہینوں میں سے چارکو مخصوص کرکےانہيں حرمت والے قراردیا اوران کی حرمت کوبھی بہت ‏عظيم قراردیتے ہوئے ان مہینوں میں گناہ کاارتکاب کرنا بھی عظیم گناہ کا باعث قرار دیا اوران میں اعمال صالحہ کرنا بھی عظيم اجروثواب کاباعث بنایا ۔

قتادہ رحمہ اللہ تعالی اس آیت : { لھذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو } کے بارہ میں کہتے ہيں

حرمت والے مہینوں میں ظلم وستم کرنادوسرے مہینوں کی بنسبت یقینا زيادہ گناہ اوربرائي کا باعث ہے ، اگرچہ ہرحالت میں ظلم بہت بڑي اور عظيم چيز ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالی اپنے امرمیں سے جسے چاہے عظيم بنا دیتا ہے :

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہيں :
بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کواختیارکرکے اسے چن لیا ہے : فرشتوں میں سے بھی پیغبر چنے اورانسانوں میں سے بھی رسول بنائے ، اورکلام سے اپنا ذکر چنا اورزمین سے مساجد کواختیار کیا ، اورمہینوں میں سے رمضان المبارک اورحرمت والے مہینے چنے ، اورایام میں سے جمعہ کا دن اختیارکیا ، اورراتوں میں سے لیلۃ القدر کوچنا ، لہذا جسے اللہ تعالی نے تعظیم دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو ، کیونکہ اہل علم وفہم اورحل وعقد کے ہاں امور کی تعظیم بھی اسی چيز کےساتھ کی جاتی ہے جسے اللہ تعالی نے تعظيم دی ہے ۔

تفسیر ابن کثیر اور تفسیر ابن کثیر سورۃ التوبۃ آیت نمبر ( 36 ) میں ہے ۔
محرم الحرام کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھنے کی فضیلت :

ابوہریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( رمضان المبارک کے بعدافضل ترین روزے اللہ تعال کے مہینہ محرم الحرام کے روزے ہيں )
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1982 ) ۔


:دیگر مضامین
(15.11.2012) برطانیہ میں عشرہ محرام الحرام 2012 کون کہاں کہاں خطاب کرے گا
(12.11.2012)  صدائے وطن کے مدیر اعلی سید ظفر حسین کا عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ پر خصوصی پیغام
(09.11.2012) شاعر مشرق اور مفکر اسلام علامہ اقبال کی زندگی کے مثالی روشن ایام
(08.11.2012)  اوباما 270 سے زیادہ الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے امریکا کے 45ویں صدر منتخب
(07.11.2012)  امریکہ کہ ادارے زنیبہ میں محفل غدیر کا ایک اہم اور مقدس اجتماع
(02.11.2012) تسبیح کے دانوں میں پروئے ہوئے ہم لوگ ......۔از : ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.11.2012) یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
(01.11.2012) عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ یکم نومبر 2012۔گرافکس سید اکمل حسین
(01.11.2012) عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ پر تیسرے مصطفیٰ علی ھمٰدانی ایوارڈ کا اعلان
(30.10.2012) یکم نومبر 2012عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔ایک اور اہم سنگ میل
(28.10.2012) عالمی اخبار کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے قارئین اور قلم کاروں کو عید مبارک
(24.10.2012) برطانیہ میں حاجیوں کو لوٹنے والے قزاق ۔اللہ کے مہمانوں سے دھوکہ۔از۔سید اکمل حسین
(21.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔25ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(18.10.2012) ناقصاں را پیر کامل۔۔۔ کاملاں را راہنما ۔ از ۔ ارشاد ہاشمی ۔جرمنی
(17.10.2012) ملالہ یوسف زءی برمنگھم مینں زیر علاج ہے۔طویل نگہداشت کی ضرورت ہے
(16.10.2012) وطن عزیز پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی 61 ویں برسی
(14.10.2012) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔24ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(11.10.2012) ہار گئے ہیں امن کے دشمن اور ملالہ جیت گئی۔صفدر ھمدانی
(10.10.2012) سوات میں ملالہ یوسف زئی پر حملہ۔ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا
(09.10.2012) جل، جنگل اور زمین. مهاپدياترا آگرہ سے 11 اکتوبر کودہلی کی طرف کوچ کرے گی.



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں