15.10.2026, 09:20am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

منزلت علمدار کربلا حضرت عباس بن علی مرتضیٰ علیہ السلام معصومین کی نظر میں
25.11.2012, 01:09am , اتوار (GMT+1)

سید اکمل حسین۔ لندن
محرم کی ہشتم ہو چکی ہے  پہلا عشرہ اپنے مراحل سے ہوتا ہوا احسن طریقے سے انجام پانے کو ہے روز عاشور قریب ہے اور محبت اہل بیت میں ڈوب کر ہر کوئی اپنے اندازہ سے اپنی نذر شہدا کربلا کی نذر کر رہا ہے ۔ مختلف پہلو سے کربلا پر گفتگو  جاری ہے اور قلم کی زبان سے  شان اہلبیت میں سلام نوحے مرثیے اور نثر میں فضائل  اور مصائب بیان کئے جا  رہے  ہیں۔ چند پہلو قارئین کے لئے تلاش کر کے نقل کر رہا ہوں تا کہ قارئین بھی اس سے استفادہ کر سکیں 

ساقی دشت کربلا کی حیات کے چند پہلو 
ابوالفضل عباس  علیہ السلام نے بزرگوں کے دل و فکر کو مسخر کیا، ہر جگہ اور ہر وقت حریت پسندوں کے لئے زندہ جاوید اور ہر دلعزیز  فرد بن گئے؛ کیونکہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے لئے ایک عظیم قربانی رقم کی، اس بھائی کے لئے جو ظلم و جور کے خلاف اٹھے تھے اور مسلمانوں کے لئے عزت جاویداں کمائی اور اسلام کو دائمی و ابدی عظمت عطا کی۔ 
دیکھتے ہیں کہ ہمارے معصومین اس بارے میں  کیا فرماتے ہیں 
جناب عباس علم دار امیر لشکر حسین ، ساقی دشت نینوا کی شان میں؟: 

1. امام سجاد علیہ السلام
تقوی اور فضیلت کی چوٹی پر رونق افروز امـام عـلى بـن الحسین، حضرت زین العابدین علیہ السلام اپنے چچا عباس کے لئے اللہ کی بارگاہ سے طلب رحمت کیا کرتے تھے اور بھائی حسین (ع) کے لئے ان کی قربانیوں کو نیکی کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے اور ان کی جانبازیوں کی مسلسل تعریف و ستائش فرمایا کرتیےتھے۔ 
فرماتے ہیں: 
اللہ تعالی میرے چچا عباس پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے قربانی دی اور آزمائش کی گھڑی سے نہایت خوبصورت انداز میں عہدہ برآ ہوئے۔ انھوں نے اپنے آپ کو بھائی پر قربان کردیا حتی کہ اس راہ میں آپ کے دونوں ہاتھ قلم ہوئے۔ خداوند متعال نے ان دنیاوی ہاتھوں کی جگہ جعفر طیار بن ابی طالب علیہما السلام، کی طرح انہیں بھی دو بال عطا فرمائے جن کے ذریعے وہ جنت میں محو پرواز رہتے ہیں۔  عباس کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں وہ منزلت و مرتبت حاصل ہے کہ روز قیامت تمام شہداء ان کے مقام پر رشک کھاتے ہیں۔ 

1۔یہ امام معصوم کے کلمات ہیں جن سے علمدار کربلا کے حقیقی پہلو عیاں ہوتے ہیں۔ وفا و اطاعت میں ایسے کہ کائنات کے لئے مثال ٹہرے۔ کبھی اپنے زمانے کے امام (ع) سے آگے نہیں بڑھے اور کبھی امام (ع) کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو ترجیح نہیں دی۔ عارف تھے اور معرفت خدا و رسول و امام کے مالک تھے۔ جوشیلے نوجوان نہیں تھے بلکہ عارف و اطاعت گزار تھے۔

2ـ امام صادق علیہ السلام 
امام صادق علیہ السلام رئیس مذہب جعفری ہیں، انسانی علوم کا بے مثل چہرہ ہیں، امین ائمہ و رسول اللہ (ص) ہیں، ہزاروں شاگردوں کے استاد ہیں مذاہب اربعہ کے امام آپ (ع) کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور اپ حضرت ابوالفضل (ع) کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں:
میرے چچا عباس علیہ السلام نافذ بصیرت اور ایمان محکم کے مالک تھے۔ اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا بہترین انداز سے آزمائش سے عہدہ برآ ہوئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔2

کلام امام (ع) کے اہم نکتے:
الف ـ دوراندیشی اور ہوشیاری 
تـیـزبـیـنـى، اور ہوشیاری فکر کی استواری اور رائے کے استحکام کا نتیجہ ہے اور انسان صرف اسی صورت میں یہ استواری اور استحکام حاصل کرسکتا ہے کہ روح و نفس کی تہذیب و تزکیہ کرے، خلوص نیت کا مالک ہو، غرور اور نفسانی خواہشات کو اپنے آپ سے دور کرے اور انہیں اپنے باطن پر مسلط نہ ہونے دے۔ 

تیزبینی اور بصیرت ابوالفضل العباس کی برجستہ ترین خصوصیات میں میں سے ہے۔ تیزبینی اور فکر کی گہرائی کی بدولت ہی امام ہدایت اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی حمایت و پیروی کے لئے اٹھے اور شرف و کرامت کی چوٹیاں سر کردیں اور تاریخ کے صفحات پر امر ہوگئے۔ پس جب تک انسانی اقدار محترم ہیں انسان حضرت عباس کی بے مثل شخصیت کے سامنے سر تعظیم خم کرتا رہے گا۔ 
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارے چچا عباس بن علی علیہ السلام نافذ بصیرت اور ایمان محکم کے مالک تھے۔ اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا اور نہایت خوبصورتی سے آزمائش سے عہدہ برآ ہوئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔ 

ب ـ ایمانِ محکم 
حضرت عباس (ع) کی ایک اہم صفت آپ (ع) کے ایمان محکم سے عبارت ہے۔ ایمان محکم کی نشانی یہ ہے کہ آپ (ع) نے اپنے بھائی ریحانةالرسول (ص) کے ساتھ مل کر جہاد کیا جس سے مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا اور یہ حقیقت روز عاشورا آپ (ع) کی رجز خوانی سے ظاہر و ثابت ہے کہ آپ (ع) کربلا میں دنیا کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے آئے تھے اور جانتے تھے کہ امام (ع) کی محبت کا اللہ کی اطاعت میں مضمر ہے اور یہ کہ امام حسین (ع) کا ساتھ دینا در حقیقت اللہ تعالی کے دین کی حمایت ہے۔ ایمان محکم دلیل یہی تو ہے۔

ج -  امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جہاد
امام صادق علیہ السلام نے اپنے مختصر سے ارشاد میں قہرمان کربلا چچا عباس علیہ السلام کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عباس (ع) نے اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا۔ اس جہاد کے سپہ سالار سید الشہداء سبط رسول خدا  (ص) اور سرور نوجوانان بہشت امام حسین بن علی علیہ السلام تھے۔ جہاد بھائی کی مقصد کے لئے ہورہا ہے اور بھائی نے فرمایا ہے کہ یہ جہاد امت محمد (ص) کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احیاء اور دین محمد (ص) کو انحراف سے بچانے کے لئے ہے۔ اپنے عظیم بھائی کے اس عظیم ہدف کے لئے جہاد میں شرکت ایک عظیم فضیلت تھی جو عباس (ع) نے ہاتھ سے نہ جانے دی۔ آزمائش کی گھڑی سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوئے، روز عاشور مردانگی اور اطاعت و وفا کے انمٹ نقوش چھوڑ دیئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔

د ـ فداكا ری اور جانفشانی
امام صادق علیہ السلام امام وقت بھائی امام حسین علیہ السلام کے راستے میں چچا عباس علیہ السلام کی فداکاری اور جان نثاری کی شہادت دے رہے ہیں جنہوں نے باطل کے خلاف لڑتے ہوئے خالصانہ انداز میں جانفشانی کی، کفر و باطل کے پیشواؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھائی کی پشت پناہی کی اور تاریخ کے عظیم ترین جانباز بن گئے؛ عظیم فداکاریاں کیں اور بھائی کے ساتھ مل کر شدید ترین دشواریاں برداشت کیں۔ 

امام صادق علیہ السلام زیارت جاری رکھتے ہوئے چچا عباس کی اعلی صفات اور اللہ کی بارگاہ میں آپ (ع) کی منزلت بیان فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں اور خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ آپ بدر کے مجاہدین کے راستی پر گامزن ہوئے اور اللہ کے راستے میں راہ خدا کے مجاہدین اور خدا پسند روشن ضمیروں اور اللہ کے دوستوں کی طرح اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور اللہ کے دوستوں کے مدافعین اور اس کے اولیاء کے مددگاروں کے حامیوں کی مانند لئے آگے بڑھے اور ان ہی کی مانند جِدّ و کوشش کی، پس خداوند متعال وہ مکمل ترین، بہترین اور والاترین پاداش آپ کو عطا فرمائے جو وہ اپنے اولیائے امر کے فرمانبرداروں اور اپنی دعوت کو لبیک کہنے والی ہستیوں کو عطا فرمایا کرتا ہے۔3
امـام صـادق علیہ السلام گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالی کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ حضرت عباس عالم کے احرار کے باپ سیدالشہداء علیہ السلام کی راہ میں لڑتے ہوئے بدر کے مجاہدین کے راستے پر گامزن تھے؛ ان شجاع جوانمردوں کے راستی پر گامزن تھے جنہوں نے اپنے خوں سے اسلام کی دائمی فتح کو یقینی بنایا، وہ جو اپنے مقصد کے برحق ہونے پر یقین رکھتے تھے اور آگہی و بصیرت کے ساتھ شہادت کا انتخاب کیا اور توحید کا پرچم تاریخ کی چوٹی پر لہرایا اور کلمہ توحید کی صدا آفاق و انفس تک پہنچادی ۔ ابوالفضل العباس (ع) بھی اسی راستے پر گامزن ہوئے اور اسلام کو اموی اوباش اور ابوسفیان زادے کی چنگل سے نجات دلانے کے لئے میدان کارزار میں اترے وہی ابوسفیان زادہ جو کلمہ الہی کو مٹادینا چاہتا تھا اور اسلام کی بساط لپٹینا اور اسلام کا پرچم گرانا چاہتا تھا۔ آپ (ع) اپنے بھائی کے ہمراہ اس کے خلاف اٹھے اور اس راہ میں شہادت پائی۔ 
ابـوالفـضـل (ع) اپنے بھائی اور حریت پسندان عالم کے باپ سیدالشہداء حسین بن علی (ع) کی سپہ سالاری میں سفاک اموی طاغوت کے خلاف اٹھے اور ان ہی بھائیوں اور ان کے خاندان و انصار و اعوان کے قیام ہی کی برکت سے کلمہ حق کی تثبیت ہوئی اور اسلام فتحمند ہوا اور حق و حقیقت کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
قتل حسین اصل میں مرگ يزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
امام صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کی زیارت جاری رکھتے ہوئے آپ (ع) کی الہی پاداش کے بارے میں فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نصیحت و خیرخواہی کا حق ادا کیا اور آپ نے اپنی انتہائی کوششیں کردیں، پس خداوند متعال نے آپ کو شہیدوں کے درمیان مبعوث فرمایا؛ آپ کی روح کو سعیدوں کی ارواح کے ہمراہ کردیا؛ آپ کو وسیع ترین بہشتی منزل میں جگہ عطا فرمائی اور بہترین کمرے آپ کے سپرد کئے اور آپ کے نام کو علیّین کے زمری میں عالمگیر کردیا اور انبیاء، شہداء، صالحین کا رفیق قرار دے کر ان کے ہمراہ محشور فرمایا اور کیا خوب رفقاء ہیں یہ۔ 
میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے سستی نہیں کی، پسپا نہیں ہوئے، اپنے امر میں بصیرت کے ساتھ آگے بڑھے جبکہ آپ صالحین اور انبیاء کی پیروی کررہے تھے۔ پس ہمارا اللہ آپ، اپنے نبی (ص) اور اپنے اولیاء (ع) کو بزگزیدگان اور طاہرین کے مقام پر مجتمع فرمائے کہ وہی ہے مہربانوں کا مہربان ترین۔4
زیارت کے اس آخری حصے میں ہم اس حقیقت سے واقفیت حاصل کرتے ہیں کہ کیا مقام و منزلت ہے امام صادق علیہ السلام کے نزدیک حضرت عباس علمدار کی؟ اسی بنا پر امام صادق علیہ السلام اپنے چچا کے لئے بہترین مقامات و درجات کی التجا کرتے ہیں اپنے پروردگار سے۔


3 ـ حضرت مہدی عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف
دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے اور دنیا پر حق و عدل کے غلبے کے سلسلے میں اللہ کے وعدوں کو سچا دکھانے والے نیز بنی نوع انسان کو نجات دلانے والے امام غائب  حضرت امام زمانہ مہدی آل محمد عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف ، قائم آل محمد (ص)، چچا عباس علمدار (ع) کی شان میں اپنے نہایت حسین کلام کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:
سلام ہو ابوالفضل عباس بن امیرالمؤمنین (ع) پر، بھائی کے عظیم ہمدرد پر جن کی راہ میں آپ نے اپنی جان کا نذرانہ دیا، اور گذشتہ کل پر آئندہ کل کے اجر و پاداش کو ترجیح دی، وہی جو بھائی کے فدائی تھے اور بھائی کی حفاظت کی اور بھائی کو پانی پہنچانے کی کوشش کی اور آپ کے ہاتھ منقطع ہوئے۔ خداوند متعال ابوالفضل (ع) کے قاتلوں پر لعنت کرے۔4
امام عصر عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف اپنی چچا کے بنیادی اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں: 
1 ـ بھائی سیدالشہداء (ع) کے ساتھ ہمدردی اور ہمراہی نیز ہمدلی جو تاریخ میں ضرب المثل ٹہرے۔
2۔ تقوی کے ذریعے آخرت کا سامان فراہم کرنا، دنیا پرستی سے پرہیز کرنا اور ہدایت و نور کے امام کی مدد کرنا۔
3۔ اپنے اور اپنے بھائیوں کی جانیں سید جوانان بہشت امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربان کرنا۔ 
4۔ خون کا نذرانہ دے کر بھائی کی حفاظت کرنا۔ 
5 ـ بھائی اور بھائی کے اہل خانہ کو پانی پہنچانے کی کوشش کرنا ایسے حال میں جب اموی بادشاہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے لشکر نے امام (ع) اور آپ کے خاندان و اصحاب پر پانی بند کردیا تھا۔ 


:دیگر مضامین
(24.11.2012) حسین میرا ،حسین تیرا ، حسین سب کا ......۔از........: ڈاکٹر نگہت نسیم
(29.10.2012) صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پرغور کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق
(26.10.2012) ذبح اسماعیل علیہ السلام ۔ بارگاہ خداوندی سے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم
(15.09.2012) سرطانِ پستان سے متعلق دس سوالات ۔از۔ڈاکٹر نذیر مشتاق
(28.08.2012) شاہ چراغ،سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم ۔ از۔پیر سید علی عباس شاہ۔
(26.06.2012) "القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں"شیخ رائد صلاح
(21.05.2012) ادبی نام ، قلمی نام - یہ تو فیض و فراز جیسے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں
(12.05.2012) القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں۔شیخ رائد
(27.04.2012) انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی کا عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو
(25.04.2012) فاطمہ سلام اللہ علیہا جن پر خاندان نبوت کو ناز ہے۔سید اکمل حسین
(24.04.2012) فاطمتہ الزھرا س کی سیرت خواتین عالم کے لئے مشعل راہ و ھدایت کا مرکز
(04.03.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔عالمی اخبار میں احتشام جمیل کے ساتھ۔۔
(03.03.2012) امام ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت۔از۔ سید اکمل حسین
(20.02.2012)  خالد مشعل سے خصوصی مُکالمہ " فردِ واحد کی حکمرانی کا دور گذر چکا
(14.02.2012) دورآمریت میں بے بہاقربانیاں دینے والے مسلم لیگی رہنماآفتاب احمد گلوایڈووکیٹ
(09.02.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی اخبار میں احتشام جمیل شامی کے ساتھ
(04.02.2012) ہفتہ وحدت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں ۔ آیت اللہ سید خامنہ ای
(29.01.2012) اللہ کے حبیب اور نبی آخر الزمان کی زندگی عالمین کے لیئے نمونہ ہدایت ہے
(28.01.2012) ماہ صفر المظفر حضورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
(31.12.2011) خواجہ حافظ شیرازی اپنی ذات میں گویا ایک مکمل جہان تھے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں