|
عجب ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
27.11.2012, 01:25am , منگل (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
بہت ہی عزیز دوستو
محرام الحرام کی مناسبت سے لکھے گئے مضامین پر میری یہ محنت پورے پانچ برس کی دقیق تحقیق تھی جو میں نے آپ سب سے شئیر کی ۔ ان مضامین کو لکھنے کے لئے تقریبا ہر مکتبہ فکر کی کئی کتب کا مطالعہ شامل ہے ۔ یہ عطا صرف اور صرف اللہ پاک ہی کی ہے جو انہوں نے مجھے پنجتن پاک کے صدقے عطا فرمائی ۔ اس میں کوئی ایسا مضمون نہیں ہے جو متنازعہ ہو ۔
میں اتحاد البین المسلمین کی داعی ہوں ۔ میں نے ہمیشہ پاک پروردگار سے یہی دعا کی ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کر ۔۔۔ " اختلافات ختم کرنے کے لئے تم ان باتوں پر اتفاق کر لیا کرو جو تم میں مشترک ہیں " ۔ قران مجید کی اس آیت پر عمل کرنے کی میری شعوری کوشش ہر وقت رہتی ہے ۔
اتنے مطالعہ کے بعد یہی سمجھ آیا کہ نہ شعیہ کافر ہیں اور نہ سنی کافر ہیں ۔ کافر ہونے کے لئے
1۔ کلمہ نہ پڑھنے کے ساتھ اس کی وحدانیت کا انکار 2۔ قران مجید کا انکار 3۔ اللہ کے رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار 4۔ جزا و سزا کا انکار یعنی عاقبت کا انکار شامل ہے ۔
مجھے بتاہئے جو آج کل ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روایات پڑ چکی ہے اس کی بنیاد کیا یہی احکامات خدا و رسول ہیں ۔۔۔؟ ََ؟ ۔
ہم مسلمانوں میں مسلہ صرف انا ، کم علمی اور سنے سنائے دین پر یقین کرنے کا ہے ۔
میں تویہ جانتی ہوں علم یقین عطا کرتا ہے ۔ اور صد افسوس پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو جہالت لوگو میں دور کرنے آئے تھے وہ آج صحابہ اور اہل بیت کے مقام میں الجھے پڑے ہیں جبکہ یہ بات روشن حقیقت ہے کہ جنت کے سردار اہل بیت کے ستون حسنین کریمین ہیں صحابہ نہیں ۔
پوری اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیجئے صحابہ اکرام رض اپنے مقام کو پہچانتے تھے تو پھر ہم آپ کون ہیں جو مقام صحابہ کو اتنا بلند کریں کہ اہل بیت سے تجاوز کر جائیں ۔ دراصل لوگ حضرت علی علیہ السلام کے مقام کو جانتے نہیں ہیں ۔۔ کم علم لوگ سیدنا حسین اور سیدنا حسن علیہ السلام کی شان صحابہ اکرام رض سے ملا دیتے ہیں ۔
زرا سوچئے تو سیدنا عمر فاروق رض نے اپنے بیٹے سے کیا کہتے ہیں جب وہ سیدناحسین کے ساتھ کھیل رہے تھے اور سیدنا حسین نے ان کے بیٹے کو غلام کا بیٹا کہہ دیا تھا ۔۔ حضرت عمر فاروق رض بیٹے سے فرماتے ہیں بیٹا دوڑ کر جاؤ سیدنا حسین سے لکھوا لاؤ کہ تم غلام کے بیٹے ہو تا کہ روز حشر ہماری شفاعت کے لئے سند رہے ۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔
”سوید بن غفلہ سے روایت کی گئی ہےکہ ایک دفعہ حضرت عمر رض نے ایک شخص کو دیکھا جو حضرت علی علیہ السلام سے جھگڑ رہا تھا۔حضرت عمر رض نے اُس شخص سے کہا کہ میرا گمان ہے کہ تو منافقوں میں سے ہے کیونکہ میں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔
(آثار الصادقین،جلد14،صفحہ286،نقل از ابن عساکر ،تاریخ دمشق، باب شرح حالِ امام علی علیہ السلام،جلد1،صفحہ360۔) تمام صحابہ اکرام رض ، مقام علی علیہ السلام بھی جانتے تھے کہ مقام غدیر پر حضرت علی بن طالب کو امامت ملنے پر سب سے پہلی مبارکباد حضرت عمر فاروق رض نے دی اور فرمایا کہ " اے علی ابن طالب مبارک ہو آج سے آپ میرے اور کل مو منین کے مولا ہو گئے " ۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب
شرح حالِ امام علی ، جلد2،ص30،حدیث532۔، احمد بن حنبل
،المسند،جلد4،ص281،حدیث12،جلد1،ص250،حدیث950، ترمذی اپنی کتاب صحیح میں،
حدیث3712،جلد5،صفحہ632،633۔ اوردیگر)
حضرتِ عائشہ صدیقہ رض فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رض کو دیکھا جو علی علیہ السلام کے چہرہ مبارک کومسلسل دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا: بابا جان ! آج آپ علی علیہ السلام کے چہرہ مبارک کو کیوں دیکھ مسلسل رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا :”اے میری بیٹی! کیا تم نے نہیں سنا کہ رسولِ خدا نے فرمایا کہ :”علی کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے“۔
( (ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد7،صفحہ358۔،سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ172۔، ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ210،حدیث252،اشاعت ِ اوّل۔،بن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ391،حدیث895 ، (شرح محمودی)و دیگر۔)
”حضرت عثمان رض نے حضرت علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ اُن کی طرف آجائیں یعنی حکومت میں آ جائیں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عثمان کی بات سننے کے لئے ان کی طرف دیکھا تو اُس وقت حضرت عثمان رض نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عثمان رض سے پوچھا کہ اے عثمان ! تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو حضرت عثمان نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ’علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے‘۔“
( (ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ358،بابِ فضائلِ علی علیہ السلام۔، ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، بابِ حالِ امام علی ،جلد2،صفحہ393(شرح محمودی)۔سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ172۔)
۔خلفائے رسول سیدنا صدیق اکبر، فاروق اعظم اور سیدنا عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کی رائے کو ہمیشہ فوقیت دیتے تھے اور آپ نے ان تینوں خلفاء کو ہر مشکل مقام پر مشورے دیئے اسی لیئے حضرت عمر نے کہا کہ اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا۔ جب ان جیسے جید صحابہ نے مقام علی علیہ السلام کو پہچانا اور اپنے مقام سے بلند جانا تو ہم کون ہیں جومقام علی علیہ السلام کو ان سے کم کریں یا انہیں اہل بیت میں شامل نہ کریں ۔
سچ تو یہ ہے کہ لوگ امامت اور خلافت کا فرق جاننا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔ ۔ خلافت تو دنیاوی عہدہ تھا جو سب کوباری باری ملتا رہا حتی کہ یزید تک کو ملا ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ امیر معاویہ اور یزید نے اسلامی طرز حکومت ختم کر کے بادشاہت یعنی ملوکیت کی بنیاد رکھ کر عالم اسلام کا تشخص کو مجروع کیا ۔ اور اسی یزید پلید نے پورے عرب پر حکمرانی کے لئے غیر اسلامی اور غیر شرعی احکامات جاری کئے جس کی سند پانے کے لئے اور انہیں دین میں راسخ کرنے کے لئے سیدنا حسین علیہ السلام سے بیعت چاہی اور کربلا میں اس کے حکم سے ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی اسلامی تاریخ کا سیاہ باب بن گئے ۔ سیدنا حسین نے انہی بنیادی شرائط کو بچانے کی کوشش کی تھی جس کی بنیاد پر لوگ مسلمان اور کافر کہلائے جا سکتے ہیں ۔
امامت رسول کریم ص کی وسطاطت سے عطا تھی کہ ان کے بعد کسی رسول کو نہیں آنا تھا اس لئے اللہ پاک نے ہدایت کے لئے امامت کی بنیاد رکھی اور حضرت علی علیہ السلام کو اللہ پاک نے چنا اور رسول کریم سے حج سے واپسی پر مقام غدیر پر اعلان کروایا اور یوںمولا علی علیہ السلام مومنوں کے پہلے امام بنا دیئے گئے ۔
معزز احباب ! علم دلیل عطا کرتا ہے ۔
کشادہ زہن سے کوئی تو سوچے کہ جو محمد عربی پوری عمر کفار و مشرکین کے درمیان رہے ۔ انہیں وہ مسلمان کرتے رہے ۔ پر انہیں کبھی کافر کہہ کر نہیں پکارا ۔ آج ہم اس دھڑلے سے ایک دوسرے کو کافر کہہ دیتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ۔
دوستو!
ہمارے اباؤ اجداد ایک ایک ہی ہیں ۔ ہمیں ان سب کی عزت اور احترام کرنا ہو گا پر اس احترام میں ہر ایک کو ان کا الگ مقام دینا ہو گا جو قران اور حضور اکرم کی سنت سے ثابت ہے ۔ اب علم کا دروازہ علی علیہ السلام ہیں تو صرف علی ہیں اس کی چھت اور دیواریں کوئی نہیں ہیں کہ نبی کریم نے خود کو علم کا شہر کہا ہے گھر نہیں جس کی کھڑکیاں دروازیں ہوں ۔ شہر کے گرد فصیل ہوتی ہے اور ایک دروازہ بس ۔۔۔ قران میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ام المونین یعنی امت کی مائیں ہیں اور ان کی عزت ہر حال میں کرنی ہے تو ہر حال میں کرنی ہے چاہے کچھ ہو ۔
کسی کے عقائد اور مقلدین کو گالی دینا بہت آسان کام ہے پر یہ ایک بد ترین گناہ ہے ۔ ان سے ناجائز جنگ بھی جائز نہیں جب تک وہ آپ مسلمان مخالفت اور اسلام دشمنی پر نہ اتر آئیں ۔اس اسلام دشمنی میں بھی مسلمان پر امن مذاکرات فرض ہیں جو سیدنا حسین علیہ السلام کربلا میں شہید ہونے سے پہلے تک یزیدی فوج سے اپنا تعارف کروا کر یہ حجت تمام کرتے رہے تاکہ جنگ نہ ہو کیونکہ ان کے نانا کا دین امن اور سلامتی کا دین تھا ۔
اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتے ہیں " تم کسی کے جھوٹے خدا کو برا نہ کہو کہ وہ پلٹ کر تمہارے سچے خدا کو برا نہ کہہ دے " ۔۔ قران و حدیث میں کافر وہ ہے جو مندرجہ بالا چار شرائط میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے ۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم ہمیں سمجھ اور اس سمجھ کو درست سمت میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ الہی آمین
|