چودہ سو اٹھائیس ہجری
کا حج بھی اب اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب اگلے مہینہ محرم
الحرام کا ہوگا اور اسلامی تقویم میں ایک اور نیا سال 1429ہجری شروع ہو
جائے گا۔
میں وقوف عرفات کے مناظر سعودی عرب سے ہزارہا میل
دور یہاں لندن میں بیٹھا ہوا ٹی وی پر دیکھ رہا تھا اور صرف یہ سوچ رہا
تھا کہ کسی معصوم کے دل کی طرح سفید رنگ کے احرام میں ملبوس ان تیس لاکھ
کے قریب حجاج میں سے اگر واقعی صرف تین ہزار کا ہی حج پروردگار قبول کر لے
اور یہ تین ہزار حاجی صحیح معنوں میں حج کے فلسفے کی روح کو اپنی روح میں
حلول کر کے اپنے اپنے ملک واپس جا کر اس فلسفے کو عملی شکل دے سکیں تو
کوئی عجب نہیں کہ اگلے چند برس میں ایک بار پھر مسلمان ملکوں کے حاکموں
اور عوام میں خوف خدا کا شعور پیدا ہو کہ ایک یہی خوف تمام مصائب و آلام
سے نجات کی کلید بھی ہے اور تمام تر کامیابیوں کی ضمانت بھی۔
لیکن اصل مسلہ تو نیت کا ہے کہ حج بھی اب ایک فیشن بن گیا ہے اور حج و قربانی کا فلسفہ پس پشت چلا گیا ہے۔
پاکستان
جیسے ملک سے کتنی بڑی تعداد حج کی سعادت سے فیض یاب ہونے گئی ہے اور اگر
ان میں سے صرف ایک فیصد ہی قلب المنقلبون کےمصداق اپنے اندر وہ روشنی لیکر
آ جائیں جو فاران کی چوٹیوں پر چمکی تھی اور اس روشنی سے وطن عزیز کی ہر
اُس برائی کو دور کرنے کی کوشش کریں کہ جو ہماری سماجی،علمی،سیاسی،شعوری
اور فکری ترقی میں حائل ہے تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک فیصد
سچے حاجی وہ انقلاب پیدا کر سکتے ہیں جو صدیوں پہلے ایک کملی پوش نبی نے
عرب کے جاہل،جابر اور ظالم معاشرے میں پیدا کیا تھا۔
عرفات
کے میدان میں واقع مسجد نمرہ میں جب سعود ی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن
عبداللہ آلِ شیخ خطبہ دے رہے تھے تو میں انکے خطبے کا ایک ایک لفظ سُن رہا
تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش انکی آواز خود آلِ سعود کے حکمران بھی سُن رہے
ہوں اور کاش یہ آواز وہاں اسی مسجد میں موجود اسلامی ممالک کے کتنے ہی
سربراہوں کے کانوں تک بھی پہنچ رہی ہو کہ جنہیں حج کے لیئے سعودی مملکت کے
فرمانروا نے سرکاری مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے۔
کبھی
آپ بھی میری طرح سوچیئے کہ یہ کیا منطق ہے کہ وہ صاحبان اقتدار اور صاحبان
ثروت جو کسی مالی اور وسائلی تکلیف کے بغیر نہایت آسانی سے حج خود اپنے
پیسے سے کر سکتے ہیں انہیں تو سعودی سرکار سرکاری مہمان کے طور پر مدعو
کرے اور وہ عام انسان جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اسی ایک حج کا ارمان
لیکر اگلی دنیا میں چلے جاتے ہیں انہیں مدعو کرنے والا کوئی شہنشاہ،کوئی
صدر،کوئی وزیر اعظم کوئی ادارہ اور کوئی تنظیم نہیں۔ کیا اسی کا نام فلسفہ قربانی ہے؟
پورے
عالم اسلام میں مجھے کوئی ایسی سرکاری یا غیر سرکاری تنظیم بتا دی جائے جو
وسائل سے محروم لیکن حج کے متمنی افراد کو حج کرواتا ہو؟ یا ارحم الراحمین
سعود
ی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آلِ شیخ نے اپنے خطبے میںکہا ہے کہ
امت کوسنگین حالات کا سامنا ہے ایسے میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے ساتھ
محبت اور یگانگت کی بھی ضرورت ہے۔دھماکوں اور قتل و غارتگری کے سبب
مسلمانوں کو دہشت گرد قراردیا جارہا ہے۔ایسے میں مسلم نوجوان دشمن طاقتوں
کے آلہ کارنہ بنیں۔امت کے دشمن انھیں اپنے ممالک میں ہی تخریب کاری کے
ذریعے مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
سعود ی
مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آلِ شیخ کی یہ بات کوئی نئی بات نہیں
اور نہ ہی انہوں نے کوئی نیا انکشاف کیا ہے۔مسلہ تو یہ ہے کہ یہ حقیقت جو
ہم سب اور ہمارے حکمران بھی جانتے ہیں وہ اس صورت حال کو ٹھیک کرنے کے
لیئے کیا کر رہے ہیں؟
کیا انکی ایک بڑی تعداد خود امریکہ کی آلہ کار نہیں بنی ہوئی؟
کیا فلسطینیوں کو بلا قیمت اسرائیل کے ہاتھوں فروخت نہیں کیا جارہا؟
کیا امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کے حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بے موت نہیں مار دیا؟
کیا عراق میں بہنے والا خون امریکہ کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں پر نہیں؟
کیا اب ترکی امریکی اجازت کے ساتھ عراق میں گھس کر جن کردوں کو ہلاک کر رہا ہے وہ کوئی مشرک یا کافر ہیں؟
کاش مفتی اعظم اس طرف بھی توجہ دیتے۔
وقوفِ
عرفات کے موقع پر مسجد نمرہ میں خطبہ حج کے دوران سعود ی مفتی اعظم شیخ
عبدالعزیز بن عبداللہ آلِ شیخ نے کہا کہ اللہ کو اپنی اطاعت پسند ہے اور
وہ نافرمانی سے ناخوش ہوتا ہے۔مفتی اعظم نے کہاکہ مسلمان حکمران عوام کے
معاملے میں اللہ سے ڈریں اور دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں۔عدل و
انصاف کا مکمل نظام دین اسلام کی تعلیمات میں ہے۔اللہ صحیح فیصلوں کے لئے
مسلم حکمرانوں کی رہ نمائی فرمائے۔
مفتی اعظم کی اس دُعا میں میرے
سمیت ہر بے بس اور بیکس مسلمان شامل ہے اور آمین کہتا ہے۔ ہمارے ننانوے
فیصد مصائب کی وجہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران ہیں اور ان ننانوے فیصد میں
نوے فیصد ذمیدار ان اسلامی ممالک کےعوام ہیں کہ جو اس حدیث اور فرمانِ
آئمہ سے شاید بے خبر ہیں کہ‘‘ظالم کے ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنا بھی
ظلم اورظالم کا ساتھ دینا ہے‘‘۔
مسلم ممالک کی معیشت ظالم اور جابر
عالمی ممالک نے کیسے گروی رکھی ہوئی ہے اس سے کس کو انکار ہے اور ایسے
میں مفتی اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ معیشت کو دنیا میں ایک دوسرے کے خلاف
ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، انھوں نے دنیا سے سوال کیا کہ
کیا مسلم برادری نے بھی کوئی ایسا اقتصادی نظام بنایا جو انسانوں کو معاشی
طور پر لاچار کرکے غیر منصفانہ طور پر جکڑلے ۔
میرے نزدیک بہت اہم
بات مفتی اعظم کی یہ بات ہے کہ شریعت عدل کا نظام ہے ،لوگ شریعت میں مقررہ
سزاؤں کو وحشیانہ یا غیر منصفانہ سمجھتے ہیں جبکہ وہ خود دوسروں کے حقوق
کا خیال نہیں کرتے۔آج مسلمان کمزورہیں جس کی بنیادی وجہ اسلام سے دوری ہے۔
باب
شہر علم مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے اپنے عہد میں کوفے کے
گورنر مالک بن اشتر کو کامیاب انتظامیہ کے اصول بتاتے ہوئے عدل کو سب سے
زیادہ اہمیت دی تھی اور کہا تھا کہ جس معاشرے میں عدل نہیں ہوتا وہاں سے
اللہ کا رحم اور کرم اٹھ جاتا ہے۔
اب پاکستان سمیت دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں عدل کی صورت حال کا اندازہ آپ خود کر لیجئے۔ میں اس ضمن میں کیا کہوں؟
سعود
ی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آلِ شیخ نے اپنے اس سالانہ خطبے کے
آخر میں دعا کی کہ‘‘اے اللہ امت آج انتہائی کڑے وقت میں ہے اسے دین پر عمل
پیرا بناکر دشمنوں پر غلبہ عطا فرما‘‘۔
آیئے
ہم سب نمناک آنکھوں اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے قلب حذیں کے پورے
زور سے کہیں۔آمین۔ مگراس کے لیئےعمل اور صرف عمل کی ضرورت ہے کیونکہ ۔۔۔
اب کے فقط دُعا سے نہیں چل سکے گا کام۔اس بےعمل حصارسےخود کونکالیئے''صفدر''