خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے ناسور نے عوام کے ساتھ ساتھ کئی اہم شخصیات کی بھی جان لی ہے۔ سیاستدان، پولیس افسر اور کئی وزرا بھی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

2008 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مسلسل دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ان میں سے تین وزرا بشیر بلور، میاں افتخار حسین اور سردار حسین بابک بار بار دہشت گردوں کا ہدف بنتے رہے۔ 11 فروری 2009 کو اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی عالم زیب پربم حملہ ہوا جس وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ 11 مارچ2009 کو سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کو نمک منڈی پشاور میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم خودکش حملہ آور ان تک نہ پہنچ سکا۔2 اکتوبر 2009 کو اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کے حجرے پر خودکش حملہ کیا گیا مگر اے این پی کے قائد محفوظ رہے۔
نومبر 2009 میں بین الصوبائی گیمز کی اختتامی تقریب کے بعد قیوم سپورٹس کمپلیکس کے گیٹ پر میاں افتخار حسین اور بشیر بلور پر ایک اور خودکش حملہ ہوا جس میں دونوں محفوظ رہے۔ دسمبر2009 میں سوات سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے ڈاکٹر شمشیر بھی دہشتگردی کی کارروائی میں جان کی بازی ہار گئے۔ 19 اپریل 2010 کو قصہ خوانی بازار میں جماعت اسلامی کی ایک ریلی میں ہونے والے بم حملے میں سابق ناظم حاجی دوست محمد اور ڈی ایس پی گلفت حسین سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ 24 جولائی 2010 کو صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی کی بہن ڈاکٹر گلالئی پر 10 اگست کو قاتلانہ حملہ کیا گیا تاہم وہ محفوظ رہیں۔ سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ پر بھی تین خودکش حملے ہو چکے ہیں جبکہ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر دو جبکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد پر بھی خودکش حملے کیے گئے تاہم یہ رہنما محفوظ رہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والے ق لیگ کے ایم پی اے اسفندیار امیر زیب بھی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھے۔ ق لیگ کے ہی ایم پی اے پیر محمد پشاور میں امیر مقام کی رہائشگاہ پر بم حملے میں جاں بحق ہوئے۔ دہشتگردی سے نبرد آزما خیبر پختونخوا پولیس کے کئی افسروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔2007 کو ڈی آئی جی ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق خودکش حملے میں جاں کی بازی ہارے۔ ڈی آئی جی بنوں عابد علی کو متنی میں شہید کیا گیا جبکہ 4 اگست 2010 کو ایف سی کے کمانڈنٹ صفوت غیور کو خودکش حملے میں جاں بحق کیا گیا۔