تئیس دسمبر 2012 کو ملکہ ترنم نور جہاں کی بارہویں برسی ہے 24.12.2012, 01:04am , سوموار (GMT+1)
عالمی اخبار شعبہ تحقیقی رپورٹ
تاریخ اکیس ستمبر سن انیس سو چھبیس، وقت رات ساڑھے دس بجے، مقام کوٹ مراد خان، قصور۔ فتح بی بی کے ہاں ایک بیٹی جنم لیتی ہے اور اس کا نام دائی عائشہ کی فرمائش پر اللہ وسائی رکھا جاتا ہے۔ عائشہ فتح بی بی کو نومولود بچی کے بھاگوان
ہونے کا عندیہ سناتی ہے۔
اللہ وسائی کی پھو پھی الٰہی جان اسے آکر گھٹی میں شہد دیتی ہے۔ الٰہی جان قصور کی چند سریلی خواتین میں سے ایک ہے۔ وہ باہر اپنے بھائی اور اللہ وسائی کے والد مدد علی سے مذاق میں کہتی ہے: ’بچی کے رونے کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ بڑی سریلی ہو گی۔‘
اگلے ہی روز قصور کے سارنگی نواز استاد غلام محمد بچی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ بچی کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دُعا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو بچی اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے گی۔
وہ بچی بھاگوان بھی ہوتی ہے اور سریلی بھی۔ اتنی سریلی کہ پورے برِ صغیر میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ اس نے نہ صرف اپنے ماں باپ کا نام روشن کیا بلکہ وہ پاکستانی موسیقی کی آن شان اور مان ہے۔ جیسے اس نے گایا اس کی مثال ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ ہم اسے نورجہاں کے نام سے جانتے ہیں جو آج سے ٹھیک بارہ سال پہلے تئیس دسمبر سن دو ہزار کو ہم سے جدا ہو گئیں
ملکہِ ترنم نورجہاں پاکستان کے ان فنکاروں میں ہے جن کے بارے میں ان کی زندگی میں بہت کم لکھا گیا اور اگراس عظیم فنکارہ پر کسی نے قلم اٹھایا بھی تو اس کا موضوع ان کی شخصیت بنی نہ کہ ان کا فن۔
میڈم نورجہاں پر لکھی جانے والے پہلی کتاب ’نورجہاں سرور جان‘ تھی جس کا موضوع تقسیم سے پہلے ممبئی کی فلم نگری میں ان کے شب و روز تھے۔بعد میں شوکت حسین رضوی کے طویل انٹرویو پر مبنی منیر احمد منیر کی کتاب ’نورجہاں کی کہانی میری زبانی‘ آئی جس کا بظاہر مقصد نورجہاں پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر عام گفتگو میں بھی نورجہاں پر بات کی جاتی ہے تو ان کی فنکارانہ عظمت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل آدھی صدی پہلے تقسیم سے قبل بننے والی ان کی فلموں ’خاندان‘، ’انمول گھڑی‘، ’زینت‘ یا ’جگنو‘ سے لائی جاتی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہوتا ہے کہ نورجہاں بڑی فنکارہ اس لیے ہے کہ اس نےہدایت کار محبوب کی فلم ’انمول گھڑی‘ میں موسیقار نوشاد کی کمپوز کیے ہوئے گیت گائے یا شوکت حسین رضوی کی فلم ’جگنو‘ میں دلیپ کمار کے مقابل ہیروئن آئیں۔ دوسرے لفظوں میں موسیقار نوشاد یا دلیپ کمار کی مسلمہ عظمت کو دلیل بنا کر نورجہاں کی عظمت کا سکہ بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دور کی بھی بات کرتے ہوئے کوئی ماسٹر غلام حیدر یا فیروز نظامی کا نام نہیں لیتا کیونکہ گھر کی مرغی تو دال برابر ہی ہوتی ہے۔
اور اگر بات تقسیم سے بعد کی بھی ہو تو گفتگو نورجہان کی فلموں ’دوپٹہ‘، ’گلنار‘، ’انتظار‘، ’انار کلی‘ اور ’کوئل‘ سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس ساری صورتِ حال میں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ نورجہان کی فنکارانہ زندگی تو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں اختتام پذیر ہو جاتی ہے باقی جو کچھ ہے وہ تو سب عامیانہ ہے۔
لیکن بات ایسی نہیں ہے۔ نورجہاں کی فنی شخصیت کوئی ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ ایک زبان میں کیے گئے ان کے کام کو بنیاد بنا کر انصاف کیا جا سکے۔ ان کی فنی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں سے مالا مال ہے اور اس کی جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے نورجہاں کی فنکارانہ عظمت اور ان کے ہم عصروں میں ان! کا قد اور بڑھ جاتا ہے۔
نورجہاں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے بدلتے ہوئے مزاج کے مطابق ڈھالا اور شاید اِسی لیے وہ اپنے آخری ایام تک فلم انڈسری میں آؤٹ ڈیٹڈ یا غیر متعلق نظر نہیں آئیں بلکہ اس کی ہر پہلو سے ایک ضرورت بنی رہیں۔
آپ ذرا نور جہاں کے گائے ہوئے گانوں ان کی اس فہرست پر نظر ڈالیں: وے سونے دیا کنگنا (چن وریام)، وے ایک تیرا پیار (سالا صاحب)، سونے دی تویتڑی (شعلے)، دوروں دوروں اکھیاں مارے منڈا پٹواری دا (دبئی چلو)، مینو رکھ لےکلینڈر نال (اِک پتر دا ویر)، سونے دی نتھلی (مسٹر افلا طون) اور توں جے میرے ہمیشہ کول (شیرخان)۔
نورجہاں کے کچھ چاہنے والوں کو اوپر درج کیے گئے پنجابی گیت عامیانہ لگیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موسیقی کے دیوانوں کی ایک بڑی تعداد نورجہاں کو انہیں گانوں کی وجہ سے چاہتی ہے۔
اب ذرا اس فہرست کو ملاحظہ فرمائیں: حسینی لعل قلندر (آسُو بِلا)، بری بری امام بری (سجن بے پرواہ)، ہو لعل میری پت رکھیو (دلاں دے سودے)، شہباز کرے پرواز (ماں تے ماما)، سہون دے سرکار (خانزادہ)، آئی آں دوارے (دنیا پیار دی) اور رکھ لاج میرے لجپال (تہاڈی عزت دا سوال اے)۔
یہ قلندری دھمالیں بھی پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد میں آبادی کا ایک بڑا طبقہ بڑے ذوق و شوق سے سنتا ہے۔ وہ صرف اسی نورجہاں کو جانتی ہے جو اس دھمالوں کے ذریعے ان تک پہنچتی ہے۔
میڈم نورجہاں کے فن موسیقی کا ایک اور پہلو ان نے گائے ہوئے گیت اور غزلیں ہیں۔ ان میں مرزا غالب کی غزل ’میں ہوں مشتاقِ جفا مجھ سے جف اور سہی‘ ہو یا داغ دہلوی کی ’لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے‘ یا پھر احمد راہی کی ’دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے‘نورجہاں نے جس غزل کو بھی چھیڑیا اس کی گائیکی میں اپنا ہی رنگ چھوڑا۔
نورجہاں کو اس بات کی بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پنجاب کے داستانوی لوک ادب میں ایک نئی زندگی دی ہے اور نئی نسل کو اس سرمایے سے روشناس کیا ہے۔
پاکستان میں ہو سکتا ہے بہت سوں نے وارث شاہ کی ’ہیر‘ یا حافظ برخوردار کی ’مرزا صاحباں‘ نہ پڑھی ہو لیکن وہ نورجہاں کے گائے ہوئے لازوال گیتوں ’سنجے دل والے بوہے اجے میں نہیوں ڈھوے‘، ’سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے‘ اور ’او ونجھلی والڑیا تو تاں موہ لئی آ مٹار‘ کے ذریعے پنجاب کی ثقافتی رنگوں سے ضرور آشنا ہو ئے ہوں گے۔
انیس سو اٹھانوے میں ملکہ ترنم نورجہاں نے فلم سخی بادشاہ میں اپنا آخری فلمی گیت گایا ’ کی دم دا بھروسہ یار، دم آوے نہ آوے‘ اور دو سال بعد تئیس دسمبر سنہ دو ہزار کو طویل علالت کے بعد کراچی میں تہتر برس کی عمر میں وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی جو بڑے بڑے موسیقاروں کی دھنوں کو زندہ و جاوید کر دیا کرتی تھی۔ آج ملکہ ترنم نورجہاں کی چوتھی برسی ہے۔
نورجہاں انیس سو اڑتیس سے انیس سو اٹھانوے تک ساٹھ سال پیشہ ور گلوکارہ کے طور پر اپنی آواز سے لوگوں کو مسحور کرتی رہیں۔ نورجہاں کا نام ان کے والدین نے اللہ وسائی رکھا تھا۔ وہ لاہور کے قریب قصور میں ستمبر انیس سو چھبیس میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین بھی موسیقی کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کے اولین استادوں میں استاد غلام محمد شامل تھے تاہم ان کی فلمی موسیقی کو موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے چمکایا جو لتا منگیشکر کے بھی ابتدائی موسیقار رہ چکے تھے۔
انیس سو پینتیس میں آٹھ سال کی عمر میں نور جہاں کلکتہ چلی گئیں جو ان دنوں فلموں اور اسٹیج کا برصغیر میں مرکز تھا۔ یہاں وہ بےبی نورجہاں کے طور پر اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے لگیں اور پھر فلموں میں آئیں۔ پنجابی فلموں کے باپ کہلائے جانے والے کرشنا دیو مہرا نے نور جہاں کو اپنی فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر متعارف کرایا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے گیارہ فلموں میں کام کیا اور تین سال تک کلتہ میں رہیں۔
گل بکاؤلی، سسی پنوں، یملا جٹ، چودھری ان کی انیس سو انتالیس اور چالیس کی ابتدائی فلمیں ہیں جو دل سکھ پنولی نے بنائیں۔ وہ بطور اداکارہ اور گلوکارہ کام کرتی تھیں اور ’شالا جوانیاں مانیں‘ گا کر اسٹار بن چکی تھیں لیکن جس گانے نے پنجاب بھر میں ان کے نام کی دھوم مچا دی وہ تھا ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی پر گایا ہوا ان کا گانا ’بس بس وے ڈھولنا‘۔ ماسٹر غلام حیدر نے ہی انہیں خزانچی فلم میں صرف پلے بیک گلوکارہ کے طور پہلی بار استعمال کیا تھا اور اس گانے کو کسی اور اداکارہ پر فلمایا گیا تھا۔
پاکستان بننے سے پہلے نورجہاں نے کئی سپرہٹ فلموں میں ہیروئین کے طور پر کام کیا۔ انیس سو بیالیس میں ان کی بےحد مقبول فلم خاندان ریلیز ہوئی جس کے ہدایتکار بعد میں ان کے پہلے شوہر بننے والے شوکت حسین رضوی تھے۔
اس فلم کا گانا ’تو کون سی بدلی میں ہے میرے چاند آجا‘ بہت مقبول ہوا۔ اب نورجہاں کا شمار کانن دیوی اور خورشید جیسے ستاروں میں ہونے لگا۔ شوکت حسین رضوی کے ساتھ ہی انہوں نے فلم زینت میں کام کیا جس میں ان کی زہرا بائی انبالے والی کے ساتھ گائی ہوئی قوالی بہت پسند کی گئی۔ یہ برصغیر میں کسی فلم میں خواتین کی گائی ہوئی پہلی قوالی تھی۔ تقسیم ہند سے بالکل پہلے دلیپ کمار کے ساتھ ان کی فلم جگنو نمائش کے لیے پیش ہوئی۔
پاکستان بننے کے بعد اعجاز حسین سے دوسری شادی کرنے تک وہ تقریباً بارہ سال تک فلموں میں ہیروئین اور گلوکارہ دونوں حیثیتوں میں کام کرتی رہیں۔ دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل، نیند ان کی مشہور فلموں میں شامل ہیں۔ بعد میں وہ صرف پلے بیک سنگر کے طور کام کرتی رہیں۔
نورجہاں کی آواز کی معصومیت، سوز اور اونچے سروں میں اس کی گونج ایسی خصوصیات ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں کوئی گلوکار ان کی نقل نہیں کرسکا۔ ان کے گائے ہوئے گانے لازوال ہیں۔ ان کا جذبہ حب الوطنی بھرپور تھا اور فوج کے لیے ان کے گائے ہوئے گیت مثلاً ’میرے وطن کے سجیلے جوانو‘ اور ’اے پتر ہٹاں تے نہیں وِکدے‘ دلوں کوگرماتے رہے۔
ُن کے گائے ہوئے ہزاروں گانوں میں سے چند کی فہرست پر ہی نظر ڈالیے تو یہ بذات خود ان کے لیے خراج تحسین ہے۔
باولی چکوری دنیا سے چوری چوری (انارکلی)، سدا ہوں اپنے پیار کی (انارکلی)، چاندنی راتیں (دوپٹہ)، رم جھم رم جھم پڑے پھوار (کوئل)، او بے وفا میں نے تجھ سے پیار کیوں کیا (کوئل)، گائے گی دنیا گیت مرے (موسیقار)، بڑی مشکل سے ہوا ترا مرا پیار پیا (لاکھوں میں ایک)، چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے (دوستی)، مری زندگی ہے نغمہ (سالگرہ)، او جانے والے رے ذرا (انتظار)، تو جہاں کہیں بھی جائے مرا پیار یاد رکھنا (انسان اور آدمی)، کچھ لوگ روٹھ کر بھی (عندلیپ) ، سیوں نی مرا ماہی (مستانہ ماہی)۔
بھارتی فلمی صنعت کے عظیم موسیقار نوشاد نے نورجہان کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
بی بی سے اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی ملاقات میں اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دور تھا جب یادگار اور سدا بہار فلمیں بنتی تھیں اور عظیم فنکار ہوا کرتے تھے۔
نورجہاں کی یاد میں: خصوصی ضمیمہ
نوشاد صاحب نےملکہ ترنم نورجہاں کی ایک ہی فلم ’انمول گھڑی‘ کی موسیقی ترتیب دی لیکن یہ فلم نوشاد کی موسیقی ملکہ ترنم نورجہاں کی اداکاری اور ان کی گلوکاری کی وجہ سے آج بھی بالی وڈ کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
نوشاد صاحب کے مطابق فلم ’انمول گھڑی‘ کا گیت ’آواز دے کہاں ہے‘ نورجہاں کی خوبصورت آواز کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہے گا۔
’نورجہاں کو بھی اپنا وہی گیت بہت پسند تھا اور وہ اپنے ہر پروگرام کا آغاز اسی سے کیا کرتی تھیں۔وہ خود جتنی خوبصورت تھیں ان کی آواز اس سے زیادہ سریلی تھی۔ ملک کی تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلی گئیں لیکن ہمیشہ وہاں سے فون کرتیں اور پھر رو پڑتی تھیں۔‘
ملکہِ ترنم نورجہاں کا فنی کیریئر چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ اپنے فنی سفر کے دوران نورجہاں نے چھبیس فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے علاوہ ہزار کے قریب فلموں کے لیے گانے گائے۔
ذیل میں نورجہاں کے فلمی کیریئر کا اجمالی جائزہ پیش کیا جارہا ہے:-
٭ نورجہاں نے 1935 ایک چائلڈ سٹار کے طور فلم شیلا عرف پنڈ دے کڑی کے ساتھ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔
٭ سن 1941 میں ریلیز ہونے والی فلم چودھری میں انہیں سیکینڈ ہیروئن کے طور پر کاسٹ کیا گیا۔ ڈائریکٹر نرنجن پال کی اس فلم کے دیگر ستاروں میں روپ لیکھا، پال، اسماعیل، غلام محمد اور اجمل تھے۔
٭ بطور ہیرؤن نورجہاں کی پہلی فلم خاندان تھی جس میں انہوں نے اداکار پران کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا۔ سن 1942 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی اور موسیقار ماسٹر غلام حیدر تھے۔
٭ خاندان کے بعد نورجہاں چھبیس فلموں میں بطور ہیروئن آئیں۔ ان میں سے تیرہ تقسیم سے پہلے بنیں جبکہ تیرہ قیام پاکستان کے بعد۔
٭ بطور اداکارہ نورجہاں کی آخری فلم مرزا غالب تھی جو سن 1961 میں ریلیز ہوئی۔ اس میں انہوں نے اداکار سدھیر کے مقابل مرکزی رول کیا۔
٭ بطور ہدایت کارہ ان کی پہلی فلم چن وے تھے جو سن 1951 میں ریلیز ہوئی۔ فلم کے موسیقار فیروز نظامی تھے جبکہ نورجہاں نے فلم میں جہانگیر کے مقابل مرکز رول بھی ادا کیا۔
٭ نورجہاں نے اپنا پہلا فلمی گیت لنگھ آ جا پتن چناں دا او یار صرف آٹھ سال کی عمر میں سن 1935 میں فلم شیلا عرف پنڈ دی کڑی میں گایا۔
٭ کسی فلم کے لیے نورجہاں کا گایا ہوا آخری گانا کی دم دا بھروسہ یار دم آوے نے آوے تھا۔ فلم سخی بادشاہ کا یہ گانا ان کی وفات سے چار سال پہلے سن 1996 میں ریکارڈ کیا گیا۔
٭ ساٹھ سال سے زائدعرصے پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں نورجہاں نے تقریبا ایک ہزار فلموں کے لیے گیت گائے۔ ان میں ان کے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں گائے ہوئے گانے شامل ہیں۔
٭ سن 1965 کی جنگ کے دوران نورجہاں نے کئی جنگی نغمے بھی گائے جن میں سے ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے، اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرا ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی اور جاگ ایک مجاہدِ وطن زیادہ مشہور ہوئے۔
٭ نورجہاں نے مرزا غالب، داغ دہلوی، ناصر کاظمی، فیض احمد فیض، احمد فراز، عبیداللہ علیم، قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور افتخار عارف سمیت کئی شاعروں کی عزلیں گائیں جن میں سے زیادہ تر مشہور ہوئیں۔
٭ نورجہاں نے پنجاب کے صوفی شعراء میں سے شاہ حسین کی ایک کافی صاحب تیری بندی ہاں بھی گائی جو بہت پسند کی گئی
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں