میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے اور اس فلسفے کا اعادہ میں اپنی تحریروں
میں بھی کر چکا ہوں کہ خالق لوح و قلم نے دنیا کے کسی خطے میں بھی کوئی
ایک انسان ایسا پیدا نہیں کیا جس کے پاس اظہار کی دولت نہ ہو۔ یہ تو انسان
ہے جو اپنے اوصاف اور اہلیت کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں سے بھی آگاہ نہیں
ہے۔
اس
فلسفے کا تجربہ ابھی میں نے ایک بار پھر کل ہی اپنے عزیز دوست اور بھائی
اصغر کرمانی کے گھر اسکی ہنستی مسکراتی سولہ سالہ بیٹی سکینہ کرمانی کے
ساتھ کیا ہے۔ہوا یوں کہ سکینہ کو ہمارے جرمنی کے قلم کار
دوست اقبال حیدر کی نئی تصنیف‘‘امید سحر‘‘ میں سے ایک نظم پسند آ گئی جو
گاؤں کی محبتوں کے حوالے سے تھی اور وہ اس نظم کو جرمنی میں تیس دسمبر کو
ہونے والی انکی کتابوں کی تقریب اجرا میں پڑھنا چاہتی تھی۔
میں نے سیکنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی گاؤں دیکھا ہے؟ اسکا جواب تھا‘‘نہیں‘‘اس
پر میں نے اسے کہا کہ تم خود اپنے ذہن میں گاؤں کی جو تصویر بناتی ہو اسے
سامنے رکھ کر خود آزاد نظم لکھو۔ شروع میں تو اس نے کچھ تذبذب دکھایا لیکن
چیلنج قبول کرنے والی اپنی طبیعت کے مطابق وہ کمرے سے اٹھی اور کہیں اوپر
کی منزل پرچلی گئی اور پھر جب کوئی ایک ڈیڈھ گھنٹے بعد وہ واپس آئی تو اس
ہاتھ میں اسکی زندگی کی اردو میں لکھی ہوئی پہلی نظم تھی جسے دیکھ کر مجھے
لمحے بھر کو یقین نہیں ہوا کہ یہ لندن میں پلنے بڑھنے والی ایک سولہ سالہ
بچی کی پہلی اردو کی نظم ہے جس میں خیال کی پختگی کے ساتھ الفاظ کا چناؤ
بھی خوب ہے۔
کسی تبصرے کے بغیر میں یہ نظم آپ سب کی خدمت میں بھی پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی اپنے اندر گُم ہونے والے قلم کار کو تلاش کر سکیں۔‘‘ تتلیاں میر ے گاؤں کی‘‘
کتنے رنگوں کے جہاں ہیں آباد
اک پھول سے دوسرے پھول پر
اپنے رنگیں پروں کی بہار دکھاتی ہوئی
میرے گاؤں کی وہ تتلی
جو گہری حسین دھوپ کا سایہ تھی
میرے گاؤں میں
وہ چہکتی تتلی گاتی پھرتی تھی
کچے گھروں کی چھاؤں میں
گاتی باتیں کرتی پھولوں سے لوگوں سے اوررنگوں
خوشبو کی طرح اڑتی پھرتی
مستی میں خود اپنے پروں کو
رقص کی صورت دیتی ہوئی
اپنے میں کچھ ایسے مگن تھی
جیسے کوئی بھی اُس کو دیکھتا نہ ہو
چاروں جانب اپنی رنگیں ہسنی پھیلاتی ہوئی
تقسیم کرتی ہوئی مسرتیں
وہ رنگین پروں کے ساتھ
بہلا جاتی تھی وہ اُس کو
جس نے مانگا اُس کا ہاتھ
روتے ہوئے کو دیتی تھی
وہ ست رنگی مسکان
بھلا دیتی تھی سارے غم سارے دکھ وہ
اپنے حسین چہرے سے کسی کو تو خوش کر جاتی تھی وہ
کر دیتی تھی لمحے بھر میں ہر کو حیران
اُس کے رنگیں پروں پر لکھا تھا میرا نام
وہ میرے گاؤں کی تتلی وہ میری صبح شام
اُس کے ست رنگی چمکتے پروں میں جنت لکھا تھا
اس تتلی کو کئی مرتبہ تنہائی میں نے سوچا تھا
وہ میرے گاؤں کی تتلی اب بھی میری یادوں میں
محفوظ ہے خوابوں کی صورت