سال دوہزار بارہ اپنے دامن میں کئی یادیں سمیٹے رخصت ہو رہا ہے۔ اس سال ہونے والے کچھ اہم واقعات جنھوں نے دنیا پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے یہ ہیں
جنوری۔۔۔ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مزاحمت نے شدت اختیارکرلی۔ جھڑپوں اور بمباری میں سیکڑوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یورپی یونین نے ایران سے تیل کی تجارت پر پابندی عائد کر دی۔
فروری۔۔ عرب ممالک میں بیداری کی لہر میں تیزی آ گئی۔ عوامی دباوٴ پر یمنی صدر علی صالح کواستعفیٰ دے کر اقتدار اپنے نائب کے حوالے کرنا پڑا۔
مارچ۔۔ روس میں ولادی میر پیوٹن تیسری مدت کے لئے صدر بنے۔ اس ماہ مالی کے صدر کو فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔
اپریل۔۔ لائبریا کے صدر چارلس ٹیلر کو عالمی عدالت انصاف نے جنگی جرائم کا مجرم قراردیا۔
مئی۔۔ فرانس کا صدارتی انتخاب فرانسوا اولاند نے جیت لیا اور نکولس سرکوزی کی جگہ صدارت سنبھالی۔
جون۔۔ تقریباً تین دھائیوں سے مصر پر راج کرنے والے حسنی مبارک کو عوامی تحریک پراقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ محمد مرسی نئے صدر بن گئے۔
جولائی۔۔ بھارت میں ہوا بجلی کا بڑا بریک ڈاوٴن جس سے جوہری تنصیبات بند اور چھ سو بیس ملین افراد بجلی سے محروم ہوئے۔
اگست۔۔ ایران میں قیامت خیز زلزلے نے تین سوسے زیادہ افراد کی جانیں لیں اور اسی ماہ انسانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ رونما ہوا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کی خلائی گاڑی کیورسٹی مریخ پراترگئی۔
ستمبر۔۔ توہین آمیز فلم کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ لیبیا میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کر کے امریکی سفیر سمیت چار سفارت کاروں کو ہلاک کردیا۔
اکتوبر۔۔ امریکا میں سمندری طوفان سینڈی نے تباہی مچا دی۔ مجموعی طور پر دو سوسے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔
نومبر۔۔ امریکا کے صدارتی انتخابات میں صدر براک اوبامادوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو گئے۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پروحشیانہ بمباری کی۔ ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کوبھارتی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔اقوام متحدہ نے فلسطین کو نان اسٹیٹ ممبر مبصر کا درجہ دے دیا۔
دسمبر۔۔ لیبیا میں امریکی سفاتخانے پر حملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنے ملک کی وزارت خارجہ کو ناقص سیکورٹی انتظامات کا ذمہ دار قرار دیا۔