15.10.2026, 04:47pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

ہمارا بے حس اور مردہ معاشرہ زندہ باد ۔۔۔۔۔از؛۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
15.09.2013, 01:02am , اتوار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
‎
پاکستان میں پانچ سالہ سنبل کے ساتھ جو ظالمانہ زیادتی ہوئی ہے اس پر لکھتے ہوئے قلم بھی کانپ رہا ہے۔ میں تمام تر کوشش کے باوجود کچھ نہیں لکھ پا رہی کہ میرے سامنے کتنی ہی معصوم بچیوں کے چہرے آ رہے ہیں۔ یہ سوچ کر ہی جیسے سارے جسم میں چیونٹیاں رنگنے لگتی ہیں کہ مملکت اسلامی میں پانچ سال کی بچی کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہو سکتا ہے؟

کہاں ہیں اس ملک کے حاکم؟ کہاں ہے نظام عدل؟ کہاں ہیں اس ملک کے علما؟ کہاں ہے اس ملک کی سیاسی قیادت۔ کہاں ہے اس ملک کی دینی قیادت؟ انسانی اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟

اس مکروہ فعل کے ذمیدار افراد پر کیا کوئی مقدمہ چلانے کی ضرورت ہے؟ نہیں۔۔۔ انکو سر عام کسی بڑے چوک میں ایک بار نہیں کئی کئی بار پھانسی دی جانی چاہیئے۔ ذرا اپنی اپنی بچیوں کو تصور میں لائیں اور سوچیں اس بچی اور اسکے خاندان کے بارے میں

میں اکثر سوچتی تھی کہ دہشت کیا ہو تی ہے ؟ ۔۔ کیسا لگتا ہو گا ۔۔ ؟ کیسا محسوس ہوتا ہو گا ۔۔۔ ؟  اس دہشت کا انجام کیا ہوتا ہو گا ۔۔؟ اور یہ بھی کہ دہشت کے بعد انسان پر کیا گزرتی ہو گی ۔۔۔ کیا دہشت کے لیئے اس دہشت سے گزرنا ضروری ہوتا ہے ۔۔۔ ؟ میرے اندر اگتے ہوئے اس دہشت بھرے سوالوں کو آج کل روز ہی اپنا جواب مل جاتا ہے ۔۔ آج کی تازہ خبر نے تو جیسے مجھے منجمد کر دیا ہے ۔۔۔۔ اور بتا دیا کہ دہشت کو محسوس کرنے کے لیئے صرف حساس دل چاہیئے ہوتا ہے ۔

‎دوستو اس خبر کا تسلسل کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔

‎“ بھارت کی میڈیکل کالج کی 23 طالبہ کو 16 دسمبر کی رات نئی دہلی میں ایک چارٹرڈ بس میں سوار ہونے کے بعد چھ افراد نے لوہے کی سلاخوں سے بری طرح مارا پیٹا اور جنسی زیادتی کرنے کے بعد اسے چلتی بس سے نیچے دھکا دے دیا تھا “

‎پھر خبر آئی کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اجتماعی زیادتی کا شکارہونے والی اس طالبہ کو سنگاپور کے ماوٴنٹ الزبتھ ہسپتال میں علاج کے لیئے کر دیا گیا ہے ۔

‎ اور کل 29 دسمبر کی رات پونے پانچ بجے وہ طالبہ سنگاپور کے ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ ہسپتال کے اعلان میں بتایا گیا کہ زخم بہت شدید تھے لیکن مرنے والی نے بڑی ہمت دکھائی لیکن موت نے یہ جنگ جیت لی۔ “

‎مجھےیہ سب پڑھتے ہوئے اور ٹی وی چینل دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے جیسے سیاہ رات مسلط ہے ۔۔ ہواؤں کے تیز جکھڑ چل رہے ہیں  ۔۔ ہواؤں کی سیٹیاں پراسرار ہو کر پورے شہر کو جنگل بنا رہی ہیں ۔۔۔ چہار سو سہمے ہوئے لوگ خاموش ۔۔ ساکت رہ گئے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہی تو دہشت ہے ۔۔ جب دل پریشان ہو ۔۔ اور خیالات دہشت زدہ ہو جائیں ۔۔۔ ایسا ہی اس لڑکی پر بیتا ہو گا ۔۔ دہشت کی بھوت چڑیلیں اسے کھا گئیں ۔

‎ہائے یہ کوئی پہلی بار تو نہ ہوا تھا ۔ بھارت میں نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق خواتین سے زیادتی کے یومیہ ساٹھ واقعات ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 1971 میں خواتین سے زیادتی اور قتل کے دو ہزار 43 واقعات ہوئے جبکہ 2011 تک ان واقعات میں873 فیصد اضافہ ہوا اور 40 سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر 24 ہزار 206 ہو گئی۔ زیادتی اور قتل کی وارداتوں میں ریاست مدھیہ پردیش سرفہرست ہے جہاں تین ہزار 406 واقعات پیش آئے۔ ریاست مغربی بنگال دو ہزار 363 واقعات دوسرے نمبر پر رہا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں زیادتی کے واقعات میں پچیس فیصد اضافہ ہوا اور وہاں 572 رپورٹس درج ہوئیں۔ بھارت میں زیادتی میں ملوث ملزموں کو سزا بھی صرف انتہائی سنگین واقعات میں ہوتی ہے۔ این سی آر بی کے مطابق دوسرے جرائم کی نسبت زیادتی کے مقدمات میں صرف چھبیس اعشاریہ چار فیصد ملزموں کو سزا دی گئی۔ 

‎ادھر میں یہ سب پڑھ رہی تھی اور اُدھر پاکستان میں جوان بچیوں اور بے زبان عورتوں کے ساتھ زیادتی کے اعدادوشمار میرے سامنے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ ہمارے دینی دانشوروں کے مطابق بھارت جیسے ممالک یا مغربی ممالک میں اسکی وجہ دین سے دوری اور اخلاقی اقدار سے دوری ہے لیکن پاکستان تو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ پاکستان کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ پاکستان کے آئین میں اسلام اور قرآن ہی رہبر اصول ہیں تو پھر یہاں عورت کے ساتھ اس سلوک کی وجہ ؟

ذرا ایک نظر اس اسلامی جمہوریہ میں اس ضمن کے اعدادوشمار پر ڈالیں اور اپنے آپ میں شرمندہ ہوں کہ جس دین اسلام نے عورت کو حقوق دیئے اسے عزت دی اُس اسلام کو ماننے والے مسلمان نے عورت کی عزت بھی لوٹ لی اور اسکے حقوق بھی غصب کر لیئے

پاکستان میں زناء بالجبر/اجتماعی زیادتی کے 827 واقعات میں سے 734 پنجاب میں، 68 سندھ، 7 خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور 8 اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہوئے۔ ایک غیر سرکاری  رپورٹ کے مطابق روزانہ تقریبا 16عورتیں اور بچیاں پنجاب میں کسی نہ کسی تشدد کا شکارہوئیں۔روزانہ3عورتوں کا قتل اور 2کو اجتماعی یا انفرادی طور پر جنسی تشدد کا شکاربنایا گیااسی طرح حالات سے تنگ آکر روزانہ 1 عورت نے خودکشی کی ہے۔

‎یقین نہیں ہوتا کہ عورت بیٹی  ، ماں ،  بہن  ، بیوی  ، دوست  بھی ہو سکتی ہے  ۔ یوں لگتا ہے جیسے عورت صرف ذلت سہنے  کے لئے بنی ہے ۔ اسے صرف تکلیف ہی پہنچانی چاہیئے ۔ پاکستان جیسے مسلمان ملک میں مسلمان مرد ہی ایک مسلمان عورت کا زنا بالجبرکرتے ہیں تو کبھی  رسم و رواج کا سہارا لے کر عورتوں کو کاروکاری اور سیاہ کاری کے نام پر قتل کر دیتے ہیں ۔  پاکستان میں  عصمت فروشی ا ور عورتوں کی تجارت، ملازمت کی جگہ پر عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا، گھر سے باہر خوف و ہراس پھیلانا جیسے ان کا مقدس فریضہ ہے ۔ یہ لوگ  بے حرمتی اور دشمنوں سے انتقام لینے کیلئے ان کی عورتوں پر تشدد کرنے جیسے جرائم کو معیوب نہیں سمجھتے۔ سو ایسے لوگوں کے نزدیک عورت کی تذلیل   کو تشدد نہیں سمجھا جاتا اس لئے اس کا ذکر بھی تھانے کچہریوں میں نہیں ہوتا۔۔

‎آخر کیوں ایسا ہو رہا ہے ؟ یہ عورت سے کیسا انتقام ہے ؟ یہ مرد کی عورت پر حاکمیت اور ملکیت کی کیسی  ہوس ہے جو ختم ہی نہیں ہوتی ۔ قانون بنانے والے ، انصاف کی باتیں کرنے والے قانون کے رکھوالے کیوں ایک بھی مجرم کو سزا نہیں دے پاتے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسی دہشت ہے جو زندہ معاشرے کو بے حس اور مردہ معاشرہ بنا گئی ۔ بات اب سمھ آئی کہ   قانون  کی پاسداری اور عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسلہ جو الجھا سوالجھا  پر اصل مسلہ تعلیم اور علم کا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے  اور یہی کمی ہمارے معاشرے کی سوچ میں تبدیلی نہ لاسکنے کا سبب ہے ۔

‎اسی شعوری کمی کی وجہ سے ایسے دلسوز واقعات پر ایک آدھ دن احتجاج ہوتا ہے پھر سب چپ ہو جاتے ہیں ۔ سارے گواہ کہیں روپوش ہو جاتے ہیں ۔ پورا میڈیا لمبی تان لیتا ہے اور چونک حکمرانوں کی بہو بیٹیاں یوں سر راہ اجتماعی زیادتی کا شکار نہیں ہوتیں سو انہیں اس دہشت گردی سے کیا لینا دینا ۔۔  اور نہ حکمرانوں  کے پاس حساس دل ہوتے ہیں جو دوسروں کے عزت و زلت کو اپنی سمجھ سکیں ۔ سو ایسی خبروں کی زندگی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی دوسری  خبر کے بعد پہلی خبر کی ہوتی ہے ۔

‎کاش لوگ ہی سمجھ سکتے کہ  دین فقط عبادت میں منحصر نہیں بلکہ انسان کی تمام زندگی کے کل معاملات میں دین کا دخل ہے، کتاب و سنت کی پوری تعلیمات کو پیش نظر رکھ سکتے، دنیا کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے ، معاشرہ کی خرابیوں اور ان کے اسباب  پر گہری نظر سے جائزہ لینے کی عادت رکھتے  اور اپنے دائرہ عمل کو وسیع کرنے کی کوششیں کرتے ۔۔۔

 ابھی میں یہ سب لکھنے ہی جا رہی تھی کہ اطلاع ملی کہ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ نے انڈیا میں  حکمرانوں کے ایوان ہلا دیئے  ہیں ۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق نئی دلی میں میڈیکل  کی طالبہ کی موت کی اطلاع ملتے ہی ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگ مظاہروں کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے،جس کے پیش نظرشہر میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔ شہر میں لوگوں نے خاموش احتجاج کیا،انہوں نے منہ پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ اور اب اس احتجاج میں چھوٹے بڑے سب شامل ہو چکے ہیں ۔۔۔ اور اب سب خاموش نہیں بول رہے ہیں ۔ یوں لگ رہا جیسے دہشت بھری رات میں دھندلا سا چاند آسمان پر اتر آیا ہے ۔۔آخری خبروں تک بھارت کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہر طبقی زندگی کے لوگ سرد رات سڑکوں پر گزار رہے ہیں۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ابھی بے حس اور مردہ نہیں ہوا ہے۔

‎اب میں یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا پاکستان میں ایک عورت کی حمایت میں پورا پاکستان  اپنے اپنے شہروں کی سڑکوں پر اس طرح  آ سکے گا ۔۔ اپنے احتجاج سے سوئے ہوئے حکمرانوں اور قانون کے رکھوالوں کو گہری نیند سے بیدار  کر سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟  شاید نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ کیا اب تک کیا کچھ  نہیں ہوا تھا جس پر  پوری قوم کو متحد ہو کر سڑکوں پر آجا نا چاہیئے تھا ۔۔۔ پر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

‎ہائے  ۔۔!  کہیں ایسا نہ ہو کہ دوہزار چودہ کا سورج ہمارا استقبال  ہمیں  بے حس مردہ معاشرہ زندہ باد کہہ کر ، کر رہا ہو  ؟


:دیگر مضامین
(28.08.2013) شام پر حملہ ہوا ہی چاہتا ہے ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.08.2013) قومی دنوں پر توہین اعزازات کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔۔۔از۔۔۔۔۔۔نگہت نسیم
(14.08.2013) ۔اشاعت مکرر۔۔صبح کا ستارہ اور خوشحال پاکستان ۔...از۔.. ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.08.2013) اعتراف ۔۔۔ ہماری ناکامی ہمارے دوہرے معیار ہیں۔از؛ ڈاکر نگہت نسیم
(21.07.2013) ہم میں اور یزید وقت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.07.2013) کبھی سوچیں , رحمتیں کب زحمتیں بن جاتیں ہیں ۔از“ ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.07.2013) مینڈیلا ڈے ہو سکتا ہے تو ایدھی ڈے کیوں نہیں ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم
(07.07.2013) سحر کچھ تو سکوں پایا ہے اپنی قبر میں آ کر۔ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.06.2013)  اندھے بہرے اور گونگے پاکستان کی جمہوری تہذیب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(08.03.2013) زرداری کی سرداری بھی بیزاری ہے۔ از۔ ڈاکٹرنگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(13.01.2013) کوئٹہ پاکستان اور اس کی گندی سیاست کی سولی پر۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.01.2013)  یہ ہمارے مسیحا ہیں یا غنڈے ۔۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.11.2012) عجب ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.11.2012) ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.11.2012)  عالمی اخبار کا چار سال میں چالیس سال کا سفر ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(11.10.2012) طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.09.2012) ستایئس ستمبر۔۔۔ پاکستان میں سیاحت کا عالمی دن ؟ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2012) سب اچھا ہے ۔راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔قند مکرر
(03.05.2012) لیاری میں مفادات کا کیسا سفاک تماشا ہو رہا ہے ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.03.2012) اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں .......۔۔از.ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں