|
آج کا استاد اور شاگرد پرانے وقتوں کا نہیں ۔از: سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
10.01.2013, 12:05am , جعمرات (GMT+1)
سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
ھمارے معمار بظاہر یہ کہانی ھے مگر یہ سچی اور تکلیف دہ بات ھے کی وطن عزیز میں ھمارے سرمائے کے ساتھ کیا ھو رھا ھے بچے ھر ملک اور قوم کا قیمتی سرمایا ھوتے ھیں - یہ کہانی ایک میاں بیوی کے کردار کو لیکر لکھی گئی ھے جو بد قسمتی سے استاد ھیں بیگم لڑکیوں کے سکول کی اور شوھر لڑکوں کے سکول کے انچارج ھیں دونوں کے سکول ان کی خوش قسمتی ھے کہ گاؤں میں ھیں بلکہ یہ بات ان کو خود کو بھی پسند ھے کہ وہ گاؤں میں ھی نوکری کریں - ماسٹر صاحب کا نام قمر صاحب ھے اور بیگم کا نام شاھدہ ھے -
دونوں کے کہنے کے مطابق وہ ملک قوم کی خدمت انجام دے رھے ھیں - روزانہ اپنے اپنے سکولوں کو سفر کر کے جاتے ھیں تھک جاتے ھیں پڑھانا پھر سفر کرنا لیکن حقیقت اس کے بر خلاف ھے کہ اصل میں وہ دونوں سفر اپنے لئے اپنے بچوں کی خدمت کے لئے کرتے ھیں ،مثلآ مسز شاھدہ سکول میں اپنے دو بچے بھی لے جاتی ھیں جس سے بچوں کی دیکھ بھال سہی اور مفت ھو جاتی ھے استاد کا رتبہ والدیں جیسا ھوتا ھے اس لحاظ سے بچوں پر اب کا حق ھے تو وہ بخوبی یہ حق استعمال کر رھی ھٰیں روزانہ چار سمجھدار لڑکیوں کی ڈیوٹی لگائی ھے جو ان کے بچوں کو سمنبھا لتی ھیں ان کو دودھ بنا کر دینا ان کی نیپی تبدیل کرنا وغیرہ ۔ وہ بچوں کو سیمبھالے والی بچیاں ان کے کہنے کے مطابق اپنی اپنی کلاس کی مانیٹر بھی ھیں کیوں کہ ان کی خدمت کرنے کے لئے بھی تو زھین بچیاں ھی چاھئیئے -جو ان کے اشارے سے ھر کام سمجھ جائیں -
اگر ان کی خدمت کی وجہ سے بچیوں کا نفصان ھو رھا ھے تو ھوا کرے ویسے بھی دیھات کی بچیاں ھیں کون سا ڈاکٹر انجینیر بن جانا ھے ان نے رھی امتحان میں پاس ھونے کی بات تو وہ مفت میں نمبر لگا دیں گی خود تو لگانے ھیں اور تعلم کی بات کے وہ پڑھنا لکھنا کب سیکھیں گی سارا دن جب چھ سات گھنٹے بچے سنبھالیں گی تو اس کا بھی جواز ھے ان کے پاس تع تعلیم لے کر تو صرف پڑھنا لکھنا ھی آئے گا جب کہ اس طرح وہ بچیوں کو گھر داری کی تربیت دے رھی ھیں چھوٹی عمر سے ھی بچے پالنے کی تربیت کافی حد تک کھانا بنا نے کی تربیت کے بچوں کو اکثر دودھ گرم کر کہ دینا ھوتا ھے جس کا انتظام سکول میں ھی ھے ،چائے بھی بچیاں بنا دیتی ھیں اپنی استانی صاحبہ کو پھر گھر سے جاکر دودھ لانا اس سے ان میں مہمان نوازی کا جزبہ فروغ پا رھا ھے کیوں کے اکثر استانی صآحبہ بچیوں سے فرمائش کرتی ھیں گھر سے جا کر فلاں کھانا بنوا لاؤ جیسے ساگ کی موسم ھے تو وہ لے آؤ یا مکھن دیسی گھی وغیرہ یا کبھی جو کچھ کھاتے پیتے گھرانہ کی ھیں ان سے زیادہ کھانا بنوانے کی فرمائش بھی کرتی رھتی ھیں اس سے بھی بچیوں کا زھن مہمان نوازی کی طرف لگ مائل ھو گا -
اس سے ان میں سماجی خدمت کا روجہاں بھی پیدا ھو گا جب بڑی ھونگی تو ھر ایک کے کام کرنے اپنے گھر سے چیزیں دینا کا جزبہ ھو گو جو ایک بڑی خدمت خلق ھے - پھر معیا ر میں بھی استانی صاحبہ خاصی بلند ھے سیلاب کی وجہ سے جب این جی او والے آتے رھے تھے سکول میں بسکٹ دیا کرتے تھے تو کھتے ھیں بسکٹ کچھ اچھے ذائقہ کے نا تھے رنگ بھی ان کا کچھ بد نما سا تھا تو وہ کھتی ھیں میں نے تو چکھے تک نھیں ھیں یہ بسکٹ کے کس طرح کا ذائقہ ھے سب ھی بچوں میں تقسیم کر دئے تھے - جب کے گھی جو این جی او کی طرف سے ملا تھا وہ کافی ڈبے جو اعلی معیاری گھی کے تھے وہ ان نے بچیوں کو تقسیم کرنے میں پسیے وصول کئے تھے کی ان کا فرض ھے بچوں کی تربیت - ان کو مفت دے کر وہ مفت چیزیں لینے کی طرف مائل نھیں کر سکتی ھیں اس طرح تو وہ بھیک مانگنے کے عادی ھو سکتی ھیں اس لئے ان نے بھر پور کوشش کی کے صرف نام کا ھی اندراج کریں اور گھی اپنے پاس ھی رکھیں اس لئے سکول ٹائم کے بعد آئی تھیں گاڑی میں کافی گھی کے ٹین اپنے گھر لے گئی تھیں جو رشتہ داروں میں بھی تقسیم کر کے حقوق العباد پورے کئے تھے -
شام کو آکر اٹھانا بھی ان کی اپنی مرضی اور فرض شناسی کی وجہ سے تھا ورنہ دن میں بھی اٹھا لیتی کسی طالبہ کی ھمت نھیں تھی جو روکتی لیکن ھماری استانی صاحبہ بھت احتیاط کرنے والی ھیں اپنی ایمانداری پر آنچ نھیں آنے دیتی ھیں - اب ان کے شوہر نامدار بھی ان سے کم نھیں ھیں وہ بھی سہی ڈیوٹٰی دے رھے ھیں -وہ جس گاؤں میں ھیں سودا سلف وہاں سے لاتے ھیں کیوں کے اس گاؤں میں جو سب سے بڑی کریانہ کی دوکان ھے اس آدمی کے چار بیٹے ان کے شاگرد ھیں تو وہ وھان سے ھی سب راشن لیتے ھیں ایک تو وہ ماسٹر صاحب کی عزت کرتا ھے اچھی چیز دیتا ھے دوسرا جب دل چاھے رقم ادا کریں اور اپنی مرضی سے جینے پیسے گھٹا کر دیں وہ احترام کرتا ھے اور لے لیتا ھے ،
یہ سلسلہ سارا سال ھی چلتا ھے کیں کہ موصوف کی عادت بھی مستقل مزاجی کی ھے اور کفائت شعاری کی بھی -پھر اور بھی بھت سمجھداری کا کام کر رھے ھیں گاؤں میں ایک بچے کا والد کے پاس اپنی بھینس رکھی ھوئی ھے یوں خالص دودھ روزانہ گھر آجاتا ھے اور گندگی بھی گھر میں نھیں ھوتی نا چارے وغیرہ کا خرچ کرنا پڑتا ھے نا کوئی نوکر کا خرچ سب بچ جاتا ھے ان کے شاگرد جو ھیں سب کرنے کے لئے ،آخر وہ اہنے منصب کا کوئی تو فائدہ لیں نا ،-- یہ دونوں میاں بیوی میں ایک اور خاص بات بھی ھے کھولے عام اپنی تنخواہ کا گاؤں میں جاکر ُ پڑھانے والی مراعات کا زکر بھی نھیں کرتے ھیں -اگر کرنے لگیں تو ان کے اس جزبہ پر دھبہ آتا ھے جو وہ رکھتے ھیں یعنی خدمت خلق کا جزبہ جو ایک معمار کی حثیت سے ان کا فرض ھے ،کہ وہ ایمانداری خلوص نیت سے بچوں بچیوں کو پڑھائیں ،ان کی زھنی روحانی تربیت کریں ۔--وہ تو اپنے طور سے یہ بھت بڑی خدمت کر رھے ھیں جو روزانہ اپنا گھر چھوڑ کر سفر کر کے اپنے اپنے سکولوں میں جاتے ھیں ۔
|