16.10.2026, 07:07pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

یہ ہمارے مسیحا ہیں یا غنڈے ۔۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
03.01.2013, 01:01am , جعمرات (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
 دو جنوری دو ہزار تیرہ کے دن گوجرانوالہ کے سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی میں جس طرح سے جونیئر ڈاکٹرز نے اپنے سینئر ڈاکٹرز کی پٹائی کی جس میں ایم ایس بھی شامل ہیں اور جس طرح سے میڈیا کے عملے پر تشدد کیا گیا ہے اس سے میرا سر  شرم سے جھک گیا ہے ۔ مجھے کہنے دیجئے یہ ڈاکٹرز اینٹی سوشل لوگ ہیں جنہیں تعلیم بھی تعظیم اور عزت کرنا نہ سکھا سکی ۔ اس پر     ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن نے گوجرانوالہ میں ایم ایس اور سینئر ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے ینگ ڈاکٹر ایسوی سی ایشن گوجرانوالہ کے صدر ڈاکٹر کاشف بلال سمیت دیگر کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں آوٴٹ ڈور سروس بند کر دی ہے ۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ کرنے والے ینگ ڈاکٹروں کو رہا نہیں کیا جاتا، اسپتالوں کی آوٴٹ ڈور سروس بند رکھی جائے گی۔

میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہوں کہ یہ ڈاکٹرز ہیں جن کی مٹھی  میں لوگوں کی سانسیں بند ہیں ۔ یہ ہیں وہ ڈاکٹرز جو مفت غریبوں کا علاج کریں گے ۔ یہ ہیں وہ ڈاکٹرز جو مسیحا کہلائے جاتے ہیں جنہیں لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ہیں ۔ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے ۔ احتجاج کے بھی آداب ہوتے ہیں ۔ پاکستانی قوم صرف ڈرامے اور موبائل میں ویسٹرن ممالک کی نقل کرے گی پر ان جیسے اخلاق اور ہمدردی اور چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں سیکھ سکتی ۔

میں نے 2004 مین جب آسٹریلیا سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا تو میری پہلی ڈیوٹی لیورپول ہوسپٹل میں لگی ۔ میں جیسے ہی ایمرجنسی وارڈ میں پہنچی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا کنسٹلنٹ اینڈریو فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے مریض سے ہسٹری پوچھ رہا تھا اور مریض زہنی طور پر بیمار تھا ۔۔وہ تو شاید اپنے مسیحاکو پوری طرح دیکھ بھی نہ پایا ہوگا پر میں نے اس کے مسیحا کو دیکھ لیا تھا ۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔ مجھے لگا جیسے ایک ڈاکٹر کو ایسا ہی ہونا چاہیئے ۔ دھیمے دھیمے بولنے والا ، اپنے مریض کی ہر بات کو سننے والا ، اس کو حقارت سے نہیں عزت سے دیکھنے والا ، اس کی تمام لغزشوں کو درگزر کرنے والا ۔ ۔۔۔۔۔ بس سر تا پا پیار دلار کرنے والا ۔۔ اپنے مریض کی جان ، مال اورعزت کا رکھوالا ۔۔

میں نے ٹی وی اسکرین کو حیرت سے دیکھا کہ پاکستان کے ان ڈاکٹرز اور غنڈوں میں کیا فرق رہ گیا تھا ۔۔ دونوں ہی تعلیم یافتہ جنگلی اور بے رحم ہوتے ہیں ۔۔ جن کے نزدیک صرف ان کی اپنی ہوس زر یا انڈر ورلڈ کے  ایجنڈے ہوتے ہیں یا پھر وہ ایک منصوبے کئ تحت  وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کامیاب اور ناکام کروانے کے لئے مہروں کی طرح استعمال ہو رہے ہوتے ہیں ۔

کل تک میں تو خود ینگ ڈاکٹڑز کو سپورٹ کرتی آئی تھی ۔۔۔ میں لوگوں سے کہا کرتی تھی آپ کو معلوم ہے کہ ایک ڈاکڑ کیسے بنتا ہے .. پہلے وہ اپنے گھر سے لڑتا ہے .. کہ اسے اتنا فنڈ چاہئے کہ وہ ڈاکٹر بن سکے .. پھر اسکول میں لڑتا ہے اور اپنی حثیت منواتا ہے .. پھر صوبے میں .. پھر ملک میں .. پھر دنیا میں .. اور اس سارے سفر میں وہ خود سے بیگانہ اپنے ارد گرد سے بے خبر ہو کر دن رات پڑھتا ہے …اور کتابیں کتنی مہنگی ہیں ( یہ تکلیف الگ ہے ) .. پھر کہی جا کر ایک ڈاکٹر بنتا ہے .. اس کے بعد وہ ینگ ڈاکٹڑ ہونے کی حثیت سے 36 گھنٹے نان سٹاپ شفٹ کرتا ہے .. ایمرجنسی اور تھیٹر میں 36 گھنٹے کھڑے رہ کر میں نے اپنی ڈیوٹیاں کی ہوئی ہیں .. آپ سوچ سکتے ہیں ہمارے پیروں کا حال . سوج سوج کر من من کے ..چلنا مشکل … مجھے بتائیں پھر لوگ کہیں کہ ڈاکٹرز بے حس ہیں .. آپ یقین کریں کہ ایک نرس کی تنخواہ ایک ڈاکٹر سے کہی زیادہ ہے کہ ایک ڈاکٹر کو شفٹ پنالٹی نہیں ملتی .. اس کے والدین کا علاج مفت نہیں ہوتا .. اس کی گریجوٹی نہیں ہوتی .. اس کی پنشن کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا تاوقتیکہ کہ وہ پروفیسر نہ ہو …

کیا ڈاکٹر انسان نہیں .. مجھے یاد ہے میری کولیگز کہا کرتے تھے کہ کاش میری ماں نے مجھے سمگلر بنایا ہوتا کم از کم اپنے دوستوں کے سامنے مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہاتھ تو نہ پھیلانا پڑتا… یہ ہے میرے ملک کا ینگ ڈاکٹر جس کے کندھوں پر پوری قوم کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس کے گھر والے اس کے سامنے اپنی ضروروتوں کی لسٹ رکھ دیتے ہیں … اب آپ کو پتہ چلا خود کشی ڈاکٹرز کیوں کرتے ہیں .

میں جانتی ہوں پاکستان میں ہم ڈاکٹرز برسوں سے اپنے حق کے لئے التجاؤں اور درخواستوں کی جنگ لڑ رہے ہیں اور محکمہ صحت کے لئے یہ صرف کاغذ کے چند صفحے ہیں .. ڈاکٹرز کو بھی اپنا مسبقل محفوظ کرنے کا اتنا ہی اختیار ہے جتنا بے حس حکمرانوں کو …

 پر آج ایسا ہوا ہے جوکسی قیمت پر بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔ استاتذہ کی شان میں گستاخی جیسے اپنے والدین کی گستاخی کرنے کے مترادف ہے جس پر کسی بھی ملوث ڈاکٹر کوکوئی رعایت نہیں ملنی چاہیئے ۔ یہ کوئی جاہل انپڑھ نہیں ، ڈاکٹرز ہیں ۔

انسانیت کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ کیا ایسے ہوتے ہیں ۔ صد افسوس


میں بہت بہت رنجیدہ  ہو گئی ہوں ۔ مسائل کا یہ حل نہیں کہ مارپیٹ کی جائے ۔ خاص طور پر کوئی ڈاکٹر تو کیا کسی کو بھی زیب نہیں دیتا کہ ایسا کرے ۔۔  ڈاکٹرز کوبھی  عام آدمی کی مشکلات کا خیال ہونا چاہیئے ۔ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ انہیں کی طرح  پاکستان میں ایک مزدور کی بھی  کم سے کم تنخواہ سرکاری طور پر 6000 چھ ہزار روپے مقرر ہے ، اور  صرف کراچی شہر میں ہزاروں مزدور 3500 یعنی ساڑھے تین ہزار روپے لے رہے ہیں ، اور اگر کوئی مزدور حکومت کے مقرر کردہ تنخواہ یعنی کم از کم چھ ہزار روپے کا مطالبہ کرتا ہے تو اُس کی جگہ کوئی دوسرا لے چکا ہوتا ہے ، 6000 ہزار روپے کمانے والے مزدور کے ماں باپ اور بیوی بچے بھی ہوتے ہیں اور وہ سب بھی بیمار پڑتے ہیں ، صرف جنوبی پنجاب میں ہزاروں لوگ اپنے گردے بیچ چکے ہیں ، مہنگائی اور غربت کا سیلاب ہر چیز بہائے لے جا رہا ہے۔

میں مانتی ہوں کہ تنخواہوں کو بڑھانے کا ڈاکٹرز کا  مناسب اور جائز مطالبہ ہے ، مگر اَسے جس انداز میں پیش کیا گیا ہے وہ نہایت ہی غلط ہے ، ڈاکٹرز کی ہڑتال سے صرف عام آدمی ہی متاثر ہوا ہے ، عام لوگوں کی ہی جان گئی ہیں ، وہ غریب جو اپنا علاج پرائیویٹ کلینکس سے نہیں کروا سکتے ہیں وہی اَس کا نشانہ بنے ہیں ، شہباز شریف اور دوسرے بڑے بڑے فرعونوں کو اِس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔۔۔ اور اب مار پیٹ بھی اپنے ہی جیسے ایک شکستہ حالات کے مارے ڈاکٹرز کی ۔۔۔۔

کیا یہ مناسب نہ تھا کہ علامتی ہڑتال کی جاتی ۔۔ یا کچھ گھنٹوں کی روزانہ کی جاتی  ۔۔۔ یہ قطعا آداب انسانیت کے خلاف ہے کہ ڈگری ہوتے ہوئے ڈاکٹرز کو مہینوں ہو گئے ہیں عام آدمی کا علاج کئے ہوئے ، عام آدمی کو موت کے رحم و کرم پر چھوڑے ہوئے ، زچگی کی تکلیف سہتی غریب خواتین ، درد سے بلبلاتے بچے ، و جوان ۔۔ اف آج بھی اس دھینگا مشتی میں ایک شخص جان سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین ہے کہ اگر ڈاکٹرز کی علامتی ہڑتال ہوتی یا سارے دن میں کچھ گھنٹے کام چھوڑا جاتا تو یقینا اور بھی بہت سے لوگ اِس میں شامل ہوتے ۔۔کاش ڈاکٹرز جان سکتے کہ جب ساری قوم مل کر کھڑی ہوگی تبھی کچھ تبدیلی آ سکے گی، ورنہ اکیلے اکیلے کوئی بہتر اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ اب دیکھئے  جو نئے ڈاکٹرز بھرتی کئے گئے ہیں وہ بھی تو ڈاکٹر ہی ہیں نا ؟

حکومت ہر ڈاکٹر کی تنخواہ میں بیس ہزار روپے اضافے اور ماں باپ اور بیوی بچوں کے مفت علاج کی آفر کر چکی ہے ، مگر ڈاکٹرز اب بھی ۔ ۔ میں نہ مانوں کی ضد پر اڑے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہ غریب آدمی ، ہر طرف سےنشانہ ہیں ۔

بس میرے عزیز دوستو تعلیمی ڈگریوں  سے زیادہ علم پر توجہ دیجئے جو اخلاق سنوارتا ہے ۔ انسان کو احتجاج کرنے اور اپنا حق استعمال کرنے کے قرینے بھی عطا کرتا ہے ۔

بس اب یہ قوم کے وقتی ہڑتالی عادی  مجرم بن چکے ہیں اور  مجرموں سے وہی سلوک کیا جانا چاہیئے جس کے وہ حقدار ہیں۔ان ڈاکٹرز کو اپنے سنیئرز اور اساتذہ اور میڈیا پرسنز سے معافی مانگنی ہو گی ۔ انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیئے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ کسی  رعایت کے قابل نہیں ۔


:دیگر مضامین
(27.11.2012) عجب ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.11.2012) ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.11.2012)  عالمی اخبار کا چار سال میں چالیس سال کا سفر ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(11.10.2012) طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.09.2012) ستایئس ستمبر۔۔۔ پاکستان میں سیاحت کا عالمی دن ؟ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2012) سب اچھا ہے ۔راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔قند مکرر
(03.05.2012) لیاری میں مفادات کا کیسا سفاک تماشا ہو رہا ہے ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.03.2012) اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں .......۔۔از.ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(17.02.2012) خوف اور ہراس “ کی یہ تحریریں از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔اشاعت مکرر
(12.02.2012) قرآن کہتا ہے کہ تمہاری تباہی دراصل تمہاری بے حسی ہے ۔ از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(06.02.2012) بلوچستان میں ہرروز نیا جنازہ ، نیا سوگ اور نیاماتم ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(25.12.2011) آج قائد اعظم ھم میں نہیں ھیں اور ھم ان جیسے نہیں ھیں۔از۔نگہت نسیم
(14.11.2011) امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں اور اسکی ضرورت بھی نہیں ۔از۔نگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(11.11.2011) دل بہت اداس ہے معصوم زین ڈاکٹر کی غفلت کا شکار بن گیا ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(19.10.2011) نسلی تعصب کسی عہد کسی قوم تک محدود نہیں؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(05.10.2011) مارنے والے سے بڑا ظالم خاموش رہنے والا ہے ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(24.07.2011) افتی نسیم بالکل شیشہ مچھلی جیسا آر پار دیکھ لو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(31.05.2011) جھگڑے جنگ، اور جنازے ( اشاعت مکرر ) ۔از نگہت نسیم ۔سڈنی
(13.05.2011) صدر سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں ؟ دیوانی ہے کیا عدالت۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.05.2011) اسا مہ بن لاڈن کی موت یا موت کا ڈرامہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں