14.10.2026, 02:13pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

بی بی رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیق مقالہ۔سید اکمل حسین
21.02.2014, 02:18pm , جمہ (GMT+1)

سید اکمل حسین۔لندن
‎افسوس اس بات کا ہے  کہ گزشتہ ایام میں ریڈیو اور ٹی وی سے کچھ ایسے بیان  نشر ہوئے جو اولاد رسول کے بارے میں اچھے تاثرات نہیں تھے ۔
‎لوگوں کے ساتھ ملاقات اور رابطہ  کے بعد  جو باتیں سامنے آئیں  اوران افراد نے جو سوالات کیے ان سے واضح ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں پر غلط اثرات مترتب ہوئے ہیں ۔

‎یہ بات واضح رہے کہ ہمارے اسلاف  اور بزرگا ں سے جو تاریخ اور مطالب ہم تک پہنچتے ہیں وہ کبھی فقہ کے بارے میں ہے جن میں کسی کام کو انجام دینے یا انجام نہ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے ، ان کے بارے میں ہمارے فقہاء عظام نے بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں اور ان کے بارے میں موجود روایات ،ان روایات کے سند ، ان کے عام اور خاص اور ان کےعتراضات کے  بارے میں اچھی طرح تحقیق کرتے ہیں ،یہ سب اس لئے کہ یہ حضرات  کسی کام کے انجام دینے کے بارے میں اور کسی کام سے نہیں کرنے کے بارے میں حکم کرتے ہیں ، لہذا اس کے لئے بہت ہی بنیادی اور دقیق  مراحل سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا ہی انجام پایا ہے ۔

‎اس کے علاوہ دوسرے قسم کے امور جو ہمارے اسلاف سے ہم تک پہنچے ہیں وہ اخلاقی مسائل ہیں ، یہ جو اخلاقی روایات جو ہم پڑھتے ہیں کوئی ان کے سند کے بارے کچھ افرادتحقیق نہیں کرتے چونکہ اخلاقی روایات کے ساتھ یا عقل ہے یا عقلاء اور سیرت عقلائ، مثلا عقل یہ حکم کرتا ہے کہ ظلم کرنا اچھا نہیں ہے اورعدل اچھا ہے ،امانت کو اس کے مالک تک پہنچانا سب سے بہتراور عمل سعی ہے اوراس میں خیانت کرنا برا  او خبیث کا کام ہے ،لہذا اسی لئے اخلاقی روایات کے بارے میں سند کے بارے میں بہت زیادہ کوشش نہیں کرتے ۔

‎بعض امور اعتقادی مسائل ہیں ، اعتقادی مسائل میں بنیاد روایت نہیں ہے بلکہ اس میں بنیاد عقل ہے ( خدا کا وجود، پیغمبر ، اور معاد … )جی ہاں ! ان کی جزئیات صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے ، اگر اعتقادی مسائل میں کوئی روایت نقل ہوئی ہو تو وہ بھی عقل کے سمجھ آنے والی چیز کی تائید ہے ۔
‎ایک اور قسم فضائل اور رذائل ہے ، ان کے بارے  میں ہم سند ڈھونڈتے ہیں ،کیوں ؟
‎چونکہ ان امور میں نقلی ہونے کا احتمال ہے ،مثلاً پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب میں سے فلاں فلاں  شخص ایسے ایسے تھے ، کیا یہ صحیح ہے اور واقعاً ایسا ہی تھا ؟

‎اس کو معلوم کرنے کے لئے اس روایت کے سند کے بارے میں جستجو کرنا چاہئے ،فضائل اور رذائل میں نقلی ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے ، اسی لئے ان کے بارے میں سند کو دیکھا جاتا ہے ، مثلاً اگر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے :''انا مدینة العلم و علی بابہا '' ہم اس کے سند کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں ۔
‎مرحوم آقای امینی (رضوان اللہ علیہ ) نے اپنی کتاب الغدیر میں اس حدیث کے بارے میں اہل سنت سے بتالیس(42) مصادر کو ذکر کیا ہے ۔
‎اب باقی رہ جاتا ہے تاریخی مسائل ،اس میں دواقسام کے ہیں اور  یہ اقسام  ایسے مسائل ہیں جن میں نقلی ہونے کا احتمال نہیں دیا جاتا چونکہ اس میں جنقل کرنے کا کوئی انگیزہ نہیں ہے ۔

‎تو خود اسی سے انسان کو اطمینان ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے اور یہ واقعہ ہوا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کو نقل کرتا ہے تا کہ کسی کو مقام دے یا کسی کی بے عزتی کرے ، اور کبھی ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے ، واقعہ کربلا میں بہت سارے واقعات ایسے ہیں ، ان کے نقل کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے ،یہ ایک عمومی بات ہے جو اس بحث کو شروع کرنے کے لئے مقدمہ کے طور پر بیان کرنا چاہتا تھا۔
‎لیکن واقعہ عاشور اور اس کے بعد والے واقعات کے بارے میں ایک اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ کربلا کے واقعہ کو صرف ایک نفر نے نقل نہیں کیا ہے ۔
‎میں یہاں پر اجمالی طور پر کچھ مطالب کو بیان کروں گا ، کربلا کے بعض واقعات عمر بن سعد کے سپاہیوں کے ذریعہ نقل ہو اہے جیسے حمید بن مسلم یا قرہ ابن قیس تمیمی کہ یہ لوگ قتلگاہ کے واقعات کو بیان کرنے والے ہیں ۔

‎بعض واقعات کو ضحاک بن عبد اللہ نے نقل کیا ہے ، یہ شخص راستہ میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اور ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک آپ (ع) زند ہ ہے میں آپ کے ساتھ رہوں گا اور آپ(ع) سے دفاع کرتا رہوں گا ،اور اگر یہ یقینی ہو جائے کہ آپ (ع) شہید ہو رہے ہیں تو میں اس وقت چلا جاؤں گا ، یہ شخص کربلا آئے اور عاشور کے دن عصر کے وقت امام حسین (ع) کے خدمت میں شرفیاب ہوا اور کہا : میں جانا چاہ رہا ہوں ، امام نے فرمایا ؛ تم ان لوگوں کے درمیان میں کیسے نکل جاؤ گے ؟ اس نے کہا مجھے جانے کا طریقہ معلوم ہے ۔

‎اس نے اپنے گھوڑے کو خیمہ کے اندر رکھا ہوا تھا تاکہ اسے نیزہ نہ لگے ، جس وقت امام (ع) کو محاصرہ میں ڈالا تو اس نے اپنے لئے فرار کرنے کا راستہ پایا اس وقت گھوڑے پر سوار ہو کر فرار کیا ،کثیرابن عبد اللہ شعبی کے ساتھ عمر سعد کے فوج میں سے دس نفر اس کا پیچھا کیا ، وہ گھوڑے پر بھاگ رہا تھا یہ لوگ بھی اسے پیچھا کر رہے تھے ، ایک جگہ پر پہنچ کر گھوڑے سے نیچے اترے ، کثیر بن شعبی اس کے پاس پہنچے اور اس سے کہا تم کون ہو ؟ اس نے اپنے چہرہ سے کپڑے کو اٹھایا تو اس نے دیکھا کہ اس کا اپنا دوست ہے لہذا اسے چھوڑ دیا ، بعض واقعات جیسے شب عاشورا کے واقعات اس سے نقل ہوا ہے ۔

‎بعض واقعات امام سجاد علیہ السلام سے نقل ہوا ہے جیسے شب عاشورا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا خطبہ ، کہ اس کا روایت کرنے والا آپ (ع) ہی ہے ، اور بعض واقعات کو فاطمہ بنت الحسین (س) نے نقل کیا ہے ، اور بعض واقعات کو عقبہ بن سمعان نامی کسی شخص نے نقل کیا ہے ، کہ طبری نے اپنی تاریخ میں بہت جگہوں پر اس شخص سے نقل کیا ہے ، یہ امام حسین (ع) کی زوجہ رباب کا غلام ہے ، جب جنگ ختم ہوئی  تو اسے پکڑ کر عمر بن سعد کے پاس لایا گیا ، چونکہ غلاموں کو قتل نہیں کرتے تھے لہذا اسے چھوڑدیا ، کوفہ میں ہونے والے بعض واقعات کو زید بن ارقم نے نقل کیا ہے ، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبہ کو بشیر بن حزلم نے نقل کیا ہے ۔

‎ملاحظہ فرمایا کہ واقعہ کربلا کے واقعات کو مختلف لوگوں نے نقل کیا ہے اور صرف ایک شخص سے نقل نہیں ہے ۔
‎میں ایک مطلب کو بیان کرتا ہوں اس کے بعد حضرت رقیہ(س) کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرتا ہوں ، خدا رحمت کرے علامہ شعرانی کو ، انہوںنے مجمع البیان اور صحیفہ سجادیہ پر اچھا حاشیہ لکھا ہے ،انہوں نے اپنے بعض  مکتبوبات میں لکھا ہے کہ جب ہم تاریخی دو واقعہ کو ایک جگہ رکھتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان کچھ اختلافات اور رکچھ مشترکات پاتے ہیں،ان دونوں تاریخی واقعہ سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اصل واقعہ صحیح ہے ۔
‎لیکن جزئیات میں ان دونوں میں اختلاف ہے ، مثلاً ایران اور عراق کے درمیان جو جنگ ہوئی اس میں اتنے سارے امکانات کے ہوتے ہوئے کچھ واقعات کے نقل ہونے میں کچھ اختلافات ہوئے ہیں یہ ایک عام بات ہے ، ممکن ہے ایک راوی نے اس مسألہ کو ایک خاص نظر سے دیکھا ہو اور دوسرے راوی نے دوسرے زاویہ سے اس کی طرف توجہ کیا ہو ، واقعہ کربلا او رامام حسین علیہ السلام کا واقعہ بھی اسی طرح ہے ،چونکہ خداوند متعالی کی مشیت یہ ہے کہ یہ واقعہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہے اسی وجہ سے اما م حسین علیہ السلام کے واقعہ میں نظم و انضباط پایا جاتا ہے وہ کہیں اور پایا نہیں جاتا حتی کہ پیغمبر اکرم (ص) کے جنگوں میں بھی ایسا نہیں ہے ۔

‎مثلاً آپ ملاحظہ فرمائیں کہ امام حسین(ع) کے اصحاب کے تمام شعار تاریخ میں ثبت ہے ، شہداء کے نام ، یا ان کے وہاں پر انجام دینے والے امور مثلاًحنظلہ بن اسعد شامی قاتل قتال الابطال یا دوسرا ایک قاتل قتال المشتاقین ہے ، یہ تمام جزئیات تاریخ میں ثبت ہے ، یہ وہ کچھ مطالب تھے جو میں عاشورا کے بارے میں یہاں بیان کرنا چاہ رہا تھا ۔

‎لیکن حضرت رقیہ (س) کے بارے میں اگر ہم ان کے بارے میں موجود واقعہ کا انکار کرنا چاہیں تو تمام مقتل کو کنارے لگانا پڑھے گا ، کوئی آکر یہ بتائیں کہ حضرت رقیہ (س) کا واقعہ تاریخ میں مثلاًملاحسین کاشفی کی کتاب روضة الشہداء میں نقل ہے اور اس کتاب کی کوئی سند نہیں ہے ، یہ صحیح ہے لیکن یہ واقعہ صرف اس کتاب میں نہیں بلکہ ایک بڑے فقیہ نے اسے نقل کیا ہے ، عماد الدین طبری، یہ عالم ساتویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہے ، کہ ظاہراً ٦٧٥ ہجری میں وفات پائے ہیں ، ایک قابل قدر فقیہ عالم ہے کہ مرحوم شہید اول نے نماز جمعہ کے بحث میں ان کی نظریہ کو بیان کیا ہے ، ان کی کتاب ''کامل'' جو کہ ''کامل بہایی'' سے مشہور ہے ساتویں صدی میں لکھا ہوا ہے ، ا س کتاب کی جلد ٢ صفحہ ١٧٩ میں صریحاً لکھا ہے کہ حضرت رقیہ (س) امام حسین (ع) کی بیٹی ہے ، انہوں نے لکھا ہے : یہ بچی نیند سے اٹھی اور بولی : این ابی ؟ اپنے باپ کو تلاش کیا ، جب یزید نے بچی کی رونے کی آواز کو سنی تو حکم دیا کہ امام حسین (ع) کی سر مقدس کو اس بچی کے سامنے بیجھا جائے ، جب اپنے باپ کے سر مقدس کو دیکھا تو اسی وقت وفات پائی ، انہوں نے لکھا ہے کہ اس بچی کی عمر چار سال تھی ۔

‎اس کے بعد نقل کیا ہے کہ اس مطلب کو انہوں نے کتاب الحاویہ سے نقل کیا ہے ، یہ کتاب اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے جس طرح دوسری بہت سی کتابیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں ، کتاب بحار الانوار ایک ارزشمند مطالب کا مجموعہ ہے جسے مرحوم علامہ مجلسی نے جمع کیا ہے ، اور کچھ مطالب پر بھی مشتمل ہے جسے انہوں نے بعض مطالب کے ذیل میں لکھا ہے ، واقعاً بہت قیمتی مطالب ہے ، انہوں نے اس کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے : میں نے دیکھا کہ کچھ کتابیں ختم ہو رہیں ہیں تو یہ سوچا کہ ان کے مطالب کوایک مجموعہ میں جمع کروں تا کہ وہ ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے ۔
‎بحار الانوار کے بہت سارے مصادر ہمارے پاس نہیں ہے ،لیکن تین سو سال پہلے یہ مرحوم مجلسی کے پاس تھے، یا زبیر بن بکار کی کتاب الموفیقات ابھی ہمارے پاس نہیں ہے لیکن آٹھ سو سال پہلے یہ کتاب ابن ابی الحدید کے پاس موجود تھی اور اس کتاب سے انہوں نے نقل کیا ہے ۔
‎یاابوبکر جوہری کی کتاب ''السقیفة و الفدک'' آج ہمارے پاس نہیں ہے لیکن یہ چوتھی صدی ہجری کی اصلی کتابوں میں سے تھی او ر ابن ابی الحدید نے اس سے نقل کیا ہے اور اس بارے میں لکھا ہے اہل سنت کے ثقات میں سے ہے ۔

‎لہذا حضرت رقیہ (س) کا واقعہ کتاب''کامل بھایی'' میں ذکر ہے اور اس میں تصریح ہوا ہے کہ آپ (س) امام حسین (ع) کی بیٹی ہے اور اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔

‎لہذاکوئی اگر کر یہ بتائیں کہ آپ (س) شہداء میں سے کسی ایک کی بچی ہے ، اس کی کیا دلیل ہے اور اس کا سند کیا ہے ؟ایسے ہی ایسی کوئی بات بتا دی ہے اور کچھ افراد کو حیران و سرگردان کیاہے ، یہ مصلحت نہیں ہے ، کیوں ہم اس طرح کریں ؟

‎بعض نے لکھا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی دو بیٹیاں تھیں ایک کا نام فاطمہ تھا اور دوسرے کا نام سکینہ ، اگر ایسا ہے تو رقیہ کس کی بچی ہے ؟اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ علی بن عیسی اربلی کتاب کشف الغمہ میں امام حسین (ع) کے چار بچیوں کو ذکر کیا ہے ، لہذا اس لحاظ سے کوئی مشکل نہیں ہے سیف بن عمیرہ کی اشعار میں بھی حضرت رقیہ (س) کا نام ذکر ہوا ہے ۔

‎شہر ساوہ کے نائب امام جمعہ جناب حجة الاسلام و المسلمین آقای قربانی نے آقای میرزا علی محدث زادہ ( شیخ عباس قمی کے فرزند) میرے لئے ایک اچھا مطلب بیان کیا ہے ، کہ یہ عالم دین تہران میں مجلسیں پڑھتے تھے ، کئی سال پہلے میں نے محرم میں کئی جگہوں پر مجالس پڑھنے کا وعدہ کیا ہوا تھا ، ماہ محرم کے شروع ہونے سے پہلے میرے گلے میں مشکل پید اہوا ، میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو مجھے یہ بتایا کہ کوئی بھی تقریر نہیں کرنا ہے اور مجلس پڑھنا میرے لئے زہر ہے ۔

‎میں نے مجالس پڑھنے کا وعدہ کیا ہو ا تھا اور ان لوگوں نے بھی میرے وعدہ کے مطابق مجلس منعقد کیا تھا ،میں نے اپنے آپ سے یہی بولا کہ خدایا میں کیا کروں ؟کل اول محرم ہے اور میں اس بیماری کے ساتھ منبر پر تو نہیں جاسکتا ، میں خود امام حسین(ع) سے متوسل ہوا۔
‎میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ میں کسی جگہ کسی مجلس میں ہوں اور وہاں امام حسین (ع) بھی تشریف فرما ہے اور بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے ، جن کو میں نہیں پہچانتا تھا ، لیکن امام (ع) کو پہچان لیا ، امام نے کسی ایک آقاکو جسے میں نہیں پہچانتا تھا مجلس پڑھنے کا فرمایا ، اس نے عرض کیا :میں کیا پڑھوں ؟ فرمائے : میری  بیٹی رقیہ (س) کی مجلس پڑھو، اس نے حضرت رقیہ (س) کا مصائب پڑھنا شروع کیا ،اس وقت امام حسین (ع) اور وہاں پر مجلس میں لوگ اور میں بھی خواب میں بہت روئے ،جب میں نیند سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ میرے گلے میں کوئی مشکل نہیں ہے ، اسی خواب کے برکت سے میں نے اس سال کی مجالس کو پڑھا۔

‎ذکر حسین کی برکات کے بہت سے واقعات کتب اور اسلاف سے ملتے ہیں جس سے ہمارے  قاری استفاد کرتے رہتے ہیں یہ باتئیں ہماری عبادت گاہوں میں نہیں پائی جاتی کیونکہ عبادت گاہوں کے سربراہ تو صرف اور صرف سفارشی اور اپنا من خوش کرنے کے لئے عبادت گاہوں میں اپنے مطلب کے لوگوں کو مدعو کرتے ہیں نہ کہ خوشنودی محمد و آل محمد کے لئے کیو ں کہ ان کے ہاتھوں میں قوم کی دیے ہوے عطیات کے نام پر جمع کی ہوئی رقم ہوتی ہے ان کو کونسا اپنی جیب سے خرچ کرنا ہوتا ہے

 جو صیح تاریخ سے بھی نا واقف ہے اور بے عمل اور کردار کے غازی افراد منبر پر ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خدا ان کو تحقیق اور عمل کرنے کی توجہ عطا کرنےاور محمد و آل محمد کی صیح تعلیمات نشر کرنے کی توفیق عطا کرئے۔ اور ان ظالم اور فاسق و فاجر سربرا ہان سے قوم کو نجات دلائے۔


:دیگر مضامین
(18.02.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار43ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(15.02.2014) پاکستان پریس کلب پیرس فرانس ۔ فرانس میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر
(10.02.2014) بچوں میں جھوٹ کارجحان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(07.02.2014) فرانس میں ”یوم یکجہتی کشمیر“روائتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
(05.02.2014) ایڈیلیڈ کے چڑیا گھر میں دنیا کا معمر ترین پرندہ فلیمنگو چل بسا
(24.01.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار42ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(22.01.2014) جرمنی کے شہر بون میں سکینہ بنت الحسین سے موسوم مجلس عزا کی چند تصاویر
(19.01.2014) جرمنی کے شہر بون میں اردو زبان کی بقا کے حوالے سے مکالمہ اور محفل ادب
(18.01.2014) جاوید قریشی صاحب آپ نے فیض احمد فیض کا وہ قیمتی خط یقیناً سنبھال کر رکھا ھوگا
(03.01.2014) تاریخ نےاپنےآپ کو دوہرادیا2014کا کلینڈر1947جیسا ہے
(02.01.2014) عالمی اخبار کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے قارئین کو نئے سال کی مبارکباد
(31.12.2013) ماربل آرچ لندن کا قدیمی جلوس اربعین جو عرصہ پینتس سال سے برآمد ہو رہا ہے
(27.12.2013) کربلائے معلیٰ اور دنیا بھر میں چہلم امام حسین علیہ السلام
(26.12.2013) دسمبر 26....آج معروف شاعرہ پروین شاکر کی انیسویں برسی ہے
(24.12.2013) ڈاکٹر سید حسین کے گھر پر چہلم امام حسین کی مناسبت سے مجلس عزا
(16.12.2013) لندن کا قدیم اور تاریخی عزا خانہ ادارہ جعفریہ کھلنے سے پہلے کی آخری مجلس عزا
(15.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار41ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(10.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار40ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(09.12.2013) ادارہ جعفریہ لندن کی انتظامیہ کی تالہ بندی جاری۔ اور کھلے آسمان تلے مجالس عزا جاری
(07.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔39ویں قسط ۔سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں