|
سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی دہشت گردی کی کارروائیوں کا اندازبھی تبدیل
13.01.2013, 01:17am , اتوار (GMT+1)
سال
نو کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا اندازبھی
تبدیل ہوگیاہے۔ رواں سال پولیس اہلکاروں پر کریکر دھماکوں میں اضافہ
تشویشناک ہے۔سال نو ابتدائی سات دنوں میں تین پولیس اہلکار موت کی نیند
سلائے جا چکے ہیں۔
یہ شہر ِکراچی ہے یا پھر قبائلی علاقہ جہاں ہوتا ہے روز کوئی بم
دھماکا۔۔۔لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے بھی نئے سال پر کچھ نئے انداز میں تخریب
کاری کی ٹھانی ہوئی ہے۔رواں سال کے ابتدائی سات دنوں میں تین پولیس
اہلکاروں کو موت کی نیند سلایا جا چکا ہے جبکہ چار کے زخمی ہونے کی اطلاع
بھی ہے۔سال کا پہلا دن گھگر پھاٹک، اورنگی ٹاوٴن سے بم برآمد، عائشہ منزل
بم دھماکا کئی خاندانوں کو آب دیدہ کرگیا۔
سال کا دوسرا دن دھابے جی ریلوے ٹریک کو بم سے اڑانے کی کوشش ناکام بنائی
گئی، مواچھ گوٹھ میں پولیس نفری پر کریکر حملہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تین جنوری شہرکے کسی علاقے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
چار جنوری اورنگی ، عیسی نگری اور مواچھ گوٹھ میں پولیس نفری دہشت گردوں
کے نشانے پر، پانچ جنوری کو میٹروول ، اورنگی ٹاوٴن اور مواچھ گوٹھ میں
دہشت گرد سر گرم رہے۔ مواچھ گوٹھ میں پولیس موبائل پر دستی بموں سے حملہ
کیا گیا۔
چھ جنوری پولیس اہلکار اور شہر کراچی دہشت گردی کے واقعات کی بھینٹ نہ
چڑھے اور سات جنوری خواجہ اجمیر نگری پولیس چوکی کے قریب سے برآمد ہونے
والا بم ناکاری بنا دیا گیا۔
|