لاشوں کا اور دھماکوں کا
ایک سلسلہ ہے
شہروں میں میرے یارب
کس بے دھڑک طریقے سے اب موت پھر رہی ہے
آنکھوں میں میری کوئی اب کرچیاں سجا دے
میرے بدن کو کوئی لٹکا دے شاخِ گُل پر
تک تک کے روز لاشیں آنکھیں جھُلس گئی ہیں
بینائی گھر کے گندے پانی میں بہہ گئی ہے
ہم تھک گئے ہیں یارو لاشیں اٹھا اٹھا کے
یہ حکمران کیسے اندھے ہیں گونگے،بہرے
کس اطمینان سے یہ
کہتے ہیں ‘‘ٹھیک ہے سب
اور یہ جو کر رہے ہیں
یہ ہیں عوام دشمن‘‘
ان حاکموں سے کوئی اب جاکے یہ تو پوچھے
تم سے بڑا بھی کوئی دشمن عوام کا ہے؟
ہر روز اٹھ رہے ہیں ہر سمت سے جنازے
ہر گھر میں ایک ماتم،ہر آنکھ رو رہی ہے
لگتا ہے ملک بھر کی تقدیر سو رہی ہے
کیسی ہے یہ حکومت نفرت جو بو رہی ہے
یہ میرے شہر جیسے بغداد بن گئے ہیں
ہر شام آسماں سے خود کُش اتر رہے ہیں
قبروں کے منہہ کھلے ہیں
آفت جو آ رہی تو تنگ بستیوں پر
اور مر رہے ہیں وہ جو غربت کے ہاتھوں پہلے
مردہ ہوئے پڑے ہیں
سُنتا نہیں خدا بھی اب کس کو ہم پکاریں
بہتر ہے خون میں اب بارود کو اتاریں
سہمے ہوئے ہیں بچے،بوڑھوں پہ خوف طاری
یہ میرے گھر میں یارو ہے کس کی جنگ جاری
بتلاؤ کس کی جنگ ہم آپس میں لڑ رہے ہیں
اور کس نے موت ہم پر کر دی ہے یوں مسلط
مرنے کے خوف سے گھر ہونے لگے مقفل
کس طرح شہر بھر میں پھرتی ہے موت پاگل
شہروں میں اُگ رہے ہیں کتنے سروں کے جنگل
اب صحن میرے گھر کا لگتا ہے جیسے مقتل
اک کربلا تھی وہ بھی
ذروں میں جس کے اب تک شبیر کا لہو ہے
اور اک صدائے ماتم جس کی فضاؤں میں ہے
یہ بھی غلط نہیں ہے
‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘
اس زندگی کے ہاتھوں ہم روز مر رہے ہیں
حکمت یزید کی پھر ہم پر ہوئی مسلط
جس سمت دیکھتا ہوں دم توڑتی ہے عزت
ساری صداقتوں کے پھر سامنے ہے نفرت
اب سب یزید مل کر پھر مانگتے ہیں بیعت
پھر جیسے نینوا میں لاشے بکھر رہے ہیں
سر دوش پر نہیں ہیں اور تیر چل رہے ہیں
‘‘اک کربلاسے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘