دنیا کے مختلف خطوں اور پورے پاکستان میں حکومت اور انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کا احتجاجی جلوس اتوار کو نمازِ ظہر کے بعد مرکزی امام بارگاہ جی سکس ٹو اسلام آباد سے برآمد ہوا جو شاہراہِ

جناح پر ایوانِ صدر کے عین سامنے چائنا چوک پر جاکر دھرنے کی صورت اختیار کرگیا۔ جلوس میں راولپنڈی، اسلام آباد اور گرد و نواح کے علاقوں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کثیر تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باوجود جلوس مکمل طور پر منظم اور کسی بھی افراتفری سے پاک رہا۔ جلوس میں شیعہ افراد کے علاوہ اہلِ سنت حضرات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ جلوس کے شرکا میں مرد، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے غم و غصے کا اظہار کررہی تھی۔ شرکا نے مختلف بینرز، جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ کی بے حسی کے خلاف نعرے درج تھے۔
دھرنے کے شرکا سے مختلف علمائے کرام، شعرائے کرام، طلبا تنظیموں کے نمائیندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائیندگان نے خطاب کرتے ہوئے آپس کے اتحاد و اتفاق پر زور دیا اور بلوچستان کی نااہل حکومت اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ جلوس کے نعروں میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی برطرفی اور کوئٹہ کو فوری طور پر فوج کے حوالے کرکے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پرامن احتجاج کا یہ سلسلہ طے شدہ پروگرام کے تحت مغرب کے وقت بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا جسکے بعد یہی شرکا فیض آباد راولپنڈی کے دھرنے میں شرکت کرنے چلے گئے۔
اس وقت ایکسپریس ہائی وے فیض آباد پر ہزاروں بچے، بوڑھے ، خواتین اور جوانان موجود ہیں جو بے حس حکومت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ہر ممکن حد تک کوشش کررہے ہیں۔ شدید سردی کا زور کچھ کم کرنے کے لئے لکڑیوں کو آگ لگائی گئی ہے جس کو میڈیا "ٹائر جلانا" کہہ کردنیا کو غلط اطلاعات فراہم کررہا ہے۔
پاکستان کے جید علماء اس وقت تمام مراجع کرام سے رابطے میں ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اگراتوار کی رات تک مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو فتویٰ جاری کیا
جائیگا کہ تمام شیعہ حضرات گھر سے نکل کر سڑکوں پر آجائیں اور اپنا بھرپور احتجاج دنیا کے سامنے پیش کریں۔