
آپ تو اپنے آدمی لگتے ہیں۔“یہ وہ جملہ ہے جو ممتاز سیرت نگار،شاعرو ادیب ڈاکٹر شمس جیلانی صاحب نے چار سال قبل عالمی اخبار پر اُس وقت لکھا،جب عالمی اخبار سے ہماری وابستگی کی ابتداءہوئی تھی اور باجی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے بطور کالم نگار عالمی اخبار کے ساتھ ہماری شمولیت کا بلاگ لگایا تھا،کچھ عرصہ بعد محترم شمس جیلانی صاحب کا ایک مضمون بعنوان”مفتی وقار الدین“ عالمی اخبار پر شائع ہوا،مضمون بہت اچھا،معلوماتی اور ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا،ویسے بھی مفتی وقار الدین صاحب علم وفضل کے لحاظ سے ہمارے لیے قابل احترام اور کئی قلبی و روحانی تعلق کے حوالے رکھتے ہیں،متعدد موقعوں پر ہمیں اُن کی زیارت وملاقات کا شرف بھی حاصل ہے
لیکن شمس جیلانی صاحب کے مضمون نے مفتی وقار الدین صاحب کے زندگی کے بہت سے ایسے گوشے آشکارا کردیئے جن سے ہم ناواقف تھے،لہٰذا افادہ عام کیلئے ہم نے اُس مضمون کو اپنے مجلے”افق“ میں شائع کرنے کا ارادہ کیا اور بذریعہ میل جناب شمس جیلانی صاحب سے اُس مضمون کی

اشاعت کی اجازت طلب کی،اِس موقع پر جناب شمس جیلانی صاحب سے تفصیلی تعارف حاصل ہوا،آپ نے کمال محبت سے نہ صرف مضمون بلکہ آئندہ بھی اپنی تمام تحریروں کی اشاعت کی اجازت عطا فرمائی اورساتھ ہی اپنا وہ جملہ جو عالمی اخبار میں ہمارے ابتدائی تعارف کے وقت ارشاد فرمایا تھا دہراتے ہوئے فرمایا”میں نے تو پہلے ہی کہا تھا،آپ اپنے آدمی لگتے ہیں۔“
یہ فراست مومن تھی یا جناب شمس جیلانی صاحب کی محبت وعنایت،بہرحال،محترم شمس جیلانی صاحب کے مضمون کی اپنے مجلے میں اشاعت کے بعد آپ سے محبت کا رشتہ اور گہراہوگیا،کئی موقعوں پر آپ نے کینیڈا سے فون بھی کیا،دوسال قبل جب آپ پاکستان تشریف لائے تو آنے سے قبل اپنی آمد کی اطلاع دی،چنانچہ 6 فروری 2011 بروز اتوار صبح 11بجے برادرم اعظم عظیم اعظم کے ہمراہ گلشن اقبال کراچی میں آپ سے زندگی کی پہلی ملاقات ہوئی،جس میں آپ نے بے انتہا محبت و شفقت سے نوازا،کئی اہم نقاط پر گفتگو ہوئی،ہمیں یہ جان کر بہت مسرت ہوئی کہ جناب شمس جیلانی صاحب مفتی وقار الدین صاحب سے بیعت و خلافت کے اعزاز کے ساتھ تین حوالوں سے قریبی رشتے داری کا بھی شرف رکھتے ہیں،حضرت نے بہت قریب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو بنتے اور بگڑتے دیکھا ہے،آپ پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے عقیدت مند ہیں اوراُن کے ساتھ عملاً سیاست میں نہ صرف حصہ لے چکے ہیں بلکہ اُن کی جماعت عوامی لیگ کے صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔

ڈاکٹر شمس جیلانی11 دسمبر 1931 کویو پی بھارت کے شہر پیلی بھیت کے معروف خاندان ” ڈھکیا“ میں پیدا ہوئے،مشہور روحانی بزرگ سید مہرنان علی شاہ(اکوڑہ خٹک) نے آپ کا نام محمد شمس الدین احمد رکھا،لیکن آپ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے شمس جیلانی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے،اپنے اِس روحانی تعلق کو بیان کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں۔
یہ شمس جہاں تاب تعلق سے بنا ہے
فطرت میں تواضع ہے،تکلف ہے،غنا ہے
جناب شمس جیلانی صاحب حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویری اور حضور غوث پاک سید عبدالقادر جیلانی سے بڑی محبت وعقیدت رکھتے ہیں،پیلی بھیت میں آپ کا خاندان علم و ادب کا گہوارہ شمار ہوتاہے، آپ کے پر دادا جلال الدین جلال کا مجموعہ “کلیات جلال “ کے نام سے آج بھی علی گڑھ یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے،آپ کے والد کمال الدین کمال بھی صاحب دیوان شاعر تھے،انہوں نے 1938میں پیلی بھیت سے اردو کا اخبار“الکمال“ بھی جاری کیا تھا،شمس جیلانی صاحب نے پہلا شعر 1945 میں14 برس کی عمر میں کہا،یوں اُن کا ادبی زندگی کا سفرکم وبیش 67برسوں پر محیط ہے۔

آج ڈاکٹر شمس جیلانی کا نام پاک وہند اور پوری دنیا میں اردو جاننے والوں کیلئے محتاج تعارف نہیں،آپ کے مضامین مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں،جنہیں شوق سے پڑھا جاتا ہے،بقول محترم صفدر ہمدانی جناب شمس جیلانی اپنی تحریر سے لو گوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں،اُن کا شمار اُن لکھنے والوں کی فہرست میں صف اوّل میں ہو تا ہے جو اردو زبان کو بیرونی مما لک میں زندہ رکھنے کیلئے مصروف رہتے ہیں،وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف کا درجہ رکھتا ہے،بیرون دنیا اور بلخصوص پاکستانی کمیونٹی میں اردو ادب کے حوالے سے اُن کی بے لوث اور بے مثال خدمات کو بہت سرا ہا جا تا ہے۔“بلاشبہ ڈاکٹر شمس جیلانی کئی عشروں سے مغربی دنیا میں ایک مبلغ کی حیثیت سے اہلیان مغرب کو اسلام کی حقیقی رو ح سے رو شنا س کرا نے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
جناب شمس جیلانی صاحب نے 1988 میں کراچی کے حالات سے بددل ہوکر ہجرت کا فیصلہ کیا اور 29 جون 1989 سے کینیڈا” وینکور“ میں مقیم ہیں،اِس وقت آپ کم وبیش 20اداروں اور تنظیموں کے فعال رکن،سربراہ،مشیر اور معتمد خصوصی ہیں اور کئی اعلیٰ اعزازات رکھتے ہیں،آپ کئی کتابوں کے مصنف،مولف اور مترجم بھی ہیں،اسلامی موضوعات پر آ پ کی تحریریں ایک منفرد حیثیت و مقام رکھتی ہیں ،آپ کی شاعری میں مسلم اُمہ کیلئے ایک تڑپ موجود ہے،شمس جیلانی صاحب اسلام سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں اور ایک سچے عا شق رسول ہیں،آپ کے نزدیک حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر سیرت کا لکھنا ممکن نہیں،آپ نے اپنی تحریروں اور عمل کے ذریعے دیار غیر میں اسلام کی سچی اور حقیقی روح متعارف کروائی ہے،آپ کے مداحوں کے حلقے میں صرف مسلمان ہی نہیں،ہندو،سکھ،عیسائی اور کئی دوسرے طبقہ فکر کے لوگ بھی شامل ہیں،ڈاکٹر شمس جیلانی کئی مشہور ومعروف کتابوں”روشنی حرا سے،سورہ فاتحہ اور اُس کے تقاضے،قصے مخلصین کے اوّل و دوم، حضرت صدیق اکبر،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،حضرت فاطمہ،امام حسین،امام حسن،اسلام ،حقوق العباد،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان اور بنیادیات ذیابیطس وغیرہ کے مولف و مصنف بھی ہیں اورآپ کی سیرت کی کتاب ”روشنی حرا سے“ٹورینٹو کی مساجد میں پڑھائی بھی جاتی ہے۔
جناب شمس جیلانی صاحب ایک مہذب انسان ،کامیاب شوہر، شفیق باپ،محبت کرنے والے بزرگ، دوستوں کے دوست، ادبی اوردینی محفلوں کی جان،کینیڈا میں مقامی حکومت کے فعال رکن ، دلوں میں اتر جانے والے ادیب و شاعر اور اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں،آپ نے مغرب میں رہ کر مشرق کی قابل فخر روایات پر عمل کرکے ثابت کردکھایا کہ مغرب سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی روایات و شناخت کو زندہ رکھا جاسکتا ہے،یہ پروردگار عالم کا کرم خاص ہے کہ عمر کے جس حصے میں لوگ سفر زندگی سے تھک کر آرام کا سوچتے ہیں، ڈاکٹرشمس جیلانی اُس عمر میں پہلے سے بھی زیادہ متحرک و فعال ہیں،یقینااِس تحرک کے پیچھے آپ کی اہلیہ محترمہ اور بچوں کا نمایاں حصہ ہے جوادبی ،سماجی اور دینی خدمت کے کاموں میں آپ کے حقیقی معاون اور بہی خواں ہیں،آپ شریف النفس ، صا حب کردار اور پر وقار و ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں اور عالمی اخبار سے بطور مدیر معاون منسلک ہیں۔
دوسال قبل ہونے والی ملاقات پرجب آپ نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اُن پہلووں سے نقاب اٹھایا جو آج تک گوشہ گمنامی میں ہیں، تو ہم نے حضرت سے گزارش کی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو بہت مسخ کیا گیا ہے،وہ لوگ جنھوں نے کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ برملا کہا کہ ”پاکستان پلیدستان ہے،قائد اعظم کافر اعظم ہیں اور اب تک کسی ماں نے ایسا بیٹا نہیں جنا جو پاکستان کی ”پ“ بنادے۔“مگر آج وہ تحریک پاکستان کے ہیرو قرار دیئے جاتے ہیں،حالانکہ اُن کی پاکستان دشمنی مسلم ہے،لیکن تاریخ سازی کے کمال نے زیرو کو ہیرو بنادیا ہے،آپ کے پاس ہماری قومی تاریخ کے بہت سے راز محفوظ ہیں،انہیں صفحہ قرطاس پر منتقل کیوں نہیں فرماتے،کیوں اِس تاریخ کو قوم کے سامنے نہیں لاتے،تو حضرت نے فرمایا کہ اگر میں نے یہ سب لکھ دیا تو بہت سے لوگ ناراض ہوجائیں،مگر ہمارا اصرار تھا کہ اصل حقائق کو سامنے آنا چاہئے ، چاہے لوگ ناراض ہوں یا خوش،آپ کا کام ہے اصل حقائق کو سامنے لانا اور تاریخ کا حصہ بنانا،فیصلہ وقت اور قاری نے کرنا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط،بہرحال ہمارے اصرار پر آپ نے غور کرنے کی حامی بھرلی،یوں شمس جیلانی صاحب سے پہلی ملاقات ماضی کی یادگار بن گئی۔
اتوار 6 جنوری 2013 کو دارالعلوم نعیمیہ فیڈرل بی ایریا میں علامہ شاہ احمد نورانی کے دیرینہ رفیق شیخ الحدیث حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی صاحب کے پاس ممتاز نعت گو شاعرجناب طاہر حسین طاہر سلطانی صاحب سے ملاقات ہوئی،تو یہ جان حیرت ہوئی کہ جناب شمس جیلانی صاحب اپنی بھانجی کی شادی کے سلسلے میں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور کل واپس روانگی ہے،طاہر سلطانی صاحب نے بتایا کہ اگر ملاقات کرنا ہے تو آج شام اُن کے دولت خانے پر نعتیہ مشاعرے میں شمس جیلانی صاحب بھی موجود ہونگے،آپ تشریف لے آئیں تو ملاقات ہوجائے گی،لیکن افسوس کہ شام تک مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ ملا اور ہم کف افسوس ملتے رہ گئے کہ جناب شمس جیلانی صاحب سے دوسری ملاقات نہ ہوسکی،ابھی اِس بات کو دو دن ہی گزرے تھے کہ بدھ 9 جنوری کی سہ پہر ایک گمنام کال اٹینڈ کرتے ہوئے دل حیرت و مسرت سے لبریز ہوگیا کہ دوسری طرف جناب شمس جیلانی صاحب موجود تھے،حضرت نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ویزے کی معیاد 18 جنوری تک بڑھوالی ہے اور ہمیں شرف ملاقات بخشنا چاہتے ہیں،چنانچہ اتوار 13 جنوری کی صبح 9سے 10 بجے کے درمیان ملاقات کا وقت طے ہوا اور ہم اپنے دوست اور ساتھی مجلہ ”افق“کے مدیر اعلیٰ سیّد عقیل انجم قادری کے ہمراہ صبح ساڑھے نو بجے حضرت کی قیام گاہ پر حاضر تھے،یوں لگتا تھا جیسے حضرت پہلے سے ہمارے منتظر تھے،بہت پرتپاک انداز میں گلے مل کر عزت افزائی فرمائی،ہم نے برادرم عقیل انجم صاحب کاتعارف کرایا،دوران گفتگو حضرت نے چائے اور بسکٹ سے تواضع کی،یہ ملاقات کم وبیش دیڑھ گھنٹہ جاری رہی،جس کے درمیان ہونے والی چند اہم باتیں نذر قارئین ہیں۔
طاہر القادری دنیا دار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج کے حامل ہیں۔
کینیڈین شہری اور آجکل پاکستان میں ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“ نامی انقلاب کے داعی طاہر القادری سے وینکور میں اپنی ملاقات کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ طاہر القادری صاحب ٹورینٹو میں ہوتے ہیں، انہوں نے وینکور میں اپنے کام کو منظم کرنے کیلئے ایک تعارفی پروگرام رکھا،جس میں مجھے بھی میڈل دینے کا اعلان کیا،لیکن اُس پروگرام میں مجھے لگا کہ طاہر القادری دنیا دار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج کے حامل ہیں،دوران پروگرام اُن کا رویہ اپنے کارکنان کے ساتھ انتہائی سخت تھا،بات بات پر وہ اپنے کارکنان کو جھڑک رہے،ایسے نہیں ایسے کرو،ایسے نہیں ایسے کرو،آپ قیادت کررہے ہیں،خاموش بیٹھیں،یہ آپ کا کام تو نہیں،منتظمین کاکام ہے،انہیں کرنے دیں،لیکن موصوف بدستور اپنے کارکنان کو جھڑکتے رہے،شاید یہی وجہ تھی کہ وینکور میں اُن کا کام چلا نہیں،ملنے والے میڈل کے حوالے سے شمس جیلانی فرماتے ہیں کہ وہ میڈل ایسا ہے کہ دینے والے کو خود پتہ نہیں کہ کیوں دیا جا رہا ہے،اُس میڈل پر کچھ لکھا ہوا نہیں،وہ آپ لٹکا لیں یا میں لٹکا لوں۔
صفدر ہمدانی صاحب مذہبی تعصبات بہت بلند اور اُن کے قول و فعل میں تضاد نہیں۔

عالمی اخبار کے روح رواں جناب صفدر ہمدانی صاحب کے حوالے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے شمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا،وہ ایسے آدمی ہیں جو مذہبی تعصبات سے بہت بلند ہیں،انہوں نے کبھی میرے لکھے ہوئے کسی حرف کو نہیں کاٹا،کبھی عقیدے کی بات نہیں کی،بلکہ دو کتابیں” حضرت فاطمہ اور حضرت امام حسن “میں نے اُن کی فرمائش پر لکھیں،جس پر صفدر ہمدانی صاحب کاکہنا تھا کہ آپ واحد ایماندار مصنف ہیں،میری کتابوں پر صفدر ہمدانی کے نوٹ پڑھنے کے قابل ہیں،عالمی اخبار اور صفدر ہمدانی صاحب سے اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ صفدر ہمدانی بہت اچھے انسان ہیں،اُن کے قول و فعل میں تضاد نہیں،اگر ہوتا تو میری اُن سے نہیں کبھی نہیں نبھتی۔
جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے وہ آپ نہیں کرسکتے۔
ایک واقعہ سناتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ جو گھریلو زیور ہیں،اُس پر زکوٰۃ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے،جبکہ فلاں مفتی صاحب یہ کہہ رہے ،فلاں یہ کہتے ہیں،میں نے کہا اگر آپ سنی ہیں تو آپ پر زکوٰۃ لازم ہے،لیکن اگر آپ اہل تشعی ہیں تو اُن کے یہاں زکوٰۃ نہیں ہوتی،وہاں موجود ایک اورصاحب کہنے لگے،آپ فقہ کی بات کیوں کررہے ہیں، میں کہا، اِس لیے کہ فیصلہ انہیں کرنا مجھے نہیں،جس پر وہ صاحب جنھوں نے مسئلہ پوچھا تھا ،کہنے لگے، میں اِس لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھی ہے،آپ لوگوں کو تلقین کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیئے،مجھے یہ بتایئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے،میں نے کہا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے،وہ آپ نہیں کرسکتے،کہنے لگے کیوں،میں نے کہا ،وہ اِس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن کیلئے کچھ رکھتے ہی نہیں تھے۔
مدینہ یونیورسٹی یا سعودی عرب سے چھپنے والی کتاب اِس قابل نہیں کہ اُسے پڑھا جائے۔
پسندیدہ تاریخی کتابوں کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں جناب شمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا،ابن ہشام میری پسندیدہ کتابوں میں شامل ہے،لیکن تاریخ ابن کثیر مجھے سب سے زیادہ پسند ہے،اِس کی وجہ یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر کو جہاں سے جو کچھ ملا ،انہوں نے اُسے یک جا کردیا اور فیصلہ قاری پر چھوڑدیا،ابن کثیر نے بہت کم اپنی رائے کا اظہار کیا،لیکن نجدیوں نے سب بڑا ظلم یہ کیا کہ اُس کی تفسیر کو لے کر بڑی دھاندلی کے لکھا کہ ہم نے اِس کو مختصر کردیا،سوال یہ ہے کہ تم کون ہوتے ہومختصر کرنے والے؟مولف وہ ہے،مورخ وہ ہے،تمہیں مختصر کرنے کا حق کس نے دیا ہے،چنانچہ جو مدینہ یونیورسٹی یا سعودی عرب میں چھپے، وہ اِس قابل نہیں کہ اُس کو پڑھا جائے۔
امام حسن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے جمالیاتی پہلو کا پر تو جبکہ امام حسین سیرت طیبہ کے پہلوئے جلالت کا مظہر ہیں۔
سیرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسن کا سب سے بڑااعزاز اُن صبر و ضبط ہے،جس پر کسی نے نہیں لکھا،کسی نے حضرت امام حسن کی زندگی کے اِس پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش نہیں،جب سیرت امام حسن میں کوئی برائی نظر نہ آئی تو یہ الزام لگانا شروع کردیا کہ وہ روز ایک شادی کرتے تھے اور طلاق دیتے تھے،جبکہ حقیقت یہ ہے امام حسن نے کل 8شادیاں کیں اور اُن کے17بچے تھے،سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ روز ایک شادی کرتے تو کیا صرف 17بچے ہوتے، بچوں کی تعداد کو سینکڑوں ہزاروں میں نہ ہوتی۔؟حضرت امام حسن صلح کے شہزادے ہیں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے جمالیاتی پہلو کا پر تو ہیں جبکہ حضرت امام حسین سیرت طیبہ کے پہلوئے جلالت کا مظہر ہیں اور یہ مظاہرہ آپ نے کربلا کے میدان میں پیش کیا ہے،آپ فرماتے ہیں،اسلام اعتدال کا مذہب ہے،ہم اُمت وسطیٰ ہیں،وسطیٰ کے معنوں میں تو اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن وسطیٰ میں شدت نہیں ہوسکتی،اسی وجہ سے ہمارے
یہاں اہلسنّت وجماعت میں ہر چیز میں توازن واعتدال ہے ۔
عالمی اخبار سے وابستگی صدق اور اخلاص کی بنیاد پر ہے۔
عالمی اخبار سے اپنی وابستگی کے حوالے جناب شمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ عالمی اخبار سے قبل ایک اور اخبار نکلتا تھا،صفدرہمدانی صاحب اُس کے چیف ایڈیٹر تھے ،میں نے وہاں لکھنا شروع کیا ،یوں ہمدانی صاحب سے دوستی ہوگئی،ڈاکٹر نگہت صاحبہ بھی وہیں لکھتی تھیں،بعد میں کچھ اصولی اختلاف کے سبب ہم لوگ چار سال قبل علیحدہ ہوگئے اور عالمی اخبار کی بنیاد ڈالی،الحمد للہ چار سال سے عالمی اخبار بہت اچھی طرح چل رہا ہے اور نیٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت و مقام رکھتا ہے،عالمی اخبار سے ہماری وابستگی صدق اور اخلاق کی بنیاد پر ہے۔
جہاں روپے پیسے کی چاہت آجائے وہاں پیارومحبت اورادب و لحاظ سب ختم ہوجاتا ہے۔
کراچی اب ایک مادی شہر بن چکا ہے،یہاں علمی و ادبی سرگرمیاں ،آپس میں پیارومحبت اورادب و لحاظ رخصت ہوچکا ہے،آپ کے نزدیک اِس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ ہمارے اِس سوال کے جواب میںشمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ جہاں روپے پیسے کی چاہت آجائے وہاں یہ سب چیزیں ختم ہوجاتی ہیں،بقول علامہ اقبال
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ،جسے تین چیزیں حاصل ہوگئیں،وہ فلاح پاگیا،ایک دوسری حدیث میں چار کا ذکر بھی ملتا ہے،صحابہ نے پوچھا کونسی،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،ایک،جسے اللہ نے دین کا علم دیا اور وہ اُسے بانٹا ہے،دوسرے وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اُس کی راہ_¿ میں خرچ کرتا ہے،تیسرے وہ جسے اللہ نے قناعت عطا فرمائی،دوسری حدیث کے مطابق چوتھی یہ کہ جسے اللہ نے غیب سے رزق دیا،الحمد للہ مجھے یہ چاروں چیزیں حاصل رہی ہیں۔
اپنا وزن کسی پر مت ڈالو، ہاں اگرکسی کا وزن اٹھا سکتے ہو تو اٹھالو۔
شمس جیلانی صاحب ایک کمیٹیڈ آدمی ہیں اور کمیٹڈ لوگوں کو پسند کرتے ہیں،انہوں نے ہمارے وقت پر پہنچنے کی تعریف کی،وہ اپنے کام خود کرنا پسند کرتے ہیں،
کبھی کسی کو تکلیف دینا گوارا نہیں کرتے،اُن کا کہنا تھا کہ ساٹھ سالہ ازدواجی زندگی میں کبھی اپنی شریک حیات سے پانی کا گلاس مانگنا بھی پسند نہیں کیا،آپ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے اِس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ” اپنا وزن کسی پر مت ڈالو،کسی کا وزن اٹھا سکتے ہو تو اٹھالو۔“آپ نے کبھی کسی سے نوٹ نہیں مانگے،نہ ہی ووٹ کا تقاضہ کیا اوراپنے آپ کو منصب امامت سے دور رکھنے کی کوشش کی،ہمیشہ یہ تین اصول شمس جیلانی کی زندگی کا محور رہے۔
اسلام آج بھی قابل عمل ہے۔
نائن الیون کے بعد یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے منفی تاثر پر شمس جیلانی صاحب کا کہنا تھا،نائن الیون سے قبل بیرونی دنیا میںاسلام کے حوالے سے انتہائی عظمت تھی،مگر اب حالات بدل چکے ہیں، ہمارا کردار بتاتا ہے کہ ہم کیسے ہیں،اسی کردار سے دنیا میں اسلام پھیلا ہے،اگر ہم اسلام کے سفیر بن جائیں اور اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم مسلمان ہیںتو اِس منفی تاثر کو تبدیل کر سکتے ہیں،صرف ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اپنے کردار کو سیرت طیبہ کے سانچے میں ڈھال لیں،اسلام آج بھی قابل عمل ہے،ہمارے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ بطور نمونہ موجود ہے،جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اگر ہم بھی اختیار کرلیں تو یقینا کامیابی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر شمس جیلانی نابغہ روزگار اور قابل فخر سرمایہ ہیں۔
قارئین محترم !ڈاکٹر شمس جیلانی صاحب سے یادگار ملاقات کی چند اہم باتیں آپ کے گوش گزار کردی ہیں،حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شمس جیلانی ایسے نابغہ روزگار اور قابل فخر لوگوں میں سے ایک ہیں جنھیں اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رحمت خاص سے نوازہ ہے،جناب شمس جیلانی صاحب سے دوسری ملاقات اور عطا کردہ سیرت طیبہ کی کتاب”روشنی حرا سے“ ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں،اگر ہمیں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن صاحب کے پاس جانا نہ ہوتا تویہ ملاقات مزید طویل ہوسکتی تھی،آخر میں ہم نے اِس دعا کے ساتھ حضرت سے اجازت چاہی کہ اللہ کریم ہمیں ہمیشہ ایسے بزرگوں کی محبت و شفقت کے سائے میں رکھے اور جناب شمس جیلانی صاحب کو دین و دنیا کی مزید وسعتیں و کامیابیاں عطا فرمائے،آمین بحرمۃ سید المرسٰلین صلی اللہ علیہ وسلم