16.10.2026, 07:11am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سیرت امام حسین علیہ السلام .. قسمت دوم۔۔از۔مولانا میرزا محمد جواد (شبیر)۔
17.01.2013, 02:14am , جعمرات (GMT+1)

تبصرہ و تجزیہ: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد (شبیر)۔

 

سیرت امام حسین علیہ السلام (قسمت دوم)

(دائرٰۃ المعارف الحسینیہ کی روشنی میں زندگانی امام حسین علیہ السلام پر ایک نظر)

تبصرہ و تجزیہ: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد  (شبیر)۔

امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ ہر  مومن کے لئے نمونۂ علم ہے، آپ کی زندگی اس قدر با برکت ہے کہ اگر ہم آپ کی ساری زندگی سے صرف نظر کی کرتے ہوئے  صرف روز عاشورا کو اپنے لئے مشعل راہ قرار دیں  تو ہمیں دنیا و آخرت کی فلاح  حاصل ہوسکتی ہے، چونکہ حضرت اباعبد اللہ الحسین نے اس ایک دین میں ساری امت مسلمہ کو عبودیت،  عزت،  حریت،  ایثار ، شجاعت، کرامت، سخاوت، ، استقامت، شہادت، حق گوئی، صبر   جیسے درس دے کر دین محمدی کو  قیامت تک کے لئے زندہ  فرمایا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اسلام نے آپ کے بارے میں فرمایا:  حسین منی و انا من حسین۔

لہذا تمام مسلمانوں کا  فریضہ ہے کہ وہ حضرت ابوعبد اللہ  جیسی عظیم شخصیت سے آگاہ ہو ں تاکہ انھیں دنیا و عقبی کی سعادت حاصل ہو سکے، اسی مقصد کے پیش  نظر حسینی دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے اس مجموعہ کی دس جلدوں کو امام حسین علیہ الصلوۃ و السلام کی حیات طیبہ سے مخصوص فرمایا ہے، جس کی دو جلدیں زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصنف نے سیرۃ الحسینیہ  میں امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ کو سب سے پہلے سات عہد یعنی عہد  نبوی،عہد ابو بکر ، عہد عمر ابن خطاب، عہدعثمان بن عفان، عہد مولا علیؑ، عہدمعاویہ ، عہد  یزید  پر تقسیم فرمایا  ہے جس کے بعد  مصنف نے جلد اول و دوم میں سنہ ۴ھ سے سنہ ۱۱ ہجری تک  امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ پر عہد نبوی میں روشنی ڈالی ہے، مصنف نے اس کتاب میں واقعات کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان کی  شمسی و  ہجری تاریخ کو ان مناطق کے نقشوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ جہاں سے امام حسین علیہ السلام کا گزر ہوا تھا، مصنف نے  جلد اول میں سنہ ۴ھ سے سنہ ۷ ھ تک کے واقعات کو بیان فرمایا ہے ، اور  جلد دوم میں  سنہ ۷ ہجری سے سنہ ۱۱ ہجری  کے بقیہ حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، ، ہم یہاں السیرۃ الحسینیہ کی جلد دوم ( جو ۴۶۶ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۳ عیسوی کو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے) میں موجودہ واقعات میں سے بعض کو  قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام سنہ ۷ ھ میں:

۱۔ اس سال  ابوہریرہ نے رسول اسلام سے آیۂ  وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ (زخرف ۲۸) کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت  نے فرمایا  جعل الامامۃ فی عقب الحسین، یخرج من صلبہ تسعۃ من الائمۃ، منھم مھدی ھذہ الامۃ (بحار الانوار جلد ۲۵  ص ۲۵۳ ) اللہ تبارک و تعالی نے امامت کو صلب امام حسین علیہ السلام میں قرار  دیا ہے، نسل امام حسینؑ سے ۹ ائمہ متولد ہونگے، جن میں کے آخری امام مہدیؑ ہونگے، اس کے بعد رسول اسلام نے فرمایا: لو ان رجلا صفن بین الرکن و المقام ثم لقی اللہ مبغضا لاھل بیتی دخل النار  (بحار الانوار جلد  ۳۶ ص ۳۱۵) جو شخص رکن و مقام کے درمیان طولانی نماز میں مشغول ہو اور اس کے بعد  اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس نے اہل بیت کو ناراض کیا ہو  تو وہ آتش دوزخ میں داخل ہوگا۔

۲۔ ایک روز رسول اسلام،  اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ نے  پانچ سجدے کئے، اصحاب نے  آنحضرت سے ان سجدوں کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: ابھی ابھی جبرئیل امین تشریف لائے تھے انھوں نے خبر دی کہ اللہ تبارک و  تعالی علیؑ کو دوست رکھتا ہے، یہ سن کر میں نے پہلا سجدۂ شکر  کیا، پھر جبرئیل نے کہا اللہ تعالی حسنؑ کو دوست رکھتا ہے تو  میں نے دوسرا سجدہ کیا، جبرئیل نے  کہا اللہ تبارک و تعالی حسینؑ کو دوست رکھتا ہے تو میں نے تیسرا سجدہ کیا، جبرئیل نے پھر فرمایا کہ  اللہ فاطمہؑ کو دوست رکھتا ہے تو میں نے چوتھا سجدہ کیا،  جس کے بعد  جبرئیل نے کہا  کہ اللہ ان سب کو دوست رکھتا جو علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ کو دوست رکھتے ہیں، یہ سن کر میں نے پانچواں سجدۂ شکر ادا کیا (مناقب آل ابیطالب لابن شھر آ شوب جلد ۳ ص۳۲۶)۔

امام حسین علیہ السلام سنہ ۸ ہجری میں:

۱۔ ایک روز سلمان فارسی رسول اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آنحضرت امام حسنؑ و امام حسینؑ علیہما السلام کو کھانا کھلا رہے ہیں،  جب رسول اسلام کھانا کھلا چکے تو آپ نے  فرمایا اے سلمان، کیا تم ان دونوں کو دوست رکھتے ہو، سلمان نے فرمایا یارسول اللہ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں انھیں دوست نہ رکھوں، یہ سن کر رسول گرامی قدر نے فرمایا: یا سلمان من احبھم فقد احبنی و من احبنی فقد احب اللہ ، اے سلمان جو انھیں دوست رکھے گویا وہ میرا محب ہے اور جو میرا محب ہو گویا وہ خدا کا محب ہے، پھر رسول اسلام نے امام حسینؑ کا بوسہ لیا اور آپ کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے فرمایا: یا حسین انت السید ابن السید ابو السادۃ، انت الامام ابن الامام ابو الائمۃ، انت الحجۃ ابن الحجۃ ابو الحجج، تسعۃ من صلبک ائمۃ ابرار امناء معصومون تاسعھم قائمھم (کتایۃ الاثر: ۷ و ۴۰)، فطوبی لمن احبھم و الویل لمن ابغضھم ،اے حسینؑ آپ سید و سردار ہیں، سید و سردار زادہ ہیں، سید و سرداروں کے والد ہیں، آپ امام، ابن امام اور ابو الائمہ ہیں، آپ اللہ کی حجت، اللہ کی حجت کا فرزند اور ابو الحجج ہیں، آپ کی صلب سے نو ائمہ ہوںگے جو نیک و صالح، امین و معصوم ہونگے، ان کے نویں ان کے قائم ہونگے، تو جو ان سے محبت کرے اس کے لئے خوشخبری ہے، اور عذاب ہے اس کے لئے جو ان سے بغض رکھے (کفایۃ الاثر: ۴۰، و بحار الانوار جلد  ۳۶  ص ۳۶۱)۔

۲۔ ایک روز اصحاب رسول  افسوس کر رہے تھے کہ آنحضرت کے بلند مرتبہ پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ جنت میں ان سے جدا ہو جائیں گے، تو اللہ تبارک و تعالی نے ان کی دلجوئی کے لئے  آیت نازل کی اور فرمایا: و من یطع اللہ و الرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین و الصدیقین و الشھداء و الصالحین و حسن اولئک رفیقا، جو اطاعت کرے اللہ اور رسول کی تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ نے نعمتیں نازل فرمائیں انبیاء میں سے، صدیقین و شھدا ء و صالحین میں سے، اور وہ  نہایت اچھے رفقاء ہیں (نساء آیہ ۶۹)، جب رسول اسلام نے اس آیت کے ذریعہ  بشارت دی تو ام سلمہ نے آنحضرت سے اس آیت کی  تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: نبیین سے مراد میں ہوں، صدیقین سے مراد علیؑ ابن ابی طالب  ہیں، شھداء سے مراد امام حسنؑ و امام حسینؑ علیہما السلام  ہیں، صالحین سے مراد حمزہؑ ہیں اور حسن اولئک رفیقا سے مراد میرے بعد آنے والے بارہ ائمہ ہیں (کفایۃ الاثر: ۲۴، بحار الانوار جلد ۳۶ ص ۳۴۷، البرھان فی تفسیر القرآن جلد ۱ ص ۳۹۲، شواھد تنزیل جلد ۱ ص۱۵۳)۔

امام حسین علیہ السلام سنہ ۹ ہجری میں:

ایک روز رسول اسلام نے انس بن حارث ( جن کا شمار اصحاب صفہ میں ہوتا ہے )سے فرمایا: ان ابنی ھذا ۔و اشار الی الحسین۔ یقتل فی ارض یقال لھا کربلاء ۔بالعراق۔ فمن ادرکہ فلینصرہ (فضائل خمسہ من الصحاح الستۃ جلد ۳ ص ۳۴۷) ایک دن میرا یہ فرزند حسینؑ کربلا میں شہید کیا جائے گا لہذا جو اس کو درک کرے (اس وقت موجود ہو)  اس پر واجب ہے کہ وہ اس کی نصرت کرے، انس بن حارث نے رسول اسلام کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں شمولیت اختیار کی اور اس طرح آپ نے دس محرم کو یاران امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شربت شہادت کو نوش فرمایا۔

امام حسین علیہ السلام سنہ ۱۰ ہجری میں:

۱۔ اس سال جب مومنین اجر رسالت ادا کرنا چاہتے تھے تو  آیۂ  مودت نازل ہوئی اور اللہ تبارک تعالی نے فرمایا: قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی (شوری آیہ ۲۳) اصحاب نے رسول اسلام سے قربی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ قربی سے مراد  علیؑ و فاطمہؑ حسنؑ و حسینؑ ہیں۔

۲۔ ایک روز رسول اسلام نے اہلبیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک ہم اہلبیت محبوب ترین افراد ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے ہم سب کے اسامی  کو  اپنے ناموں سے مشتق کیا ہے، اس نے محمدؑ کو محمود سے، علیؑ کو علی اعلی سے، حسنؑ کو محسن سے،حسینؑ کو ذو الاحسان سے اور فاطمہؑ کو فاطر سے مشتق فرمایا ہے، اس گفتگو کے بعد رسول اسلام نے فرمایا: اللھم انی اشھدک انی سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم و محب لمن احبھم و مبغض لمن ابغضھم و عدو لمن عاداھم و ولی لمن والاھم، لانھم منی و انا منھم، اے اللہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میری اس سے صلح ہے جو ان سے صلح رکھے اور میری اس سے جنگ ہے جو ان سے جنگ کرے، میں اس کا محب ہوں جو ان سے محبت کرے اور ان کا دشمن ہوں جو ان کا دشمن ہو، میں اس کا عدو ہوں جو ان سے عداوت رکھے اور اس کا دوست ہوں جو ان کا دوست ہو، کیونکہ وہ مجھ  سے ہیں اور میں ان سے ہوں (بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۴۷)۔

۳۔ اسی سال رسول اسلام نے آخری حج کی تیاری کی جس میں آنحضرت  کی تمام ازواج، امام علیؑ، حضرت زہراؑ ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام بھی موجود تھے، حج کے بعد غدیر خم کے میدان میں ولایت علی ابن ابی طالب کے اعلان کے ساتھ ساتھ رسول اسلام نے ولایت ائمہ کا بھی تذکرہ فرماتے ہوئے  کہا : یا معاشر الناس فاتقوا اللہ و بایعوا علیا امیر المومنین، و الحسن و الحسین و الائمۃ کلمۃ طیبۃ باقیۃ یھلک اللہ من غدر و یرحم من وفی، اے لوگو تقوائے الٰہی اختیار کرو اور علیؑ کی بیعت کرو کہ وہ امیر المومنین ہے، اور حسنؑ و حسینؑ اور ائمہؑ ایک ایسا پاک سلسلہ ہےجو باقی رہنے والا ہے، جو ان سے غداری کرے اللہ اسے تباہ کرے گا اور جو ان سے وفا کرے اللہ ان پر احسان کرے گا  (خطبۃ الغدیر: ۹) اس روز رسول اسلام نے تمام اصحاب سے ان الفاظ میں اقرار لیا: اطعنا اللہ بذالک و ایاک و علیا و الحسن و الحسین و الائمۃ الذی ذکرت عھدا و میثاقا ماخوذا لامیر المومنین من قلوبنا و انفسنا و السنتنا و مصافقۃ ایدینا، ہم اس پر اللہ کی اور آپ کی اطاعت کرتے ہیں اور علیؑ و حسنؑ و حسینؑ اور ائمہ کی ولایت کا دم بھرتے ہیں، یہ ہمارا پختہ عہد و پیمان ہے جو امیر المومنین کے لئے لیا گیا ہے، ہمارا یہ عہد ہمارے دلوں، جانوں اور زبانوں سے ہے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیعت کرکے ہے (السیرۃ الحسینیہ جلد دوم ص ۲۱۹)۔

۳۔ حجۃ الوداع سے واپسی پر ایک روز  رسول اسلام اور حضرت علیؑ ایک ساتھ تشریف فرما تھے  کہ امام حسین علیہ السلام وارد ہوئے، رسول اسلام نے آپ کو اپنے پاس بٹھایا اور آپ کی پیشانی کا  بوسہ لیا، یہ دیکھ کر امام علیؑ نے پوچھا: یا رسول اللہ کیا آپ حسینؑ کو دوست رکھتے ہیں؟ رسول اسلام نے فرمایا: کیف لا احبہ وھو عضو من اعضائی ، یہ سن کر مولا علیؑ نے فرمایا: یارسول اللہ، حسین اور مجھ میں سے کون آپ کے لئے عزیز تر ہے، یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، بابا جس کا مرتبہ بلندتر ہوگا وہی رسول اسلام کے نزدیک عزیز تر ہوگا، یہ سن کر مولا علی نے فرمایا اے حسینؑ کیا  آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے فضائل بیان کروں اور  آپ اپنے فضائل بیان کریں، یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے رضایت کا اظہار کیا تو مولا امیر المومنین نے فرمایا:

یا حسین انا امیر المومنین، انا لسان الصادقین، انا وزیر المصطفی، انا خازن علم اللہ و مختارہ من خلقہ، انا قائد السابقین الی الجنۃ، انا قاضی الدین من رسول اللہ، انا الذی عمہ سید الشھداء فی الجنۃ، انا الذی اخوہ جعفر الطیار فی الجنۃ عند الملائکۃ، انا قاضی الرسول، انا آخذ لہ با لیمین، انا حامل سورۃ التنزیل الی اھل مکۃ بامر اللہ، انا الذی اختارنی اللہ تعالی من خلقہ، انا حبل اللہ المتین الذی امر اللہ تعالی ان یعتصموا بہ فی قولہ تعالی واعصموا بحبل اللہ جمیعا(آل عمران آیہ ۱۰۳)، انا نجم اللہ الزاھر، انا الذی یزورہ ملائکۃ السماوات، انا لسان اللہ الناطق، انا حجۃ اللہ تعالی علی خلقہ، انا ید اللہ القویۃ، انا وجہ اللہ تعالی فی السماوات، انا جنب اللہ الظاھر، انا الذی قال سبحانہ و تعالی فی و فی حقی بل عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول و ھم بامرہ یعملون(انبیاء آیہ ۲۶۔۲۷)، انا عروۃ اللہ الوثقی التی لا انفصام لھا واللہ سمیع علیم[1]، انا باب اللہ الذی یوتی منہ، انا عَلَم اللہ علی الصراط، انا بیت اللہ الذی من دخلہ کان آمنا فمن تمسک بولایتی و محبتی امن من النار، انا قاتل الناکثین و القاسطین و المارقین، انا قاتل الکافرین، انا ابو الیتامی، انا کھف الارامل، انا عم یتسائلون عن ولایتی یوم القیامۃ و قولہ تعالی ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم(تکاثر آیہ ۸)، انا نعمۃ اللہ تعالی الذی انعم اللہ بھا علی خلقہ، انا الذی قال اللہ تعالی فی و فی حقی الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا(مائدہ آیت ۳)، فمن احبنی کان مسلما مومنا کامل الدین، انا الذی بی اھتدیتم، انا الذی قال اللہ تبارک و تعالی فی و فی عدوی وقفوھم انھم مسئولون (صافات آیہ ۲۴) ای عن ولایتی یوم القیامۃ، انا النبأ العظیم[2]، انا الذی اکمل اللہ تعالی بہ الدین یوم غدیر خم و خیبر، انا الذی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فی من کنت مولاہ فعلی مولاہ، انا صلاۃ المومن[3]، انا حی علی الصلوۃ، انا حی علی الفلاح، انا حی علی خیر العمل، انا الذی نزل علی اعدائی سأل سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع(بمعنی من انکر ولایتی وھو النعمان بن الحارث الیھودی لعنہ اللہ تعالی)، انا داعی الانام الی الحوض، فھل داعی المومنین الی الحوض غیری؟ انا ابو الائمۃ الطاھرین من ولدی، انا میزان القسط لیوم القیامۃ، انا یعسوب الدین، انا قائد االمومنین الی الخیر و الغفران الی ربی، انا الذی اصحابی یوم القیامۃ من اولیائی المبرون من اعدائی، و عند الموت لا یخافون و لا یحزنون، وفی قبورھم لا یعذبون، وھم الشھداء الصدیقون، و عند ربھم یفرحون، انا الذی شیعتی متوثقون ان لا یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا آبائھم او ابنائھم[4]، انا الذی شیعتی یدخلون الجنۃ بغیر حساب، انا الذی عندی دیوان الشیعۃ باسمائھم، انا عون المومنین و شفیع لھم عند رب العالمین، انا الضارب بالسیفین، انا الطاعن با الرمحین، انا قاتل الکافرین یوم بدر و حنین، انا مُردی الکماۃ یوم احد، انا ضارب ابن عبد ود یوم الاحزاب، انا قاتل عمرو و مرحب، انا قاتل فرسان خیبر، انا الذی قال فیہ الامین جبرائیل لا سیف الا ذو الفقار و لا فتی الا علی، انا صاحب فتح مکۃ، انا کاسر اللات و العزی، انا ھادم الھبل الاعلی و مناۃ الثالثۃ الاخری، انا علوت علی کتف النبی و کسرت الاصنام، انا الذی کسرت یغوث و یعوق و نسرا، انا الذی قاتلت الکافرین فی سبیل اللہ، انا الذی تصدق بالخاتم، انا الذی نمت علی فراش النبی و فدیتہ من المشرکین، انا الذی یخاف الجن من باسی، انا الذی بہ یعبد اللہ، انا ترجمان اللہ، انا خازن علم اللہ، انا علم رسول اللہ، انا قاتل یوم الجمل و الصفین بعد رسول اللہ، انا قسیم الجنۃ و النار،

جب مولا علیؑ نے یہ فضائل بیان فرمائے تو رسول اسلام نے کہا اے میرے فرزند حسینؑ آپ کے بابا نے اپنے فضائل کا یک دھم حصہ بیان فرمایا ہے، علی ابن ابیطالب ہزارہا فضیلتوں پر برتری رکھتے ہیں، یہ سنکر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین و علی جمیع المخلوقین، وخص جدنا بالتنزیل و التاویل و الصدق و مناجاۃ الامین جبرئیل، و جعلنا خیار من اصطفاہ الجلیل، و رفعنا علی الخلق اجمعین، پھر امام حسینؑ بابا کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اما ما ذکرت یا امیر المومنین فانت فیہ صادق امین، پھر رسول اسلام نے فرمایا کہ اے حسینؑ آپ اپنے فضائل کو بیان فرمائیں تو امام حسینؑ نے فرمایا: یا ابت انا الحسین بن علی بن ابیطالب، و امی فاطمۃ الزھراء سیدۃ النساء العالمین، و جدی محمد المصطفی سید بنی آدم اجمعین لاریب فیہ، یا علی امی افضل من امک عند اللہ و عند الناس اجمعین، و جدی خیر من جدک و افضل عند اللہ و عند الناس اجمعین و انا فی المھد ناغانی جبرئیل و تلقانی اسرافیل، یا علی انت عند اللہ افضل، و انا افخر منک بالآباء و الامھات و الاجداد۔

یہ کہہ کر امام حسین نے اپنے بابا کی گردن میں ہاتھوں کو ڈال دیا، مولا علی نے اپنے فرزند کا بوسہ لیتے ہوئے فرمایا: زادک اللہ شرفا و فخرا، و علما و حلما، و لعن اللہ تعالی ظالمیک یا ابا عبد اللہ (مناقب و فضائل الامام علی لابی الفضل شاذان بن جبرئیل القمی: ص ۷۴، چاب دوم میں ص ۸۳ کی طرف رجوع کیا جائے)۔

امام حسین علیہ السلام سنہ ۱۱ ھ میں:

۱۔ امام حسین علیہ السلام ابھی کمسن ہی تھے کہ کسی نے آپ سے  مختلف حیوانات کے آوازوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تمام  جانور اپنی زبان میں اللہ کی تسبیح کرتے ہیں پھر امام علیہ السلام نے اس کمسنی میں ۵۲ جانوروں کی تسبیح کو بیان فرمایا کہ جسے ہم یہاں قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

1۔چیل(Eagle)  کہتی ہے: یَاْبنَ آدَمَ عِشْ مَا شِئْتَ فَآخِرُہ الْمَوْتُ، اے فرزند آدم جس قدر چاہو زندہ رہو مگر آخر میں موت ہے۔

2۔ باز(Falcon)  کہتا ہے: یَا عَالِمَ الْخَفِیَّاتِ، یَا کَاشِفَ الْبَلِیَّاتِ، اے پوشیدہ  چیزوں کو جاننے والے، اے مصیبتوں کو دور کرنے والے۔

3۔ مور(Peacock)  کہتا ہے: مَوْلَایَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اغْتُرِرْتُ بِزِیْنَتِیْ فَاغْفِرْ لِیْ، اے میرے آقا، میں نے اپنے ساتھ زیادتی کی، اور اپنے حسن پر مغرور ہوا، مجھے معاف کردے۔

4۔ تیتر (Gray Partridge)  کہتا ہے: اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی، رحمان عرش پر قائم ہے۔

5۔ مرغا(Cock)  کہتا ہے: مَنْ عَرَفَ اللہَ لَمْ یَنْسَ ذِکْرَہ، جس نے اللہ کو پہچان لیا وہ اس کے ذکر کو بھول نہیں سکتا۔

6۔ مرغی(Hen)  کہتی ہے: یَا اِلٰہَ الْحَقِّ اَنْتَ الْحَقُّ وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ یَا اَللہُ یَا حَقُّ، اے بر حق معبود، تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، اے اللہ، اے حق۔

7۔ باشق (Sparrow hawk) کہتا ہے: آمَنْتُ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الآخِرِ، میرا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔

8۔  حَدَأۃُ (kite) کہتی ہے: تَوَکَّلْ عَلٰی اللہِ تُرْزَقْ، اللہ پر بھروسہ کر، تاکہ تجھے رزق دیا جائے۔

9۔ عقاب(Osprey)  کہتا ہے: مَنْ اَطَاعَ اللہَ لَمْ یَشُقَّ، جو اللہ کی اطاعت کرے وہ تکلیف میں نہیں رہتا۔

10۔ شاہین(Gyrfalcon)  کہتی ہے:  سُبْحَانَ اللہِ حَقًّا حَقًّا، پاک ہے اللہ جو حق ہی حق ہے۔

11۔ الو(Owl)  کہتا ہے: اَلْبُعْدُ مِنَ النَّاسِ اُنْسٌ، لوگوں سے دور رہنا مجھے پسند ہے۔

12۔ کوا (Crow)  کہتا ہے: یَا رَازِقُ اِبْعَثْ بِالرِّزْقِ الْحَلَالِ، اے رزق دینے والے، رزق حلال عطا فرما۔

13۔ کرکی (Crane Bird) کہتی ہے:اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ عَدُوِّیْ، اے اللہ مجھے میرے دشمن سے محفوظ رکھ۔

14۔ لقلق(Stork)  کہتا ہے: من تخلی من الناس نجی من اذاھم، جو شخص لوگوں سے الگ تھلگ رہے وہ  ان کے نقصان پہنچانے والے سے دور رہتا ہے۔

15۔ بطخ (Duck) کہتی ہے: غُفْرَانَکَ یَا اَللہُ غُفْرَانَکَ، تیری بخشش کی طلب ہے اے اللہ، تیری ہی بخشش۔

16۔ ہدہد(Hoopoe)   کہتا ہے: مَا اَشْقَیٰ مَنْ عَصَی اللہَ، کس قدر بدبخت ہے وہ جو اللہ کی نافرمانی کرے۔

17۔ قُمْری(Turtledove)  کہتا ہے: یَا عَالِمَ السِّرِّ وَالنَّجْوٰی یَا اَللہُ، اے باطن و ظاہر کو جاننے والے، اے اللہ۔

18۔ دُبسی(Malasses my) کہتا ہے:اَنْتَ اللہُ لَا اِلٰہَ سِوَاکَ یَا اَللہُ، تو اللہ (معبود) ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ۔

19۔ عَقعَق(Magpie Bird)  کہتا ہے: سُبْحَانَ مَنْ لَایَخْفَیٰ عَلَیْہِ خَافِیَۃٌ، پاک ہے وہ ذات جس سے کوئی چھپی ہوئی چیز چھپی نہیں۔

20۔ طوطا(Parrot)  کہتا ہے: مَنْ ذَکَرَ رَبَّہ غُفِرَ ذَنْبُہ، جو اللہ کا ذکر کرے اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں۔

21۔ چڑیا(Bird)  کہتی ہے: اِسْتَغْفِرِ اللہَ مِمَّا یُسْخِطُ اللہَ، اس گناہ سے استغفار کر کہ جو اللہ کو ناراض کرتا ہے۔

22۔ بلبل(Bulbul Bird) کہتی ہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ حَقًّا حَقًّا، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے، وہی حق ہے۔

23۔  قَبجَۃ (Akind of Partridge)کہتی ہے: قَرُبَ الْحَقُّ قَرُبَ، حق بہت ہی نزدیک ہے۔

24۔ بٹیر(Quail)  کہتا ہے: یَابْنَ آدَمَ مَا اَغْفَلَکَ عَنِ الْمَوْتِ، اے ابن آدم، تجھے کس چیز نے موت سے غافل کردیا ہے۔

25۔ سُنوذُنیق(Aplomado)  کہتا ہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللہِ وَ آلُہ خِیَرَۃُ اللہِ، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کی آل اللہ کے پسندیدہ ہیں۔

26۔ فاختہ(Ringdove)  کہتا ہے: یَا وَاحِدُ یَا اَحَدُ یَا فَرْدُ یَا صَمَدُ، اے یکتا، اے اکیلا، اے تنہا، اے بے نیاز۔

27۔ شِقِّرَاق(Green woodpecker)  کہتا ہے: مَوْلَایَ اَعْتِقْنِیْ مِنَ النَّارِ، میرے آقا مجھے دوزخ کی آگ سے بچا لے۔

28۔  قُنْبَرَۃ (Lark) کہتا ہے: مَوْلَایَ تُبْ عَلٰی کُلِّ مُذْنِبٍ مِنَ المُؤمِنِیْنَ، میرے آقا، ہر مومن کا گناہ معاف کرکے اس کی توبہ قبول فرما۔

29۔ وَرشان(Wood piegon)  کہتا ہے: اِنْ لَمْ تَغْفِرْ ذَنْبِیْ شَقَیْتُ، اگر تو میرے گناہ معاف نہ کرے تو میں بدبخت کو جاؤں گا۔

30۔ شِفنین(Mourning Dove)  کہتا ہے: لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کے جو بلند و برتر ہے۔

31۔ شتر مرغ (Ostrich) کہتا ہے: لَا مَعْبُوْدَ سِوٰی اللہِ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

32۔ ابابیل (Swallow)سورۂ حمد کی تلاوت کرتی ہے اور کہتی ہے:  یَاقَابِلَ تَوْبَۃِ التَّوَابِیْنَ، یَا اَللہُ لَکَ الْحَمْدُ، اے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والے، اے اللہ تیرے لئے ہی ہے ہر حمد۔

33۔ زرافہ(Giraffe)  کہتا ہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے۔

34۔ (الحمل ) گوسفند(Lamb)  کہتا ہے: کَفٰی بِالْمَوْتِ وَاعِظًا، موت ہی بہتر اور کافی و وافی نصیحت کرنے والی ہے۔

35۔ جَدْی(Kid)  کہتا ہے: عَاجَلَنِیْ المَوْتُ فَقَلَّ ذَنْبِیْ، مجھے موت جلدی آئے تو میرے گناہ کم ہوں گے۔

36۔ شیر (Lion)  کہتا ہے: اَمْرُ اللہِ مُھِمٌّ مُھِمٌّ، اللہ کا حکم ہی اہمیت والا ہے۔

37۔ الثور (Bull) کہتا ہے: مَھْلًا مَھْلًا یَابْنَ آدَمَ اَنْتَ بَیْنَ یَدَیْ مَنْ یَرٰی وَ لَا یُرٰی وَھُوَ اللہُ،ہاں اے ابن آدم، تو اس کے سامنے ہے جو سب کچھ دیکھتا ہے مگر اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا، اور وہی معبود ہے۔

38۔ ہاتھی(Elephant)  کہتا ہے: لَا تُغْنِیْ عَنِ الْمَوْتِ قُوَّۃٌ وَ لَا حِیْلَۃٌ، کوئی طاقت و حیلہ موت سے نہیں بچا سکتا۔

39۔ چیتا(Puma)  کہتا ہے: یَا عَزِیْزُ یَا جَبَّارُ یَا مُتَکَبِّرُ  یَا اَللہُ، اے طاقتور، اے جبار، اے بڑائی والے، اے اللہ۔

40۔ اونٹ(Camel)  کہتا ہے: سُبْحَانَ مُذِلِّ الْجَبَّارِیْنَ سُبْحَانَہ، پاک ہے جابروں کو ذلیل کرنے والا، وہ پاک ہے۔

41۔ گھوڑا  (Horse)کہتا ہے: سُبْحَانَ رَبُّنَا سُبْحَانَ، پاک ہے ہمارا پروردگار، پاک ہے۔

42۔ بھیڑیا (Wolf) کہتا ہے: مَا حَفِظَ اللہُ فَلَنْ یُضِیْعَ اَبَدًا، جسے اللہ رکھے اسے کوئی ضایع نہیں کر سکتا۔

23۔ گیڈر (Jackal)  کہتا ہے: اَلْوَیْلُ الْوَیْلُ الْوَیْلُ لِلْمُذْنِبِ الْمُصِرِّ، بار بار گناہ کرنے والے پر عذاب ہی عذاب ہے۔

44۔ کتا(Dog)  کہتا ہے: کَفٰی بِالْمَعَاصِیْ ذُلًّا، گناہ ہی ذلت کے لئے کافی ہے۔

45۔ خرگوش( Rabbit)  کہتا ہے: لَا تُھْلِکْنِیْ یَا اَللہُ، لَکَ الْحَمْدُ، اے اللہ مجھے تباہ نہ کر، تیرے لئے حمد و ثناء ہے۔

46۔ لومڑی(Fox)  کہتی ہے: اَلدُّنْیَا دَارُ غُرُورٍ، دنیا دھوکہ کا گھر ہے۔

47۔ غزال(Gazelle)  کہتا ہے: نَجِّنِیْ مِنَ الْاَذٰی، مجھے تکلیف سے نجات عطا فرما۔

48۔ گینڈا(Rhinoceros)  کہتا ہے: اَغِثْنِیْ وَ اِلَّا ھَلَکْتُ یَا مَوْلَایَ، میری فریاد رسی کر، ورنہ میں تباہ ہو جاؤں گا، اے اللہ۔

49۔ ہرن(Deer)  کہتاہے: حَسْبِیَ اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ حَسْبِی، میرے لئے اللہ کافی ہے، اور وہ بہترین سہارا ہے، وہ میرے لئے کافی ہے۔

50۔ تیندوا(Tiger)  کہتا ہے: سُبْحَانَ مَنْ تَعَزَّزَ بِالْقُدْرَۃِ سُبْحَانَہ، وہ پاک ہے جو قدرت کے ساتھ عزت والا ہے، وہ پاک ہے۔

51۔ سانپ(Snake)  کہتا ہے:مَا اَشْقٰی مَنْ عَصَاکَ یَا رَحْمَانُ، جو تیررا نافرمان ہو وہ کتنا بدبخت ہے اے رحمان۔

52۔ عقرب(Scorpion)  کہتا ہے: اَلشَّرُّ شَیْءٌ وَحْشٌ، برائی وحشتناک چیز ہے۔

مذکورہ تمام اذکار کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ خداوند عالم نے اس جہان میں جو بھی مخلوق پیدا کی ہے  اس کے لئے ایک مخصوص ذکر اور ورد  کو مقرر فرمایا ہے، جس پر شاہد کلام مجید کی یہ آیت ہے : وَ اِنْ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ، یعنی کوئی شی نہیں جو اللہ کی تسبیح  نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ( اسراء آیہ ۴۴) ،( خرائج و جرائح جلد ۱ ص ۲۴۸، بحار الانوار جلد ۶۱ ص ۲۷، کنز الدقائق جلد ۸ ص۳۲۳)۔

۲۔ رسول اسلام نے سنہ  ۱۱ ھ  میں وفات پائی لہذا اس سال آنحضرت نے متعدد مقامات پر امام حسین علیہ السلام کا تعارف کروایا منجملہ ان موارد کے ایک مورد وہ تھا کہ جب وفات سے تین دن پہلے  بروز جمعہ ۲۵ صفر کو رسول اسلام نے طویل خطبہ میں فرمایا: ایھا الناس انی راحل عن قریب ۔۔۔۔ معاشر الناس من افتقد منکم الشمس فلیتمسک بالقمر، و من افتقد القمر فلیتمسک بالفرقدین، و ان فقدتم الفرقدین فتمسکوا بالنجوم الزاھرۃ۔۔۔۔یعنی اے لوگو میں عنقریب رحلت کرنے والا ہوں، جب تم سورج کو کھو بیٹھو تو چاند سے متمسک رہو، جب چاند کو کھو بیٹھو تو فرقدین سے متمسک رہو، جب فرقدین کو کھو بیٹھو تو نجوم زاھرہ سے متمسک رہو، آنحضرت یہ کہہ کر  منبر سے تشریف لے آئے اور  بیت الشرف کی طرف جانے لگے، راستہ میں سلمان فارسی نے شمس، قمر، فرقدین اور نجوم زاہرۃ  کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت نے فرمایا: شمس میں، قمر علیؑ بن ابیطالب، فرقدین حسنؑ و حسینؑ اور نجوم زاھرۃ سے مراد وہ نو ائمہ ہیں جو نسل امام حسین علیہ السلام سے متولد ہونگے (السیرۃ الحسینہ جلد ۲ ص ۳۲۶)

یہ تھے وہ واقعات کہ جنھیں ہم نے مرحلہ وار قارئین کی خدمت میں پیش کیا جبکہ اس کتاب میں آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے بڑے ہی تفصیلی انداز کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ پر عھد نبوی کے ذیل میں روشنی ڈالی ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے یہاں جو مطالب پیش کئے ہیں وہ کتاب کا یک دہم حصہ ہیں، لذا قارئین کے لئے مناسب ہے کہ وہ اصل کتاب کا بھی مطالعہ فرمائیں، تاکہ امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ کے مزید پہلو اجاگر ہو سکیں۔

مصنف نے زندگانی امام حسین علیہ السلام پر روشنی ڈالنے کے بعد  اس کتاب کے آخر میں مختلف فہرستوں کو درج کیا ہے جن میں  فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال و حکم، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طوائف و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغوی، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فہرستیں شامل ہیں، ان فہارس کے اختتام پر حیفا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نجیب بن عبد اللہ نبوانی کا مقالہ عربی زبان میں پیش گیا گیا ہے جس میں انھوں نے اپنے احساسات کا اظھار کرتے ہوئے فرمایا: کہ میں نے سیرت کی بہت ساری کتب کا معالعہ کیا ہے لیکن السیرۃ الحسینیہ جیسی جامع کتاب آج تک نہیں دیکھی کہ جس میں مصنف نے زندگانی امام حسین علیہ السلام پر ایک عمیق روشنی ڈالی ہے، مصنف کی اس روش سے  امام حسین علیہ السلام کی حیات طیبہ کو مرحلہ بہ مرحلہ درک کیا جا سکتا ہے ۔



۱۔ یہاں امام نے سورۂ بقرہ کی آیت ۲۵۶ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ آیت  فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصام لھا واللہ سمیع علیم ہے۔

۲۔ یہاں امام  نے سورۂ  نبأ کی آیت ۲ کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اور وہ آیت عن النبأ الذی ھم فیہ مختلفون ہے۔

۳۔ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ امام عالی مقام کی ولایت نماز قبول ہونے کے لئے شرط ہے، اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ نماز پڑھنا ضروری نہیں، کیونکہ خود ائمہ علیہم السلام رات بھر نماز میں مشغول و مصروف ہوا رہتے تھے، اس مطلب  کو  سلسلۃ الذھب سے بھی درک کیا جا سکتا ہے کہ جس میں امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ  اللہ تعالی نے فرمایا: کلمۂ لا الہ الا اللہ  میرا  کا قلعہ ہے اور جو اس میں داخل  ہوا وہ امان پاگیا، پھر امام عالی مقام نے فرمایا کہ اس امان نامہ کی ایک شرط ہے اور  وہ شرط ہم اہلبیت کی ولایت ہے۔

۴۔ اس مقام پر امام نے سور ۂ مجادلہ کی آیت ۲۲ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ آیت یہ ہے: لا تجد قوما یومنون باللہ و الیوم الآخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا آبائھم او ابنائھم او اخوانھم او عشیرتھم، اولئک کتب فی قلوبھم الایمان، و ایدھم بروح منہ و یدخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھارضی اللہ عنھم و رضوا عنہ اولئک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون۔


:دیگر مضامین
(14.01.2013) مرکزی امام بارگاہ جی سکس ٹو اسلام آباد سے برآمد ہونے والا احتجاجی جلوس
(13.01.2013) جو مٹ گیا وہ یزید ہے جو نہ مٹ سکا وہ حسین ہے
(13.01.2013) سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی دہشت گردی کی کارروائیوں کا اندازبھی تبدیل
(11.01.2013) معروف صحافی عباس اطہر اور کالم نگار منو بھائی شدید علیل ہیں۔دعا کی درخواست
(10.01.2013) ممتاز نقاد وادیب اور ماہر تعلیم پروفیسر محمد علی صدیقی کراچی میں رِحلت کر گئے
(10.01.2013) برطانوی مسلکی ویب سائیٹ ۔۔ماتم داری ۔۔۔ عدم ادائیگی کی بنا پر بند ہو چکی ہے
(07.01.2013) ہماری عبادت اور صلح امام حسن علیہ السلام اور واقعہ کربلا میں ممثالت۔ سید اکمل حسین
(06.01.2013)  جنسی تشدد سے ہلاک والی بھارتی طالبہ کے حق میں شمع بردار احتجاجی مظاہرہ
(06.01.2013) سابق امیر جامعت اسلامی مرحوم قاضی حسین احمد کی زندگی پر ایک نظر
(05.01.2013) یکم جنوری ٢٠١٣سید افتخار حسین زیدی واشنگٹن میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
(04.01.2013)  داتا گنج بخش کے 969ویں عرس کے موقع پر محفل نعت کا انعقاد
(01.01.2013) ڈاکٹر خواجہ اکرام کی کتاب “ اردو زبان کے تیکنکی وسائل اور امکانات “ شائع ہو گئی
(31.12.2012) خطیب محمد و آل محمد وکیل ولایت علی علیہ السلام سید طاہر کاظمی انتقال کر گئے
(30.12.2012) برازیلی عوام نے سال نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے ایمانج فیسٹول منایا
(30.12.2012)  کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر منظور الدین احمد کا انتقال
(28.12.2012) صوفی شاعر حضرت شاہ عبدللطیف بھٹائی کا دو سو انہتر واں تین روزہ سالانہ عرس
(27.12.2012) جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
(26.12.2012) پاکستان مسلم لیگ ن فرانس کے زیر اہتمام یوم قائد اعظم کی تقریب
(26.12.2012) بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہء اردو پروفیسر حنیف نقوی کا انتقال
(24.12.2012) بریر علی قنبر کی اہلیہ سارہ فاطمہ کو اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں