انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤچراغ لیکے کہاں سامنے ہوا کے چلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیال خاطر احباب چاہیۓ ہر دمانیس ٹھیس نہ لگ جاۓ آبگینوں کوخداۓ
سخن میر ببر علی انیس کے یہ اور ایسے متعدد اشعار اردو ادب سے واقف ان
لوگوں کو بھی یاد ہیں جو شاید تفصیل سے یہ نہ جانتے ہوں کہ انیس اردو ادب
کی پر شکوہ عمارت کے ایک بنیادی ستون ہیں اور انکا نام تاریخ اردو ادب کی
چوکور میں میر تقی میر/ غالب اور علامہ اقبال کے ساتھ شامل ہے۔
میر
انیس کی پیدائش کے حوالے سے دو روایات موجود ہیں ایک جنوری اٹھارہ سو دو
کی اور دوسری اٹھارہ سو تین کی تاہم زیادہ تر محققین نے اٹھارہ سو تین ہی
کو درست قرار دیا ہے گویا ہر دو روایات کے پس منظر میں انیس دو سو سال سے
آسمان ادب پر زوال سے نا آشنا ماہ کامل کی طرح رخشندہ ہیں۔ انیس کی تاریخ
وفات پر تمام محققین کا اتفاق ہے اور انکی وفات اٹھارہ سو چوہتر میں بہتر
تہتر برس کی عمر میں ہوئ۔ میر انیس اتر پردیش میں فیض آباد کے محلے گلاب
باڑی میں پیدا ہوۓ اور اس وقت ھندوستان پر بادشاہ امجد علی شاہ کی حکومت
تھی۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن مثنوی سحر البیان اور بدر
منیر کے خالق اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے اور انکے ہی مشورے
پر انیس نے غزل گوئ کو خیرباد کہہ کر مرثیہ اور سلام لکھنا شروع کیا۔
دنیاۓ
مرثیہ نگاری کے بے تاج بادشاہ میر انیس نے شاعری کی ابتدا غزل گوئ سے ہی
کی اور والد کے اس مشورے پر کہ ٌبیٹا غزل کو سلام کرؤٌ انہوں نے مولانا
محمد حسین آزاد کے بقول ایک سعادت مند بیٹے کی طرح غزل کو سلام کیا اور
پھر ساری عمر مرثیہ نگاری میں بسر کی۔
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میںپانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میںدو
صدیاں گزر جانے کے باوجود مرثیے میں انیس کا کوئ ثانی نہیں ہو سکا اور
انکی اسی عظمت نے انکے دیگر فنی اور ہیتی محاسن کو منظر عام پر نہیں آنے
دیا اور پھر ناقدین نے انکی تخلیقات کا اس طرح ناقدانہ جائزہ نہیں لیا
جیسے غالب/ میر اور سودا کے کلام کا۔اس کی ایک وجہ مرثیے کو فقط عزائ
شاعری تک محدود کر دینا بھی تھا۔انکی مکمل شاعری پر آج تک سواۓ حالی کے
موازنہ انیس و دبیر کے کوئ ایسا تنقیدی کام نہیں ہوا جسے واقعی ادبی معیار
کا کام قرار دیا جا سکے۔ میرانیس کو اپنی حیات میں بھی شاید اس امر کا
اندازہ تھاجو انہوں نے کہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔
حاسد سے نہ کچھ خوف نہ دشمن سے ہے کچھ باکنا فہم ہے وہ چاند پہ ڈالے جو کوئ خاکاس
حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ انیس کی مرثیہ نگاری کے متعدد محاسن معجزاتی
زمرے میں آتے ہیںـانکے مراثی کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں۔
کچھ محققین نے یہ تعداد ہزاروں میں بتائ ہے تا ہم زیادہ تر کے نزدیک یہ
تعداد ایک ہزار اور بارہ سو کے درمیان ہے۔تاریخ نگار بتاتے ہیں کہ وہ اکثر
اوقات ایک ہی وقت میں اپنے کاتبوں کو مختلف شہیدوں کی شہادت کے تین تین
چار چار مرثیے بھے لکھواتے تھے۔انکے متعدد مراثی ابھی تک غیر مطبوعہ
ہیں۔انہوں نے مراثی کے علاوہ بڑی تعداد میں رباعیات/سلام/نوحے اور منقبتیں
بھی لکھیں اور اب تک کی تحقیق کے مطابق انکی رباعیات کی تعداد چھ سو کے لگ
بھگ ہے اور دیگر اشعار کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہےوہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہےکرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنیجو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہےانیس
کی شاعری کا منبع و مرکز کربلا کا واقعہ اور شجاعت و قربانی ہے اور انیس
کی زباں کے حسن اور بیاں کی معجز نمائ نے اسے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ کچھ
ناقدین نے مرثیے کو انگریزی ادب کی صنف ایپیک کے معیار پر پرکھنے کی کوشش
کی ہے جو درست نہیں۔ میر انیس اردو کے واحد شاعر ہیں جنکے مراثی میں بیاں
کردہ مناظر کے علاوہ واقعات اور کردار باقاعدہ دیکھے اور محسوس کیۓ جا
سکتے ہیں۔
تاریخ مرثیہ نگاری میں یہ حقیقت بھی تحریر ہے کہ میر
انیس کا معروف مرثیہ ” آج شبیر پہ کیا عالم تنہائ ہے” جب لکھنؤ سے دلی
پہنچا تو نواب مصطفی شیفتہ نے صرف اسکا مھلع سن کر اس طرح داد دی کہ ” میر
صاحب نے مکمل مرثیہ کہنے کی کیوں زحمت کی مصرع تو خود ہی ایک مکمل مرثیہ
ہے”
خورشید چھپا گرد اڑی زلزلہ آیااک ابر سیاہ دشت پر آشوب میں چھایاپھیلی تھی جہاں دھوپ وہاں ہو گیا سایہبجلی کو سیاہی میں چمکتا ہوا پایاجو حشر کے آثار ہیں سارے نظر آۓگرتے ہوۓ مقتل میں ستارے نظر آۓانیس
کے بیٹے میر نفیس کے نواسے میر عارف کی ایک تحریری یاداشت سے پتہ چلتا ہے
کہ اٹھارہ سو ستاون کے بعد انیس نے محلہ سبزی منڈی چوک لکھنؤ کے عقب میں
واقع رہائش گاہ میںایک سو ستانوے بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں
کا یہ مرثیہ ” جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے” ایک ہی رات میں تحریر کیا اور
گھر کے عشرے میں پڑھا جو انیس کے شاہکار مراثی میں سے ایک ہے۔
انیس
کی مرثیہ نگاری کے معجزات میں سے ایک بغیر نقطوں کے مرثیے بھی ہیں۔ان طویل
مراثی میں کہیں بھی ایک نقطہ نہیں اور سی مناسبت سے انہیں بے نقط کے مرثیے
کہا جاتا ہے۔
انیس شاید آنے والے حالات و واقعات سے بھی با خبر اور
آگاہ رہتے تھے اور شاید اسی لیۓ 23 جولائ 1871 کو انہوں نے خاندان کے لیۓ
ایک وسیع زمین گھر کے قریب ہی اسوقت تدفین کی خاطر 100 روپے میں خرید لی
تھی۔ 1874 میں 24 رمضان کو انیس بیمار ہوۓ اور ابتدا میں ہونے والا بخار
مرض الموت بن گیا اور یوں 01 دسمبر 1874 کو بوقت مغرب یہ آفتاب شاعری غروب
ہو گیا۔
غفران مآب کی امامبارگاہ میں سید بندے علی نے نماز جنازہ
پڑھائی اور سبزی منڈی چوک میں اپنے ہی گھر کے باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔
زندگی کے آخری ایام میں ایک رباعی یوں کہی۔
وہ موج حوادث کا تھپیڑا نہ رہاکشتی وہ ہوئ غرق وہ بیڑا نہ رہاسارے جھگڑے تھے زندگی کے انیسجب ہم نہ رہے تو کچھ بکھیڑا نہ رہا
رواں صدی کے عظیم مرثیہ نگار شاعر
جوش ملیح آبادی نے خداۓ سخن میر انیس کو یاد کرتے ہوۓ کیا خوب کہا ہے۔
اے دیار لفظ و معنی کےرئیس ابن رئیساے امین کربلا باطل فگار و حق نویسناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیسعظمت آل محمد کے مورخ اے انیستیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے