15.10.2026, 08:13am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

خدائے سخن میر ببر علی انیس ہر عہد کا شاعر۔۔۔۔ از۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
11.12.2013, 01:04am , بدھ (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن


انیس دم کا بھروسہ  نہیں  ٹھہر جاؤ
چراغ لیکے کہاں سامنے ہوا کے چلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیال  خاطر  احباب   چاہیۓ   ہر  دم
انیس ٹھیس نہ لگ جاۓ آبگینوں کو

خداۓ سخن میر ببر علی انیس کے یہ اور ایسے متعدد اشعار اردو ادب سے واقف ان لوگوں کو بھی یاد ہیں جو شاید تفصیل سے یہ نہ جانتے ہوں کہ انیس اردو ادب کی پر شکوہ عمارت کے ایک بنیادی ستون ہیں اور انکا نام تاریخ اردو ادب کی چوکور میں میر تقی میر/ غالب اور علامہ اقبال کے ساتھ شامل ہے۔

میر انیس کی پیدائش کے حوالے سے دو روایات موجود ہیں ایک جنوری اٹھارہ سو دو کی اور دوسری اٹھارہ سو تین کی تاہم زیادہ تر محققین نے اٹھارہ سو تین ہی کو درست قرار دیا ہے گویا ہر دو روایات کے پس منظر میں انیس دو سو سال سے آسمان ادب پر زوال سے نا آشنا ماہ کامل کی طرح رخشندہ ہیں۔ انیس کی تاریخ وفات پر تمام محققین کا اتفاق ہے اور انکی وفات اٹھارہ سو چوہتر میں بہتر تہتر برس کی عمر میں ہوئ۔ میر انیس اتر پردیش میں فیض آباد کے محلے گلاب باڑی میں پیدا ہوۓ اور اس وقت ھندوستان پر بادشاہ امجد علی شاہ کی حکومت تھی۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن مثنوی سحر البیان اور بدر منیر کے خالق اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے اور انکے ہی مشورے پر انیس نے غزل گوئ کو خیرباد کہہ کر مرثیہ اور سلام لکھنا شروع کیا۔

 دنیاۓ مرثیہ نگاری کے بے تاج بادشاہ میر انیس نے شاعری کی ابتدا غزل گوئ سے ہی کی اور والد کے اس مشورے پر کہ ٌبیٹا غزل کو سلام کرؤٌ انہوں نے  مولانا محمد حسین آزاد کے بقول ایک سعادت مند بیٹے کی طرح غزل کو سلام کیا اور پھر ساری عمر مرثیہ نگاری میں بسر کی۔

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر  کی  مداحی میں

دو صدیاں گزر جانے کے باوجود مرثیے میں انیس کا کوئ ثانی نہیں ہو سکا اور انکی اسی عظمت نے انکے دیگر فنی اور ہیتی محاسن کو منظر عام پر نہیں آنے دیا اور پھر ناقدین نے انکی تخلیقات کا اس طرح ناقدانہ جائزہ نہیں لیا جیسے غالب/ میر اور سودا کے کلام کا۔اس کی ایک وجہ مرثیے کو فقط عزائ شاعری تک محدود کر دینا بھی تھا۔انکی مکمل شاعری پر آج تک سواۓ حالی کے موازنہ انیس و دبیر کے کوئ ایسا تنقیدی کام نہیں ہوا جسے واقعی ادبی معیار کا کام قرار دیا جا سکے۔ میرانیس کو اپنی حیات میں بھی شاید اس امر کا اندازہ تھاجو انہوں نے کہا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔

حاسد سے نہ کچھ خوف نہ دشمن سے ہے کچھ باک
نا فہم ہے  وہ  چاند   پہ  ڈالے   جو  کوئ  خاک

اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ انیس کی مرثیہ نگاری کے متعدد محاسن معجزاتی زمرے میں آتے ہیںـانکے مراثی کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں۔ کچھ محققین نے یہ تعداد ہزاروں میں بتائ ہے تا ہم زیادہ تر کے نزدیک یہ تعداد ایک ہزار اور بارہ سو کے درمیان ہے۔تاریخ نگار بتاتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات ایک ہی وقت میں اپنے کاتبوں کو مختلف شہیدوں کی شہادت کے تین تین چار چار مرثیے بھے لکھواتے تھے۔انکے متعدد مراثی ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔انہوں نے مراثی کے علاوہ بڑی تعداد میں رباعیات/سلام/نوحے اور منقبتیں بھی لکھیں اور اب تک کی تحقیق کے مطابق انکی رباعیات کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ ہے اور دیگر اشعار کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے

کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے

انیس کی شاعری کا منبع و مرکز کربلا کا واقعہ اور شجاعت و قربانی ہے اور انیس کی زباں کے حسن اور بیاں کی معجز نمائ نے اسے آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ کچھ ناقدین نے مرثیے کو انگریزی ادب کی صنف ایپیک کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کی ہے جو درست نہیں۔ میر انیس اردو کے واحد شاعر ہیں جنکے مراثی میں بیاں کردہ مناظر کے علاوہ واقعات اور کردار باقاعدہ دیکھے اور محسوس کیۓ جا سکتے ہیں۔

تاریخ مرثیہ نگاری میں یہ حقیقت بھی تحریر ہے کہ میر انیس کا معروف مرثیہ ” آج شبیر پہ کیا عالم تنہائ ہے” جب لکھنؤ سے دلی پہنچا تو نواب مصطفی شیفتہ نے صرف اسکا مھلع سن کر اس طرح داد دی کہ ” میر صاحب نے مکمل مرثیہ کہنے کی کیوں زحمت کی مصرع تو خود ہی ایک مکمل مرثیہ ہے”

خورشید   چھپا   گرد   اڑی   زلزلہ   آیا
اک ابر سیاہ دشت پر آشوب میں چھایا
پھیلی تھی جہاں دھوپ وہاں ہو گیا سایہ
بجلی کو سیاہی  میں  چمکتا  ہوا  پایا
جو حشر کے آثار ہیں  سارے  نظر آۓ
گرتے ہوۓ مقتل میں ستارے نظر آۓ

انیس کے بیٹے میر نفیس کے نواسے میر عارف کی ایک تحریری یاداشت سے پتہ چلتا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کے بعد انیس نے محلہ سبزی منڈی چوک لکھنؤ کے عقب میں واقع رہائش گاہ میںایک سو ستانوے بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ مرثیہ ” جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے” ایک ہی رات میں تحریر کیا اور گھر کے عشرے میں پڑھا جو انیس کے شاہکار مراثی میں سے ایک ہے۔

انیس کی مرثیہ نگاری کے معجزات میں سے ایک بغیر نقطوں کے مرثیے بھی ہیں۔ان طویل مراثی میں کہیں بھی ایک نقطہ نہیں اور سی مناسبت سے انہیں بے نقط کے مرثیے کہا جاتا ہے۔

انیس شاید آنے والے حالات و واقعات سے بھی با خبر اور آگاہ رہتے تھے اور شاید اسی لیۓ 23 جولائ 1871 کو انہوں نے خاندان کے لیۓ ایک وسیع زمین گھر کے قریب ہی اسوقت تدفین کی خاطر 100 روپے میں خرید لی تھی۔ 1874 میں 24 رمضان کو انیس بیمار ہوۓ اور ابتدا میں ہونے والا بخار مرض الموت بن گیا اور یوں 01 دسمبر 1874 کو بوقت مغرب یہ آفتاب شاعری غروب ہو گیا۔

غفران مآب کی امامبارگاہ میں سید بندے علی نے نماز جنازہ پڑھائی اور سبزی منڈی چوک میں اپنے ہی گھر کے باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔ زندگی کے آخری ایام میں ایک رباعی یوں کہی۔

وہ موج   حوادث   کا  تھپیڑا  نہ  رہا
کشتی وہ ہوئ غرق وہ   بیڑا  نہ رہا
سارے جھگڑے تھے زندگی کے انیس
جب ہم نہ رہے تو کچھ بکھیڑا نہ  رہا

رواں صدی کے عظیم مرثیہ نگار شاعر جوش ملیح آبادی نے خداۓ سخن میر انیس کو یاد کرتے ہوۓ کیا خوب کہا ہے۔

اے دیار لفظ و معنی کےرئیس ابن رئیس
اے امین کربلا باطل فگار و حق نویس
ناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیس
عظمت آل محمد کے مورخ اے  انیس
تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے

:دیگر مضامین
(10.12.2013) بے مثال و باکمال شخصیت مولانا ابولکلام آزاد۔از۔خوشتر رحمٰن خاں
(09.12.2013) پانچ دسمبر ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کی31ویں برسی منائی گئی
(08.12.2013) نیلسن منڈیلا نے نسلی تعصب کی مخالفت میں 27 برس جیل میں گزارے تھے
(07.12.2013) کراچی میں جاری نواں بین الاقوامی کتب میلہ ۔ رپورٹ ۔ محمداحمد ترازی کراچی
(05.12.2013) پانچ دسمبر ۔شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی 113 ویں سالگرہ ہے
(04.12.2013)  جمعیۃ علماء رامپور کی میٹنگ کاشانۂ وفاء الرحمن جامعی میں
(02.12.2013) شاعری دِلوں کو جوڑتی اور آپسی رشتے مضبوط کرتی ہے : مست حفیظ رحمانی
(01.12.2013) سلام یا حسین (ع) کہنے والی قوم بے ضمیروں کو سلام کیوں کرے
(30.11.2013) پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زندگی پر ایک نظر
(28.11.2013)  برطانیہ کے سر فرینک والٹر میسروی پاک فوج کے پہلے سربراہ تھے
(27.11.2013) رثائی شعری حلقے کے ممتاز شاعر رضا قیصر زیدی کی رِحلت
(26.11.2013) الجزائری خاتون سیاستدان ساتویں مرتبہ سیاسی جماعت کی سربراہ منتخب
(21.11.2013) دنیا بھر میں ٹیلی ویژن کا عالمی دن 21 نومبر کو منایا جا رہا ہے
(20.11.2013) راولپنڈی سانحہ۔ حکومت پنجاب اس سازش میں شریک ہے؟ سید علی رضا نقوی
(19.11.2013) ضروری ہے کہ اسوقت جوش نہیں ، ہوش سے کام لیجئے ۔از۔۔ سبط علی
(19.11.2013) مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
(18.11.2013) کربلا رسوم و روایات کا نام نہیں بقائے انسانیت اور استحکام دین کا نام ہے
(15.11.2013) ڈاکٹر نیاز حسین ھمدانی کی دعوت فکر حسینی کا ایک باب
(12.11.2013) تاریخ بکے ھوۓ مورخین سے بھری پڑی ھے۔۔۔عطیہ زیدی
(11.11.2013) آسٹریلیا میں پہلا بین المذاہب “ یوم حسین “ پاکستان آسٹریلیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں