
فنون لطیفہ چاہے رقص و موسیقی کی شکل ہو، مجسمہ سازی یا پھر مصوری میں ، صرف اُسی معاشرے کی تہذیب اور اُس کی اقدار کو اجاگر نہیں کرتے ہیں، جہاں وہ تخلیق پاتے ہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے تخلیق کاروں، فن کے قدردانوں اورعام لوگوں کے لیے اپنے اندر ایک اپیل اور کشش رکتھے ہیں۔
اسی مقصد کے تحت لندن میں آرٹ اور ثقافت کے نام سے ایک تنظیم گلوبل آرٹ اور کلچر کا افتتاح ہوا۔ جس میں عا لمی امن، مختلف قومیتوں اور نسلوں کو قریب لانے کے علاوہ جس امر پر بہت خصوصیت زور دیا جا رہا ہے۔ وہ فن کے ذریعے عورت کے مسائل کو اجاگر کرکے انھیں مضبوط اور خود مختار بنا نا ہے۔ اسی مناسبت سے اس تنظیم کی افتتاحی تقریب کی پہلی مہمان خصوصی پاکستان میں ایک سا بق رکن پارلیمان اور عورتوں کے حقوق کی سرگرم کارکن ماروی میمن تھیں۔
اس تقریب میں ماروی میمن کی پندرہ پینٹگز نمائش کے لیے رکھی گئیں تھیں۔ جن کے بارے میں ماروی میمن نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ وہ اپنی مصوری کے ذریعے پاکستان کے صوبہ سندھ میں گراس روٹ لیول یعنی بلکل نچلی سطح پرعورتوں کے زندگی، اُن کے مسائل اور مصائب کو اجا گر کرنا چاہتی ہیں۔ ماروی کی تصاویر میں گہرے رنگوں اور تجرید کی آمیزش سے عورت کی پس ماندگی، سماجی مجبوری اور گھٹن نمایاں طور جھلکتی ہے۔
ماروی میمن نے کوئی پندرہ برس قبل سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورحکومت میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا، وہ سابق سینٹر نثار میمن کی صاحبزادی ہیں اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔
تنظیم کی منتظم نتاشا شیخ کا کہنا تھا کہ ایک پرامن دنیا کے قیام کو ممکن بنانے کے لیے فنون لطیفہ ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اُن کی کوشش ہوگی کہ مختلف النسل فنکاروں کو اس فورم پر جمع کریں۔
و سط لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے تاریخی پارلیمانی عمارت میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں برطانیہ کے ایوان بالا ہاؤس آف لارڈ ز کے پہلے مسلمان رکن لارڈ نذیر احمد، اور پہلی خاتون رکن بیرونس پاؤلا اود دین، لارڈ ڈھوکلیا، لارڈ لمبا اور کئی رکن پا رلیمان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی خصوصاً پروفیشنل خواتین نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام میں منتظمین نتاشا شیخ، جاوید شیخ اور اشفاق میمن نے شام کو کامیاب بنانے پرتمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔