پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے ویسے ہی غربت اور بے روزگاری بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ دو لاکھ بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ساٹھ لاکھ بچے بہت ہی کم عمر ہیں ۔
پاکستان کے چاروں صوبوں میں بے روز گاری دیکھنے میں آتی ہے اور بے روزگاری کے باعث لوگ مجبور ہو کر اپنے کم عمر بچوں کو محنت اور مشفقت پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ان کے گھر کا چولھا چکی چل سکے۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں کڑوڑوں بچے گھریلو حالات سے تنگ آکر مشقت کر رہے ہیں۔ چائلڈ لیبر کا شکار ان بچوں اور بچیوں کی عمریں پانچ سے پندرہ برس کے درمیان ہیں۔ان میں بہت سے بچے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں
ان کم عمر بچوں کو بارہ ،چودہ گھنٹوں کی محنت کے بعد اتنی رقم ملتی ہے جس سے ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے ہی میسر آتا
ہے لیکن محنت کش بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ایک تو غریبی اور بیماری ان کی چوکھٹ چھوڑنے کو تیار نہیں تو ایسے برے حالات میں ا ن کے بچے ا ن کے کام آرہے ہیں اور ساتھ ساتھ ہنر سیکھ بھی رہے ہیں ۔
لیکن یہ بچے جو تعلیم سے دور ہیں ان کا مستقبل کیا ہے ،کسی کے آگے سے کھانے کے چھوٹے برتن اٹھانا ،کسی مکینک کی دکان پر اپنے ہاتھوں کی طرح مستقبل کو سیاحی سے رنگ دینا ،یا یہ ننھی کمزور انگلیاں کسی کونے میں بیٹھے قینچی چلاتے چلاتے زندگی کے دن پورے کریں گی اور سب سے بڑھ کر اپنی طرف اٹھتی ہوئی حقارت بھری نظریں برداشت کرنا ان بچوں کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی ایسا ہی نصیب لے کر پیدا ہوں گی ۔
چائلڈ لیبر پر قوانین تو بہت بنائے گئے لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر قوانین پر عمل تاحال نہیں ہوا اور آج بھی بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں ۔غیر سرکاری سطح پر بہت سے ادارے بچوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتے نظر ٓ ارہے ہیں لیکن اس کے لئے ہمارے پارلیمنٹ ، سینٹ اور عدلیہ کو قعال قردار ادا کرنا ہو گا