15.10.2026, 09:21am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

ایک داڑھی والا شخص جس نے سوویت یونین کو جوہری طاقت بنا دیا
31.01.2013, 07:55pm , جعمرات (GMT+1)

عالمی اخبار کے نمائندہ خصوصی براۓ مشرقی یورپ نعمان عالم
"تاریخ نگاروں نے اسے "بابائے سوویت ایٹم بم" کا لقب دیا تھا۔ ہمکار اور سائینسدان اسے "داڑھی والا" کہتے تھے۔ ایگر واسیلیوچ کرچاتوو روس کے نامور سائینسدان اور سوویت جوہری منصوبے کے سربراہ تھے۔ ان کے 110ویں یوم پیدائش کے موقع پر ماہرین اور سائیندانوں نے بشمول ان کے جو انہیں ذاتی طور پر جانتے تھے، ریڈیو Moskva کو کرچاتوو کے بارے میں بتایا ہے۔

دوسری عالمگیر جنگ کے اواخر میں دنیا تباہی کے دہانے پر تھی۔ جوہری بم کے مالک بن کر نازی ازم کے خلاف مبارزت میں سوویت یونین کے اتحادیوں نے سوویت یونین پر جوہری حملہ کرنے کے بارے میں سوچا تھا۔ ماسکو کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ اس نوع کا ہتھیار وہ بھی حاصل کر لے، ماہر تاریخ ڈاکٹر الیکساندر ساگومونیان کہتے ہیں،" سٹالن اور دیگر سوویت حکام بہت اچھی طرح سمجھتے تھے کہ بہت بڑا خطرہ سر پہ منڈلا رہا ہے اور اس سے بچنے کے لیے سوویت یونین کو جلد از جلد ایٹم بم بنا لینا چاہیے۔ سوویت یونین کی اندرونی پالیسی کا یہ اہم مقصد بن گیا تھا۔ اس مقصد کی خاطر سٹالن نے جوہری منصوبے کے سربراہ کے طور پر کرچاتوو کو چنا تھا۔ یہ بہت ہی مشکل کام تھا کہ چار سال میں اس ہتھیار پر امریکہ کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔"

بہرحال یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ یہ ایگر واسیلیوچ کی علمی اور تنظیمی قابلیت کی ایک کامیابی تھی، قومی تحقیقی مرکز کرچاتوو انسٹیٹیوٹ کے صدر اکیڈیمیشن یوگینی ویلی ہوو بتاتے ہیں،" وہ جسے کہتے ہیں کہ وہ فی الواقعی ماہر طبیعیات تھے۔ 1943 سے جب انہیں سوویت یونین کے جوہری منصوبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، وہ بہت اچھے منتظم رہے تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے سائیندانوں کو یک جا کرکے ایک مکتب تشکیل دے لیا تھا۔ کرچاتوو نے روس کے حقیقی دفاع کی بنیاد رکھی تھی جس پر آج سبھوں کو ناز ہے، جوہری آبدوزیں ، جوہری بحری جہاز اور جوہری برف توڑ بحری جہاز یہ سب کچھ۔یہ ایک بہت مشکل کام تھا لیکن انہوں نے اسے ایک اچھے انسان کی طرح سرانجام دیا تھا، وہ ہر ایک سے براہ راست ملتے تھے تاحتٰی نچلے عملے سے بھی اور کسی تعصب اور پرخاش کو اپنے تعلق میں حارج نہیں ہونے دیتے تھے۔ وہ ضرورت پڑنے پر بیریا جیسے بااختیار مہیب وزیر سے بھی بات کر سکتے تھے اور اپنے ماتحت کارکن سے بھی۔ یوں انہوں نے تب کے مشکل حالات میں بھی ایسی فضا بنا ڈالی تھے جس کے طفیل آج روس دنیا کی ایک بڑی سائینسی قوت ہے۔"

تاریخ دان سرگئی سمرنوو، ایگر کرچاتوو کی انسان دوست صفت کے بارے میں کہتے ہیں،" کرچاتوو نابغہ نہیں تھے لیکن وہ نابغہ کو آگے بڑھانے اور نابغہ لوگوں پہ قابو پانے میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخر تک اپنی دوست بنا لینے کی صفت کے حامل رہے تھے۔ ان کے اردگرد غیر معمولی اونچے معیار کے لوگوں کا حلقہ تھا جو ان کی ذات میں اپنے ایک دوست کو دیکھتے تھے۔"

ان کا لقب "داڑھی والا" اس عظیم ماہر طبیعیات کے ایک غیر معمولی فیصلے کی دین تھا، عسکری امور کے ماہر ایلیا کرامنک نے بتایا،" ایک داستان وجود رکھتی ہے کہ کرچاتوو نے شروع میں جنگ کے دوران یعنی " فسطائیت پر فتح پائے جانے تک" داڑھی نہ تراشنے کا عہد کیا تھا۔ پھر جنگ ختم ہونے کے بعد بھی انہوں نے " جوہری منصوبے کے کامیاب ہونے" تک داڑھی نہ منڈوائی تھی۔ منصوبہ وسیع تر ہوتا گیا اور وہ اسے اپنے طور پر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے تھے اور یوں داڑھی ان کے چہرے پہ موجود رہی۔"

ایگر کرچاتوو بہت کم عمری یعنی 57 برس کی عمر میں دنیا سے سدھار گئے تھے لیکن ان کی یاد کو موت نہین ائی۔ ان کے نام پر شہر، سڑکوں، انسٹیٹیوٹ اور سکولوں کے نام رکھے گئے ہیں، تاحتٰی ایک شہاب ثاقب بھی ان کے نام سے موسوم ہے یعنی "کرچاتوو اسٹیرائڈ"۔

:دیگر مضامین
(16.01.2013) ممتاز سیرت نگار ادیب وشاعر اورمدیر معاون عالمی اخبار ڈاکٹر شمس جیلانی سے ایک ملاقات
(25.12.2012)  فیضا ن قلب اللہ کریم و رحیم کی خاص عنایت ۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی ۔ایڈمنٹن
(19.12.2012) حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ اللہ اور راہب اعظم‎۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی
(25.11.2012) منزلت علمدار کربلا حضرت عباس بن علی مرتضیٰ علیہ السلام معصومین کی نظر میں
(24.11.2012) حسین میرا ،حسین تیرا ، حسین سب کا ......۔از........: ڈاکٹر نگہت نسیم
(29.10.2012) صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پرغور کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق
(26.10.2012) ذبح اسماعیل علیہ السلام ۔ بارگاہ خداوندی سے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم
(15.09.2012) سرطانِ پستان سے متعلق دس سوالات ۔از۔ڈاکٹر نذیر مشتاق
(28.08.2012) شاہ چراغ،سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم ۔ از۔پیر سید علی عباس شاہ۔
(26.06.2012) "القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں"شیخ رائد صلاح
(21.05.2012) ادبی نام ، قلمی نام - یہ تو فیض و فراز جیسے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں
(12.05.2012) القدس اور مسجد اقصیٰ کی خاطر ہزار بار جیل جانے کو تیار ہوں۔شیخ رائد
(27.04.2012) انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ جواد حافظی کا عالمی اخبار کو خصوصی انٹڑویو
(25.04.2012) فاطمہ سلام اللہ علیہا جن پر خاندان نبوت کو ناز ہے۔سید اکمل حسین
(24.04.2012) فاطمتہ الزھرا س کی سیرت خواتین عالم کے لئے مشعل راہ و ھدایت کا مرکز
(04.03.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔عالمی اخبار میں احتشام جمیل کے ساتھ۔۔
(03.03.2012) امام ابومحمد حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت۔از۔ سید اکمل حسین
(20.02.2012)  خالد مشعل سے خصوصی مُکالمہ " فردِ واحد کی حکمرانی کا دور گذر چکا
(14.02.2012) دورآمریت میں بے بہاقربانیاں دینے والے مسلم لیگی رہنماآفتاب احمد گلوایڈووکیٹ
(09.02.2012) سچی سچی دل کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالمی اخبار میں احتشام جمیل شامی کے ساتھ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں