"تاریخ نگاروں نے اسے "بابائے سوویت ایٹم بم" کا لقب دیا تھا۔ ہمکار اور سائینسدان اسے "داڑھی والا" کہتے تھے۔ ایگر واسیلیوچ کرچاتوو روس کے نامور سائینسدان اور سوویت جوہری منصوبے کے سربراہ تھے۔ ان کے 110ویں یوم پیدائش کے موقع پر

ماہرین اور سائیندانوں نے بشمول ان کے جو انہیں ذاتی طور پر جانتے تھے، ریڈیو Moskva کو کرچاتوو کے بارے میں بتایا ہے۔
دوسری عالمگیر جنگ کے اواخر میں دنیا تباہی کے دہانے پر تھی۔ جوہری بم کے مالک بن کر نازی ازم کے خلاف مبارزت میں سوویت یونین کے اتحادیوں نے سوویت یونین پر جوہری حملہ کرنے کے بارے میں سوچا تھا۔ ماسکو کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ اس نوع کا ہتھیار وہ بھی حاصل کر لے، ماہر تاریخ ڈاکٹر الیکساندر ساگومونیان کہتے ہیں،" سٹالن اور دیگر سوویت حکام بہت اچھی طرح سمجھتے تھے کہ بہت بڑا خطرہ سر پہ منڈلا رہا ہے اور اس سے بچنے کے لیے سوویت یونین کو جلد از جلد ایٹم بم بنا لینا چاہیے۔ سوویت یونین کی اندرونی پالیسی کا یہ اہم مقصد بن گیا تھا۔ اس مقصد کی خاطر سٹالن نے جوہری منصوبے کے سربراہ کے طور پر کرچاتوو کو چنا تھا۔ یہ بہت ہی مشکل کام تھا کہ چار سال میں اس ہتھیار پر امریکہ کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔"
بہرحال یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ یہ ایگر واسیلیوچ کی علمی اور تنظیمی قابلیت کی ایک کامیابی تھی، قومی تحقیقی مرکز کرچاتوو انسٹیٹیوٹ کے صدر اکیڈیمیشن یوگینی ویلی ہوو بتاتے ہیں،" وہ جسے کہتے ہیں کہ وہ فی الواقعی ماہر طبیعیات تھے۔ 1943 سے جب انہیں سوویت یونین کے جوہری منصوبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، وہ بہت اچھے منتظم رہے تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے سائیندانوں کو یک جا کرکے ایک مکتب تشکیل دے لیا تھا۔ کرچاتوو نے روس کے حقیقی دفاع کی بنیاد رکھی تھی جس پر آج سبھوں کو ناز ہے، جوہری آبدوزیں ، جوہری بحری جہاز اور جوہری برف توڑ بحری جہاز یہ سب کچھ۔یہ ایک بہت مشکل کام تھا لیکن انہوں نے اسے ایک اچھے انسان کی طرح سرانجام دیا تھا، وہ ہر ایک سے براہ راست ملتے تھے تاحتٰی نچلے عملے سے بھی اور کسی تعصب اور پرخاش کو اپنے تعلق میں حارج نہیں ہونے دیتے تھے۔ وہ ضرورت پڑنے پر بیریا جیسے بااختیار مہیب وزیر سے بھی بات کر سکتے تھے اور اپنے ماتحت کارکن سے بھی۔ یوں انہوں نے تب کے مشکل حالات میں بھی ایسی فضا بنا ڈالی تھے جس کے طفیل آج روس دنیا کی ایک بڑی سائینسی قوت ہے۔"
تاریخ دان سرگئی سمرنوو، ایگر کرچاتوو کی انسان دوست صفت کے بارے میں کہتے ہیں،" کرچاتوو نابغہ نہیں تھے لیکن وہ نابغہ کو آگے بڑھانے اور نابغہ لوگوں پہ قابو پانے میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخر تک اپنی دوست بنا لینے کی صفت کے حامل رہے تھے۔ ان کے اردگرد غیر معمولی اونچے معیار کے لوگوں کا حلقہ تھا جو ان کی ذات میں اپنے ایک دوست کو دیکھتے تھے۔"
ان کا لقب "داڑھی والا" اس عظیم ماہر طبیعیات کے ایک غیر معمولی فیصلے کی دین تھا، عسکری امور کے ماہر ایلیا کرامنک نے بتایا،" ایک داستان وجود رکھتی ہے کہ کرچاتوو نے شروع میں جنگ کے دوران یعنی " فسطائیت پر فتح پائے جانے تک" داڑھی نہ تراشنے کا عہد کیا تھا۔ پھر جنگ ختم ہونے کے بعد بھی انہوں نے " جوہری منصوبے کے کامیاب ہونے" تک داڑھی نہ منڈوائی تھی۔ منصوبہ وسیع تر ہوتا گیا اور وہ اسے اپنے طور پر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے تھے اور یوں داڑھی ان کے چہرے پہ موجود رہی۔"
ایگر کرچاتوو بہت کم عمری یعنی 57 برس کی عمر میں دنیا سے سدھار گئے تھے لیکن ان کی یاد کو موت نہین ائی۔ ان کے نام پر شہر، سڑکوں، انسٹیٹیوٹ اور سکولوں کے نام رکھے گئے ہیں، تاحتٰی ایک شہاب ثاقب بھی ان کے نام سے موسوم ہے یعنی "کرچاتوو اسٹیرائڈ"۔