برطانوی جیلوں میں فراہم کئے جانے والے حلال فوڈز میں سور کے اجزا پائے گئے جس پر پریژن سروس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ جیلوں کو فراہم کی جانے والی متعدد حلال میٹ پائیز اور پیسٹیز میں سور کے ڈی این اے ملے ہیں۔ منسٹری آف جسٹس (ایم او جے) نے کہا ہے کہ وہ جیلوں کو فراہم کی جانے والی حلال فوڈز میں غیر حلال گوشت کے اجزا پائے جانے کی شکایات پر وہ سپلائر کو معطل کر رہی ہے وہ حلال فوڈز کا مصدقہ سپلائر ہے۔
علاوہ ازیں سرکردہ فوڈ ریٹیلرز اور سپلائرز نے گمراہ کن لیبل یا مضر صحت فوڈ پروڈکٹس کی عوام کو فروخت کی شکایات پر فوری ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اسلام میں سور کے گوشت کا استعمال حرام اور ممنوع ہے۔
منسٹری آف جسٹس نے کہا ہے کہ تمام مضر صحت فوڈز کو مارکیٹ سے اٹھالیا گیا ہے۔ گزشتہ روز فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی (ایف ایس اے) نے پیر کو سرکردہ فوڈ سپلائرز اینڈ ریٹیلرز کا اجلاس طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ گمراہ کن لیبلز اور مضر صحت خورات کی سپلائی کی شکایات کی لہر سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ ایف ایس اے ترجمان نے کہا کہ لوگوں کو یہ توقع اور امید رکھنے کا حق ہے کہ وہ جو خوراک یا فوڈ پروڈکٹس استعمال کر رہے ہیں اس کے بارے میں درست وضاحت ہونی چاہئے۔ یہ فوڈ بزنسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ جو خوراک فروخت کر رہے ہیں لیبلز پر بھی اس کی درست وضاحت کو یقینی بنائیں۔ ہم متعلقہ لوکل اتھارٹی کے ساتھ مل کر اس پر غور کر رہے ہیں کہ آیا تحقیقات کے بعد قانونی ایکشن مناسب اور درست ہوگا۔
اجلاس کا انعقاد اس لئے کیا جارہا ہے کہ انڈسٹری میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور آئندہ کیا اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ منسٹری آفس جسٹس (ایم او جے) کے ایک ترجمان نے کہا کہ حلال فوڈز میں حرام گوشت اور سور کے اجزا (ڈی این اے) کا انکشاف ہونے پر تمام جیلوں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور ایف ایس اے کو بھی اس بارے میں فوری آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ایف ایس اے نے کہا کہ جس جگہ یہ سپلائر ادارہ موجود ہے وہاں کی لوکل اتھارٹی یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ آلودہ خوراک کیسے ہوئی اور آیا کہ برطانیہ میں کسی اور جگہ بھی یہ پروڈکٹس سپلائی کی گئی ہیں۔ جسٹس منسٹر جرمی رائٹ نے کہا کہ یہ صورتحال کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے اور اس پر ہم انتہائی معذرت خواہ ہیں۔ متاثرہ لوگوں کے لئے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے اور ہم انہیں یہ یقین دہانی کرواسکتے ہیں کہ ہم اس صورتحال کو درست کرنے کے لئے حتی المقدور اقدامات کر رہے ہیں۔ پریژن سروس بھی ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کر رہی ہے۔
دی پریژن ریفارم ٹرسٹ نے فوری معذرت اور تحقیقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوراک کی ترجیح کا نہیں بلکہ اسلامی قانون کا معاملہ ہے۔ پریژن ریفارم ٹرسٹ ڈائریکٹر جولیٹ لیون نے کہا کہ ہسپتالوں اور جیلوں کے رولز میں واضح ہے کہ ان کے مینیو میں حلال گوشت لازمی ہوگا۔ اس غفلت اور غلطی نے بڑی تعداد میں مسلمان قیدیوں اور ان کی فیملیز کو شدید تکلیف پہنچائی ہے اور منسٹر آفس جسٹس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات، سپلائر کی معطلی اور معذرت کرنا درست اقدامات ہیں۔ قبل ازیں گھوڑے کے گوشت کے سکینڈل کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ جمعرات کو برگر کنگ نے آئرش فوڈ پروسیسنگ پلانٹ کو ڈراپ کر دیا جس نے گھوڑے کے ڈی این اے سے آلودہ برگرز سپلائی کئے تھے۔ سلور کریسٹ پلانٹ اے بی پی فوڈ گروپ کا حصہ ہے اور سرکردہ فوڈ چین کے سپر مارکیٹس ٹیسکو، الڈی اور دی کوآپریٹیو گروپ سے اس کے کنٹریکٹس ختم ہوگئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق منسٹر آف جسٹس نے کہا کہ بعض سپر مارکیٹ چینز میں گھوڑے کے گوشت والے بیف برگرز کی فروخت کی شکایات کے بعد ہم نے ٹیسٹس کئے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم متعلقہ سب کنٹریکٹر کے ساتھ کنٹریکٹ فوری طور پر معطل کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ ایف ایس اے کے ترجمان نے کہا کہ ایسی متعدد میٹ پائیز اور پیسٹیز یوکے کی جیلوں میں سپلائی کی گئیں جن پر حلال کا لیبل لگاتھا مگر ان میں سور کے گوشت کے اجزا ہوسکتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہے کہ یہ آلودگی کیسے ہوئی۔ فوڈ اینڈ فارمنگ منسٹر ڈیوڈ ہیتھ نے کہا کہ یہ صورتحال کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ سرکردہ ریٹیلرز اور سپلائرز سے فوری ملاقات کا خواہاں ہوں تاکہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اسے حل کیا جاسکے۔