معروف ادبی تنظیم بزم اردو کا ششم ماہانہ طرحی مشاعرہ قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام چلنے والے کمپیوٹر سینٹر پر مسلم جونئیر ہائی اسکول میں عالمی شہرت یافتہ استاد شاعر مست حفیظ رحمانی کی صدارت میں طے شدہ پروگرام کے تحت موسم ہے اپنے شہر کا کشمیر کی طرح مصرع طرح منعقد ہوا۔مشاعرہ میں صدارتی کلمات کا اظہار کرتے ہوئے مست حفیظ رحمانی نے تمام اردو دوست اور اہل قلم حضرات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اردو کی سچی خدمت انہیں خالص ادبی محفلوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے جو کہ بزم اردو بحسن و خوبی انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا بھی اظہار کیا کہ موجودہ حکومت اپنے وعدے مطابق اردو کو اس کاحق دینے میں اب تک ناکام رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ الکشن کے وقت مسلمانوں اور اردو کے تئیں ہمدردی دکھانے والے لوگوں کی اصل شکل و صورت ہمارے سامنے کھل کر آ چکی ہے۔ جو حکومت اردو کی بازیابی کے تمام دعویٰ کرتی رہی ہے اس کے ہی دور حکومت میں اب تک سرکاری طور پر طلبہ کو دستیاب کرائی جانے والی اردو کتابوں کی تقسیم کاری میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے مشاعرہ میں موجود عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب ہمیں کسی حکومت کے وعدوں پر بھورسہ کرکے نہیں بیٹھ جانا چاہئے بلکہ اپنی ثقافت اور وراثت کو بچائے رکھنے کی جدو جہد میں خود کفیل ہوکر ایسے کام انجام دینے ہوں گے جو ہماری نسلوں کے لئے کامد ہوں اور ہماری ادبی ثقافتی اور مذہبی ورثہ کی بقا کے لئے بھی کارآمد ہوں۔اس موقع پر گزشتہ ماہ کے مشاعرہ میں ایک پتھر صفت آئینہ ہو گیا پر بہترین غزل پیش کرنے کے لئے قصبہ خیرآباد کے ممتاز شاعر گہر خیرآبادی کو اراکین بزم اردو اور صدر مشاعرہ مست حفیظ رحمانی کے ذریعہ غزل ایوارڈسے بھی نوازا گیا۔ اس کے بعدشروع ہونے والے مشاعرہ کی نظامت کرتے ہوئے مشاعرہ کنوینر نے اعلان کیا کہ بزم اردو کا آئندہ پروگرام ۳؍ مارچ کو ہوگا جس کا مصرع طرح تیری ہر ایک بات مرا دِل دُکھائے تو ہوگا جسمیں دُکھائے قافیہ اور تو ردیف کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ آج کے مشاعرہ میں جن شعراء نے اپنا طرحی کلام پیش کیا انمیں مست حفیظ رحمانی، فرقان وحید ہاشمی، مخمور کاکوروی، اشتیاق علی صبا، عمر قاروقی، ساحر لکھنوی، سلیم اختر، منظر یٰسین، رضوان خان، عارف محمد عارف، سلمان ظفر، ڈاکٹر انیس بسوانی، شاکر خیرآبادی، چاند پہانوی، خلیل فریدی، بدر سیتاپوری، ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق، محفور حمانی، نفیس سیتاپوری، ابن عمر، طارق کاظمی، حکمت شاہ آبادی، علیم ساحل لاہرپوری، ڈاکٹر عزیز خیرآبادی، گہر خیرآبادی، گلشن خیرآبادی، عمران انواروی نے براہ راست مشاعرہ میں شرکت کرکے اپنا طرحی کلام پیش کیا۔ اس کے علاوہ ائی میل اور ڈاک کے ذریعہ ریحانہ عاطف، معراج ساحل آسنسول، عرشی پہانوی، مسعود محمودآبادی، محمد الیاس نائب خیرآبادی، شفاعت خیرآبادی، عمران سیتاپوری، ڈاکٹر شفیع سیتاپوری، ڈاکٹر رضوان انصاری اور مولانا اطہر کملاپوری نے مشاعرہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر سامعین کی ایک بڑی تعداد پورے وقت تک مشاعرہ میں شعراء کو داد و تحسین سے نوازتی رہی۔


اردو تو اپنے ساتھ ہے جاگیر کی طرح
پرسان حال کوئی نہیں میر کی طرح
دیکھے تو دیکھنے میں فرشتہ صفت ہے وہ
بولے تو اس کی بات لگے تیر کی طرح
مست حفیظ رحمانی
ہوں حسن کائنات کی تفسیر کی طرح
میں اک حسین خواب کی تعبیر کی طرح
محفل میں ہم زبان تھے یاران باوفا
مقتل میں سب خموش تھے تصویر کی طرح
فرقان وحید ہاشمی
خواب و خیال ہو گئیں آزادیاں میری
حالات بن کے رہ گئے زنجیر کی طرح
گہر خیرآبادی
قول عمل میں کس لئے انتا تضاد ہے
کردار پیش کیجیئے تقریر کی طرح
مخمور کاکوروی
اب عدل بھی پہنچ گیا غیروں کے ہاتھ میں
عالم پناہ آپ کی جاگیر کی طرح
عمر فاروقی
مر کر ہی اس کے دام سے شاید ملے نجات
دنیا ہے میرے پاؤں میں زنجیر کی طرح
سلیم اختر
وہ بول دے اگر تو چمن مسکرا اٹھے
خاموشیوں میں لطف ہے تقریر کی طرح
اشتیاق علی صبا
شاید وہ لوٹ آئے اسی انتظار میں
بیٹھا رہا ہوں مدتوں تصویر کی طرح
منظر یٰسین
میری محبتیں کسی رانجھا سے کم نہیں
اس کی وفائیں بھی ہیں کسی ہیر کی طرح
رضوان خان
انسان کا غرور بھی دشمن سے کم نہیں
الجھا کیا ہے راہ میں زنجیر کی طرح
ڈاکڑ عزیز خیرآبادی
حسن عمل سے جن کا ہے کردار آئینہ
دل میں سجا لیا انہیں تصویر کی طرح
عمران انواروی
عرشی غزل کو اپنا لہو بھی پلا دیا
پھر بھی ملا نہ طرز سخن میر کی طرح
ڈاکٹرعرشی پہانوی
آئے جو تیری یاد تو دریا سا بہہ چلے
غم تیرا یوں سموئے ہوں جاگیر کی طرح
خوشتر رحمانی
عارف کی زندگی بھی مسائل کی زد میں ہے
اک خو برو کی زلف گرہ گیر کی طرح
عارف محمد عارف
اس کو ہوس کا تم نے نشانہ بنا لیا
جس سے سلوک کرنا تھا ہمشیر کی طرح
خلیل فریدی
تہذیب جو سکھائی تھی ماں باپ نے کبھی
اس کو سنبھال رکھا ہے جاگیر کی طرح
ڈاکٹر انیس بسوانی
وعدہ ہے ان کا خواب کی تعبیر کی طرح
لہروں پہ ہے لکھی ہوئی تحریر کی طرح
راجیو پرکاش ساحر لکھنوی
شیرازہ ان کا بکھرا وہی منتشر ہوئے
کڑیاں نہ جوڑ پائے جو زنجیر کی طرح
شاکر خیرآبادی
پڑھتے رہیں گے اہل بصیرت مجھے بغور
ابھرا ہوں لوح وقت پہ تحریر کی طرح
نفیس خیرآبادی
جسکی زبان چلتی تھی شمشیر کی طرح
ذکر وفا پہ بیٹھا ہے تصویر کی طرح
ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق
ٍ
جب بولئے کسی سے تو لفظوں کو تولئے
دل پر لگے نہ بات کوئی تیر کی طرح
ریحانہ عاطف خیرآبادی
پھر یہ ہوا کہ میرے بدن نے دعائیں کیں
اور مجھ میں وہ اتر گیا تقدیر کی طرح
طارق کاظمی
حکمت جہاں ذرا بھی ہوئے شاد کام ہم
اغیار کی نظر میں چبھے تیر کی طرح
حکمت شاہ آبادی
صفحوں میں چیختی ہوئی تحریر کی طرح
حالات ہیں یوں بولتی تصویر کی طرح
معراج ساحل آسنسول
دنیا کے رنج و غم سے نہ گھبراؤ دوستو
ہم بانٹ لیں گے ان کو بھی جاگیر کی طرح
ابن عمر
اللہ دے وہ چشم بصیرت کہ پڑھ سکوں
لہروں پہ کچھ لکھا تو ہے تحریر کی طرح
گلشن خیرآبادی
رشوت حلال ہو گئی اجرت کے نام پر
نذرانہ ہم بھی لینے لگے پیر کی طرح
محفوظ رحمانی
اب کر چکا ہے دام محبت میں وہ اسیر
جکڑے ہوئے ہیں زلف میں زنجیر کی طرح
بدر سیتاپوری
مدت کے بعد بچھڑا ہوا دوست مل گیا
بھولے ہوئے سے خواب کی تعبیر کی طرح
شفیع سیتاپوری
ہاں جاوداں حیات بھی ہو جائے گی مگر
گردن کٹانا سیکھ لو شبیر کی طرح
ڈاکٹر رضوان انصاری
اس پیکر جمال سے کیا گفتگو کریں
جس کا ہر ایک لفظ ہے شمشیر کی طرح
عمران سیتاپور
مسعود اس کے سائے سے کیسے نجات ہو
سوز غم حیات ہے زنجیر کی طرح
مسعود محمودآبادی
دنیا کے ذرہ ذرہ سے ہر دم صدائے حق
آتی ہے میرے کانوں میں تکبیر کی طرح
محمد الیاس تائب خیرآبادی
یہ کیا ہوا کہ آنکھوں سے اب نیند اڑ گئی
آیا تو تھا وہ خواب کی تعبیر کی طرح
سلمان ظفر
اسٹو نہ میں کباب نہ میں کھیر کی طرح
میرا وجود دیگ میں کفگیر کی طرح
چاند پہانوی
مجھکو تو قتل تیری نگاہوں نے کر دیا
تیری نگاہ لگتی ہے شمشیر کی طرح
شفاعت خیرآبادی
ہوتے ضرور ہم سے اندھیرے بھی دور دور
بن کر جو رہتے پیکر تنویر کی طرح
مولانا اطہر کملاپوری
دل کو سکوں ملے گا اسے پڑھ کے دیکھئے
خط کو مرے نہ دیکھئے تصویر کی طرح
علیم ساحل لاہرپوری
جھڑتے تھے پھول باتوں سے پہلے نفیس اب
لب دھار دار ہو گئے شمشیر کی طرح
نفیس سیتاپوری