 |
| عصمت طاہرہ کے ساتھ ریاض محمود اور عقب میں اعظم خان |
عصمت طاہرہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک ایسی آواز ہے جو سدا بہار رہے گی۔ایسی آواز جس پر تقویم ماہ وسال کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ اس دور کی آواز ہے جب مائیکروفون کی عزت تھی اور یہ عزت عصمت طاہرہ جیسے فنکاروں اور صداکاروں کی وجہ سے تھی۔
میں نے اپنے طور پر اس عہد زریں کے ناموں کو تاریخ میں محفوظ رکھنے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے لیکن اس کوشش میں دیگر ساتھیوں کو بھی شامل کرنا چاہتا تھا لیکن کوئی اس بوجھ کو اٹھانے کو تیار نہیں تھا۔ کچھ عرصہ پہلے میں عصمت سے درخواست کی لیکن اسوقت شاید وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھیں۔ شکر اللہ کا کہ اس نے انہیں ہمت،حوصلہ اور یاداشت عطا کی اور انہوں نے گزرے زمانے کی یادوں کی کہکشاں کو حیات دینی شروع کی۔عصمت بہت پیاری اور ہر دلعزیز فنکار اور صدا کار ہی نہیں بہت الگ سی قلم کار بھی ہیں لیکن انکا یہ رخ کھل کر سامنے نہیں آ سکا۔ کاش آج کے لوگوں نے ستر کے عشرے میں سرور سکھیرا کے معروف جریدے دھنک میں انکی وہ تحریر پڑھی ہوتی جس میں غریق احمد غریق اور سنہرے بچھو بابا ظہیر کاشمیری کا بھی ذکر تھا۔کاش وہ مضمون کہیں سے مل جائے تو اسے دوبارہ شائع کر کے ثواب دارین حاصل کیا جا سکے
عصمت طاہرہ عالمی اخبار آپ کی ان یاداشتوں کو شائع کر کے ان لوگوں کا قدرے قرض ادا کرنا چاہتا ہے جنہوں نے اسوقت کے ریڈیو ٹی وی کو وہ نام دیا جسکی بنیاد پر آج بھی ان اداروں عزت کی جاتی ہے
صفدر ھمدانی ۔ چیف ایڈیٹر عالمی اخبار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادوں کی کہکشاں۔ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی پہلی قسطصفدر ھمدانی ! شھزاد احمد شھزاد کی تصویر کے نیچے آپ کی تحریر پڑھ کر بہت سی یاد یں جاگ اٹھیں ۔ ایک یاد آپ سے شیئر کرنے لگی ھوں

ایک دفعہ شھزاد احمد اور امجد اسلام امجد میرے گھر تشریف لائے، اِرسہ غزل پاوڈر کی ڈبیا لیکر شھزاد صاحب کی گود میں بیٹھ گئ اور اُن کے چہرے پر تھوپتی رھی پھر اسکے بعد لالہ امجد کی گود میں بیٹھ گئ اور انکے منہ پر لگاتے ھوئے جب انکی پیشانی پر پہنچی تو لالہ نے اِرسہ کے بازو پکڑ کر اپنا ماتھا پیچھے کرتے ھوے کہا" "بس بیٹا بس "
ارسہ نےجواب دیا" ھائے انکل کیسے بس کر دوں ابھی تو بہت سارا منہ باقی پڑا ھے
"
شھزاد صاحب ھنس ھنس کر لوٹ پوٹ ھوگئے اور انھوں نے یہ بات دلدار پرویز بھٹی کو بتا دی۔ دلدار نے اپنے ٹی وی پروگرام ٹاکرہ میں یہ واقعہ سُنا دیا۔پھر کیا تھا، لالہ تو پہلے ھی میری طرف سے جلے بھنے ھوئے تھےمجھ سے خوب ناراض ھوے کیوں ناراض ھوئے یہ پھر کسی وقت لکھوں گی !