پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونےوالے انتخابات کے نتائج نے صرف سرکاری
مسلم لیگ ق کے لیئے ہی نہیں بلکہ ان کے سرپرست اور بزعم خویش ملک کے سیاہ
و سفید کے مالک جنرل ریٹائرڈ مشرف کی بھی نیندیں اڑا دی ہیں۔
اب
سونے پر سہاگہ یہ ہوا ہے کہ 27فروری بدھ کے روز اسلام آباد میں یپلز پارٹی
، مسلم لیگ ن اور اے این پی کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوا جس میں ان
جماعتوں نے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کا دعویٰ کیا ہے۔پاکستان پیپلز
پارٹی، مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی پر مشتمل اتحاد نے کہا ہے کہ
ایک سو اکہتر نومنتخب ارکان قومی اسمبلی نے ان کے ظہرانے میں شرکت کی ہے
جو پارلیمان کا دو تہائی ہے۔
تو اب کیا صدر مشرف کے لیئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے؟
اور دیکھنا یہ ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو بھی عدلیہ اور معزول ججوں کی بحالی کے انتخابی وعدے بھی پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے؟
اور ساٹھ سال کے بعد پاکستان کے غریب اور مظلوم عوام کو انکی آواز مل جائے گی؟
کیا پاکستان میں تہتر کا آئین بحال ہو جائے گا اور ماورائے آئین اقدامات منسوخ ہو جائیں گے؟
کیا عدالت اپنی روح کے مطابق کام کر سکے گی؟
کیا اس ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو اس بار ملک سے بھاگنے نہیں دیا جائے گا؟
کیا اب خلق خدا راج کر سکے گی؟
کیا ذرائع ابلاغ کو آزادی مل جائے گی؟
کیا میڈیا کے احتساب کی دھمکیاں دینے والے سرکاری ملازموں کا محاسبہ ہو گا؟
کیا بیروزگاری کے مارے اس ملک میں مسلسل توسیع حاصل کرنے والے بے ضمیر وفاقی سیکرٹریوں کی اب چھٹی ہو جائے گی؟
یہ اور ایسے سینکڑوں سوالات اس وقت ہر ایک پاکستانی سوچ رہا ہے۔
اب
صدر مشرف کے لیئے جو اسلام آباد میں خطرے کی گھنٹی بجی ہے تو اس کی آواز
وائٹ ہاؤس میں بھی سنی گئی ہے اوربات یہیں تک نہیں بلکہ دنیا کا بلا شرکت
غیرے بڑا ملک امریکہ بھی اب یہ جمع تفریق کر رہا ہے کہ انہوں نے مشرف جسیے
جس گھوڑے پر دہشت گردی کے نام پر جنگ کے حوالے سے جواربوں ڈالر لگائے تھے
وہ کس حد تک درست تھے اور انکے تھنک ٹینک کیا واقعی کسی مثبت ‘‘تھنکنگ‘‘
کے حامل ہیں بھی یا نہیں۔
امریکہ کی بدحواسی تو یہ عالم ہے کہ
پاکستان میں امریکی سفیر میری اپنی دانست میں تمام سفارتی آداب کو بالائے
طاق رکھتے ہوئے اور پاکستان کو اپنی ریاست سمجھتے ہوئے مکمل آزادی سے روز
کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ یا قائدین سے ملاقاتیں کر رہی ہیں اور
ہر کسی سے ملاقات کے بعد انکا بیان نظریہ ضرورت کے تحت ہوتا ہے۔ سوچنے کی
بات یہ ہے کہ یہ ملاقاتیں براہ راست پاکستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت
ہے یا نہیں؟
اسی بدحواسی کی ایک اور مثال وہ امریکی بیانات ہیں جو
روزانہ بدلتے رہتے ہیں ۔کسی دن کہا جاتا ہے کہ ہم صدر مشرف کے ساتھ کام
کریں گے،پھر کہتے ہیں ہم کسی کے ساتھ بھی کام کریں گے،پھر کسی روز ارشاد
ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہو گا اور امریکہ نئی حکومت
کے ساتھ ہے۔ پھر نئے روز نیا بیان آتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں
مشرف ناگزیر ہیں۔
یہ اور اس قسم کے بدلتے ہوئے بیانات امریکی
انتظامیہ اور پالیسی سازوں کی ذہنی حالت کے غماز ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ
پاکستان کے قابئلی علاقوں میں فوجی کاروائی اور نام نہاد دہشت گردی کے
خلاف جنگ کے حوالے سے کتنے ہی فیصلے ہیں جو امریکہ کے بزرج مہروں نے ذاتی
طور صدر مشرف سے لیئے ہیں جن کا پاکستانی انتظامیہ کے ایک غالب حصے کو بھی
علم نہیں۔ اور اب یہ امریکہ کے لیئے ایک بڑا مسلہ ہے کہ وہ صدر مشرف کو اس
عذاب میں سے کیسے نکالے۔
ویسے آپ کو تو معلوم ہے کہ امریکہ کی یہ
سیاسی تاریخ ہے کہ ایسے مواقع پر وہ اپنے بھی کسی بڑے آدمی کی قربانی دینے
سے دریغ نہیں کرتا اور ثبوت ضائع کرنے کے لیئے آدمی کو بھی ضائع کروا دیتا
ہے اور ایسے ماضی میں ہمارے ہاں ہو بھی چکا ہے۔
اور اب تو خود
امریکہ میں صف اول کے سیاستدانوں نے بڑے واضع الفاظ میں یہ کہنا شروع کر
دیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان اور مشرف کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنا
ہو گی اور اس ضمن میں تازہ ترین بیان سینیٹر بائیڈن کا ہے ۔
امریکی
سینیٹ کی خارجہ معاملات کی کمیٹی کے سربراہ جو بائیڈن پر مشتمل تین اہم
امریکی سینیٹرز کا ایک گروپ انتخابات کے موقع پر پاکستان میں موجود تھا
اور ان افراد نے انتخبات کا جائزہ لینے کے علاوہ صدر مشرف سے بھی ملاقات
کی تھی۔ اس وفد نے واپس آنے کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس کی
جس میں سینیٹر جو بائیڈین نے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کو منصفانہ
اور شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے لیے اپنی پالیسی
تبدیل کرنی ہوگی ۔
جی ہاں بات کو طول دیئے بغیر عرض کرؤں کہ واقعی
اس بار امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرناہو گی اور یہ
طے کرنا ہو گا کہ پاکستان امریکہ کا غلام نہیں ایک آزاد ملک ہے ۔ لیکن یہ
بھی محل نظر رہے کہ جو قومیں کشکول لے کر گدائی کے لیئے نکلتی ہیں وہ چاہے
دنیا کے نقشے پر آزاد ہوں لیکن عملی طور پر غلام ہی ہوتی ہیں۔
صدر
مشرف دنیا کے ننانوے فیصد آمروں کی طرح نہ سوچیں کہ جنہیں اپنے ہی ملک میں
ناگفتہ تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بس اتنا سوچ کر اس سیاسی ڈرامے کے
سین سے نکل جائیں کہ انہوں نے آٹھ سال تک اقتدار کے مزے لوٹ لیئے ہیں اور
اب ہوا انکے مخالف ہے۔ ذرا سی عقل مندی کا مظاہرہ کریں اور عنان اقتدار
نئے آنے والوں کے حوالے کر کے باقی ماندہ زندگی کسی خیراتی ادارے کے ساتھ
گزاریں کہ وہ ستار العیوب ہو سکتا ہے کہ انکے گناہوں کو بھی معاف کر دے۔