اردو کے معروف بزرگ شاعر سید امین اشرف کا علی گڑھ میں اچانک انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 80 سے زاید تھی لیکن بھلے چنگے تھے۔ان کے انتقال کی خبر سے پوری اردو ادبی دنیا میں صف ماتم بچھ گئی۔انالللہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اردو شاعری کے موجودہ منظر نامے پر سید امین اشرف نمایاں ترین نام رہا ہے۔ ہندوستان میں ان کی رحلت سے اردو شاعری کا ایک روشن باب ہی بند نہیں ہوا بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کی شاعری کلاسیکی اور جدید لب و لہجے کا امتزاج تھی۔انھوں نے کسی بھی شاعر کا تتبع نہیں کیا اور اپنا طرز بیان، طرز اسلوب اور لب و لہجہ خود وضع کیا۔نہایت خلیق، منکسرالزاج اور مہمان نواز انسان تھے۔صوم و صلوٰ ۃ کےپابند صوفی منش۔وہ دنیاوی معاملات سے بے نیاز راہ تصوف کے سالک تھے۔
ان کا وطن کچھوچھہ شریف تھا. ان کا تعلق خانوادہ ء اشرفیہ سے تھا۔خانوادہ ء اشرفیہ کے عارف باللہ بزرگ حضرت علی حسین اشرفی ان کے پر نانا تھے جن کی فارسی اور اردو مین نعتیہ اور منقبتی شاعری اور ہندی کے عارفانہ کلام کو بڑی مقبولیت ملی۔
سید امین اشرف کی شاعری کی تین کتابیں جادہ ء شب، بہار ایجاد،اور قفس رنگ تھیں۔2012 میں ان کی نثری تحریروں کا ایک مجموعہ"برگ و بار" کے نام سے شائع ہوا تھا۔ وہ نظم اور غزل کے اعلٰی درجے کے تجزیہ نگار تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ءانگریزی سے وابستہ تھے جہاں سے وہ 1992 میں سبکدوش ہوئے۔ انھیں غالب ایوارڈ برائے شاعری ملا تھا۔ اور اتر پردیش اردو اکیڈمی کا سب سے بڑا ایوارڈ بھی ان کو ملا تھا۔ ان کے فن پر ایک کتاب "میزان حرف" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔
ان کی اہلیہ محترمہ ام ہانی اشرف عبداللہ ویمنز کالج کے شعبہ ء اردو میں ہیں جو خود بھی ایک اہم ادیبہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ۔
ان کی رحلت اردو ادب کا ایک بڑا خسارہ ہے۔