15.10.2026, 06:40am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ویلنٹائن ڈے ایسا تہوار ہے جس نے پچھلے کئی ہزار سال میں کئی چولے بدلے۔
13.02.2016, 10:30am , ہفتہ (GMT+1)

عالمی اخبار شعبہ تحقیق
‎دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے جسے منانے کے حوالے سے ملک میں اختلافات ہیں کیونکہ ایک حلقہ اسے غیر اسلامی قرار دیتا ہے

یہ جنرل مشرف کا دورتھا، جب پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا غلغلہ ہوا اور چودہ فروری کو عموماً پوش علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو      تیر تھامے کیوپڈ کے دل والے کارڈ اور پھول تحفتاً دینے لگے۔ یہ گویا تجدید محبت کی علامت تھی۔ اِس کو بڑھاوا ریڈیو کے براہِ راست پروگراموں، اخبارات کے ایڈیشنوں اور اشتہاری کمپنیوں کی سپانسر شپ نے دیا۔

‎مغربی تہذیب خوبیاں رکھتی ہے، تو اس میں خامیاں بھی ہیں۔ ایک حلقے کا کہناہے کہ بحیثیت مسلمان ہمارا صحیح عمل یہ ہونا چاہیے کہ ہم مغربی تہذیب کی اچھائیاں تو اپنا لیں، برائیاں چھوڑ دیں۔ انہی برائیوں میں شہوت پرستی ایک نمایاں برائی ہے اور ویلنٹائن ڈے اسی کا ایک عیاشانہ روپ!
‎امریکہ اور یورپی ممالک میں اس دن لڑکے اپنی سہیلیوں یعنی گرل فرینڈز کو تحفے مثلاً چاکلیٹ بجھواتے اور پھول و دل نما کارڈ دیتے ہیں۔ راتوں کو ریستورانوں میں دعوت اڑاتے اور پھر عموماً شب ساتھ گزارتے ہیں۔ غرض یہ دن ان کے نزدیک رنگ رلیاں منانے کا سنہرا موقع ہے۔

‎حقیقی سینٹ ویلنٹائن کون تھا؟

‎ویلنٹائن ڈے ایسا تہوار ہے جس نے پچھلے کئی ہزار سال میں کئی چولے بدلے۔ اس تہوار کا حقیقی ہیرو نمرود ہے۔ وادیٔ دجلہ و فرات کا مشہور کافر بادشاہ جسے اس کی سلطنت کے باشندوں نے دیوتا کا روپ دے ڈالا۔ اس  کا ذکر قرآن پاک میںبھی آیاہے۔ یہ خصوصاً بابل کے باشندوں کا دیوتا تھا۔ وادیٔ دجلہ و فرات کی دیگر اقوام مثلاً فونیقیوں، اشوریوں اور کنعانیوں نے اِسے ’’بعل‘‘ کہہ کر پکارا اور اپنا دیوتا بنا لیا۔

‎تاہم آگے چل کررومیوں نے لوپرکس کو گڈریوں کا دیوتا بنا دیا۔دراصل ان میں اس روایت نے جنم لیا کہ جب بھیڑ روم کے خالقوں، رومونس اور ریموس (جڑواں بھائیوں) کو دودھ پلا رہی تھی، تو ان کے غار کے باہر لوپرکس ہی کھڑا پہرہ دے رہا تھا۔ یوں اُسے رومی دیومالا میں اہم حیثیت دے دی گئی۔
‎رفتہ رفتہ اس واقعے کی یاد میں لوپرسیلیا  کا تہوار منایا جانے لگا۔ اس تہوار کی مناسبت سے رومیوں نے مختلف رسومات ایجاد کر لیں۔ ایک ابتدائی رسم یہ تھی کہ تندرست اور خوبصورت نوجوان ایک کتا اور ایک بھیڑ ذبح کرتے اور ان کا خون اپنے بدن پر گرا لیتے۔ یہ لڑکے پھر بشکل جلوس سڑکوں میں چلتے اور سب سے آگے رہتے۔

‎ان لڑکوں نے ہاتھوں میں چمڑے کے دستانے تھامے ہوتے۔ جو کوئی ان کے سامنے آتا، وہ اسے چمڑا مارتے۔ لیکن نوجوان عورتیں اور لڑکیاں بصد شوق یہ مار کھاتی۔ دراصل ان کا ایمان تھا کہ یوں وہ بانجھ پن سے محفوظ رہیں گی، یا ان کی یہ بیماری ختم ہو جائے گی۔ چونکہ اس جلوس میں نوجوان رومی لڑکے لڑکیاں زیادہ ہوتے، لہٰذا یہ تہوار باہمی میل ملاپ کا سبب بن گیا۔ اسی دن لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو تحائف دے کر دوستی بڑھانے لگے۔

 حتیٰ کہ یہ نئی رسم سامنے آئی کہ قرعہ اندازی کرکے لڑکے اپنی سال بھر کی ساتھی(گرل فرینڈ) چننے لگے۔ یوں بتدریج تجدید محبت کا موقع یا تہوار بن گیا۔ اسی تہوار نے آگے چل کر سینٹ ویلنٹائن ڈے کا چولا پہن لیا۔ مزید براں لوپرکس اب فطرت کا دیوتا بن بیٹھا۔
‎رومیوں کی نئی نسل نے نمرود کو ایک اور اہم دیوتا، سیٹرن  کا روپ دے ڈالا۔

نئی روایت کے مطابق سیٹرن اپنے دشمنوں سے بھاگ کر اٹلی چلا آیا۔ وہ پھر اسی جگہ چھپا جہاں بعد ازاں روم تعمیر ہوا۔ اسی لیے روم کی نئی تعمیر ( ۷۵۳ قبل مسیح) سے پہلے یہ شہر سیٹرینیا کہلاتا تھا۔ تاہم دشمنوں نے اُسے ڈھونڈ نکالا اور قتل کر دیا۔ چنانچہ وہ رومیوں میں سینٹ (بزرگ) کی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ وہی سینٹ ہے جو بعض مغربی مؤرخین کے نزدیک بعدازاں سینٹ ویلنٹائن کی صورت جلوہ گر ہوا۔

‎رومی بھی پاکیزگی حاصل کرنے کی خاطر اس روز، یعنی ۱۵؍فروری کو بطور تہوار منانے لگے۔ اس تہوار کی رسومات بھی لوپرسیلیا کا حصہ بن گئیں۔ کیونکہ ماضی میں سورج ڈوبنے کے وقت دن کا آغاز ہوتا تھا، چنانچہ چودہ فروری کی شام ہی سے لوپرسیلیا تہوار کی رسومات شروع ہوجاتی۔
‎یہ واضح رہے کہ رومی دیومالا میں عشق کا دیوتا ایک بچہ، کیوپڈ ہے۔ یہ دراصل نمرود کے بچپن کا روپ ہے۔ روایات کے مطابق نمرود بچپن میں اتنا خوبصورت تھا کہ اسی کی ماں اس پر عاشق ہوگئی۔ چنانچہ وہ نوجوان ہوا، تو اس نے بیٹے سے شادی کر لی۔

‎ رومیوں کی اکثریت اپنے قدیم تہوار چھوڑنے پر تیار نہ تھی۔ لہٰذا بہت سے تہواروں کو عیسائیت کا جامہ پہنا دیا گیا۔ ان میں سے ایک لوپرسیلیا بھی تھا۔ ۴۹۶ء میں پوپ گلائسس اوّل نے اس کی جگہ سینٹ ویلنٹائن تہوار کو رواج دیا۔ یہ دراصل ان ۳؍ عیسائی سینٹوں (پادریوں) کی یاد میں منایا جاتا ہے جنھوں نے کافر رومی شہنشاہوں کو مار ڈالا تھا۔

‎بعض لادینی عیسائی مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ پوپ نے نمرود کو بہ شکل سینٹ ویلنٹائن زندہ کر ڈالا۔ وجہ یہ ہے کہ ابتدائی ۳؍ صدیوں میں تین چار سینٹ ویلنٹائن ملتے ہیں اور ان کے متعلق پوری معلومات بھی دستیاب نہیں۔

‎بہرحال پوپ گلائسس کا تخلیق کردہ تہواراصلاً خیر پر مبنی تھا کیونکہ عیسائی روایات کے مطابق سینٹ ویلنٹائن کی سعی تھی کہ رومی زنا پرستی سے تائب ہو کر آپس میں   شادی بیاہ کو فروغ دیں۔ چونکہ وہ مروجہ رومی روایات کے خلاف تھے، لہٰذا رومی شہنشاہ نے انھیں ہلاک کر ڈالا۔
‎سینٹ ویلنٹائن ڈے کو ازسرِنو عشق معشوقی کا منبع دراصل چودھویں صدی میں برطانوی شاعر، جیفرے چاسر نے بنایا جو رومانی شاعری کا دلدادہ تھا۔ اس کے احباب نے اس تہوار پرایک دوسرے کوتحفے تحائف دینے کارواج شروع کیا۔یہ رواج پھر آہستہ آہستہ تمام مغربی ممالک میں پھیل گیا۔

‎پاکستان اور کچھ اسلامی ممالک میں ایک حلقے کا کہنا ہے کہ  اگر آپ کو اپنی مذہبی، قومی اور مشرقی اقدار، روایات و تہذیب و تمدن پر فخر ہے ، تو یہ تہوار ہرگز نہ اپنائیے بلکہ پوری جرأت اور دلیل کے ساتھ اِسے رد کیجیے۔

تاہم ایک بڑا طبقہ ہے جو اس محبت کے تہوار کو مناتا ہے

:دیگر مضامین
(13.02.2016) دل دل پاکستان جان جان پاکستان ۔ رپورٹ ۔ شاہین اشرف علی
(11.02.2016) شہرہ آفاق مصور ، خطاط اور نقاش سید صادقین احمد نقوی کی29ویں برسی کے موقع پر
(08.02.2016) حیات محمد خان شیرپاو ایک بم کے دھماکے نتیجے میں ہلاک پوئے تھے
(07.02.2016) انتظار حسین کا بی بی سی کے لیئے ماہ پارہ صفدر سے ایک مکالمہ
(05.02.2016) ساڑھی اب بھی انڈین فیشن انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے
(03.02.2016) چین بھارت سرحد کے قریب پرندے کی ایک نایاب قسم دریافت کی گئی ہے۔
(31.01.2016) ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر کے آڈیٹوریم میں مرحوم ساتھیوں کے لیئے ریفرنس
(28.01.2016) باب العلم علی علیہ السلام کے علم کی بابت ارشادات
(27.01.2016) عالمی اخبار کے لیئے معروف شاعر اشفاق حسین کی خصوصی شاعری
(25.01.2016) برطانیہ' طلبہ کے لیے دنیا کا مہنگا ترین ملک بتایا جاتا ہے
(21.01.2016) مسلمان اور اسلام ۔از؛ مشہود رضا ۔جے این یو ۔ نئی دہلی
(19.01.2016) قومی اُمنگوں کو اُجاگر کرنے والے ملی وقومی نغمات 
(17.01.2016) پاکستان چین کا پہلا دوست ملک تھا۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.01.2016) دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ ہے ۔ از۔ شاہین حیدر رضوی ۔کویت
(14.01.2016) زیتون کے تیل کے استعمال سے بلند فشار خون سے حفاظت ممکن ہے
(10.01.2016) پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ 19 نومبر 1995 میں ہوا
(08.01.2016) تھائی لینڈ میں مقابلہ حسن جیتنے والی خاکروب والدین کی بیٹی
(06.01.2016) ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
(05.01.2016) سال 2016ء میں ’ورچوئل حقیقت‘ شعبہ طب کا حصہ بن جائے گی
(04.01.2016) شیخ باقرالنمر: آمریت کیخلاف جدوجہد اور آزادی کی راہ کا مجاہد عالم دین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں