کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو چند لمحے کے لیئے بھی مل جائیں تو کوئی بہت
بڑے فنکار،کوئی سرکاری عہدے پر فائز، کوئی صنعت کار یا
بینکار،وزیر،سیاستدان یا کسی بڑے ادارے کے سربراہ نہ ہونے کے باوجود بھی
طویل عرصے تک یاد رہتے ہیں۔
سید حسن عباس بھی ایسے ہی افراد میں سے
تھے جو ایک عام مگر خواص کی اہمیت کے حامل فرد تھے۔ وہ دنیاوی رشتے ناطوں
کے اعتبار سے میرے رشتے دار تھے اور وہ بھی یوں کہ میری اہلیہ ماہ پارہ کے
پھوپھا تھے۔
میرا مسلہ یہ ہے کہ میں رشتے داریاں نہیں نبھا سکتا
اور میری اسی خامی نے مجھے خاصہ رسوا بھی کیا ہے۔ اسکی وجہ سے یہ ہے کہ
میں رشتے داریوں سے زیادہ تعلقات کو اور دوستیوں کو اہمیت دیتا ہوں اور
عزیز رکھتا ہوں۔
میرا رویہ ہوسکتا ہے کہ بہت سے حوالوں سے غلط ہو
لیکن کیا کرؤں کہ یہ میرا رویہ ہے،کسی سے مستعار لیا ہوا نہیں۔اس لیئے
اپنے اسی رویے پر فخر بھی ہے اور اطمینان بھی۔
یہ جملہ ء معترضہ
درمیان میں آ گیا ورنہ بات ہو رہی تھی سید حسن عباس کی۔ یہ عجب اتفاق ہے
کہ میرے سسُر اور ماہ پارہ کے والد کا نام بھی سید حسن عباس ہی تھا اور وہ
مرحوم جس طرح زندگی میں ہی ‘‘جنت کی باسی روح‘‘ کی طرح تھے اسی طرح مجھے
یقین ہے کہ وہ اس حیاتِ مستعار کے ختم ہونے کے بعد بھی آسمانی اور حقیقی
جنت کے باسی ہیں۔

یہ جنت مکانی حسن عباس بھی ایک عجیب مگر خوبصورت طبیعت کے مالک تھے۔
ماہ
پارہ کی دو پھوپھیاں اسلام آباد میں اسوقت مقیم تھیں جب ستر کے عشرے کے
اواخر میں مجھے لاہور ریڈیو کو خیر باد کہہ کر راولپنڈی جانا پڑا اور پھر
جب 1979میں ہماری شادی ہوئی تو اسلام آباد میں یہی دو گھر ایسے تھے جو
ہمارا مستقل مسکن تھے۔
ایک پھوپھی بتول جنکے میاں باقر بھائی ایک
مسکین مرشد کی طرح ہیں اور دوسری پھوپھی کلثوم جنہیں سب پیار سے ‘‘چھومی‘‘
اس طرح کہتے رہے کہ انکا اصل نام مجھ سمیت بہت سے اہل خانہ کو معلوم نہیں۔
اور آج جب یہ چند تعزیتی سطور لکھ رہاہوں تو ‘‘چھومی‘‘ کا نام اپنی اہلیہ
سے معلوم کیا ہے۔
بتول پھوپھی اور چھومی پھوپھی نے نہایت نامساعد
حالات اور محدود ترین وسائل میں جس طرح اپنے بچوں کی پرورش کی،انکو تعلیم
دلوائی،انکی تربیت کی اور جس طرح خاندان کے بزرگوں کو سنبھالا یہ ایک ایسی
کہانی ہے جو مجھے کبھی کبھی معجزہ لگتا ہے۔
زندگی نے وفا کی تو اس
کہانی کو کبھی ضرور لکھوں گا تا کہ وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر بچوں کی
تعلیم وتربیت سے رو گردانی کرنے والوں کو یہ علم ہو سکے کہ خاندانی روایات
اور عزم صمیم سےبڑی سے بڑی مشکل کو بھی ریت کی دیوار بنا دیا جاتا ہے۔
سید
حسن عباس ظاہر میں بھی خوبصورت انسان تھے اور اندر سے بھی خوبصورت۔ بہت
زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے لیکن انکے چہرے کے تاثرات انکی بات کی وضاحت کر
دیتے تھے۔
وہ کافی سال پہلے پی آئی اے میں ایک بڑے عہدے پر تھے
لیکن پھر حالات زمانہ نے کچھ اس طرح کروٹ لی کہ زمین جیسے کچھ تنگ تنگ
لگنے لگی اور آسمان جیسے بے ستون کا سا ہو گیا۔
لیکن اس کے
باوجود ‘‘چھومی پھوپھی‘‘ کے عزم صمیم نے ان تمام حالات کے سامنے ایک فصیل
کھڑی کر دی اور پھر وقت گزر گیا اور ان دونوں گھروں کے بچے اپنی تعلیم
اور تربیت کی بنیاد پر اعلیٰ عہدوں پر فائذ ہو گئے۔
یہ دونوں گھر
ہمارے اسلام آباد میں برسوں کے قیام کے دوران ایسے تھے جہاں ہمیں قلبی اور
ذہنی اطمینان ملتا تھا۔کوئی ملاقات ایسی نہیں تھی جو محبتوں کے ساز پر ختم
نہ ہوتی ہو۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم یہاں گئے ہوں اور رات کے کھانے کے
بغیر واپس آئے ہوں، ان گھروں کی چٹنی،دال اور روٹی ہولیڈے ان کے بفے سے
کہیں زیادہ لطف کی ہوا کرتی تھی۔
ان ملاقاتوں میں سید حسن عباس
ایسے ایسے منصوبے ترتیب دیا کرتے تھے کہ اگر انہیں کوئی سرمایہ کار میسر آ
جاتا تو کچھ کا کچھ ہو جاتا، مگر ایسا تو شاید کچھ نہ ہوا لیکن الحمد اللہ
انکی مساعی بارآور ہوئیں اور انکے بچے بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوگئے۔
بیج
جو نامساعد حالت میں بوئے گئے تھے مناسب دیکھ بھال اور نگہبانی کے باعث اب
تناور درخت بن چکے ہیں۔ میرے دونوں بچوں کو ان دونوں گھروں میں جو محبت
ملی اسکی حدت خود میں نے بھی محسوس کی ہے۔
سید حسن عباس کے ایک
بیٹے امریکہ میں ڈاکٹر ہیں اور ابھی کچھ ہی ہفتوں بعد پہلی بار سید حسن
عباس کو اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے بیٹے کے ساتھ امریکہ جانا تھا لیکن کسی
کو یہ علم نہیں تھا کہ ساری زندگی کسی کا احسان نہ لینے والے حسن عباس نے
شاید یہ‘‘احسان‘‘ بھی اٹھانا گوارا نہ کیا اور امریکہ کے سفر کی بجائے
اچانک اُس طویل سفر پر روانہ ہو گئے جس کا اختتام یوم الدین پر ہے۔
سید
حسن عباس ایک ایسا کردار تھے جس کے لیئے کسی کہانی کسی اسٹیج اور کسی
مکالمے کی ضرورت نہیں۔ ایسے کردار ہمارے معاشرے میں شاید بہت سے ہوں لیکن
ہمارے نگاہ محدود ہے۔
میرے سامنے کرسی ہر بیٹھے حسن عباس ،نیلی جین
اور دھاری دار نیلی قمیض پہنے زیر لب مسکرا رہے ہیں جیسے کہہ رہے
ہوں‘‘صفدر ھمدانی کیسے ہو اور ہاں ماہ پارہ اور کیا حال ہے،یہ بتاؤ فوزیہ
کہاں ہوتی ہے۔ اور زہرا اور محمد کیا کر رہے ہیں‘‘؟