14.10.2026, 08:41pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی تیسری قسط
16.02.2013, 01:01am , ہفتہ (GMT+1)

عصمت طاہرہ
آپ دوستوں، ساتھیوں اور کرم فرماؤں نے میری تحریر کے اس سلسلے کو پسند کیا ہے جس پر میں آپکی ممنون ہوں۔ میں خود کو کسی سوانح نگار یا مستند قلم کار کی صف میں تو شامل نہیں کرتی لیکن ہاں قلم سے میری دوستی بڑی پکی اور بہت پرانی ہے۔

 یادیں ایسا خوبصورت خزانہ ہوتی ہیں کہ بس سوچتے رہیں اور گزرے دنوں،لمحوں اور ثانیوں کی مالا پروتے رہیں۔ بس یہی کام میں بھی کر رہی ہوں۔

ان چھوٹی چھوٹی یادوں کو بس جس طرح ہیں اسی طرح سے لکھ رہی ہوں۔چاہوں تو انکو تفصیل کا لباس بھی زیب تن کر سکتی ہوں لیکن یہ قدرے بناوٹ ہو جائے گی جس سے مجھے کبھی بھی کسی بھی رخ سے زندگی میں رغبت نہیں رہی۔اسی لیئے میں ان ٹھنڈی میٹھی اور کبھی کبھی تپتی ہوئی یادوں کو طوالت کی گنجلک میں نہیں الجھایا اور یہ میرا معیار بھی نہیں۔اس لیئے جو جیسے ہوا اور اب جیسے یاد آیا اسی طرح آپ سے شیئر کر رہی ہوں

آیئے آج کی اس رم رم جھم یاد کی طرف جسے لکھتے ہوئے نہ جانے میں کس زمانے میں اور کہاں چلی گئی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



حامد مرزا جی ! آپ نے میرے یو ٹیوب والے سٹیٹس پر لکھا ھے کہ " عصمت جی آپ نے مختار مسعود کی کتاب آوازِ دوست تو پڑھی ھوگی "۔ مرزا جی پڑھی تو نھیں تھی مگر یہ کتاب چوری کرتے ھوئے میں پکڑی ضرور گئ تھی۔ 

مجھے تاریخ اورسال تو یاد نھیں مگر یہ یاد ھے کہ اُس روز میری ریڈیو پا کستان لاھور میں ڈیوٹی تھی جب مختار مسعود کی کتاب کا نیشنل بک سنٹر مال روڈ لا ھور میں فنکشن ھو رھا تھا۔ 
میرے پاس اُس وقت کوئی گاڑی نھیں ھوتی تھی ۔ میں نے غالباً حسن نثار سے  وہاں لے جانے کی درخواست کی ۔ جن حضرات نےمال روڈ پر نیشنل بک سنٹر دیکھ رکھا ھے انکے زھن میں نقشہ بنے گا تو اس واقعہ کی صیح صورت سامنے آئے گی

جب میں نیشنل بک سنٹر پہنچی تو مشتاق یوسفی مختار مسعود کی کتاب پر مضمون پڑھ رھے تھے ۔ سامعین اور ناظرین کے قہقہوں سے ھال گونج رھا تھا 

اشفاق احمد مرحوم سائیڈ والے صوفے پر نیم دراز تھے، ان کی پشت پر کتابوں والا ھال تھا اور ھال میں ایک ریک صوفے کی پشت سے جڑی ھوئی تھی۔ اسی میگزین ریک پراشفاق صاحب کے حصے کی کتاب اواز دوست انکی کہنی کے نیچے پڑی تھی

اشفاق صاحب مشتاق یوسفی کے مضمون اور قہقہوں میں اسقدر ڈوبے ھوئے تھےکہ مجھے ان کی بے خبری سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ کیونکہ دیر سے پہنچنے کی وجہ سے مجھے ھال میں بیٹھنے کو سیٹ نہ ملی۔ 

میں نے دھیرے سے اشفاق صاحب کی کہنی کے نیچے سے کتاب نکالی اور ھینڈ بیگ میں ڈالنے سے پہلے ھال میں نگاہ دوڑائی کہ کوئی مجھےدیکھ تو نھیں رھا۔۔۔۔۔اور تو کوئی شاید نہیں دیکھ رہا تھا لیکن سٹیج پر بیٹھے صاحبِ صدر جناب فیض احمد فیض مجھے دیکھ رھے تھے۔۔ 

بس میرا تو جیسے رنگ اڑ گیا۔ انھوں نے مسکراتے ھوے اپنے سر کی جنبش سے مجھےاپنے پاس بلایا ۔ میں لوگوں سے بچتے بچاتےانکے تخت پوش کے قریب جا کر بیٹھ گی۔ 

مرحوم فیض نے سرگوشی میں پوچھا پڑھتی ھو؟ 

ھم نے کمال بے شرمی سے کہا "جی ھاں" ۔

پھر پوچھا " کون سی کلاس میں ؟ 

ھم نے پھر جھوٹ بولا 'جی تھرڈ ائیر میں ۔ (حالانکہ ھم صرف دہ جماعت پاس ھیں کالج کی آج تک شکل نھیں دیکھی)۔ 

فیض صاحب اپنے دھیمے لہجے میں بولے" چوری خوب کر لیتی ھو" ۔

فیض صاحب کے ساتھ یہ ھماری پہلی ملا قات تھی جس کا تعلق آواز دوست سے ھے اور ابھی تک قائم ہے 

باقی ملاقاتیں آیندہ
.........................................

جناب مختار مسعود صاحب کی کتاب آواز دوست سے ایک اقتباس


 قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرّجال میں زندگی۔ مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو قحط الرّجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تحمت کا۔ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا۔ زندگی کی تعاقب میں رہنےوالے قحط سے زیادہ قحط الرّجال کا غم کھاتے ہیں۔ 
        بستی ، گھر اور زبان خاموش۔ دوخت، جھاڑ اور چہرے مرجھائے۔ مٹی، موسم اور لب خشک۔ ندی، نہر اور حلق سوکھے۔ جہاں پانی موجیں مارتا تھا وہاں خاک اڑنے لگی، جہاں سے مینہ برستا تھا وہاں سے آگ برسنے لگی۔ لوگ پہلے نڈھال ہوئے پھر بے حال۔ آبادیاں اجڑ گئیں اور ویرانے بس گئے۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارہ تھا نہ کسی کو اُس کا سراغ۔ یہ قحط میں زمین کا حال تھا۔
        ابر دل کھول کر برسا، چھوٹے چھوٹے دریائوں میں بھی پانی چڑھ آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا جل تھل ہوا کہ سبھی تر دامن ہو گئے۔ دولت کا سیلاب آیا اور قناعت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ علم و دانش دریا بُرد ہوئے اور ہوش و خرد مئےناب میں غرق۔ دن ہوا و ہوس میں کٹنے لگے اور رات نائو نوش میں۔ دن کی روشنی اتنی تیز تھی کہ آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ رات کا شور اتنا بلند تھا کہ ہر آواز اُس میں ڈوب گئی۔ کارواں نے راہ میں ہی رخت سفر کھول دیا۔ لوگ شادباد کے ترانے گانے لگے۔ گرچہ منزل مراد ابھی بہت دور تھی۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارا تھا نہ کسی کو اس کا سراغ۔ یہ قحط الرّجال میں اہل زمین کا حال تھا۔ شاعر نے جو یہ حال دیکھا تو نوحہ لکھا:

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا  کہ  نہ  دنیا  ہے نہ دیں

دل گرفتگی نے کہا ایسی شادابی اس ویرانی پر قربان جہاں مادرِایام کی ساری دختران آلام موجود ہوں مگر وبائے قحط الرّجال نہ ہو۔ اس وبا میں آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار، مردم شناسی ہو تو نایاب۔

:دیگر مضامین
(14.02.2013) وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا لندن میں یو کے پی سی سی ائی کے عشایئے سے خطاب
(10.02.2013) لندن میں ایلنگ ہسپتال کے باہر سرکاری ہسپتالوں کی بندش کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ
(09.02.2013)  اقلیتی خواتین میں قائدانہ صلاحتیوں کے فروغ۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔مسعود رضوی
(08.02.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔27ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(05.02.2013) یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی دوسری قسط
(04.02.2013)  یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی پہلی قسط
(04.02.2013) برطانوی جیلوں کو فراہم کئے جانے والے حلال فوڈز میں سور کے اجزا کا انکشاف
(31.01.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔26ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(29.01.2013) حلقہؑ دانشوراں جدّه كی سالانہ محفلِ نعت و نعتیہ مشاعرہ 24 جنوری کو منقد ہوئی
(23.01.2013) رحیم یار خان کا باب علی علیہ السلام تیس لاکھ روپے میں تعمیر ہوا ہے
(21.01.2013)  لندن میں آرٹ اور ثقافت کے نام سے ایک تنظیم گلوبل آرٹ اور کلچر کا افتتاح
(20.01.2013) برطانیہ میں برفباری کی نئی لہر . پورا ملک شدید سردی کی لپیٹ میں
(16.01.2013) پندرہ جنوری دوہزار بارہ۔اسلام آباد ڈی چوک میں ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب
(14.01.2013) کتنے ہی شہیدوں کا لہو ہاتھوں پہ تیرے ۔از۔ صفدر ھمدانی
(13.01.2013) کوئٹہ کی سڑک پر تین دن سے پڑی ستاسی لاشیں کیا مسلمانوں کی نہیں
(07.01.2013) ماربل آرچ لندن پر اربعین کا جلوس ۔اختتام جلوس پر زیارت اربعین
(05.01.2013) عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلی ڈاکٹر نگہت نسیم کی تین کتابوں کا سڈنی میں شانداراجراء
(04.01.2013) چہلم امام حسین ۔عاشقان حسین کربلائے معلی کی سمت پیدل رواں دواں۔از۔سید اکمل حسین
(02.01.2013) حضرت داتا گنج بخش کےعرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے
(01.01.2013) سال نو 2013 کی آمد پر عالمی اخبار کی طرف سے سب کو دلی مبارکباد



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں