آپ دوستوں، ساتھیوں اور کرم فرماؤں نے میری تحریر کے اس سلسلے کو پسند کیا ہے جس پر میں آپکی ممنون ہوں۔ میں خود کو کسی سوانح نگار یا مستند قلم کار کی صف میں تو شامل نہیں کرتی لیکن ہاں قلم سے میری دوستی بڑی پکی اور بہت پرانی

ہے۔
یادیں ایسا خوبصورت خزانہ ہوتی ہیں کہ بس سوچتے رہیں اور گزرے دنوں،لمحوں اور ثانیوں کی مالا پروتے رہیں۔ بس یہی کام میں بھی کر رہی ہوں۔
ان چھوٹی چھوٹی یادوں کو بس جس طرح ہیں اسی طرح سے لکھ رہی ہوں۔چاہوں تو انکو تفصیل کا لباس بھی زیب تن کر سکتی ہوں لیکن یہ قدرے بناوٹ ہو جائے گی جس سے مجھے کبھی بھی کسی بھی رخ سے زندگی میں رغبت نہیں رہی۔اسی لیئے میں ان ٹھنڈی میٹھی اور کبھی کبھی تپتی ہوئی یادوں کو طوالت کی گنجلک میں نہیں الجھایا اور یہ میرا معیار بھی نہیں۔اس لیئے جو جیسے ہوا اور اب جیسے یاد آیا اسی طرح آپ سے شیئر کر رہی ہوں
آیئے آج کی اس رم رم جھم یاد کی طرف جسے لکھتے ہوئے نہ جانے میں کس زمانے میں اور کہاں چلی گئی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد مرزا جی ! آپ نے میرے یو ٹیوب والے سٹیٹس پر لکھا ھے کہ " عصمت جی آپ نے مختار مسعود کی کتاب آوازِ دوست تو پڑھی ھوگی "۔ مرزا جی پڑھی تو نھیں تھی مگر یہ کتاب چوری کرتے ھوئے میں پکڑی ضرور گئ تھی۔
مجھے تاریخ اورسال تو یاد نھیں مگر یہ یاد ھے کہ اُس روز میری ریڈیو پا کستان لاھور میں ڈیوٹی تھی جب مختار مسعود کی کتاب کا نیشنل بک سنٹر مال روڈ لا ھور میں فنکشن ھو رھا تھا۔
میرے پاس اُس وقت کوئی گاڑی نھیں ھوتی تھی ۔ میں نے غالباً حسن نثار سے وہاں لے جانے کی درخواست کی ۔ جن حضرات نےمال روڈ پر نیشنل بک سنٹر دیکھ رکھا ھے انکے زھن میں نقشہ بنے گا تو اس واقعہ کی صیح صورت سامنے آئے گی
جب میں نیشنل بک سنٹر پہنچی تو مشتاق یوسفی مختار مسعود کی کتاب پر مضمون پڑھ رھے تھے ۔ سامعین اور ناظرین کے قہقہوں سے ھال گونج رھا تھا
اشفاق احمد مرحوم سائیڈ والے صوفے پر نیم دراز تھے، ان کی پشت پر کتابوں والا ھال تھا اور ھال میں ایک ریک صوفے کی پشت سے جڑی ھوئی تھی۔ اسی میگزین ریک پراشفاق صاحب کے حصے کی کتاب اواز دوست انکی کہنی کے نیچے پڑی تھی
اشفاق صاحب مشتاق یوسفی کے مضمون اور قہقہوں میں اسقدر ڈوبے ھوئے تھےکہ مجھے ان کی بے خبری سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ کیونکہ دیر سے پہنچنے کی وجہ سے مجھے ھال میں بیٹھنے کو سیٹ نہ ملی۔
میں نے دھیرے سے اشفاق صاحب کی کہنی کے نیچے سے کتاب نکالی اور ھینڈ بیگ میں ڈالنے سے پہلے ھال میں نگاہ دوڑائی کہ کوئی مجھےدیکھ تو نھیں رھا۔۔۔۔۔اور تو کوئی شاید نہیں دیکھ رہا تھا لیکن سٹیج پر بیٹھے صاحبِ صدر جناب فیض احمد فیض مجھے دیکھ رھے تھے۔۔
بس میرا تو جیسے رنگ اڑ گیا۔ انھوں نے مسکراتے ھوے اپنے سر کی جنبش سے مجھےاپنے پاس بلایا ۔ میں لوگوں سے بچتے بچاتےانکے تخت پوش کے قریب جا کر بیٹھ گی۔
مرحوم فیض نے سرگوشی میں پوچھا پڑھتی ھو؟
ھم نے کمال بے شرمی سے کہا "جی ھاں" ۔
پھر پوچھا " کون سی کلاس میں ؟
ھم نے پھر جھوٹ بولا 'جی تھرڈ ائیر میں ۔ (حالانکہ ھم صرف دہ جماعت پاس ھیں کالج کی آج تک شکل نھیں دیکھی)۔
فیض صاحب اپنے دھیمے لہجے میں بولے" چوری خوب کر لیتی ھو" ۔
فیض صاحب کے ساتھ یہ ھماری پہلی ملا قات تھی جس کا تعلق آواز دوست سے ھے اور ابھی تک قائم ہے
باقی ملاقاتیں آیندہ
.........................................
جناب مختار مسعود صاحب کی کتاب آواز دوست سے ایک اقتباس
قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرّجال میں زندگی۔ مرگِ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو قحط الرّجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تحمت کا۔ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الارض کا۔ زندگی کی تعاقب میں رہنےوالے قحط سے زیادہ قحط الرّجال کا غم کھاتے ہیں۔
بستی ، گھر اور زبان خاموش۔ دوخت، جھاڑ اور چہرے مرجھائے۔ مٹی، موسم اور لب خشک۔ ندی، نہر اور حلق سوکھے۔ جہاں پانی موجیں مارتا تھا وہاں خاک اڑنے لگی، جہاں سے مینہ برستا تھا وہاں سے آگ برسنے لگی۔ لوگ پہلے نڈھال ہوئے پھر بے حال۔ آبادیاں اجڑ گئیں اور ویرانے بس گئے۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارہ تھا نہ کسی کو اُس کا سراغ۔ یہ قحط میں زمین کا حال تھا۔
ابر دل کھول کر برسا، چھوٹے چھوٹے دریائوں میں بھی پانی چڑھ آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا جل تھل ہوا کہ سبھی تر دامن ہو گئے۔ دولت کا سیلاب آیا اور قناعت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ علم و دانش دریا بُرد ہوئے اور ہوش و خرد مئےناب میں غرق۔ دن ہوا و ہوس میں کٹنے لگے اور رات نائو نوش میں۔ دن کی روشنی اتنی تیز تھی کہ آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ رات کا شور اتنا بلند تھا کہ ہر آواز اُس میں ڈوب گئی۔ کارواں نے راہ میں ہی رخت سفر کھول دیا۔ لوگ شادباد کے ترانے گانے لگے۔ گرچہ منزل مراد ابھی بہت دور تھی۔ زندگی نے یہ منظر دیکھا تو کہیں دور نکل گئی، نہ کسی کو اس کا یارا تھا نہ کسی کو اس کا سراغ۔ یہ قحط الرّجال میں اہل زمین کا حال تھا۔ شاعر نے جو یہ حال دیکھا تو نوحہ لکھا:
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
دل گرفتگی نے کہا ایسی شادابی اس ویرانی پر قربان جہاں مادرِایام کی ساری دختران آلام موجود ہوں مگر وبائے قحط الرّجال نہ ہو۔ اس وبا میں آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار، مردم شناسی ہو تو نایاب۔