دہشت گردی کے عفریت نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھب صوبائی حکومتیں اور سیکیورٹی ایجنسیاں جیسے ناکام ہو چکی ہیں۔
کوئٹے میں ہونے والے دہشت گردی کے بدترین واقعے میں ایک ہی دن میں اسی سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور سینکڑوں زخمی ہیں جبکہ کراچی روشنیوں کاشہر اندھیروں میں ڈوبنے لگا ہے۔ فروری کے صرف گیارہ روز میں چھیاسی افراد فائرنگ کرکے قتل کردیئے گئے۔
کوئٹہ،کراچی اور پشاور خاص طور پر ظالمین کا ھدف ہیں کراچی شہر کی رونقیں دہشت گردی کی نذر ہوگئیں ۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب اس شہر بے اماں میں خون کی ہولی نہ کھیلی جاتی ہو۔ فروری کے مہینے میں ہرروز لاشیں گریں ۔
یکم فروری کو سات افراد کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ دو فروری کو گیارہ افراد اس خونی کھیل کی نذر ہوئے۔ تین اور چار فروری کو تین تین افراد بے رحمی گولیوں کا نشانہ بنے۔
پانچ فروری کو پی اے ایف فلائی اوور کے قریب دو دستی بم پھینکے گئے جس سے سات
افراد زخمی ہوئے۔ چھ فروری کو دس افراد کی زندگی کا چراغ گل ہوا۔
ماڑی پور ٹریفک جام میں پھنسے درجنوں شہریوں کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔ سات فروری کو بارہ افراد کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ مومن آباد تھانے کی پولیس موبائل پر بم حملے میں ایک اہلکار شہید سات افراد زخمی ہوئے۔
آٹھ فروری کو سپریم کورٹ کے وکیل میاں طارق کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ دیگر واقعات میں چھ افراد نشانہ بنے۔
نو فروری چھ ہلاکتیں اور میٹرویل میں موبائل شاپ پر دستی بم پھینکا گیا۔ دس فروری کو باپ بیٹے سمیت نو افراد دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ گیارہ فروری کو پندرہ افراد دہشت گردی کے عفریت کی بھینٹ چڑھے ۔
نو فروری سے سترہ فروری تک ان ہلاکتوں میں مزید درجنوں کا اضافہ ہوا ہے اور حکومت صرف رٹے رٹے فقرے بیان کر رہی ہے کہ صدر نے صورت حال کا نوٹس لے لیا ہے