|
اخلاق کے معیار اور اصول ۔از؛ سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
26.02.2013, 01:05am , منگل (GMT+1)
سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
اس دنیا میں انسان کی حثیت اللہ کے بندے اور نائب کی ھے اس کرہ ارض پر کی ہر چیز جس سے انسان کو سابقہ پیش آتا ھے وہ اللہ کی بنائی ھوئی ھے اللہ کی ملک ھے ہر شے کا مالک اللہ ھی ھے انسان کو صرف اللہ کے فرمان کے مطابق استعمال کا حق دیا گیا ھے ،اللہ کے نائب ھونے کی وجہ سے ہر انسان ایک امتحان میں مبتلا ھے اور اس دنیا سے جانے کے بعد اگلی دنیا میں اس کو حساب دینا ھے اور فیصلہ ھونے والا ھے اس کے ہر اچھے برے عمل کا ، اور ھمیں جو حکم دیا گیا ھے یا سب سے زیادہ تاکید جس عمل کی کی گئی ھے وہ اخلاق کی ھی ھے جہاں تک اخلاق کے معیار اور اصول کا تعلق ھے اس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالی ھی کو ھے اور ھمیں اللہ کی عطا کردہ روشنی سے استفادہ کرنا ھے بس ہیہی راہ حق اور صراط مستقیم ھے اس اعتبار سے قران کریم ھمارے لئے مشعل راہ ھے اور اللہ کے رسول ھادی بر حق محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی زات اقدس ھمارے لئے بھترین نمونہ ھیں اسلام کی روح سے ہر مسلمان کا فرض ھے آپ کی پیروی کرے چنا نچہ آپ صلے اللہ وسلم کا ارشاد پاک ھے میں صرف اعلی اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ھوں ایک اور بار ارشاد فرمایا روز قیامت میرے سب سے قریب وہ ھو گا جس کے اخلاق اچھا ھو گا یہ ایک اٹل حقیقت ھے کہ کلمہ توحید کے بعد اسلام کی عمارت نماز روزہ ،زکوۃ ،حج پر قائم ھے یہ چاروں ارکام بھی اخلاق کی تکمیل کرتے ھیں ،۔
نماز عاجزی درد مندی شرمندگی کا نام ھے ، روزہ کی روح یہ ھے کہ انسان بری باتوں سے رک جائے دل میں برے وسوسے نا لائے ھاتھ پاؤں آنکھ کان سب ان افعال سے رک جائیں آنکھ ممنوع چیز نا دیکھے کان غیبت چغلی گالی نا سنیں زبان بری بات نا کہے ،زکوۃ بھی سراپا انسانی ھمدردی ھے غم خواری ھے دست گیری کا نام ھے ، حج کی روح عزم صبر تقوی اخلاق برداشت کا نام ھے ، اس طرح ایمان اخلاق سے اس طرح وابسطہ کر دیا گیا ھے جس کے بغیر ایمان مکمل نھیں ھوتا ھے ،اسلام اور اخلاق ایک دوسرے سے الگ نھیں ھو سکتے ھیں اسلام اخلاق کے بغیر بے جان ھو جاتا ھے اسلام کو عین اخلاق کہا گیا ھے اور دین کی ستھرائی پر منحصر کر دیا گیا ھے ۔
واقعہ یہ ھے کہ ایمان کی روح کے بعد دعوت محمدی جسم کے دو بازوں ھیں ایک عبادت اور دوسرا اخلاق ۔یعنی ایک خالق کا حق دوسرا مخلوق کا حق ، اور پھر اس مجموعہ کا نام اسلام رکھا گیا ھے مزھب اسلام کا تقاضہ ھے کے مخلوق کے ساتھ پسندیدہ سلوک کیا جائے کیوں کہ اس فعل کو انجام دئے بغیر پر سکون معاشرہ تشکیل نھیں دیا جا سکتا اسلام چاہتا ھے کہ تمام انسان اس طرح زندگی بسر کریں کہ وہ ھمدرد مدد گار بہی خواہ ھوں عبد اللہ بن عمرو سے مروی ھے کے ایک بار رسول خدا بیت اللہ شریف کا طواف فرما رھے تھے تو آپ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ کو مخاطب کر کے تو کتنا پاکیزہ ھے اور تیری حرمت کتنی عظیم ھے مگر میں اس زات کی قسم کھاتا ھوں جس کے ہاتھ میں میری جان ھے ایک مومن کی حرمت اللہ تعالی کے نزدیک تیری حرمت سے بھی زیادہ ھے اس کا مال بھی اس کا خون بھی اللہ کے نزدیک تیرے سے زیادہ عزیز ھے ۔
اس حدیث سے بخوبی سمجھا جا سکتا ھے کے ایک مومن مسلمان کی عزت حرمت جان مال اللہ کو کتنا عزیز ھے کے کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ - اللہ کے رسول نے فرمایا یقینا اللہ کے رسول اللہ کی منشا کے بغیر کچھ نھیں فرماتے ھیں یعنی اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی بے عزتی کرے یا کسی طرح نقصان پہنچائے تو اللہ کیسے غضبناک ھو گا یہ سمجھ لینا چاھیے ،۔۔ اس کے علاوہ حضور صلے اللہ وسلم نے جو اصول اور احکام صادر فرمائے ان کی تفصیل یہ ھے ،۔ جن کو اپنا کر ھم نجات پا سکتے ھیں اللہ اور رسول کے حضور سرخرو ھو سکتے ھیں وہ یہ ھیں ،1 اچھی صالح عادتیں ،2 مظلوم کی اور بے کس کی مدد کرنا ان کی باتوں کو برداشت کرنا 3 مکراہات و مصائب پر صبر کرنا 4 محنت و مشقت سے کام لینا 5 حق بات کو بغیر رعونت اور تلخی کے سننا 6 عہد کو پورا کرنا 7 ضعیف الحال لوگوں کی مدد کرنا ان کے ساتھ انصاف کرنا اور شفقت کے ساتھ پیش آنا 8 سخاوت کرنا 9 مسکینوں سے تواضع کے ساتھ ملنا 10 مظلوموں کی فریاد سننا 11 عزت و عصمت کی حفاظت کرنا ، جان کی سلامتی چاھنا 12 لوگوں کے ساتھ محبت کے ساتھ پیش آنا اور ان کی حفاظت کے لئے تن من دھن لگا دینا ، مہمانوں کی میزبانی کرنا 13 اور اپنے نیک و بد اعمال و افعال کا خیال رکھنا۔
|