16.10.2026, 04:19am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

بے راہ اور بے عمل قوم اپنی موت خود ہوتی ہے
14.10.2008, 03:51pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن



کل کسی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں جارہے؟ میں نے جواب دیا کہ بھائی ڈر اور خوف ہے۔
کہنے لگے کی خوف کس بات کا۔۔دھماکوں کا؟ میں نے عرض کی کہ نہیں بھائی۔موت سے کون کافر ڈرتا ہے کیونکہ میرے جیسا اصول پسند آدمی تو پہلے ہی دن میں ایک بار نہیں کئی کئی بار مرتا ہے۔تو پھر کسی خود کُش دھماکے میں مرنے سے کیسا ڈر ۔۔۔اور یہ جو مر رہے ہیں کیا یہ کوئی غیر ملکی ہیں۔ یہ بھی تو میرے آپ کے بہن ،بھائی اور بزرگ ہیں۔

موصوف نے اب مزید حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر کون سے ایسی وجہ ہے کہ آپ پاکستان جانے سے کترا رہے ہیں؟

میں نے اس ‘‘سہلیی بوجھ پہیلی‘‘ والی صورت حال کو ختم کرتے ہوئے عرض کی کہ جناب وطن عزیز نہ جانے کی وجہ صرف اور صرف یہ خوف ہے کہ جاتے ہی کہیں کوئی پکڑ کر ملک کا ‘‘وزیر اعظم ‘‘ نہ بنا دے۔ باکل اس کہانی کی طرح کہ کل صبح جو پہلا شخص شہر میں داخل ہو گا اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ مزید عرض کی کہ لندن سے لاہور جانے والی پی آئی اے کی پرواز پہنچتی بھی صبح پانچ بجے ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ فصیل شہر میں داخل ہونے والا پہلا فرد میں ہی ہوں۔

وہ صاحب بولے قبلہ اگر ایسا ہے تو پھر یہ تو خوشی کا مقام ہے کہ کسی جعلی بی اے پاس کی جگہ کم از کم کوئی پڑھا لکھا،صاحب فکر،تخلیق کار اور دانشور آدمی ملک کا وزیر اعظم بن جائے گا۔
میں نہایت ایمانداری سے عرض کی کہ بھائی جان یہ جتنے سابقے لاحقے آپ نے اس فقیر کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں میں ان میں سے ایک بھی نہیں ہوں اور ہاں وزیر اعظم بننے سے جو ڈر رہا ہوں تو اسکی وجہ صرف اور صرف‘‘صاحب عزت‘‘ ہونا ہے اور ایک یہی عزت ہی لے دے کر ابھی تک سلامت ہے اور یہی اپنے بزرگوں کا ترکہ اور ورثہ ہے۔لہٰذا اس وزیر اعظمی میں اس عزت کو بھی گنوانا نہیں چاہتا اور یوں تو ملک کے مسلمہ سیاسی اصولوں کے مطابق یہ مرتبہ اور یہ رتبہ کوئی عزت والوں کے لیئے نہیں ہے۔ اور فرض کر لیں کہ اگر کوئی صاحب عزت اس مرتبے پر فائز بھی ہوا ہے تو بے عزت ہو کر ہی گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان جانے جا حوصلہ نہیں۔

میں یہ عرض کرؤں کہ یہ چند جملے میں نے کوئی کسی افسانے یا کہانی کے پلاٹ یا مرکزی خیال کے طور پریا زیب داستان کے لیئے نہیں لکھے بلکہ یہ بات الف سے بڑی ‘‘ے‘‘ تک مبنی بر حقیقت ہے۔

اب آپ ذرا وطن عزیز کے سیاسی منظر نامے پر نظر تو ڈالیں کہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کو اب ایک مہینہ ہونے کو ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی سترہ مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے اور ‘‘کون بنے کا وزیر اعظم‘‘ کے ڈرامے کا ابھی تک پہلا سین بھی نہیں لکھا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے تئیں خود کو صاحب عزت سمجھتا ہے اس طوق ملامت کو گلے میں ڈالنے سے ڈر رہا ہے اور لکھنؤ کے اسٹیشن پر کھڑا پہلے آپ پہلے آپ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔

ایک عجیب صورت حال ہے سیاست کی اور اسی عجیب صورت حال کی وجہ سے ٹی وی،ریڈیو اور اخبارات میں ہر کس و ناکس مبصر،تجزیہ کار اور ماہرِ سیاسیات بن گیا ہے۔ بھلا ہو اس انٹر نیٹ کا کہ پاکستان کے قیام کی تاریخ سے ناواقف اور اسکے جغرافیے سے نابلد لوگ بھی اس سیاسی صورت حال پر خوب جی کھول کر بقراط کی طرح تبصرہ کر رہے اور لکھ رہے ہیں۔

وہ معاشرے جن میں نمبر دو کے لوگ ہر شعبے پر حاوی ہو جائیں وہاں نمبر ون عزت بچا کر اپنے گھر میں چھپ جاتا ہے یا منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی حال وطن عزیز میں ہے اور یہی حالت انٹر نیٹ کی ویب سائٹوں پر ہے جہاں صحافت و سیاست سے نابلد لوگ دو چار الگ الگ الگ ویب سائٹوں سے اپنے جیسے ہی تبصرہ نگاروں اور مبصروں کی تحریریں کاپی کر کے لگا دیتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ املا کی وہ غلطیاں کو اصل ویب سائٹ کے تبصرے میں ہوتی ہیں وہی ایسے مبصر اسی دوہرا دیتے ہیں اور انہیں درست کرنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔
بات ہو رہی تھی ملکی سیاسی صورت حال کی۔
مرکز میں سب سے زیادہ نشستیں لیکر سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پیلپز پارٹی میں اندرونی خلفشار روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور مخدوم امین فہیم کے قضیئے کے علاوہ متعدد دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ مگر ایسے میں سب سے بڑا مسلہ وزیرا عظم کی نامزدگی کا ہے اور ایسے میں ایک شاہ کا وفادار حلقہ پوری شدو مد سے یہ کہہ رہا ہے کہ آصف زرداری کو خود وزیر اعظم بننا چاہیئے۔
مجھے یہ حلقہ یا تو صدر مشرف کا حمایت یافتہ یا پھر اسٹیبلیشمنٹ کا حلقہ لگتا کہ جو پیپلز پارٹی کو خود کشی کی طرف لے کر جا رہا ہے۔
ابھی یہ وقت نہیں ہے کہ آصف زرداری کو اس عہدے پر لایا جائے کیونکہ انکا ماضی کا جو ہیولا اور تاثر بنا ہوا ہے وہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ نیو یارک ٹائمز کی نئی سٹوری نے اس آگ کو مزید ہوا دی ہے۔

مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے مخدوم امین فہیم کو ‘‘صدر مشرف کا بندہ‘‘ قرار دیکر تنازعات کو سہ رخی بنا دیا ہے اور امین فہیم نے اسے کردار کُشی قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف کو قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا ہے۔

پاکستان میں فوجی اسٹیبلِشمنٹ کے سیاسی ایجنٹ ہردور میں اور ہر ایک سیاسی جماعت میں رہے ہیں اور حد تو یہ کہ وہ لوگ بھی جو فوج کے گملے میں پروان چڑھے ہیں دوسروں کو فوج کا اور ایجنسیوں کا آدمی  کہتے ہیں اور یہ تہمت ہی سب سے زیادہ آسان ہے کہ جس پر جی چاہے لگا دو اور امین فہیم پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی آشیر باد کے ساتھ خواجہ آصف کی لگائی جانے والی تہمت  اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

لیجئے ابھی تو اس اتحاد کی شروعات ہی نہیں ہوئی اور اتحاد نفاق میں بدلنے لگا ہے۔

صدر مشرف کی قانونی ٹیم کے جعفر و صادق صفت شریف الدین پیرزادہ ایک بار پھر اٹارنی جنرل ملک قیوم کے ساتھ مل کر سر گرم عمل ہو گئے ہیں اور یہ لوگ صدر شرف کو یقین دلوا رہے ہیں کہ عدلیہ کو آزاد اور ججوں کو بحال نہیں کروایا جا سکتا س لیئے وہ ڈٹے رہیں۔

اسی صورت حال کا فائدہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج نے بھی اٹھایا ہے اور انہوں نے پاکستان میں اسکی سرحد کے اندر گھس کر شمالی وزیرستان کے علاقے لواڑہ منڈی میں  توپوں سے گولہ باری کے نتیجے میں چار شہریوں کو ہلاک کیا ہے اور اسکا اعتراف بھی کر لیا ہے کہ ہاں ہم نے یہ کاروائی کی ہے جبکہ پاکستانی انتظامیہ صرف احتجاج ہی کر سکتی تھی سو اس نے فقط احتجاج کیا ہے۔

چند کروڑ ڈالروں کے عوض جس طرح پاکستان کے عزت و وقار کا سودا کیا گیا ہے اس کے بدلے اب ہم کوئی سخت احتجاج کرنے کی پوزیشن میں بھی تو نہیں۔ یہ تو طے ہے کہ جو پیسہ دیتا ہے وہ شرائط بھی اپنی ہی منواتا ہے۔
قومے فروختند چہ ارزاں فروختند

وکلا کا احتجاج پھر زور پکڑ گیا ہے اور اعتزاز احسن،علی احمد کرد،جسٹس ریٹائرڈ طارق اوروکلا تحریک کے دیگر رہنما ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ اگر معاہدہ مری کی خلاف ورزی کی گئی تو وکلاء لانگ مارچ کریں گے۔عتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے معاملہ پر شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل ملک محمدقیوم کو ٹی وی پر مناظرے کی دعوت بھی دی ہے جو ظاہر ہے وہ قبول نہیں کریں گے۔

یہ سیاسی صورت حال ایک طرف اور عوامی مصائب میں اضافہ دوسری طرف۔ خود کُش حملے تیز تر ہوگئے ہیں اور انکا نشانہ پولیس،فوج اور تفتیشی ادارے ہیں اور ان مردم کُش حملوں نے ایسی بے چینی اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کی ہے کہ ملک کا عام آدمی صرف اور صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہے۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن اس بات کا جواب کون دے گا،صدر مشرف،میاں سومرو یا پھر ابھی آنے والی حکومت کہ اسوقت ملک کے بڑے شہروں میں ٹماٹر ساٹھ سے اسی روپے کلو اور ہری مرچ دو سو روپے کلو مل رہی ہے۔ آٹے ،گیس اور بجلی کا رونا رونے والے اب کس کس چیز کا رونا روئیں گے۔

یوں لگتا ہے کہ اس ملک کے مسائل کا حل اب صرف اور صرف عوامی انقلاب میں ہے کہ عوام گھروں سے نکلیں اور سرکاری ایوانوں کا رُخ کریں اور اپنی طاقت سے اپنے حقوق منوائیں اور عوام کو ذلیل وخوار کرنے والوں کو سر عام بازاروں اور چوہراہوں میں عوام کے سامنے ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ اگلے ایک سو برس تک کوئی عوام کی طوائف سمجھ کر اسکی عزت سے کھیلنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

مگر ایسا کب ہو گاِ اور ہو گا بھی یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہو گا تو ذلت کے طوق کو گردن سے اتارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا اور آج جمہوری اقدار کے فروغ کا نعرہ لگانے والے بھی کل آمر اور پھر آمر مطلق بن جائیں گے۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) سید حسن عباس ایک یادجو برسوں ذہن میں تازہ رہے گی
(14.10.2008) کشمیر سنگھ رہا لیکن جسٹس افتخار چوہدری؟
(14.10.2008) جنرل ریٹائرڈ مشرف۔خطرے کی گھنٹی بج گئی
(14.10.2008) ‘‘اب یہ بہتر ہے کہ سرکار بھی تیاری کریں‘‘
(14.10.2008) ‘‘ہم نہ کہتے تھے کہ دستار میں سر ہوتا ہے‘‘
(14.10.2008) انتخابات کا ایک مرحلہ ختم اوردوسرا شروع
(14.10.2008) حکمران آخر کب سچ بولیں گے؟
(14.10.2008) ‘‘اک کربلا سے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘
(14.10.2008) یپلز پارٹی،عوامی یا خاندانی جماعت
(14.10.2008) باپ قتل،بھائی قتل اور خود بھی قتل
(14.10.2008) ‘' تتلیاں میر ے گاؤں کی‘‘
(14.10.2008) گُل جی کا قتل بے حس معاشرے کا قتل ہے؟
(14.10.2008) ‘‘اُمت پہ سخت وقت ہے امداد یا نبی‘‘
(14.10.2008) کیا اس صورت میں انتخابات منصفانہ ہو سکتے ہیں؟
(14.10.2008) فیضان عارف کی ‘‘ہوائیں گیت گاتی ہیں‘‘
(14.10.2008) ہاتھی مرا بھی کئی کروڑ کا!
(14.10.2008) جسم سے کھال الگ ہوگئی اب ہوش کرؤ!
(14.10.2008) ''اپنی قمست تھی کہ ہم شمس کے مہمان ہوئے
(14.10.2008) لکھیں یہ فیصلہ بھی سنہری حروف میں!
(14.10.2008) کعبے کس منہہ سے جاؤ گے؟



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں